سرسوں کا بیج


کہتے ہیں چین میں کسی جگہ ایک عورت،  اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ ، دنیا و ما فیھا سے بے خبر اور اپنی دنیا میں مگن،  خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی کہ ایک دن اس کے بیٹے کی اجل آن پہنچی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ عورت کیلئے کل کائنات اس کا بیٹا چھن جانا ایک ناقابل برداشت صدمہ تھا۔ اُس کا ذہن نظام قدرت کو ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔ روتی پیٹتی  گاؤں کے حکیم کے پاس گئی اور اسے کہا وہ اپنی ساری جمع پونجی خرچ کرنے کو تیار ہے  جس کے عوض بس  ایسا کوئی  نسخہ بتا دے جس سے اس کا بیٹا لوٹ آئے۔

حکیم صاحب اس غمزدہ عورت کی حالت  اور سنجیدگی دیکھ چکے تھے، کافی سوچ وبچار کے بعد بولے، ہاں ایک نسخہ ہے تو سہی۔ بس علاج کیلئے ایک ایسے ننھے سے سرسوں کے بیج کی ضرورت ہے جو کسی ایسے گھر سے لیا گیا ہو جس  گھر میں کبھی کسی غم کی پرچھائیں تک نا پڑی ہو۔  عورت نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، میں  ابھی جا کر ایسا سرسوں کا بیج ڈھونڈھ کر لے آتی ہوں۔

عورت کے خیال میں اس کا گاؤں ہی تو وہ جگہ تھی جس میں  لوگوں کے گھروں میں غم کا گزر نہیں ہوتا تھا۔ بس اسی خیال  کو دل میں سجائے اس نے گاؤ ں  کے پہلے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے ایک جوان عورت نکلی۔ اس عورت نے اس سے پوچھا؛ کیا اس سے پہلے تیرے گھر نے کبھی غم تو نہیں دیکھا؟ جوان عورت کے چہرے پر ایک تلخی سی نمودار ہوئی اور اس نے درد بھری مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے کہا؛ میرا   گھر ہی تو  ہے جہاں زمانے بھر کے غموں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔ پھر وہ بتانے لگی کہ کس طرح  سال بھر پہلے اس کے خاوند کا انتقال ہوا جو اس کے پاس چار لڑکے اور لڑکیاں چھوڑ کر مرا، ان کی روزی  یا روزگار کا مناسب بندوبست نہیں  تھا۔آجکل وہ  گھر کا سازوسامان بیچ کر مشکلوں سے گزارہ کر رہے ہیں اور بلکہ اب تو بیچنے کیلئے بھی ان کے پاس کچھ زیادہ سامان نہیں بچا۔

جوان عورت کی داستان اتنی دکھ بھری اور غمگین تھی کہ وہ عورت اس کے پاس بیٹھ کر اس کی غم گساری اور اس کے دل کا بوجھ ہلکا کرتی رہی۔ اور جب  تک اس نے جانے کی اجازت مانگی تب تک وہ دونوں سہیلیاں بن چکی تھیں۔ دونوں نے ایک دوسرے سے دوبارہ ملنے کا وعدہ لیا اور رابطہ رکھنے کی شرط پر عورت اس کے گھر سے باہر نکلی۔

مغرب سے پہلے یہ عورت ایک اور خاتون کے گھر میں داخل ہوئی جہاں  ایک اور صدمہ اُس کےلئے  یہاں منتظر تھا ۔ اس خاتون کا خاوند ایک خطرناک مرض میں مبتلا گھر پر صاحب فراش تھا۔  گھر میں بچوں کیلئے کھانے پینے کا سامان ناصرف یہ کہ موجود  ہی نہیں تھا  بلکہ یہ بچے  اس وقت بھوکے بھی تھے۔  عورت بھاگ کر بازار گئی اور جیب میں جتنے پیسے تھے ان پیسوں سے کچھ دالیں، آٹا اور گھی وغیرہ خرید کر لائی۔ خاتون خانہ  کے ساتھ مل کر جلدی جلدی کھانا پکوایا اور اپنے ہاتھوں سے ان بچوں کو شفقت سے کھلایا۔ کچھ دیر مزید دل بہلانے کے بعد ان سب سے اس وعدے کے ساتھ اجازت چاہی کہ وہ کل شام کو پھر ان سے ملنے آئے گی۔

اور دوسرے دن پھر یہ عورت ایک گھر سے دوسرے گھر اور ایک دروازے سے دوسرے  دروازے پر اس امید سے چکر لگاتی رہی کہ کہیں اسے ایسا گھر مل جائے  جس پر غموں کی کبھی پرچھائیں بھی پڑی ہوں اور وہ وہاں سے ایک سرسوں کا بیج حاصل کرسکے، مگر ہر جگہ ناکامی اس کا  منہ چڑانے کیلئے منتظر رہتی تھی۔ دل کی اچھی یہ عورت لوگوں کے مشاکل ، مصائب اور غموں سے متاثر انہی لوگوں  کا ایک  حصہ بنتی چلی گئ اور اپنے تئیں ان سب  میں کچھ خوشیاں بانٹنے کی کوشش کرتی رہی۔

گزرتے دنوں کے ساتھ یہ عورت بستی کے ہر گھر کی سہیلی بن چکی تھی۔  وہ یہ تک بھولتی چلی گئی  کہ  اپنے گھر سے تو ایک ایسے گھر کی تلاش میں نکلی تھی  جس پر کبھی غموں کی پرچھائیں نا پڑی ہوں اور وہ ان خوش قسمت لوگوں سے ایک سرسوں کے ایک بیج کا سوال کر کے اپنے غموں کا مداوا کر سکے۔ مگر وہ  لا شعوری طور دوسرے کے غموں میں شریک ہو کر ان کے غموں کا مداوا  بنتی چلتی چلی جا رہی تھی۔  بستی کے حکیم نے گویا اسے اپنے غموں پر حاوی ہونے کیلئے  ایسا مثالی نسخہ تجویز کر دیا تھا  جس میں سرسوں کے بیج کا ملنا تو ناممکن تھا مگر غموں پر قابو ہرگز نہیں تھا۔ اور اس   کے غموں پر قابو پانے کا  جادوئی سلسلہ اسی لمحے ہی شروع ہو گیا تھا جب وہ بستی کے پہلے گھر میں داخل ہوئی تھی۔

جی ہاں،  یہ  قصہ کوئی معاشرتی اصلاح کا  نسخہ نہیں ہے،  بلکہ یہ تو ایک کھلی دعوت ہے ہر اس شخص کیلئے جو اپنی انا کے خول میں بند، دوسروں کے غموں اور خوشیوں سے سروکار رکھے بغیر اپنی دنیاؤں میں گم اور مگن رہنا چاہتا ہے۔ حالانکہ دوسروں کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کے غموں اور خوشیوں میں شرکت کرتے سے  خوشیاں بڑھتی ہی ہیں کم نہیں ہوا کرتیں۔ یہ قصہ یہ درس بھی ہرگز نہیں دینا چاہتا کہ اگر آپ اپنی انا کے خول سے باہر نکل آئے تو آپ ایک محبوب اور  ہر دلعزیز   شخصیت بن جائیں گے،  بلکہ یہ قصہ یہ بتانا چاہتا ہے ہے کہ آپ کا یہ معاشرتی رویہ آپ کو پہلے زیادہ خوش انسان بنا دے گا۔

عربی سے ترجہ و تلخیص کر کے حاصل مضمون تبصرے کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا

شائع کردہ از Uncategorized, اصلاحی | ٹیگ شدہ , , , , , , , , , , , , , , , , , | 10 تبصرے

