مہمان خصوصی


شانتو (Shàntóu –  Chinese:  汕头) مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے ایک بانجھ شہر ہے۔ یہاں پر ایک بھی پیدائشی یا رجسٹرڈ مسلمان ہوتا تو پچھلے سال یہاں کی لوکل گورنمنٹ مسجد کیلئے ایک پلاٹ دینے پر آمادہ ہو گئی تھی مگر وائے حسرت! شہر میں ایک وقت میں دو سو سے زیادہ چینی مسلمان آباد رہتے ہیں۔ اس کی وجہ کچھ اور نہیں چین کے دوسرے مسلمان اکثریتی صوبے لانچو کی مشہور سوغات ہاتھوں کی بنی ہوئی تازہ سویوں بنا کر بیچنے والے ریسٹورنٹس کے مسلمان مالکان اور عملہ ہیں جو شانتو کو اپنا دوبئی بنا کر ادھر آباد ہیں۔

جادوئی ہاتھوں سے سیکنڈوں میں بیسیوں اقسام کی موٹی، باریک یا چپٹی سویاں بنانے کے یہ ماہر لوگ،  لانچو سے بھلے دوگنی قیمت پر یہاں شانتو میں یہ نوڈلز فروخت کریں مگر یہاں کے لوکل کھانوں سے پھر بھی نصف قیمت اور سستے ہیں۔ یہ نوڈلز پورے چین میں ان لوگوں کی مناسبت سے لانچو لامیان کہلاتی ہیں۔  ان سب لوگوں کے ریسٹورنٹ  کے ماتھے پر لگا "حلال – الاطعمہ الاسلامیہ” والا سائن بورڈ اور ریسٹورنٹ کے اندر دیوار پر لگا باتصویر  مینیو ایک جیسا بلکہ ایک جیسا ہی چھپا ہوا (لانچو سے چھپوا کر لاتے ہونگے) ہوتا ہے ان کی سب سے  زیادہ بکنے والی ڈش  تو  وہی لانچو بیف نوڈلز ہوتے ہیں  مگر باقی کے کھانے جیسے  ڈمپلنگ، باؤ میان اور چھاؤ میان بھی کھانے والے ہوتے ہیں۔

لانچو والوں کا دیواری مینیو

لانچو  کا صوبہ شانتو سے بذریعہ بس کم از کم  پینتیس گھنٹے کی دوری پر ہے اس لیئے  یہ لوگ بھلے یہاں پر سالوں سے مقیم ہیں مگر اپنے آپ کو  آج بھی  پردیسی سمجھتے اور پردیسیوں جیسا رہن سہن رکھتے ہیں۔ سال دو سال میں ایک آدھ بار واپس اپنے صوبے میں جاتے ہیں اور مہینہ دو مہینے چھٹیاں گزار کر یا  آرام کر کے واپس آجاتے ہیں، ان چھٹیوں میں ان کے بچوں کی شادیاں اور دوسرے فرائض سے سبکدوش ہوا جاتا ہے۔

بچیوں کی شادیاں کم سنی میں ہی کر دیتے ہیں۔ بچیوں کے رشتے ان کی شکل و صورت کے اعتبار سے نہیں ، کام کرنے کی لگن اور صلاحیت کے اعتبار سے  ہوتے ہیں۔ ادھر شادی ہوئی ادھر دولہا دلہن کو ایک نیا ریسٹورنٹ کھول کر چلتا کر دیا گیا۔ مرد ہاتھوں سے نوڈلز بناتا ہے اور لڑکی سارا دن چولہے کے سامنے کھڑی ہوکر باقی کے کھانے تیار کرتی ہے۔ محنت رنگ لاتی ہے اور دو تین سالوں میں یہ دلہن خاوند کو تین چار بچے اور ایک عدد نئی کار بھی لیکر دیدیتی ہے۔ کار کا استعمال اس خاندان کیلئے کیا ہوگا کے بارے میں  کچھ کہنا محض قیاس آرائی ہی ہوگی کیونکہ سال کے تین سو پینسٹھ دن کام کرنے والے، ریسٹورنٹ کے میزین فلور پر رہائشی، صبح سےرات گئے تک بلا تکان محنت اور محبت سے کام کرنے والے  یہ لوگ کب اپنی ذات کیلئے وقت نکالتے ہونگے کو میں گذشتہ کئی برسوں سے نہیں دیکھ پایا۔

