موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے مناسب ترین اوقات


موسیقی اور گانوں سے لطف اندوز ہونے کے مناسب ترین اوقات۔

اور ہر ایک وقت کیلئے مخصوص موسیقی یا گانوں کا انتخاب اور اسکی خصوصیات۔

• کچھ لوگ جب کھانا تناول فرما رہے ہوں تو اس وقت میوزک سے لطف اندوز ہونا پسند کرتے ہیں، ناصرف یہی بلکہ ماحول اور موقع کی مناسبت سے راحت و سکون سے بھر پور موسیقی کے انتخاب میں بھی انکا ذوق قابل ستائش ہوتا ہے۔
• کچھ لوگ پر ہیجان اور اونچی آواز والی موسیقی پر فریفتہ ہوتے ہیں، انکا ذوق اور بھی قابل دیدنی ہوتا ہے۔ رات کے پچھلے پہر، دوستوں کے ساتھ کار پر سوار، سنسان سڑک پر فراٹے بھرتے ہوئے، کار کی کھڑکیاں کھلی ہوئی ہوں، اس وقت اونچی آواز میں میوزک سننے کا جو لطف آتا ہے اسکا بیان الفاظ میں بیان کرنا بھی مشکل کام ہے۔
• کچھ لوگ صرف سفر کے دوران ہی میوزک کا سہارا لیتے ہیں۔ سفر لمبا ہو تو پھر ایک کیسٹ سے تو کام نہیں چلتا، احتیاطا ً دو یا تین زاد سفر کے طور پر ساتھ بھی لینا پڑتی ہیں۔ سفر نہایت لطف سے کٹتا ہے۔ جب سے مڈ وے شاپس کی سہولت آئی ہے تو یہ کام اور بھی آسان ہو گیا ہے، کیسٹ پسند نہ آ رہی ہو تو راستے میں اور بھی خریدی جا سکتی ہیں۔
• اور شادی کی محافل، موسیقی کے بغیر ان تقاریب کا تو تصور ہی پھیکا پھیکا سا ہے۔ محبت بھرے گانے چل رہے ہوں تو اس لمحے دلہا اور دلہن کو دیکھنے سے اور بھی پیار آتا ہے۔ آدمی ماحول کے رنگ میں رنگا ہوا لگتا ہے۔ اور وہاں میوزک اتنا اونچا تو ضرور ہونا چاہیئے کہ میرج ھال کے در و دیوار کم از کم تھرکتے سے تو ضرورنظر آئیں۔
• کچھ موسیقی کے لذت آشنا موسیقی کے بارے میں نہایت ہی لطیف احساس رکھتے ہیں۔ بستر میں سونے سے پہلے ہلکی سی آواز میں مدھر سروں والی موسیقی چلاتے ہیں اور کچھ لمحے اس کے جادو میں کھو کر آہستہ آہستہ نیند کی وادیوں میں اتر جاتے ہیں اور موسیقی بجتی رہتی ہے۔

اب ذرا ٹھہریئے ! گانوں اور موسیقی کو موقع و مناسبت کے مطابق بجائے جانے پر ایک نظر ڈالتے ہیں!

وہ حضرات جو کہ موسیقی کے اس وقت میں دلداہ ہیں جب کہ وہ طعام تناول فرما رہے ہوں اور ان کے سامنے اللہ کی نعمتیں دسترخوان پر چنی ہوئی ہوں، کیا وہ یہ نہیں جان سکتے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کا کفر کر رہے ہیں، اسی دنیا میں لاکھوں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں اس سے ایک چوتھائی کھانا پینا بھی میسر نہیں ہے جو ان کو اس وقت حاصل ہے۔ کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ اللہ کی نعمتوں کا ہر لمحہ شکر ادا کرنا کس قدر ضروری ہے ورنہ دیر بھی نہ لگے اور ان سے یہ سب کچھ چھین لیا جائے۔ ذرا اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول مبارک پر توجہ کیجیئے:

وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً قَرْيَةً كَانَتْ آَمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَداً مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ (النحل 112) اور اللہ نے ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرمائی ہے جو (بڑے) امن اور اطمینان سے (آباد) تھی اس کا رزق اس کے (مکینوں کے) پاس ہر طرف سے بڑی وسعت و فراغت کے ساتھ آتا تھا پھر اس بستی (والوں) نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کے عذاب کا لباس پہنا دیا ان اعمال کے سبب سے جو وہ کرتے تھے (سورۃ النحل – آیت 112)

اور وہ جو رات کے آخری پہر میں موسیقی سننے کو پسند کرتے ہیں، ان کو جان لینا چاہیئے کہ اس وقت تو اللہ رب العزت دنیا کے آسمانوں پر اتر آتے ہیں، اور سحر کا یہ وقت تو استغفار کرنے کا اور بارگاہ الٰہی میں قبولیت کا سب سے افضل وقت ہے۔ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ(الذريات:18) اور رات کے پچھلے پہروں میں (اٹھ اٹھ کر) مغفرت طلب کرتے تھے(سورۃ الذريات آیت 18) تو پھر کیوں کمتر چیزوں کو بہتر سے تبدیل کرنے پر آمادہ ہیں یہ لوگ؟

اور وہ حضرات جو سفر میں میوزک کے دلدادہ ہیں، کس قدر وقت کا ضیاع کر رہے ہیں یہ لوگ؟ اس وقت سے کوئی مفید کیسٹ سن کر بھی استفادہ لیا جا سکتا تھا، یا پھر اللہ کیلیئے اخلاص کے ساتھ اس وقت کو گزار کر دنیا میں فائدہ اور آخرت میں اجر و ثواب کا حقدار بھی بنا جا سکتا تھا! جان لیجیئے کہ قیامت کے دن وقت اور مال کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ کس طرح صرف کیا تھا۔

اور جو شادی بیاہ پر میوزک اور گانوں کے بغیراس محفل کو ادھورا جانتے ہیں، میں اسے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہو سکتا ہے یہ اس کی زندگی کی ایسی رات ہو جس میں اسکی پر مسرت ازدواجی زندگی اور نیک آل و اولاد لکھی جانی ہو، کیا تجھے ڈر نہیں لگتا کہ گانے بجانے کی نحوست اس کو ناکامیوں اور نا مرادیوں میں بدل کر رکھ دے۔ اور کیا تو نہیں جانتا کہ اس رات تیری وجہ سے جس نے بھی گانے سنے اسکا گناہ بھی تیرے حساب میں لکھا گیا ہے؟

اور آخر میں اسکا تذکرہ جو سوتے وقت گانے سننا پسند کرتے ہیں: یاد رکھیئے کہ نیند کو چھوٹی موت بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ نیند کے وقت بھی اللہ سبحانہ و تعالٰی تیری روح کو قبض فرما لیتے ہیں، پس بہتر ہے کہ تیری آخری بات اللہ کا ذکر ہو اور آخری چیز جو تیرے کانوں میں اتری ہو وہ قرآن مجید ہو، ہو سکتا ہے کہ جس بستر پر گانے سن کر سونے جا رہا ہے وہ تیری موت کا بستر ثابت ہونے والا ہو۔ پس بہتر تو یہ ہے کہ سونے سے قبل توبہ و استغفار اور سوتے وقت کے اذکار کیئے جائیں۔

** اور اب آخر میں: اپنے اوقات کو اللہ کے ذکر میں گزارنے کی عادت ڈالیئے، گانے بجانے کی عادت سے اجتناب کیجیئے، تلاوۃ قرآن اور ذکر اللہ اپنا شعار بنایئے؟

3 Responses to موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے مناسب ترین اوقات

  1. محمد اسحاق نے کہا:

    جناب مضمون تو آپ نے لکھ دیا مگر یہ بتائیں اسلام میں موسیقی کی گنجا ئش ہے خاص طور پر آج کل جو موسیقی سنی جاتی ہے؟

  2. پنگ بیک: موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے مناسب ترین اوقات | Muhammad Saleem

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s