حاجیوں کے دلچسپ سوالات



الجزیرہ نیٹ کے نمائندے محمد داؤد کہتے ہیں کہ اللہ کے فضل و کرم سے اس سال حج تو ہر قسم کے امراض اور حادثات سے خالی اور محفوظ رہے گا مگر علماء کرام اور مفتی حضرات سے پوچھے گئے حاجیوں کے دلچسپ اور عجیب و غریب سوالوں سے خالی ہرگز نہیں ہوگا۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے محکمہ حج والاوقاف میں میڈیا کمیٹی کے چیئرمین جناب محمد بن میرزا کے حوالے سے بتایا کہ:
(1)
ایک حاجی نے یہ پوچھا: کیوں کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے حج ادا کر رہا ہے، تو کیا وہ اپنے منہ کو نقاب سے ڈھانپ کر رکھے؟
(2)
ایک اور حاجی نے ٹیلیفون کر کے یوں سوال کیا کہ کیا حج سے واپس جا کر میں شادی کر سکتا ہوں یا انسان حج کرنے کے بعد شادی نہیں کر سکتا؟
(3)
ان عجیب و غریب سوالات کے درمیان میں یہ واقعات بھی سنئے: ایک حاجی نے فجر کی نماز کے بعد طواف شروع کیا اور ظہر تک طواف ہی کرتا رہا۔ اُسکا خیال تھا کہ سارے لوگ ایک ساتھ ہی طواف شروع اور ایک ساتھ ہی ختم کرتے ہیں۔ اُسے حیرت اس بات پر تھی کہ وہ نوجوان ہونے کے باوجود تھک چکا تھا جبکہ باقی لوگ ابھی تک ویسے ہی ذوق و شوق سے طواف کر رہے تھے۔
(4)
حاجی نے کتاب کے حاشیئے بھی پڑھ ڈالے: یہ واقعہ میرے دوست نے سنایا جس نے دو سال قبل حج کیا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ حرم شریف میں عورتوں کا ایک گروہ، جو شکل و صورت سے روسی نظر آتی تھیں، اپنے ایک ہم وطن کی قیادت میں (جو عربی پڑھنا جانتا تھا) طوف کرتے ہوئے وہی کچھ دہرا رہی تھیں جو کچھ اُن کا ہم وطن کتاب سے دیکھ کر پڑھ رہا تھا، اور اُس آدمی نے تو جو کچھ حاشیئے پر لکھا ہوا تھا وہ بھی دعائیں سمجھ کر پڑھ ڈالا تھا، آدمی کہتا تھا (یہ کتاب) عورتیں دہراتی تھیں (یہ کتاب)، آدمی کہتا تھا (ریاض میں چھپی) اور عورتیں کہتی تھیں (ریاض میں چھپی)۔
(5)
حاجیوں نے سمجھا شیطان ہے: یہ واقعہ مجھے ایسے دوست نے سنایا جس پر میں خوب اعتماد کرتا ہوں کہ: شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے رش اور دھکم پیل کے باعث میں نے دیکھا کہ ایک حاجی دیوار سے گر رہا ہے مگر گرتے گرتے اُس نے سریوں کو پکڑ لیا تھا، بیچارے کا احرام کھل کر گر چکا تھا، انتہائی بھاری بھرکم جثے والا یہ حاجی کسی افریقی ملک سے تھا اور رنگ کا بھی انتہائی کالا۔ بعض جاہل قسم کے حاجیوں نے تو اُسے دیکھ کر چلانا شروع کردیا کہ دیکھو شیطان نکل آیا ہے، شیطان ظاہر ہو گیا ہے۔ اور کچھ تو اُسے جان سے مارنے کے ہی درپے ہوگئے۔ بجائے رمی اُدھر کرنے کے اِس کو کنکریوں اور جوتوں سے مارنا شروع کردیا۔ اور جب تک پولیس اور ایمبولینس پہنچی یہ حاجی قریب المرگ ہو چکا تھا۔
(6)
بلا تبصرہ: یہ واقعہ میرے دادا جی کا چشم دید ہے جنہوں نے کوئی پچاس سال پہلے حج ادا کیا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک جاہل شخص نے اپنے آپ کو مطوف ثابت کر کے نوکری حاصل کرلی۔ حج کے دوران اُس کو کچھ مردوں اور بارہ عورتوں کا مطوف مقرر کیا گیا۔ دورانِ حج شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد یہ مطوف، سب لوگوں کو یہ کہہ کر خیموں میں چھوڑ کر چلا گیا کہ تم لوگ اپنے سر مونڈ لو اور میں شام کو آؤں گا۔ جب شام کو یہ شخص لوٹا تو ہم یہ جان کر حیرت زدہ رہ گئے کہ وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے اُس کے گروپ کی عورتوں نے بھی اپنے سر مونڈ رکھے تھے۔
(7)
آپ سے مل کر خوشی ہوئی: میں حرم مکی شریف میں نماز ادا کر رہا تھا، شدید ازدحام کی وجہ سے ایک حاجی نے میرے سامنے سے گزرنے کی کوشش کی تو میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے روکنا چاہا، حاجی نے بڑی محبت سے میرا ہاتھ پکڑ کر اور نہایت گرمجوشی سے مصافحہ کر ڈالا۔
(8)
اللہ کریم و رحیم ہیں: ایک بار میں کعبہ کا طواف کر رہا تھا تو میں نے سنا کہ ایک حاجی بڑے زور شور سے یہ دعا مانگ رہا تھا (اللھم انی اعوذ بک من الخبث والخبائث)!! میں نے کہا بھائی صاحب، یہ دعا تو لیٹرین میں داخل ہوتے وقت مانگتے ہیں۔ اُس نے نہایت ہی تیزی سے مجھے جواب دیا: کوئی بات نہیں، ساری دعائیں ٹھیک ہوتی ہیں۔
(9)
اندھی تقلید: صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے ایک حاجی نے کیمرے کو سعی کی فلم بناتے ہوئے دیکھا، تو اُس نے نہایت جوش و خروش کے ساتھ کیمرے کے سامنے ہاتھ ہلانا شروع کردیئے تاکہ اُسکی تصویر واضح نشانی کے ساتھ بن جائے۔ اور پھر تھوڑی دیر کے بعد،،،، لوگوں کا ایک جمگٹھا سا ہی لگ گیا ور سب کے سب یہ سمجھ کر کہ شاید یہ بھی کوئی حج کی عبادت ہے اور کیمرے کے سامنے ہاتھ ہلانے لگ گئے۔

شائع کردہ از تفریحی | ٹیگ شدہ | 20 تبصرے

میرے فیس بکی سٹیٹس (5)


بعض اوقات ندامت کا مطلب دیوار گیر گھڑی کے سامنے کھڑے ہو کر اُس کی سوئیوں سے واپس لوٹ جانے کی التجا کرنا ہوتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭
اس سے پہلے کہ سر اُٹھا کر اپنے رب سے نا ملنے والی نعمتوں کا تقاضا کرو، پہلے اپنے سر کو جُھکا کر ان نعمتوں کا شکر تو ادا کردو جن سے تم مستفید ہو
٭٭٭٭٭٭
 زندگی اب ٹیپ ریکارڈ والی کیسٹ تو ہے نہیں کہ جو پسند ہے انہیں دوبارہ ریوائنڈ کر لو۔ بھائی جی، جو گزر گئی گزر گئی۔
٭٭٭٭٭٭

صرف شام میں ایسا ہو تا ہے کہ:
شدید گولہ باری باری کی وجہ سے لڑکی کی شادی ملتوی کرنا پڑی
دوسری بار دولہا کا گھر تباہ ہو گیا تو شادی ملتوی کرنا پڑی
پھر شادی بالکل ہی ملتوی ہو گئی کیونکہ دولہا شہید ہو گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭
جب کوئی عورت یہ کہے اس دنیا کے سارے مرد جھوٹے اور بے وفا ہیں کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا اس نے دنیا کے سارے مردوں کو آزما لیا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے جس شخص کو آزمایا وہ اکیلا اس کیلئے پوری دنیا کے برابر تھا۔