لانچو کے ہر شہر میں مساجد کی بہتات ہے، وہاں رہن سہن اور کھانے پینے کی اشیاء  بہت سستی، اور ماحول اسلام دوست ہے۔ شانتو میں بھی ان لوگوں کا اسلام سے تعلق جیسا بھی ہو مگر جمعہ اور عیدین پران  کی اسلام دوستی (ان کا اجتماع اور اہتمام) دید کے قابل ہوتی ہے۔ اکثر لوگ حفاظ ہیں اور وقت پڑے تو سارے کے سارے ہی امام اور مؤذنین ہیں۔ میں جب یہاں پر نیا نیا آیا تو مسجد کی تلاش  میں میرا  واسطہ ان لوگوں سے پڑا۔ مسجد کیا تھی، لفٹ سے محروم  ایک سالخوردہ عمارت کی ساتویں منزل پر چھوٹے سے ایک کمرے کے فلیٹ پر مشتمل تھی۔ اس مسجد کا کرایہ اور خرچہ یہ ریسٹورنٹ والے لوگ برداشت کرتے تھے۔ میرے جیسا آدمی اوپر پہنچ کر نماز نہیں آرام کی سوچتا تھا باقیوں کے دلوں پر کیا بیتتی ہو گی اس کا اندازہ خود لگا لیجیئے۔ ان کی سادہ لوحی کا یہ عالم تھا کہ افطار و سحر کیلئے اپنے صوبے لانچو فون کر کے اوقات پوچھتے تھے۔تو عید اور رمضان کا تعیین تو یقینا وہاں کے چاند کے حساب سے ہی ہوتا تھا۔

میں کیونکہ سعودیہ کی ایک کمپنی کے کام کے سلسلے میں یہاں آیا ہوا تھا اس لیئے میرے  رابطے سعودیہ کے مخیر لوگوں سے تھے۔ مسجد کی حالت جیسی تھی ویسی کی بنیاد پربتانا ہی اثر کر گیا اور مجھے فنڈز مل گئے کہ مسجد کو گراؤنڈ فلور پر نہیں تو کم از کم پہلی منزل تک ضرور لاؤں، جگہ کشادہ ہو، عمارت صاف ستھری ہو، وضو کی سہولت ہو، ایئر کنڈیشن ہو وغیرہ وغیرہ۔  فنڈز کی ایسی ریل پیل کہ ہر شخص کہتا اگلی بار ہمیں موقع دینا۔ میں نے مسجد کے متولی انکل صالح کو کہا مسجد کو نیچے منتقل کرو پیسوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور پھر چند ہی دنوں میں ہم نئی جگہ منتقل ہوگئے۔ عیدین کی نماز کیلئے کیونکہ آس پاس کے چھوٹے شہروں کے لوگ بھی شانتو کا رُخ کرتے ہیں ۔ اس کیلئے انکل صالح نے باقاعدہ لوکل گورنمنٹ سے دریا کے کنارے ایک جگہ کا پرمٹ لے رکھا ہے جہاں کھلے میدان میں  نماز پڑھائی جاتی ہے۔ انکل صالح میری بہت زیادہ عزت کرتے ہیں، انہیں جب بھی کچھ اخراجات درپیش آتے مجھے کہتے اور میں انتظام کرا دیتا۔ یقینی بات ہے ہر ریسٹورنٹ والے کو میرا بتایا گیا ہوگا کہ کہ  وہ مخیر حضرات والا ٹوٹکا میں ہی ہوں۔ میری عزت افزائی کیلئے مجھ سے چندایک  بار اذان دلوائی گئی تو ایک آدھ بار مولوی صاحب کی عدم موجودگی میں مجھ سے جمعہ بھی پڑھوایا گیا (حیران نا ہوں، مسجد میں خطبے کی کتاب رکھی ہوئی ہے کوئی بھی پڑھ کر خطبہ دے سکتا ہے اور جمعہ پڑھا سکتا ہے)۔

