میرے فیس بکی سٹیٹس (5)


بعض اوقات ندامت کا مطلب دیوار گیر گھڑی کے سامنے کھڑے ہو کر اُس کی سوئیوں سے واپس لوٹ جانے کی التجا کرنا ہوتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭
اس سے پہلے کہ سر اُٹھا کر اپنے رب سے نا ملنے والی نعمتوں کا تقاضا کرو، پہلے اپنے سر کو جُھکا کر ان نعمتوں کا شکر تو ادا کردو جن سے تم مستفید ہو
٭٭٭٭٭٭
 زندگی اب ٹیپ ریکارڈ والی کیسٹ تو ہے نہیں کہ جو پسند ہے انہیں دوبارہ ریوائنڈ کر لو۔ بھائی جی، جو گزر گئی گزر گئی۔
٭٭٭٭٭٭

صرف شام میں ایسا ہو تا ہے کہ:
شدید گولہ باری باری کی وجہ سے لڑکی کی شادی ملتوی کرنا پڑی
دوسری بار دولہا کا گھر تباہ ہو گیا تو شادی ملتوی کرنا پڑی
پھر شادی بالکل ہی ملتوی ہو گئی کیونکہ دولہا شہید ہو گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭
جب کوئی عورت یہ کہے اس دنیا کے سارے مرد جھوٹے اور بے وفا ہیں کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا اس نے دنیا کے سارے مردوں کو آزما لیا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے جس شخص کو آزمایا وہ اکیلا اس کیلئے پوری دنیا کے برابر تھا۔

٭٭٭٭٭٭

اگر تیرے باپ نے تجھے تیرے بچپن میں کسی شہزادی کی طرح پالا تھا تو اس کے بڑھاپے میں تو بھی اُسے کسی بادشاہ جیسا برتاؤ کرنا۔
٭٭٭٭٭٭
کچھ لوگوں کی ظاہری حالت سے بندہ بہت دھوکہ کھا جاتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ قیمے والا سموسہ سمجھ کر اٹھائیں اور اندر سے آلو والا نکل آئے
٭٭٭٭٭٭

بہت عرصہ پہلے اس کا دوست فوت ہو گیا تھا مگر اس نے آج تک اپنے دوست کا نام فون سے نہیں کاٹا۔ ایک آدھ بار موبائل تبدیل بھی کیا ہے مگر اپنے دوست کا نمبر دوبارہ نئے موبائل میں ڈال لیتا ہے۔ کہتا ہے؛ جب بھی میرے دوست کا نام موبائل پر سامنے آ جائے تو دعا کرتا ہوں اللہ پاک میرے دوست کی مغفرت فرما دے۔

٭٭٭٭٭٭

اگر تم سے ایک تارہ گم ہوا ہے تو کیا ہوا، آسمان پورا تاروں سے بھرا ہوا ہے۔  اگر بھرے آسمان میں سے بھی کوئی تارہ تیری قسمت میں نہیں تو کون جانتا ہے شاید چاند تیرا نصیب ہو۔

٭٭٭٭٭٭

ریسٹورنٹ میں بیٹھے انگریز نے کھانے میں سے ایک لقمہ لیکر اپنی بیوی کے منہ میں دیا، بہت ہی رومانوی منظر تھا، دل خوش ہو گیا۔
تعلیمات تو ہمیں بھی آپ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دی ہیں کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں دو گے تو اس کا بھی ثواب ملے گا۔ ( اعظم الصدقہ لقمہ يضعها الرجل في فم زوجتہ)۔
مگر ہمیں جو کچھ تعلیمات یاد ہیں وہ یہ ہیں کہ شریعت نے ایک وقت میں ہمارے لیئے چار بیویاں جائز کی ہیں