٭٭٭٭٭٭

اگر تیرے باپ نے تجھے تیرے بچپن میں کسی شہزادی کی طرح پالا تھا تو اس کے بڑھاپے میں تو بھی اُسے کسی بادشاہ جیسا برتاؤ کرنا۔
٭٭٭٭٭٭
کچھ لوگوں کی ظاہری حالت سے بندہ بہت دھوکہ کھا جاتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ قیمے والا سموسہ سمجھ کر اٹھائیں اور اندر سے آلو والا نکل آئے
٭٭٭٭٭٭

بہت عرصہ پہلے اس کا دوست فوت ہو گیا تھا مگر اس نے آج تک اپنے دوست کا نام فون سے نہیں کاٹا۔ ایک آدھ بار موبائل تبدیل بھی کیا ہے مگر اپنے دوست کا نمبر دوبارہ نئے موبائل میں ڈال لیتا ہے۔ کہتا ہے؛ جب بھی میرے دوست کا نام موبائل پر سامنے آ جائے تو دعا کرتا ہوں اللہ پاک میرے دوست کی مغفرت فرما دے۔

٭٭٭٭٭٭

اگر تم سے ایک تارہ گم ہوا ہے تو کیا ہوا، آسمان پورا تاروں سے بھرا ہوا ہے۔  اگر بھرے آسمان میں سے بھی کوئی تارہ تیری قسمت میں نہیں تو کون جانتا ہے شاید چاند تیرا نصیب ہو۔

٭٭٭٭٭٭

ریسٹورنٹ میں بیٹھے انگریز نے کھانے میں سے ایک لقمہ لیکر اپنی بیوی کے منہ میں دیا، بہت ہی رومانوی منظر تھا، دل خوش ہو گیا۔
تعلیمات تو ہمیں بھی آپ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دی ہیں کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں دو گے تو اس کا بھی ثواب ملے گا۔ ( اعظم الصدقہ لقمہ يضعها الرجل في فم زوجتہ)۔
مگر ہمیں جو کچھ تعلیمات یاد ہیں وہ یہ ہیں کہ شریعت نے ایک وقت میں ہمارے لیئے چار بیویاں جائز کی ہیں

٭٭٭٭٭٭

مزیدار کھانا کھانے کے بعد اس نے بل منگوایا، پیسے نکالنے کیلئے جیب میں ہاتھ ڈالا، بٹوا نا پا کر نادیدہ خوف سے اس کی حالت ہی خراب ہو گئی۔ ہسٹیرائی انداز میں اوپر نیچے جیبوں کو ٹٹولا مگر بٹوہ کہاں سے ملتا، وہ تو دفتر سے نکلتے ہوئے میز پر ہی رہ گیا تھا۔ سر جھکائے آنے والی ممکنہ پریشانیوں اور انکے حل پر غور کرتا رہا۔ کوئی راہ نا پا کر کاؤنٹر کی طرف چلدیا تاکہ اپنی گھڑی ضمانت کے طور رکھوا کر جائے اور پیسے لیکر آئے۔ بل میز پر رکھتے ہوئے کیشیئر کو ابھی کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ وہ خود ہی بول پڑا؛ جائیں جی آپ کا بل ادا ہو چکا ہے۔ حیرت کے مارے اس نے سوال کیا؛ مگر کس نے ادا کیا ہے؟ کیشیئر نے کہا ابھی آپ سے پہلے اس باہر جانے والے آدمی نے دیا ہے۔ اس نے کہا؛ تو میں اسے کیسے واپس لوٹاؤں گا یہ پیسے، میں تو اسے جانتا ہی نہیں؟ کیشیئر نے کہا؛ کسی کو ایسی صورتحال میں پھنسا مجبور دیکھنا تو بڑھ کر ادا کردینا، نیکی اسی طرح تو آگے چلا کرتی ہے۔

٭٭٭٭٭٭
نیویارک کی ایک سڑک کے فٹ پاتھ سے ٹکرا کر ایک بوڑھا آدمی گر پڑا۔ ایمبولینس آئی اور اسے اٹھا کر ہسپتال لے گئی۔  راستے میں نرس نے اس بوڑھے کی جیب سے بٹوا نکال کر تلاشی لی تو اس کے بیٹے کا نام اور پتہ ملا جو وہیں بحری فوج میں ملازمت کرتا تھا۔  نرس نے اسے پیغام بھیجا جلدی پہنچو اور یہ نوجوان فوراً ہی ہسپتال پہنچ گیا۔  نرس نے بوڑھے سے جس کے منہ پر آکسیجن ماسک لگا ہوا تھا سے کہا تمہارا بیٹا تم سے ملنے آیا ہے۔ تیز اثر دواؤں کے زیر اثر ہوش میں آئے ہوئے بوڑھے نے ہاتھ بڑھایا اور نوجوان نے بڑھ کر تھام لیا۔
یہ نوجوان مسلسل چار گھنٹے تک اس بوڑھے کے پاس رہا اور شفقت سے بوڑھے کا ہاتھ تھامے بار بار گلے لگاتا اور بوڑھے کی تیمار داری اور حوصلہ افزائی کرتا رہا۔  نرس نے اس دوران کئی بار نوجوان سے آرام کرنے یا ادھر ادھر چل پھر لینے کو بھی کہا مگر اس نے انکار کیا اور بوڑھے کے پاس موجود رہا۔
فجر کے نزدیک اس بوڑھے کی وفات ہو گئی۔  اس نوجوان نے نرس سے پوچھا؛ یہ بوڑھا آدمی کون تھا؟  نرس نے حیرت سے کہا؛ کیا یہ تیرا باپ نہیں تھا؟ اس فوجی نے کہا؛ نہیں، مگر میں نے محسوس کیا تھا کہ اسے اپنے بیٹے کی اشد ضرورت تھی جو اس کے قریب رہ کر اس کی تیمار داری کرے اور اسکی محرومیوں کا ازالہ کرے۔
محتاج اور ضرورتمند کو اچھائی پیش کر دیجیئے، یہ اچھائی ایک دن آپ کے پاس ایسی جگہ سے واپس لوٹ کر آئے گی جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگی۔
٭٭٭٭٭٭

حضرت عمر بن عبدالعزیز رات کو ایک مسجد میں داخل ہوئے،  اندھیرے کی وجہ کی ان کا پاؤں ایک سوئے ہوئے شخص پر جا پڑا۔  یہ شخص ہڑبڑا کر اٹھا اور کہا؛ یہ کیا کیا ہے تم نے، تم گدھے ہو کیا؟ عمر نے اس شخص سے کہا؛ نہیں، میں عمر ہوں۔  ان کے ساتھی نے عمر سے کہا: اے امیر المؤمنین، اس شخص نے آپ کو گدھا کہا ہے۔ عمر نے کہا؛ نہیں تو، اس شخص نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا تم گدھے ہو، جس کا جواب میں نے اسے دیدیا ہے۔

