سرسوں کا بیج


کہتے ہیں چین میں کسی جگہ ایک عورت،  اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ ، دنیا و ما فیھا سے بے خبر اور اپنی دنیا میں مگن،  خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی کہ ایک دن اس کے بیٹے کی اجل آن پہنچی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ عورت کیلئے کل کائنات اس کا بیٹا چھن جانا ایک ناقابل برداشت صدمہ تھا۔ اُس کا ذہن نظام قدرت کو ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔ روتی پیٹتی  گاؤں کے حکیم کے پاس گئی اور اسے کہا وہ اپنی ساری جمع پونجی خرچ کرنے کو تیار ہے  جس کے عوض بس  ایسا کوئی  نسخہ بتا دے جس سے اس کا بیٹا لوٹ آئے۔

حکیم صاحب اس غمزدہ عورت کی حالت  اور سنجیدگی دیکھ چکے تھے، کافی سوچ وبچار کے بعد بولے، ہاں ایک نسخہ ہے تو سہی۔ بس علاج کیلئے ایک ایسے ننھے سے سرسوں کے بیج کی ضرورت ہے جو کسی ایسے گھر سے لیا گیا ہو جس  گھر میں کبھی کسی غم کی پرچھائیں تک نا پڑی ہو۔  عورت نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، میں  ابھی جا کر ایسا سرسوں کا بیج ڈھونڈھ کر لے آتی ہوں۔

عورت کے خیال میں اس کا گاؤں ہی تو وہ جگہ تھی جس میں  لوگوں کے گھروں میں غم کا گزر نہیں ہوتا تھا۔ بس اسی خیال  کو دل میں سجائے اس نے گاؤ ں  کے پہلے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے ایک جوان عورت نکلی۔ اس عورت نے اس سے پوچھا؛ کیا اس سے پہلے تیرے گھر نے کبھی غم تو نہیں دیکھا؟ جوان عورت کے چہرے پر ایک تلخی سی نمودار ہوئی اور اس نے درد بھری مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے کہا؛ میرا   گھر ہی تو  ہے جہاں زمانے بھر کے غموں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔ پھر وہ بتانے لگی کہ کس طرح  سال بھر پہلے اس کے خاوند کا انتقال ہوا جو اس کے پاس چار لڑکے اور لڑکیاں چھوڑ کر مرا، ان کی روزی  یا روزگار کا مناسب بندوبست نہیں  تھا۔آجکل وہ  گھر کا سازوسامان بیچ کر مشکلوں سے گزارہ کر رہے ہیں اور بلکہ اب تو بیچنے کیلئے بھی ان کے پاس کچھ زیادہ سامان نہیں بچا۔

جوان عورت کی داستان اتنی دکھ بھری اور غمگین تھی کہ وہ عورت اس کے پاس بیٹھ کر اس کی غم گساری اور اس کے دل کا بوجھ ہلکا کرتی رہی۔ اور جب  تک اس نے جانے کی اجازت مانگی تب تک وہ دونوں سہیلیاں بن چکی تھیں۔ دونوں نے ایک دوسرے سے دوبارہ ملنے کا وعدہ لیا اور رابطہ رکھنے کی شرط پر عورت اس کے گھر سے باہر نکلی۔

مغرب سے پہلے یہ عورت ایک اور خاتون کے گھر میں داخل ہوئی جہاں  ایک اور صدمہ اُس کےلئے  یہاں منتظر تھا ۔ اس خاتون کا خاوند ایک خطرناک مرض میں مبتلا گھر پر صاحب فراش تھا۔  گھر میں بچوں کیلئے کھانے پینے کا سامان ناصرف یہ کہ موجود  ہی نہیں تھا  بلکہ یہ بچے  اس وقت بھوکے بھی تھے۔  عورت بھاگ کر بازار گئی اور جیب میں جتنے پیسے تھے ان پیسوں سے کچھ دالیں، آٹا اور گھی وغیرہ خرید کر لائی۔ خاتون خانہ  کے ساتھ مل کر جلدی جلدی کھانا پکوایا اور اپنے ہاتھوں سے ان بچوں کو شفقت سے کھلایا۔ کچھ دیر مزید دل بہلانے کے بعد ان سب سے اس وعدے کے ساتھ اجازت چاہی کہ وہ کل شام کو پھر ان سے ملنے آئے گی۔