٭٭٭٭٭٭

مزیدار کھانا کھانے کے بعد اس نے بل منگوایا، پیسے نکالنے کیلئے جیب میں ہاتھ ڈالا، بٹوا نا پا کر نادیدہ خوف سے اس کی حالت ہی خراب ہو گئی۔ ہسٹیرائی انداز میں اوپر نیچے جیبوں کو ٹٹولا مگر بٹوہ کہاں سے ملتا، وہ تو دفتر سے نکلتے ہوئے میز پر ہی رہ گیا تھا۔ سر جھکائے آنے والی ممکنہ پریشانیوں اور انکے حل پر غور کرتا رہا۔ کوئی راہ نا پا کر کاؤنٹر کی طرف چلدیا تاکہ اپنی گھڑی ضمانت کے طور رکھوا کر جائے اور پیسے لیکر آئے۔ بل میز پر رکھتے ہوئے کیشیئر کو ابھی کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ وہ خود ہی بول پڑا؛ جائیں جی آپ کا بل ادا ہو چکا ہے۔ حیرت کے مارے اس نے سوال کیا؛ مگر کس نے ادا کیا ہے؟ کیشیئر نے کہا ابھی آپ سے پہلے اس باہر جانے والے آدمی نے دیا ہے۔ اس نے کہا؛ تو میں اسے کیسے واپس لوٹاؤں گا یہ پیسے، میں تو اسے جانتا ہی نہیں؟ کیشیئر نے کہا؛ کسی کو ایسی صورتحال میں پھنسا مجبور دیکھنا تو بڑھ کر ادا کردینا، نیکی اسی طرح تو آگے چلا کرتی ہے۔

٭٭٭٭٭٭
نیویارک کی ایک سڑک کے فٹ پاتھ سے ٹکرا کر ایک بوڑھا آدمی گر پڑا۔ ایمبولینس آئی اور اسے اٹھا کر ہسپتال لے گئی۔  راستے میں نرس نے اس بوڑھے کی جیب سے بٹوا نکال کر تلاشی لی تو اس کے بیٹے کا نام اور پتہ ملا جو وہیں بحری فوج میں ملازمت کرتا تھا۔  نرس نے اسے پیغام بھیجا جلدی پہنچو اور یہ نوجوان فوراً ہی ہسپتال پہنچ گیا۔  نرس نے بوڑھے سے جس کے منہ پر آکسیجن ماسک لگا ہوا تھا سے کہا تمہارا بیٹا تم سے ملنے آیا ہے۔ تیز اثر دواؤں کے زیر اثر ہوش میں آئے ہوئے بوڑھے نے ہاتھ بڑھایا اور نوجوان نے بڑھ کر تھام لیا۔
یہ نوجوان مسلسل چار گھنٹے تک اس بوڑھے کے پاس رہا اور شفقت سے بوڑھے کا ہاتھ تھامے بار بار گلے لگاتا اور بوڑھے کی تیمار داری اور حوصلہ افزائی کرتا رہا۔  نرس نے اس دوران کئی بار نوجوان سے آرام کرنے یا ادھر ادھر چل پھر لینے کو بھی کہا مگر اس نے انکار کیا اور بوڑھے کے پاس موجود رہا۔
فجر کے نزدیک اس بوڑھے کی وفات ہو گئی۔  اس نوجوان نے نرس سے پوچھا؛ یہ بوڑھا آدمی کون تھا؟  نرس نے حیرت سے کہا؛ کیا یہ تیرا باپ نہیں تھا؟ اس فوجی نے کہا؛ نہیں، مگر میں نے محسوس کیا تھا کہ اسے اپنے بیٹے کی اشد ضرورت تھی جو اس کے قریب رہ کر اس کی تیمار داری کرے اور اسکی محرومیوں کا ازالہ کرے۔
محتاج اور ضرورتمند کو اچھائی پیش کر دیجیئے، یہ اچھائی ایک دن آپ کے پاس ایسی جگہ سے واپس لوٹ کر آئے گی جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگی۔
٭٭٭٭٭٭