اللہ رحمتیں برسائے تیری مرقد پر، کیا کمال تھے آپ بھی۔
٭٭٭٭٭٭
الشيخ ابن أبي عقيل العماني ایک فقہی امور پر دسترس رکھنے والے عالم گزرے ہیں۔ ان کی محفل میں ایک شخص آیا، بیٹھ چکا تو ان سے کہا؛ میں پانی میں کئی کئی بار ڈبکیاں لگاتا ہوں، اس کے باوجود مجھے شک رہتا ہے کہ میں پاک ہو چکا ہوں کہ نہیں، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ابن عقیل نے جواب دیا؛ میاں جاؤ، تم پر آج سے نماز ساقط کر دی گئی ہے۔  اس آدمی کو فقیہہ کی اس  بات پر بہت تعجب ہوا، پوچھا، کس طرح آج سے مجھ پر نماز کی فرضیت ساقط کر دی گئی ہے؟ ابن عقیل نے کہا؛ کیا تو نے سرکار دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان نہیں سنا کہ تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے : سوئے ہوئے سے حتی کہ بیدار ہو جائے اور بچے سے حتی کہ وہ بڑا ہو جائے، مجنون سے حتی کہ وہ عقل مند یا اس سے پاگل پن چلا جائے۔  اب تیرے جیسا شخص جو پانی میں کئی کئی بار غوطے لگا لے، اُسے ابھی بھی اس بات پر شک ہو کہ اُس کا غسل ہو چکا یا نہیں، تو اس کے پاگل ہونے میں کوئی شک ہی نہیں رہتا۔
٭٭٭٭٭٭

کہتے ہیں ایک شام کے وقت، کوئی شخص امام ابو حنیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا؛ حضرت کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنا مال زمین میں دفن کر کے محفوظ کیا تھا، اب جب ضرورت پڑی ہے تو یاد ہی نہیں آتا کہاں دفن کیا تھا، مجھے اس کا حل بتائیے۔ امام ابو حنیفہ نے جواب دیا؛ یہ کوئی فقہ کے عالم کا کام تو نہیں جو  تجھے یہ بتا سکے کہ تو نے اپنا مال کہاں دفن کیا تھا۔ تاہم انہوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اس شخص سے کہا؛ جاؤ اور جا کر اب سے لیکر صبح تک نماز پڑھنا شروع کرو، ان شاء اللہ تمہیں اپنے دفن کیئے ہوئے مال کی جگہ یاد آ جائے گی۔
اس شخص نے گھر جا کر نماز پڑھنا شروع کی، ابھی کچھ دیر ہی گزر پائی تھی کہ اُسے یاد آ گیا کہ اس کا مال کدھر دفن ہے۔ فورا وہاں جا کر اپنا مال نکال لیا۔ دوسرے دن صبح کو امام ابو حنیفہ کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں اپنے مال کے مل جانے کی اطلاع دی اور شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد اس نے امام صاحب سے پوچھا؛ آپ کو کیسے پتہ تھا کہ مجھے میرے دفن کیئے ہوئے مال کی جگہ یاد آ جائے گی؟
امام صاحب نے کہا؛ مجھے یقین تھا کہ شیطان تجھے کبھی بھی ساری رات نماز پڑھتے رہنے کیلئے چھوڑے گا، وہ تیرے دماغ کو مال کی جگہ یاد کرنے میں اس وقت تک مشغول رکھے گا جب تک تجھے وہ جگہ یاد نہیں آ جاتی۔

٭٭٭٭٭٭

کہتے ہیں فقہ کے کسی عالم کے پاس ایک عورت شکایت لیکر آئی کہ اس کا بھائی چھ سو درہم ترکہ چھوڑ کر مرا۔ وراثت کے اس مال کی جب تقسیم ہوئی تو اسے صرف ایک درہم دیا گیا ہے۔

اس عالم نے کچھ دیر سوچا اور پھر اس عورت سے پوچھا؛ کیا تیرے بھائی کی ایک بیوی، ماں، دو بیٹیاں اور بارہ دیگر بھائی بھی ہیں؟ عورت نے حیران ہو کر کہا، ہاں، بالکل ایسا ہی ہے۔ عالم نے کہا تو پھر ترکہ بالکل ٹھیک تقسیم ہوا ہے اور تیرے ساتھ کسی قسم کا کوئی ظلم نہیں ہوا۔

شرع میں بیوی کا آٹھواں حصہ ہوتا ہے جو کہ (75) پچھتر درہم بنتے ہیں۔

دونوں بیٹیوں کو دو تہائی ملے گا جو کہ (400) چار سو درہم بنتے ہیں۔

ماں کیلئے چھٹا حصہ ہوتا ہے جو کہ (100) ایک سو درہم ہے۔

باقی محض (25) چپیس درہم بنتے ہیں جو بارہ بھائیوں اور تم ایک بہن پر تقسیم ہونگے۔

کیونکہ عورت کو مرد کا نصف ملتا ہے اس لیئے تیرے سارے بھائیوں کو دو ، دو درہم ملیں گے اور تجھے ایک درہم ملے گا جو تجھے دے دیا گیا ہے۔

٭٭٭٭٭٭
میں وقتا فوقتا فیس بک پر لکھے گئے اپنے سٹیٹس کو آپ کیلئے یہاں جمع کیا کرتا ہوں۔ امید ہے آپ کو ایک آدھی بات ضرور اچھی لگتی ہوگی۔ اس سے قبل میں  اپنے سٹیٹس کا مجموعہ نمبر 1  ،  مجموعہ نمبر 2  ,  مجموعہ نمبر 3  اور مجموعہ نمر 4   بھی شائع کر چکا ہوں۔

 

شائع کردہ از Uncategorized | ٹیگ شدہ , , , , , , , , , , , , , | 9 تبصرے

مہمان خصوصی


شانتو (Shàntóu –  Chinese:  汕头) مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے ایک بانجھ شہر ہے۔ یہاں پر ایک بھی پیدائشی یا رجسٹرڈ مسلمان ہوتا تو پچھلے سال یہاں کی لوکل گورنمنٹ مسجد کیلئے ایک پلاٹ دینے پر آمادہ ہو گئی تھی مگر وائے حسرت! شہر میں ایک وقت میں دو سو سے زیادہ چینی مسلمان آباد رہتے ہیں۔ اس کی وجہ کچھ اور نہیں چین کے دوسرے مسلمان اکثریتی صوبے لانچو کی مشہور سوغات ہاتھوں کی بنی ہوئی تازہ سویوں بنا کر بیچنے والے ریسٹورنٹس کے مسلمان مالکان اور عملہ ہیں جو شانتو کو اپنا دوبئی بنا کر ادھر آباد ہیں۔

جادوئی ہاتھوں سے سیکنڈوں میں بیسیوں اقسام کی موٹی، باریک یا چپٹی سویاں بنانے کے یہ ماہر لوگ،  لانچو سے بھلے دوگنی قیمت پر یہاں شانتو میں یہ نوڈلز فروخت کریں مگر یہاں کے لوکل کھانوں سے پھر بھی نصف قیمت اور سستے ہیں۔ یہ نوڈلز پورے چین میں ان لوگوں کی مناسبت سے لانچو لامیان کہلاتی ہیں۔  ان سب لوگوں کے ریسٹورنٹ  کے ماتھے پر لگا "حلال – الاطعمہ الاسلامیہ” والا سائن بورڈ اور ریسٹورنٹ کے اندر دیوار پر لگا باتصویر  مینیو ایک جیسا بلکہ ایک جیسا ہی چھپا ہوا (لانچو سے چھپوا کر لاتے ہونگے) ہوتا ہے ان کی سب سے  زیادہ بکنے والی ڈش  تو  وہی لانچو بیف نوڈلز ہوتے ہیں  مگر باقی کے کھانے جیسے  ڈمپلنگ، باؤ میان اور چھاؤ میان بھی کھانے والے ہوتے ہیں۔

لانچو والوں کا دیواری مینیو

لانچو  کا صوبہ شانتو سے بذریعہ بس کم از کم  پینتیس گھنٹے کی دوری پر ہے اس لیئے  یہ لوگ بھلے یہاں پر سالوں سے مقیم ہیں مگر اپنے آپ کو  آج بھی  پردیسی سمجھتے اور پردیسیوں جیسا رہن سہن رکھتے ہیں۔ سال دو سال میں ایک آدھ بار واپس اپنے صوبے میں جاتے ہیں اور مہینہ دو مہینے چھٹیاں گزار کر یا  آرام کر کے واپس آجاتے ہیں، ان چھٹیوں میں ان کے بچوں کی شادیاں اور دوسرے فرائض سے سبکدوش ہوا جاتا ہے۔