ہماری شانتو مسجد میں جمعہ کے علاوہ کسی اور نماز کا تو کوئی  انتظام نہیں مگر رمضان شریف میں تراویح  ضرور پڑھائی جاتی ہے۔ پہلا عشرہ تو محض تراویح ہوتی ہیں مگر دوسرے عشرے سے ان لوگوں کی ایک دوسرے کو دعوتیں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر تراویح کے بعد کوئی ایک سب کو اپنے ساتھ لیکر جاتا ہے۔ ان کی یہ عوت ایک قسم کا فیمیلی ایونٹ ہوتی ہے۔ اکثر شریک لوگوں کے بیوی بچے بھی ادھر پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ کیونکہ سب کا کاروبار کھانا پکانا ہی  ہے، اس لیئے یہ دعوت گویا ایک دوسرے کو اپنے فن سے مات دینے کا مقابلہ بھی ہوتی ہے۔ بیسیوں کھانے  محنت اور محبت سے بنائے جاتے ہیں تو کھانے والے بھی تعریف میں کنجوسی نہیں کرتے، اتنی ہی چاہت سے کھاتے اور تعریف کرتے ہیں۔ یہاں یہ کہنا ضروری نہیں کہ میں ہر جگہ معزز مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود اور راجہ اندر بنا ہوا ہوتا ہوں۔

پرسوں تراویح پڑھ کر باہر نکلنے لگا تو ایک صاحب نے بازو تھام لیا، میں سمجھ گیا کہ آج کہیں دعوت ہوگی۔ انکل صالح  مسجد کو تالا لگا کر باہر آئے تو مجھے کہا تم میرے ساتھ چلو گے جس پر مجھے کیا اعتراض تھا۔ انکل صالح کے بیٹے عبدالحکیم کی چم چم کرتی  بڑی سی کار نیچے میرے انتظار میں کھڑی تھی، مجھے فرنٹ سیٹ پر بٹھایا گیا اور کار مطلوبہ ریسٹورنٹ پر جانے کی بجائے انکل کے ریسٹورنٹ کی طرف چلدی جہاں دیگر لوگ تو دعوت کے مقام پر پہلے ہی جا چکے تھے مگر انکل صالح کی گھر والی اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے ساتھ انتظار کر رہی تھی۔ یہ کوئی چھ بچے بچیاں ہونگی ان میں سے سب سے  بڑے کی عمر پانچ سال سے کم ہوگی۔ یہ سارے چینی بچے لگتا تھا کہ پری سکول کنڈر گارٹن جاتے ہونگے کیونکہ انہوں نے دادا اور دادی سے لپٹ کر،   لے میں گا گا کر،  اور سُر میں تالیاں بجا کر بچوں والی نظمیں  پڑھنا شروع کردی تھیں۔ انکل نے ایک دو بار تو سنا مگر پھر ڈانٹ کر کہا یہ نہیں گاؤ،  ذکر کرو۔ بس پھر کیا تھا سب بچوں نے بڑے نظم و نسق کے ساتھ بہت ہی خوبصورتی سے کلمہ طیبہ پڑھا۔ ان چینی بچوں کا لب و لہجہ اور ادئیگی ایسی تھی کہ میں حیرت زدہ ہو ہی رہا تھا کہ انہوں نے کلمہ پڑھ چکنے کے بعد ایمان مجمل پڑھنا شروع کردیا۔

