اپنا ماضی مت بھولیئے

نہایت گہرے معانی لئے ایک پُر اثر قصہ

ایک تھی لڑکی،اندھی اور بصارت سے محروم، اپنے اندھے پن کی وجہ سے نا صرف اپنے آپ سے نفرت کرتی تھی
بلکہ اس دنیا اور اور دنیا کے ہر شخص سے بھی نفرت کرتی تھی۔

ہاں مگر ایک شخص تھا جس سے وہ پیار کرتی تھی اور وہ تھا اسکا محبوب دوست جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا تھا اور اسکے ہر دکھ سکھ کا خیال رکھتا تھا۔
لڑکی نے اُسے کہہ رکھا تھا کہ وہ جس دن اس دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گی اُسی دن اُس سے شادی کر لے گی۔

ایک دن کسی نے اپنی دونوں آنکھیں اُس لڑکی کو عطیہ کر دیں، اور جب آنکھیں لگا دینے کے بعد اُس کی آنکھوں سے پٹی اُتاری گئی تو،
وہ ساری دنیا کو دیکھ سکتی تھی بشمول اپنے محبوب دوست کے!

اُس کے دوست نے پوچھا، اب تو تم اپنی آنکھوں سے ساری دنیا کو دیکھ سکتی ہو، اب تو مجھ سے شادی کروگی ناں!
لڑکی نے اپنے دوست کو دیکھا، حیرت سے اُسے صدمہ لگا کہ اُسکا دوست تو اندھا تھا، غیر متوقع طور پر اسکے دوست کے چہرے پر خالی آنکھیں اُسکا منہ چِڑا رہی تھیں۔
وہ لڑکی جو حسرت کرتی تھی کہ آنکھیں ملیں گی تو اپنی ساری زندگی اسکے ساتھ بِتائے گی مگر۔۔۔۔ لڑکی نے شادی سے انکار کر دیا۔

لڑکا روتے ہوئے وہاں سے چلا گیا، کچھ دنوں کے بعد اُس نے لڑکی کو ایک رقعہ بھیجا کہ
اے میری دوست اپنی اِن آنکھوں کا بہت خیال رکھنا، کیوں کہ کچھ دن پہلے تک یہ میری آنکھیں تھیں۔

جی ہاں! اکثر اوقات انسانی ذہن اپنی ذرا سی حیثیت یا سٹیٹس تبدیل ہونے پر بالکل اسی طرح کیا کرتے ہیں۔
بہت ہی کم ایسے لوگ ہیں جو اپنی سابقہ حیثیت کو نہیں بھلاتے اور ہر حال میں یاد رکھتے ہیں کہ وہ کس قسم کے حالات سے گزر چکے ہیں۔

یاد رکھیئے! زندگی اللہ کی عطا کردہ نعمت اور تحفہ ہے۔

آج کے بعد اپنی زبان سے کوئی ناشائستہ بات نکالنے سے قبل اُن لوگوں کے بارے میں ضرور سوچیئے گا جو بولنے سے محروم ہیں۔

کھانے کے ذائقہ پر اعتراض کرنے سے پہلے اُن کے بارے میں ضرور سوچیئے گا جن کو اس جیسا کھانا بھی میسر نہیں ہے۔

بعض تو اپنی زندگی پر ہی اعتراض کر جاتے ہیں، آئندہ اُنکے بارے میں ضرور سوچیئے گا جو تم سے پہلے آسمانوں کی طرف کوچ کر گئے۔

گاڑی چلاتے ہوئے مُسافت کی طوالت کا شکوہ کرنے سے پہلے اُن کے بارے میں ضرور سوچیئے گا جو یہ سفر پیدل کرتے رہے ہیں۔

اور جب کبھی اپنے کام سے تھکن یا بوریت کی شکایت ہو اُن لوگوں کا تصور ضرور ذہن میں لائیے گا جو بے روزگار ہیں اور اس جیسے کام کا محض تصور ہی کر سکتے ہیں ۔

اپنی بیوی یا خاوند کی شکایت کرنے سے پہلے ان کے بارے میں ضرور سوچیئے گا جو اللہ کے حضور اپنے اکیلے پن کی دوری کی فریاد کرتے ہیں ۔

اور جب کبھی تم پر حد سے زیادہ یاسیت و قنوطیت چھا جائے تو اپنے چہرے پر یہ سوچ کر ایک مسکراہٹ لانے کی کوشش کیجیئے گا کہ
ابھی تم زندہ اور سلامت ہو اُن تمام نعمتوں کا شکر ادا کرنے کیلئے جو اللہ نے تمہیں نوازی ہیں

Advertisements

3 Responses to اپنا ماضی مت بھولیئے

  1. Aqeel Ur Rehman نے کہا:

    Very very good Blog

  2. پنگ بیک: اپنا ماضی مت بھولیئے | Muhammad Saleem

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s