بچیوں کی شادیاں کم سنی میں ہی کر دیتے ہیں۔ بچیوں کے رشتے ان کی شکل و صورت کے اعتبار سے نہیں ، کام کرنے کی لگن اور صلاحیت کے اعتبار سے  ہوتے ہیں۔ ادھر شادی ہوئی ادھر دولہا دلہن کو ایک نیا ریسٹورنٹ کھول کر چلتا کر دیا گیا۔ مرد ہاتھوں سے نوڈلز بناتا ہے اور لڑکی سارا دن چولہے کے سامنے کھڑی ہوکر باقی کے کھانے تیار کرتی ہے۔ محنت رنگ لاتی ہے اور دو تین سالوں میں یہ دلہن خاوند کو تین چار بچے اور ایک عدد نئی کار بھی لیکر دیدیتی ہے۔ کار کا استعمال اس خاندان کیلئے کیا ہوگا کے بارے میں  کچھ کہنا محض قیاس آرائی ہی ہوگی کیونکہ سال کے تین سو پینسٹھ دن کام کرنے والے، ریسٹورنٹ کے میزین فلور پر رہائشی، صبح سےرات گئے تک بلا تکان محنت اور محبت سے کام کرنے والے  یہ لوگ کب اپنی ذات کیلئے وقت نکالتے ہونگے کو میں گذشتہ کئی برسوں سے نہیں دیکھ پایا۔

لانچو کے ہر شہر میں مساجد کی بہتات ہے، وہاں رہن سہن اور کھانے پینے کی اشیاء  بہت سستی، اور ماحول اسلام دوست ہے۔ شانتو میں بھی ان لوگوں کا اسلام سے تعلق جیسا بھی ہو مگر جمعہ اور عیدین پران  کی اسلام دوستی (ان کا اجتماع اور اہتمام) دید کے قابل ہوتی ہے۔ اکثر لوگ حفاظ ہیں اور وقت پڑے تو سارے کے سارے ہی امام اور مؤذنین ہیں۔ میں جب یہاں پر نیا نیا آیا تو مسجد کی تلاش  میں میرا  واسطہ ان لوگوں سے پڑا۔ مسجد کیا تھی، لفٹ سے محروم  ایک سالخوردہ عمارت کی ساتویں منزل پر چھوٹے سے ایک کمرے کے فلیٹ پر مشتمل تھی۔ اس مسجد کا کرایہ اور خرچہ یہ ریسٹورنٹ والے لوگ برداشت کرتے تھے۔ میرے جیسا آدمی اوپر پہنچ کر نماز نہیں آرام کی سوچتا تھا باقیوں کے دلوں پر کیا بیتتی ہو گی اس کا اندازہ خود لگا لیجیئے۔ ان کی سادہ لوحی کا یہ عالم تھا کہ افطار و سحر کیلئے اپنے صوبے لانچو فون کر کے اوقات پوچھتے تھے۔تو عید اور رمضان کا تعیین تو یقینا وہاں کے چاند کے حساب سے ہی ہوتا تھا۔

میں کیونکہ سعودیہ کی ایک کمپنی کے کام کے سلسلے میں یہاں آیا ہوا تھا اس لیئے میرے  رابطے سعودیہ کے مخیر لوگوں سے تھے۔ مسجد کی حالت جیسی تھی ویسی کی بنیاد پربتانا ہی اثر کر گیا اور مجھے فنڈز مل گئے کہ مسجد کو گراؤنڈ فلور پر نہیں تو کم از کم پہلی منزل تک ضرور لاؤں، جگہ کشادہ ہو، عمارت صاف ستھری ہو، وضو کی سہولت ہو، ایئر کنڈیشن ہو وغیرہ وغیرہ۔  فنڈز کی ایسی ریل پیل کہ ہر شخص کہتا اگلی بار ہمیں موقع دینا۔ میں نے مسجد کے متولی انکل صالح کو کہا مسجد کو نیچے منتقل کرو پیسوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور پھر چند ہی دنوں میں ہم نئی جگہ منتقل ہوگئے۔ عیدین کی نماز کیلئے کیونکہ آس پاس کے چھوٹے شہروں کے لوگ بھی شانتو کا رُخ کرتے ہیں ۔ اس کیلئے انکل صالح نے باقاعدہ لوکل گورنمنٹ سے دریا کے کنارے ایک جگہ کا پرمٹ لے رکھا ہے جہاں کھلے میدان میں  نماز پڑھائی جاتی ہے۔ انکل صالح میری بہت زیادہ عزت کرتے ہیں، انہیں جب بھی کچھ اخراجات درپیش آتے مجھے کہتے اور میں انتظام کرا دیتا۔ یقینی بات ہے ہر ریسٹورنٹ والے کو میرا بتایا گیا ہوگا کہ کہ  وہ مخیر حضرات والا ٹوٹکا میں ہی ہوں۔ میری عزت افزائی کیلئے مجھ سے چندایک  بار اذان دلوائی گئی تو ایک آدھ بار مولوی صاحب کی عدم موجودگی میں مجھ سے جمعہ بھی پڑھوایا گیا (حیران نا ہوں، مسجد میں خطبے کی کتاب رکھی ہوئی ہے کوئی بھی پڑھ کر خطبہ دے سکتا ہے اور جمعہ پڑھا سکتا ہے)۔

ہماری شانتو مسجد میں جمعہ کے علاوہ کسی اور نماز کا تو کوئی  انتظام نہیں مگر رمضان شریف میں تراویح  ضرور پڑھائی جاتی ہے۔ پہلا عشرہ تو محض تراویح ہوتی ہیں مگر دوسرے عشرے سے ان لوگوں کی ایک دوسرے کو دعوتیں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر تراویح کے بعد کوئی ایک سب کو اپنے ساتھ لیکر جاتا ہے۔ ان کی یہ عوت ایک قسم کا فیمیلی ایونٹ ہوتی ہے۔ اکثر شریک لوگوں کے بیوی بچے بھی ادھر پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ کیونکہ سب کا کاروبار کھانا پکانا ہی  ہے، اس لیئے یہ دعوت گویا ایک دوسرے کو اپنے فن سے مات دینے کا مقابلہ بھی ہوتی ہے۔ بیسیوں کھانے  محنت اور محبت سے بنائے جاتے ہیں تو کھانے والے بھی تعریف میں کنجوسی نہیں کرتے، اتنی ہی چاہت سے کھاتے اور تعریف کرتے ہیں۔ یہاں یہ کہنا ضروری نہیں کہ میں ہر جگہ معزز مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود اور راجہ اندر بنا ہوا ہوتا ہوں۔