553806_10151768502995110_159256290_n

Sifat_Iman_Mujamal

میرا دماغ یکدم سے چکرایا، معانی اور مفہوم کی اور بات ہے میں یہ اچھی طرح جانتا ہونگا ، وقت پڑے تو یہ ساری صفات ترتیب سے نہیں تو کم از کم ویسی ہی سنا بھی دونگا۔  مگر  بات یہ تھی کہ یہ  کلام مجھے پڑھے ہوئے کتنا عرصہ ہو گیا تھا سوچ کر ہی مجھے ہول سا اٹھا۔ میرے اپنے گھر میں بھتیجے بھتیجیاں ہیں، بھانجے بھانجیاں بھی ہیں، کیا میرے بھائی بہنیں بھی اپنے بچوں کو یہ سب کچھ یاد کراتے ہونگے سوچ کر میرا دل خراب ہونے لگا۔ میں نے جلدی  سے بچوں کے ساتھ مل کر دہرایا کہ کیا واقعی میں ان الفاظ اور کلمات کا اقرار اپنی زبان سے کر بھی سکتا ہوں  کہ نہیں۔ دل مطمئن نا  ہوا تو  موبائل سرچ پر ایمان مفصل اور ایمان مجمل لکھا، امیج سرچ کرکے سیو کیا اور پڑھ کر دہرانے لگا ۔ ہماری کار کب ریسٹورنٹ پہنچی کے بارے میں جاننا اب میرا مقصد نہیں تھا نا ہی مجھے وہ لوگ جو اسپیشل کرسی میرے لیئے بڑھا کر مجھے پہلے بٹھانے کا شرف حاصل کرنا چاہتے تھے محسوس ہو رہے تھے۔ مجھے تو لاشعور سے بس ایک ہی آواز آ کر میرے دماغ میں ہتھوڑے برسا برسا کر کہہ رہی تھی: "او جھوٹے مہمان خصوصی "

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in Uncategorized and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

31 Responses to مہمان خصوصی

  1. ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان نے کہا:

    اصل میں ہمارے علما آج کل کتوں کی موت مرنے والوں کی شہادت اور ناشہادت کے عظیم فتوے دینے میں مصروف ہیں۔ انھیں اس سے غرض ہی نہیں کہ بنیادی ایمانیات کیا ہے۔
    بہت شکریہ بھائی آپ کا۔

  2. محبوب بھوپال نے کہا:

    اسلام و علیکم
    سبحان اللہ

  3. مانی نے کہا:

    ماشاء اللہ، سبحان اللہ، جزاک اللہ،

    شانتو کی سیر بھی خوب کرائی، عادات و اطوار و معیشت کا تعارف بھی ہوا اور آخر میں جھنجوڑ بھی دیا۔

    اُٹھ اوئے اچھو 🙂

  4. فیصل مشتاق نے کہا:

    بہت خوب، ماشا اللہ

  5. علی نے کہا:

    ماشااللہ ماشااللہ

    • محمد سلیم نے کہا:

      علی بھائی، آپ بھی ناں بس۔ کچھ کھل کہتے، میں نے تو مزاح میں بھی لکھا تھا کہ : دو تین سالوں میں یہ دلہن خاوند کو تین چار بچے اور ایک عدد نئی کار بھی لیکر دیدیتی ہے، مگر آپ نے اس جملے کو شاید مس کر دیا

  6. بہت عمدہ جناب۔۔۔
    مہمان خصوصی بننا بھی کسی کسی کی قسمت میں ہوتا ہے۔

  7. پردیسی نے کہا:

    اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کو صحت و ایمان کے ساتھ دین و دنیا میں ہمیشہ عزت و توقیر سے نوازے۔
    آپ کی اپنی ذاتی تحریریں ہوں یا کہ ترجمہ کی ہوئی ہمیشہ سونے کے تاروں سے جڑی ہوتی ہیں۔
    اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم جناب نجیب عالم صاحب، بلاگ پر خوش آمدید۔اھلا و سھلا یا مرحبا
      ان خوبصورت کلمات کیلئے شکریہ قبول کریں، یقیناً یہ الفاظ نیرے لئے باعث فخر اور آپ کی طرف سے سند ہیں