اور دوسرے دن پھر یہ عورت ایک گھر سے دوسرے گھر اور ایک دروازے سے دوسرے  دروازے پر اس امید سے چکر لگاتی رہی کہ کہیں اسے ایسا گھر مل جائے  جس پر غموں کی کبھی پرچھائیں بھی پڑی ہوں اور وہ وہاں سے ایک سرسوں کا بیج حاصل کرسکے، مگر ہر جگہ ناکامی اس کا  منہ چڑانے کیلئے منتظر رہتی تھی۔ دل کی اچھی یہ عورت لوگوں کے مشاکل ، مصائب اور غموں سے متاثر انہی لوگوں  کا ایک  حصہ بنتی چلی گئ اور اپنے تئیں ان سب  میں کچھ خوشیاں بانٹنے کی کوشش کرتی رہی۔

گزرتے دنوں کے ساتھ یہ عورت بستی کے ہر گھر کی سہیلی بن چکی تھی۔  وہ یہ تک بھولتی چلی گئی  کہ  اپنے گھر سے تو ایک ایسے گھر کی تلاش میں نکلی تھی  جس پر کبھی غموں کی پرچھائیں نا پڑی ہوں اور وہ ان خوش قسمت لوگوں سے ایک سرسوں کے ایک بیج کا سوال کر کے اپنے غموں کا مداوا کر سکے۔ مگر وہ  لا شعوری طور دوسرے کے غموں میں شریک ہو کر ان کے غموں کا مداوا  بنتی چلتی چلی جا رہی تھی۔  بستی کے حکیم نے گویا اسے اپنے غموں پر حاوی ہونے کیلئے  ایسا مثالی نسخہ تجویز کر دیا تھا  جس میں سرسوں کے بیج کا ملنا تو ناممکن تھا مگر غموں پر قابو ہرگز نہیں تھا۔ اور اس   کے غموں پر قابو پانے کا  جادوئی سلسلہ اسی لمحے ہی شروع ہو گیا تھا جب وہ بستی کے پہلے گھر میں داخل ہوئی تھی۔

جی ہاں،  یہ  قصہ کوئی معاشرتی اصلاح کا  نسخہ نہیں ہے،  بلکہ یہ تو ایک کھلی دعوت ہے ہر اس شخص کیلئے جو اپنی انا کے خول میں بند، دوسروں کے غموں اور خوشیوں سے سروکار رکھے بغیر اپنی دنیاؤں میں گم اور مگن رہنا چاہتا ہے۔ حالانکہ دوسروں کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کے غموں اور خوشیوں میں شرکت کرتے سے  خوشیاں بڑھتی ہی ہیں کم نہیں ہوا کرتیں۔ یہ قصہ یہ درس بھی ہرگز نہیں دینا چاہتا کہ اگر آپ اپنی انا کے خول سے باہر نکل آئے تو آپ ایک محبوب اور  ہر دلعزیز   شخصیت بن جائیں گے،  بلکہ یہ قصہ یہ بتانا چاہتا ہے ہے کہ آپ کا یہ معاشرتی رویہ آپ کو پہلے زیادہ خوش انسان بنا دے گا۔

عربی سے ترجہ و تلخیص کر کے حاصل مضمون تبصرے کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in Uncategorized, اصلاحی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

10 Responses to سرسوں کا بیج

  1. راشد نے کہا:

    بھت سبق اموز بھت اچھا

  2. عظیم جاوید نے کہا:

    معلوم ہورہا ہے ذائقے کا فرق۔ ۔ ۔ کمال انتخاب کیا بھئی

  3. آپ ہمیشہ ہی کچھ خوبصورت لے کے آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

  4. یہ بات اچھی ہے کہ آپ عربئ سے ترجمہ وا تلخیص کرتے ہیں، بدقسمتی سے ہم عربی ادب سے دور ہیں، آپ کا انتخاب پر اثر ہوتا ہے، جاری رکھئے بغیر کسی صلہ و ستائش کے

  5. مصطفیٰ ملک نے کہا:

    بہترین پیغام
    سلیم بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ پاک سب کی پریشانیوں کو دور فرمائے (آمین(

  6. فیصل مشتاق نے کہا:

    اسلام و علیکم
    بہت عمدہ سبق آموز تحریر۔خدا کے بندوں سے پیار بھی ایک طرح سے اُس خالق ِکائنات کے قریب ہونے کا ذریعہ ہے۔ اور پیار کے اظہار کا سب سے بہتر طریقہ دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنا اور کم کرنا ہے۔ اللہ تبارک وتعالٰی آپ کو خوش رکھے۔

  7. اللہ سبحانہ تعالیٰ تمام والدین کو اولاد کے دکھ سے محفوظ اور اپنے کمزور بندوں کو آزمائشوں سے دور رکھیں۔ آمین

  8. محبوب بھوپال نے کہا:

    اسلام و علیکم
    بہت خوب سلیم بھائی

  9. سیما آفتاب نے کہا:

    خوبصورت تحریر بہترین پیغام

  10. طاہر بٹ نے کہا:

    بہت اچھے سلیم بھائی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s