پرسوں تراویح پڑھ کر باہر نکلنے لگا تو ایک صاحب نے بازو تھام لیا، میں سمجھ گیا کہ آج کہیں دعوت ہوگی۔ انکل صالح  مسجد کو تالا لگا کر باہر آئے تو مجھے کہا تم میرے ساتھ چلو گے جس پر مجھے کیا اعتراض تھا۔ انکل صالح کے بیٹے عبدالحکیم کی چم چم کرتی  بڑی سی کار نیچے میرے انتظار میں کھڑی تھی، مجھے فرنٹ سیٹ پر بٹھایا گیا اور کار مطلوبہ ریسٹورنٹ پر جانے کی بجائے انکل کے ریسٹورنٹ کی طرف چلدی جہاں دیگر لوگ تو دعوت کے مقام پر پہلے ہی جا چکے تھے مگر انکل صالح کی گھر والی اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے ساتھ انتظار کر رہی تھی۔ یہ کوئی چھ بچے بچیاں ہونگی ان میں سے سب سے  بڑے کی عمر پانچ سال سے کم ہوگی۔ یہ سارے چینی بچے لگتا تھا کہ پری سکول کنڈر گارٹن جاتے ہونگے کیونکہ انہوں نے دادا اور دادی سے لپٹ کر،   لے میں گا گا کر،  اور سُر میں تالیاں بجا کر بچوں والی نظمیں  پڑھنا شروع کردی تھیں۔ انکل نے ایک دو بار تو سنا مگر پھر ڈانٹ کر کہا یہ نہیں گاؤ،  ذکر کرو۔ بس پھر کیا تھا سب بچوں نے بڑے نظم و نسق کے ساتھ بہت ہی خوبصورتی سے کلمہ طیبہ پڑھا۔ ان چینی بچوں کا لب و لہجہ اور ادئیگی ایسی تھی کہ میں حیرت زدہ ہو ہی رہا تھا کہ انہوں نے کلمہ پڑھ چکنے کے بعد ایمان مجمل پڑھنا شروع کردیا۔

553806_10151768502995110_159256290_n

Sifat_Iman_Mujamal

میرا دماغ یکدم سے چکرایا، معانی اور مفہوم کی اور بات ہے میں یہ اچھی طرح جانتا ہونگا ، وقت پڑے تو یہ ساری صفات ترتیب سے نہیں تو کم از کم ویسی ہی سنا بھی دونگا۔  مگر  بات یہ تھی کہ یہ  کلام مجھے پڑھے ہوئے کتنا عرصہ ہو گیا تھا سوچ کر ہی مجھے ہول سا اٹھا۔ میرے اپنے گھر میں بھتیجے بھتیجیاں ہیں، بھانجے بھانجیاں بھی ہیں، کیا میرے بھائی بہنیں بھی اپنے بچوں کو یہ سب کچھ یاد کراتے ہونگے سوچ کر میرا دل خراب ہونے لگا۔ میں نے جلدی  سے بچوں کے ساتھ مل کر دہرایا کہ کیا واقعی میں ان الفاظ اور کلمات کا اقرار اپنی زبان سے کر بھی سکتا ہوں  کہ نہیں۔ دل مطمئن نا  ہوا تو  موبائل سرچ پر ایمان مفصل اور ایمان مجمل لکھا، امیج سرچ کرکے سیو کیا اور پڑھ کر دہرانے لگا ۔ ہماری کار کب ریسٹورنٹ پہنچی کے بارے میں جاننا اب میرا مقصد نہیں تھا نا ہی مجھے وہ لوگ جو اسپیشل کرسی میرے لیئے بڑھا کر مجھے پہلے بٹھانے کا شرف حاصل کرنا چاہتے تھے محسوس ہو رہے تھے۔ مجھے تو لاشعور سے بس ایک ہی آواز آ کر میرے دماغ میں ہتھوڑے برسا برسا کر کہہ رہی تھی: "او جھوٹے مہمان خصوصی "

شائع کردہ از Uncategorized | ٹیگ شدہ , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | 31 تبصرے

صدقہ کے چند چھوٹے چھوٹے طریقے


صدقہ کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے غصے کو کم کرتا هے۔ مگر ہماری اکثریت اگر زیادہ دینے کی سکت نہیں رکھتی تو تھوڑا دینے سے شرماتی ضرور ہے۔ صدقہ تو کھجور کے ایک دانے کو بھی کہا جاتا ہے۔ ہم کس طرح صدقہ کر کے اللہ کو راضی کریں۔، درج ذیل میں دیئے گئے چند افکار آپ کو راہ دکھا سکتے ہیں:

01: اپنے کمرے کی کھڑکی میں یا چھت پر پرندوں کیلیئے پانی یا دانہ رکھیئے۔

02: اپنی مسجد میں کچھ کرسیاں رکھ دیجیئے جس پر لوگ بیٹھ کر نماز پڑھیں۔

03: سردیوں میں جرابیں/مفلر/ٹوپی گلی کے جمعدار یا ملازم کو تحفہ کر دیجیئے۔

04: گرمی میں سڑک پر کام کرنے والوں کو پانی لیکر دیدیجیئے۔

05: اپنی مسجد یا کسی اجتماع میں پانی پلانے کا انتظام کیجیئے۔

06: ایک قرآن مجید لیکر کسی کو دیدیجیئے یا مسجد میں رکھیئے۔

07: کسی معذور کو پہیوں والی کرسی لے دیجیئے۔

08: پٹرول پمپ یا ریسٹورنٹ باقی کی ریزگاری ملازم کو واپس کر دیجیئے۔

09: اپنی پانی کی بوتل کا بچا پانی کسی پودے کو لگایئے۔

10: کسی غم زدہ کیلئے مسرت کا سبب بنیئے۔

11: لوگوں سے مسکرا کر پیش آئیے اور اچھی بات کیجیئے۔

12: کھانے پارسل کراتے ہوئے ایک زیادہ لے لیجیئے کسی کو صدقہ کرنے کیلئے۔

13: ہوٹل میں بچا کھانا پیک کرا کر باہر بیٹھے کسی مسکین کو دیجیئے۔

14: گلی محلے کے مریض کی عیادت کو جانا اپنے آپ پر لازم کر لیجیئے۔

15: ہسپتال جائیں تو ساتھ والے مریض کیلئے بھی کچھ لیکر جائیں۔

16: حیثیت ہے تو مناسب جگہ پر پانی کا کولر لگوائیں۔

17: حیثیت ہے تو سایہ دار جگہ یا درخت کا انتظام کرا دیجیئے۔

18: آنلائن اکاؤنٹ ہے تو کچھ پیسے رفاحی اکاؤنٹ میں بھی ڈالیئے۔

19: زندوں پر خرچ کیجیئے مردوں کے ایصال ثواب کیلئے۔

20: اپنے محلے  کے یا محلے کی مسجد کے کولر کا فلٹر تبدیل کرا دیجیئے۔

21: گلی اندھیری ہے تو ایک بلب روشن رکھ چھوڑیئے۔

22: مسجد کی ٹوپیاں گھر لا کر دھو کر واپس رکھ آئیے۔

23: مسجدوں کے گندے حمام سو دو سو روپے دیکر کسی سے دھلوا دیجیئے۔

24: گھریلو ملازمین سے شفقت کیجیئے، ان کے تن اور سر ڈھانپیئے۔

25: چھوٹے بچے کو ایک سورت یاد کرا کر ساری زندگی کیلئے اجر کا مستحق بنیئے

26: راستے سے ایذا دینے والی کوئی چیز جیسے کانٹا، پتھر یا کیلے کا چھلکا ہٹا دیجیئے۔

اگر صدقہ کیلئے آپ کے پاس کوئی اچھا اور قابل عمل آئیڈیا ہے تو اپنے تبصرہ میں اس کو شامل کیجیئے۔

شائع کردہ از Uncategorized, اصلاحی | 8 تبصرے

ایک عالمِ دین کی بذلہ سنجی


شیخ عبداللہ المطلق سعودی عرب کے بڑے علماء کی کمیٹی کے رکن ہیں۔ اُنکا شمار فی البدیہ اور فوراً فتویٰ دینے کے حوالے سے مشہور ترین علماء میں ہوتا ہے۔ اپنی بذلہ سنجی، ظریف اور پُر مزاح طبیعت کی وجہ سے عوام میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ براہ راست پروگراموں میں اُن سے پوچھے گئے سوالات کے جواب سننے کے لائق ہوتے ہیں۔