حضرت عمر بن عبدالعزیز رات کو ایک مسجد میں داخل ہوئے،  اندھیرے کی وجہ کی ان کا پاؤں ایک سوئے ہوئے شخص پر جا پڑا۔  یہ شخص ہڑبڑا کر اٹھا اور کہا؛ یہ کیا کیا ہے تم نے، تم گدھے ہو کیا؟ عمر نے اس شخص سے کہا؛ نہیں، میں عمر ہوں۔  ان کے ساتھی نے عمر سے کہا: اے امیر المؤمنین، اس شخص نے آپ کو گدھا کہا ہے۔ عمر نے کہا؛ نہیں تو، اس شخص نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا تم گدھے ہو، جس کا جواب میں نے اسے دیدیا ہے۔

اللہ رحمتیں برسائے تیری مرقد پر، کیا کمال تھے آپ بھی۔
٭٭٭٭٭٭
الشيخ ابن أبي عقيل العماني ایک فقہی امور پر دسترس رکھنے والے عالم گزرے ہیں۔ ان کی محفل میں ایک شخص آیا، بیٹھ چکا تو ان سے کہا؛ میں پانی میں کئی کئی بار ڈبکیاں لگاتا ہوں، اس کے باوجود مجھے شک رہتا ہے کہ میں پاک ہو چکا ہوں کہ نہیں، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ابن عقیل نے جواب دیا؛ میاں جاؤ، تم پر آج سے نماز ساقط کر دی گئی ہے۔  اس آدمی کو فقیہہ کی اس  بات پر بہت تعجب ہوا، پوچھا، کس طرح آج سے مجھ پر نماز کی فرضیت ساقط کر دی گئی ہے؟ ابن عقیل نے کہا؛ کیا تو نے سرکار دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان نہیں سنا کہ تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے : سوئے ہوئے سے حتی کہ بیدار ہو جائے اور بچے سے حتی کہ وہ بڑا ہو جائے، مجنون سے حتی کہ وہ عقل مند یا اس سے پاگل پن چلا جائے۔  اب تیرے جیسا شخص جو پانی میں کئی کئی بار غوطے لگا لے، اُسے ابھی بھی اس بات پر شک ہو کہ اُس کا غسل ہو چکا یا نہیں، تو اس کے پاگل ہونے میں کوئی شک ہی نہیں رہتا۔
٭٭٭٭٭٭

کہتے ہیں ایک شام کے وقت، کوئی شخص امام ابو حنیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا؛ حضرت کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنا مال زمین میں دفن کر کے محفوظ کیا تھا، اب جب ضرورت پڑی ہے تو یاد ہی نہیں آتا کہاں دفن کیا تھا، مجھے اس کا حل بتائیے۔ امام ابو حنیفہ نے جواب دیا؛ یہ کوئی فقہ کے عالم کا کام تو نہیں جو  تجھے یہ بتا سکے کہ تو نے اپنا مال کہاں دفن کیا تھا۔ تاہم انہوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اس شخص سے کہا؛ جاؤ اور جا کر اب سے لیکر صبح تک نماز پڑھنا شروع کرو، ان شاء اللہ تمہیں اپنے دفن کیئے ہوئے مال کی جگہ یاد آ جائے گی۔
اس شخص نے گھر جا کر نماز پڑھنا شروع کی، ابھی کچھ دیر ہی گزر پائی تھی کہ اُسے یاد آ گیا کہ اس کا مال کدھر دفن ہے۔ فورا وہاں جا کر اپنا مال نکال لیا۔ دوسرے دن صبح کو امام ابو حنیفہ کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں اپنے مال کے مل جانے کی اطلاع دی اور شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد اس نے امام صاحب سے پوچھا؛ آپ کو کیسے پتہ تھا کہ مجھے میرے دفن کیئے ہوئے مال کی جگہ یاد آ جائے گی؟
امام صاحب نے کہا؛ مجھے یقین تھا کہ شیطان تجھے کبھی بھی ساری رات نماز پڑھتے رہنے کیلئے چھوڑے گا، وہ تیرے دماغ کو مال کی جگہ یاد کرنے میں اس وقت تک مشغول رکھے گا جب تک تجھے وہ جگہ یاد نہیں آ جاتی۔