آپکی تفریح طبع کیلئے اُنکے کُچھ دلچسپ جوابات اور فتاویٰ جات پیش ِخدمت ہیں۔

 ٭٭٭٭٭٭

ایک سائل نے شیخ صاحب سے سوال کیا؛ شیخ صاحب کیا پینگوئن کا گوست کھانا حلال ہے؟
شیخ صاحب نے اُسے جواب دیا؛ اگر تجھے پینگوئن کا گوشت مل جاتا ہے تو کھا لینا۔

 ٭٭٭٭٭٭

ایک مرتبہ ایک لڑکی نے ٹیلیفون کر کے پوچھا؛ شیخ صاحب، میری امی بہت عمر رسیدہ ہے اور چل پھر بھی نہیں سکتی۔ اشد ضرورت اور حوائج کیلئے فقط رینگ کر چلتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اسلام میں میری امی کا مقام کن لوگوں میں شمار ہوتا ہے؟ شیخ صاحب نے جواب دیا؛ تیری امی کا مقام رینگ کر چلنے والی مخلوقات میں شمار ہوتا ہے۔

 ٭٭٭٭٭٭

سعودی چینل ۱ کی براہِ راست نشریات میں ایک سائل نے شیخ صاحب کو ٹیلیفون کر کے پوچھا، شیخ صاحب میں نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے۔ اب کس طرح اُس سے رجوع کروں؟

شیخ صاحب نے جواب دیا؛ میرے بھائی طلاق ہمیشہ ہی غصے کی حالت میں دی گئی ہے۔ کیا کبھی تو نے ایسا سنا یا دیکھا ہے کہ کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ مزے سے بیٹھا تربوز کے بیج چھیل کر کھا رہا تھا؟

 ٭٭٭٭٭٭

ایک پروگرام کے دوران یمن سے ایک سائل نے ٹیلیفون کر کے پوچھا؛

شیخ صاحب، میرے موبائل میں قرآن شریف کی بہت سی تلاوت بھری ہوئی ہے۔ کیا میں موبائل کے ساتھ بیت الخلاء میں جا سکتا ہوں؟
شیخ صاحب: ہاں جا سکتے ہو، کوئی حرج نہیں۔
سائل نے سوال دوبارہ دہرایا: شیخ صاحب، میں موبائل میں قرآن شریف کے بھرے ہونے کی بات کر رہا ہوں۔
شیخ صاحب: میرے بھائی کوئی حرج نہیں، قرآن شریف موبائل کے میموری کارڈ میں ہوگا، تم اُسے ساتھ لیکر بیت الخلاء میں جا سکتے ہو۔
سائل: لیکن شیخ صاحب یہ قرآن کا معاملہ ہے۔ اور بیت الخلاء میں ساتھ لے کر جانا اچھا تو ہرگز نہیں ہے ناں!
شیخ صاحب؛ کیا تمہیں بھی کُچھ قرآن شریف یاد ہے؟
سائل: جی شیخ صاحب، مُجھے کئی سورتیں زبانی یاد ہیں۔
شیخ صاحب: تو پھر ٹھیک ہے، اگلی بار جب تُم بیت الخلاء جاؤ تو اپنے دماغ کو باہر رکھ جانا۔

 ٭٭٭٭٭٭

ایک پروگرام میں سائلہ نے پوچھا:

شیخ صاحب، کچن میں برتن دھونے سے کیا میرا وضوء ٹوٹ جائے گا؟
شیخ صاحب نے جواب دیا: کیا تیرے برتن پیشاب کرتے ہیں؟

 ٭٭٭٭٭٭

ایک سائل نے ٹیلیفون کر کے پوچھا؛ شیخ صاحب، کیا غسلِ جنابت کےلئے ناخن بھی کاٹنے پڑیں گے؟

شیخ صاحب نے تعجب بھرے انداز میں جواب دیا؛
روزانہ غسلِ جنابت کرو تو کاٹنے کیلئے ناخن کہاں سے لاؤ گے؟

 ٭٭٭٭٭٭

ایک مصری سائلہ نے ٹیلیفون کر کے پوچھا؛

شیخ صاحب، میرے خاوند کا میرے ساتھ بہت ہی غلط رویہ ہے۔ میری کوئی بات نہیں مانتا۔
شیخ صاحب نے جواب دیا؛ تم اُسے اپنے اچھے اخلاق کے جادو سے قابو کرو۔
سائلہ نے پوچھا؛ یہ جادو میں یہاں سے کرواؤں یا واپس مصر جا کر کرواؤں۔

 ٭٭٭٭٭٭

ایک مرتبہ ایک سائل نے ٹیلیفون کر کے سوال کرنا چاہا؛

شیخ صاحب، میرا بُوڑھا (اسکا مطلب تھا میرا باپ ۔ اکثر بدو اپنے باپ کو ‘یا شایب’ اور ‘ یا شیبہ’ کہہ کر بھی مخاطب کر لیتے ہیں جسکا مطلب اے بزرگ یا اے بوڑھے بنتا ہے)۔
شیخ صاحب نے سائل کی بات کاٹتے ہوئے کہا، دیکھو بوڑھا نہ کہو، میرا والد یا کُچھ اور کہہ کر مُجھے اپنا سوال بتاؤ۔
تھوڑی سی خاموشی کے بعد سائل نے پھر بولنا شروع کیا، شیخ صاحب میرا بُوڑھا۔۔۔
شیخ صاحب نے سائل کی پھر بات کاٹتے ہوئے کہا؛ تیری بھنویں بوڑھی ہو جائیں، میں نے تجھے کہا ہے کہ بوڑھا کہہ کر مت پُکار۔

 ٭٭٭٭٭٭

ایک عورت نے ٹیلیفون کر کے اپنا مسئلے کا حل پوچھا، شیخ صاحب نے جواب دیدیا تو عورت نے شیخ صاحب سے کہا:

شیخ صاحب، میرے لئے دُعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ میرے نصیب میں شیخ محمد العریفی سے شادی لکھ دے۔
شیخ صاحب نے سائلہ سے پوچھا، تو شیخ محمد العریفی سے شادی اُس کی خوبصورتی کی وجہ سے کرنا چاہتی ہے یا اُس کے علم کی وجہ سے؟
سائلہ نے جواب دیا؛ شیخ صاحب، میں اُس سے شادی اُس کے علم کی وجہ سے کرنا چاہتی ہوں۔
شیخ صاحب نے جواب دیا؛ تو پھر شیخ صالح السدلان اُس سے زیادہ بڑا عالم ہے۔ میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تیری شادی شیخ صالح السدلان سے کرادے۔
(واضح رہے کہ شیخ محمد العریفی ایک نوجوان اور نہایت ہی خوبصورت عالمِ دین ہیں جبکہ شیخ صالح السدلان صاحب نہایت ہی ضعیف العمر عالم دین ہیں)

شیخ صاحب کی بات سُن کر پروگرام کا کمپیئر اسقدر زور سے کھکھلا کر ہنسا کہ کافی دیر تک اپنے آپ پر قابو بھی نہ پاسکا۔

 ٭٭٭٭٭٭

ایک سائل نے ٹیلیفون کر کے پوچھا:

شیخ صاحب، میری بیوی انتہائی موٹی اور بھدی ہے۔ میں اُسکا کیا کروں؟
شیخ صاحب نے اُسے مختصر سا جواب دیا؛ میرے بھائی، تیرے اوپر اور میرے اوپر اللہ تعالیٰ کی ایک جیسی رحمت ہے۔

 ٭٭٭٭٭٭

شائع کردہ از تفریحی | ٹیگ شدہ , , | 44 تبصرے

نئے لوگ پرانے لوگ


اپنے دیس کے بڑے بوڑھے، چاہے کسی شہر  سے  ہی کیوں ناں  ہوں، جب اپنا ماضی کھول بیٹھیں تو کچھ ایک جیسی لگی بندھی باتیں  ہی ان سے سننے کو ملتی ہیں، کچھ مخصوص باتوں کو سُن کر  تو  کان ہی پک جاتے ہیں؛ اپنے دور کی عظمت کا ایک جیسا ہی  قصہ ہوگا ان سب بابوں کے پاس۔  کہیں گے یہ بھی بھلا  کوئی مرغی ہے؟ نا کھانے کا سواد اور لذت ، اور اتنی چھوٹی سی مرغی اور  اتنی زیادہ قیمت ۔ مرغیاں تو ہمارے وقتوں میں ہوا کرتی تھیں۔ اب مرغیوں کے اوصاف بیان ہونگے تو لگے گا ان کے زمانے میں مرغیاں بھیڑ کے برابر ہوتی ہونگی، اور بھیڑ؟ شاید وہ تو ڈائناصور کے حجم کی ضرور رہتی ہوگی۔ پھول تو بس ان کے زمانے میں ہوا کرتے تھے، کسی ایک کے گھر میں کھل گیا تو محلے بھر نے خوشبو سونگھ لی۔ ایک سیب کھانے سے ان کا پیٹ بھر جاتا تھا۔ برکت ایسی کہ سیر بھر مالٹے  آئے تو گھر والوں نے مہمانوں کو بھی کھلائے اور خود بھی کھائے پھر بھی بچ رہتے تھے۔  گانے ان کے زمانے کے مہذب ہوا کرتے تھے،  فلمیں ان کے زمانے میں حیا والی ہوا کرتی تھیں۔ اصلی دیسی  گھی ایک روپے کا پانچ پاؤ ملا کرتا تھا۔ دودھ کی کوئی کمی نہیں ہوتی تھی، مہمان آنے پر دو چار سیر تو ویسے ہی ہمسایوں سے مانگ لیا جاتا تھا ۔

ان سب باتوں میں قصہ گوئی ہو سکتی ہے مگر ان کی عظمتوں کو سلام ہو کہ جو شر م و حیا ان کے زمانے میں ہوا کرتی تھی ان اقدار کو اب صرف کتابوں میں ہی پڑھا جا سکتا ہے۔ میں پچھلے دنوں ایک پاکستانی ٹی وی چینل پر  ایک پاکستانی بڑے شہر کے باسیوں کی ایک جرم کی کہانی دیکھ رہا تھا۔  لڑکے نے فون کر کے لڑکی کی ماں کو کہا کہ خالہ جی میری اب منگنی ہو گئی ہے اپنی بیٹی سے  کہیں یہ اب میرے پاس نا آیا کرے۔ اس عورت نے کہا بیٹا اسے واپس  بھیج دو ہم سمجھا لیں گے۔ دوسرے دن لڑکے کو دعوت دے دی گئی کہ آ کر اچھے طریقے سے الوداع ہو جاؤ، لڑکا جاتے ہوئے ایک دوست کو بتاتا گیا کہ میں وہاں جا رہا ہوں۔ شام تک واپسی نا ہوئی تو لڑکے والوں نے ڈھونڈھنا شروع کیا،  دوست کے توسط سے لڑکی کے گھر پہنچے جہاں لڑکی والوں  کی بدحواسی دیدنی تھی۔ اس سے پہلے کہ معاملہ کشیدہ ہوتا پولیس نے فون کیا کہ تمہارا لڑکا زخمی حالت میں مل گیا ہے جلدی پہنچو۔ پہنچنے پر علم ہوا پولیس نے جھوٹ بولا تھا  اور لڑکے کے سر میں گولی لگی لاش ان کے انتظار میں تھی۔ تحقیق بڑھی تو لڑکی کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

یہاں سے بات کل اور آج کے فرق کی شروع ہوتی ہے۔  لڑکی نے ٹی وی رپورٹر کو کہا؛  جس طرح میں اس کی دوست ہوں فلاں لڑکا بھی تو اسکا دوست ہے، پولیس صرف مجھے ہی حراست میں کیوں لے رہی ہے اسے کیوں نہیں ساتھ حراست میں لیتی۔ لڑکی کی ماں کا کہنا تھا؛ یہ سچ ہے کہ ہماری لڑکیاں لڑکوں سے دوستی لگاتی ہیں مگر اس کا یہ تھوڑا مطلب ہے کہ دوستی ٹوٹے تو وہ ان لڑکوں کو قتل کرانا شروع کردیں۔

شرم و حیا قصہ پارینہ بن گئی ہے، جس بات پر ندامت آئے، وہ بات اتنی سادگی سے کہی  جانے لگی ہے اب، کمال ہو گیا ہے۔ اپنے دماغ کو خراب کرنے کی بجائے میں نے ایک مشہور پنجابی سٹیج ڈرامے کا ایک کردار یاد کیا جو اپنے دوست کو بار بار کہتا تھا؛ او بے غیرتا، ایہہ بیستی اووو۔

آج سے تیرہ مہینے پہلے میں نے ایک معزز دوست  کو  یہاں چین  میں نقد پیسے دیئے، شرائط طے تھیں کہ وہ جو گارمنٹس اپنے لیئے  خریدے گا میرے پیسوں سے میرے بیٹے کیلئے بھی خریدے گا۔ پاکستان میں جا کر اس نے مزید پیسے مانگ لیئے کہ جلدی دیں آپ کا مال آگیا ہے اور کسٹم ادا کرنا ہے۔ میں نے  جلد ہی مزید پیسے بجھوا دیئے۔ مال اتفاق سے اچھا اور بروقت تھا جو کہ ان صاحب نے بوروں میں بند  دوگنے  منافع پر بیچ دیا اور مجھے کہا کہ مال آپ کے بیٹے نے نہیں بیچ سکنا تھا اس لیئے نہیں دیا۔ پیسوں کی واپسی سال بھر میں بھی نا ہو سکی۔ اس شعبان  کے آخر میں یہ صاحب یہاں چین تشریف لائے تو یہ ماحول بنا کر آئے کہ وہ آتے ہی مجھ سے معافی بھی مانگیں گے اور پہلے پیسے دیکر پھر اپنا کام شروع کریں گے۔ یہ ساری باتیں انہوں نے ایک مشترکہ دوست کو کہہ کر میرے ذہن میں ڈالیں تاکہ میں پرسکون رہوں کہ اب تو پیسوں کا مسئلہ حل ہورہا ہے۔ یہاں آنے پر پیسوں کو تو عید کے بعد پر ڈال دیا گیا مگر  مجھے یہ بھی  کہا گیا کہ پتہ نہیں میں نے کس قسم کے پیسے ان کو دیئے تھے جس سے ان کا سارا  سال نقصان ہوتا رہا، ان کا خیال تھا میرے پیسے حرام کے تھے یا میں نے کسی سے ہتھیائے ہوئے تھے۔

مجھے گلی محلوں کے بابے یاد آگئے جن کے زمانے میں مروت ہوا کرتی تھی، وعدے ایفا ہوتے تھے اور سچ کا بول بالا ہوا کرتا تھا۔  ان کے زمانے میں لوگوں کو پتہ ہوتا تھا کہ ایفائے عہد کیا ہوتا ہے اور دروغ گوئی کیا ہوتی ہے۔ لوگ اپنی کیئے پر نادم ہوا کرتے تھے۔ کسی کے گھر کا  نمک کھائے ہوئے کی لاج رکھی جاتی تھی۔

دماغ کو مزید خراب ہونے سےبچانے کیلئے میں نے ایک بار پھر وہی والا ڈائیلاگ یاد کیا؛ او بے غیرتا، ایہہ بیستی اووو۔

شائع کردہ از Uncategorized | ٹیگ شدہ , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | 34 تبصرے