٭٭٭٭٭٭

کہتے ہیں فقہ کے کسی عالم کے پاس ایک عورت شکایت لیکر آئی کہ اس کا بھائی چھ سو درہم ترکہ چھوڑ کر مرا۔ وراثت کے اس مال کی جب تقسیم ہوئی تو اسے صرف ایک درہم دیا گیا ہے۔

اس عالم نے کچھ دیر سوچا اور پھر اس عورت سے پوچھا؛ کیا تیرے بھائی کی ایک بیوی، ماں، دو بیٹیاں اور بارہ دیگر بھائی بھی ہیں؟ عورت نے حیران ہو کر کہا، ہاں، بالکل ایسا ہی ہے۔ عالم نے کہا تو پھر ترکہ بالکل ٹھیک تقسیم ہوا ہے اور تیرے ساتھ کسی قسم کا کوئی ظلم نہیں ہوا۔

شرع میں بیوی کا آٹھواں حصہ ہوتا ہے جو کہ (75) پچھتر درہم بنتے ہیں۔

دونوں بیٹیوں کو دو تہائی ملے گا جو کہ (400) چار سو درہم بنتے ہیں۔

ماں کیلئے چھٹا حصہ ہوتا ہے جو کہ (100) ایک سو درہم ہے۔

باقی محض (25) چپیس درہم بنتے ہیں جو بارہ بھائیوں اور تم ایک بہن پر تقسیم ہونگے۔

کیونکہ عورت کو مرد کا نصف ملتا ہے اس لیئے تیرے سارے بھائیوں کو دو ، دو درہم ملیں گے اور تجھے ایک درہم ملے گا جو تجھے دے دیا گیا ہے۔

٭٭٭٭٭٭
میں وقتا فوقتا فیس بک پر لکھے گئے اپنے سٹیٹس کو آپ کیلئے یہاں جمع کیا کرتا ہوں۔ امید ہے آپ کو ایک آدھی بات ضرور اچھی لگتی ہوگی۔ اس سے قبل میں  اپنے سٹیٹس کا مجموعہ نمبر 1  ،  مجموعہ نمبر 2  ,  مجموعہ نمبر 3  اور مجموعہ نمر 4   بھی شائع کر چکا ہوں۔

 

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in Uncategorized and tagged , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

9 Responses to میرے فیس بکی سٹیٹس (5)

  1. محبوب بھوپال نے کہا:

    اسلام و علیکم
    بہت خوب۔ اب میرا تبصرہ
    بعض اوقات ندامت کا مطلب دیوار گیر گھڑی کے سامنے کھڑے ہو کر اُس کی سوئیوں سے واپس لوٹ جانے کی التجا کرنا ہوتا ہے۔
    لیکن ندامت کے آنسو اللہ کو بہت پسند ہیں۔
    اس سے پہلے کہ سر اُٹھا کر اپنے رب سے نا ملنے والی نعمتوں کا تقاضا کرو، پہلے اپنے سر کو جُھکا کر ان نعمتوں کا شکر تو ادا کردو جن سے تم مستفید ہو
    شکر ادا کرنے سے نعموں میں اضافہ ھوتا ھے۔
    صرف شام میں ایسا ہو تا ہے کہ:
    شدید گولہ باری باری کی وجہ سے لڑکی کی شادی ملتوی کرنا پڑی
    دوسری بار دولہا کا گھر تباہ ہو گیا تو شادی ملتوی کرنا پڑی
    پھر شادی بالکل ہی ملتوی ہو گئی کیونکہ دولہا شہید ہو گیا تھا۔
    رنگ لائے گا شھیدوں کا لہو۔ اللہ تعالٰی تمام امت مسلمہ کو امن عطا فرمائے آمین
    جب کوئی عورت یہ کہے اس دنیا کے سارے مرد جھوٹے اور بے وفا ہیں کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا اس نے دنیا کے سارے مردوں کو آزما لیا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے جس شخص کو آزمایا وہ اکیلا اس کیلئے پوری دنیا کے برابر تھا۔
    دیگ سے چند دانے چاول چھک کر پکے ھونے کا اندازہ کرتے ھیں۔
    اگر تیرے باپ نے تجھے تیرے بچپن میں کسی شہزادی کی طرح پالا تھا تو اس کے بڑھاپے میں تو بھی اُسے کسی بادشاہ جیسا برتاؤ کرنا۔
    باپ نے پڑھاپے کے لیے کچھ پس انداز کیا ھو گا تو وہ بادشاہ بنا رھے گا۔ پس انداز میں والدین سے نیک سلوک بھی شامل ھے۔
    کچھ لوگوں کی ظاہری حالت سے بندہ بہت دھوکہ کھا جاتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ قیمے والا سموسہ سمجھ کر اٹھائیں اور اندر سے آلو والا نکل آئے
    جی ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔

    بہت عرصہ پہلے اس کا دوست فوت ہو گیا تھا مگر اس نے آج تک اپنے دوست کا نام فون سے نہیں کاٹا۔ ایک آدھ بار موبائل تبدیل بھی کیا ہے مگر اپنے دوست کا نمبر دوبارہ نئے موبائل میں ڈال لیتا ہے۔ کہتا ہے؛ جب بھی میرے دوست کا نام موبائل پر سامنے آ جائے تو دعا کرتا ہوں اللہ پاک میرے دوست کی مغفرت فرما دے۔
    یہ سب کے ساتھ ھوتا ھے۔ یہاں تک کہ ناراض لوگوں کے نمبر بھی کاٹنے کو دل نہیں کرتا۔
    اگر تم سے ایک تارہ گم ہوا ہے تو کیا ہوا، آسمان پورا تاروں سے بھرا ہوا ہے۔ اگر بھرے آسمان میں سے بھی کوئی تارہ تیری قسمت میں نہیں تو کون جانتا ہے شاید چاند تیرا نصیب ہو۔
    تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی۔
    ریسٹورنٹ میں بیٹھے انگریز نے کھانے میں سے ایک لقمہ لیکر اپنی بیوی کے منہ میں دیا، بہت ہی رومانوی منظر تھا، دل خوش ہو گیا۔
    تعلیمات تو ہمیں بھی آپ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دی ہیں کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں دو گے تو اس کا بھی ثواب ملے گا۔ ( اعظم الصدقہ لقمہ يضعها الرجل في فم زوجتہ)۔
    مگر ہمیں جو کچھ تعلیمات یاد ہیں وہ یہ ہیں کہ شریعت نے ایک وقت میں ہمارے لیئے چار بیویاں جائز کی ہیں
    منہ سے لقمہ نکال لیتی ھیں اجکل کی بیویاں، بندہ بیچارہ دیکھتا ھی رہ جاتا ھے۔ شریعت نے تو اجازت دی ھے لیکن اس دور میں ایک سے نباہ کرنا بہت بڑا ثواب ھے۔
    باقی آئندہ آپ کی اجازت سے۔ انشاءاللہ

  2. مونا نوید نے کہا:

    زبردست ماشاء اللہ

  3. مونا نونوید نے کہا:

    زبردست

  4. محمد اسلم انوری نے کہا:

    محترم سلیم بھای
    السلام علیکم

    ماشاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ آپکے زور قلم کو مذید بڑ ھائے آمین۔
    عید مبارک سلیم بھائی

  5. نورمحمد نے کہا:

    ماشاء اللہ ۔ ۔ ۔

    عید مبارک سلیم بھائی ، ، ،

  6. سلیم بھائی عید مبارک آپ کی صالح فکر اور اللہ سے لگائو کے سبب آپ کی تحریر اچھی لگتی ہیں۔

  7. Yamin نے کہا:

    Nice work dear- keep it up

  8. Arshad نے کہا:

    Salim Bhai ap ka blog pardh kr Dil khush ho jata hai ALLAH apko khush rakhe. Ameen

  9. وسیم رانا نے کہا:

    ماشاء اللہ۔۔۔۔۔سلیم بھائی بہت عمدہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s