  8. SarwatAJ نے کہا:

    دل و دماغ سوچنے والا ہو توزندگی میں کہیں بھی کبھی بھی انسان کا شعور بیدار ضرورہوتا ہے۔ اوریہ بہت بڑی نعمت ہے۔ شعور بیدار ہوجائے تو انسان عمل کی راہیں تلاش کرہی لیتا ہے۔ گراں قدر چینیوں سے ملاقات بہت اچھی رہی۔

  9. خاور کھوکھر نے کہا:

    ایمان کی دونوں سفات پاکستان میں لوگوںکو ترجمعے کے ساتھ یاد کروا کر ان کی تکرار سے بہت سے فتنے ختم کیے جا سکتے ہیں ۔

  10. اللہ تعالٰی آپ کو آخرت میں بھی مہمانِ خصوصی بننے کی نعمت سے سرفراز کردے آمین

  11. سلیم بھائی!
    آپ نے ہمیشہ اچھی اور ایمان تازہ کرنے والی تحاریر لکھی ہیں ۔ایک سے بڑھ کر ایک نیکی پہ آمادہ کرنے والی تحاریر تخلیق و ماخوذ کی ہیں ۔ مگر اس تحریر سے آپ نے شانتو میں بسنے والے لانچو کے مسلمان بھائیوں سے ملاقات کروادی ھے ۔ اللہ آپکی اور ان سب مسلمان بھائیوں کی محنتیں بارآور کرے۔ اور اسلام کو ترقی دے اور مسلمانوں کق ہر شت سے محفوظ رکھے۔
    آپکی وساطت سے چینی مسلمانوں سے ملاقات ہونے سے وہاں کے مسلمانوں کے حالات زندگی سے آگاہی ہوئی ۔ یہ کم از کم میرے لئیے بہت اہم ہے۔
    آپ کو پاکستان میں شیطان کی آنت کی طرح پھیلے انتہائی مہنگے اور تعلیمی نقطہ نظر سے انتہائی ناقص انگریزی اسکولوں سے براہراست پالا نہیں پڑھا۔ آپ انکا نصاب اٹھا کر دیکھیں کہ کسطرح مسلمان بچوں اور بچیوں کو انگریزی کلچر کے انگریز بچوں کے کردار پڑھائے جاتے ہیں۔ ہمارا سارا معاشری بے حس ہوتا جارہا ہے ۔ پاکستان میں امپورٹیڈ نصاب سے ایک ایسی پود تیار ہوگی کہ کچھ سالوں بعد بچے ایمان مفصل اور ایمان مجمل کو یاد کرنے رکھنے کی بجائے اسلام کے بنیادی ارکان پہ شرماتے پھر رہے ہونگے۔

    • جوانی پِٹّا نے کہا:

      جاوید بھائی۔
      وہ ایک حدیث ھے نا کہ
      ایسے لوگ ھونگے جو دن رات قرآن پڑھیں گے، لیکن قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔
      وہ حدیث ہماری نسل کے لیے ہی ھوتی ھے۔
      ہماری نسلوں نے انتہائی اعلٰی معیار کی اردو میڈیم تعلیم پائی ھے۔
      اکثریت نے مسجد میں کئی سال جا کر قرآن بھی ختم کیا ھے۔
      میں خود دسویں جماعت تک مسجد میں پڑھتا رہا ہوں۔
      ہماری نسل نے اس اعلٰی نصاب کے نتیجے میں سکھائے گئے درست طور پر زندگی گزارنے کے اصولوں پر کتنا عمل کیا ھے، اس کا اندازہ کرنے کے لیے آپ پاکستان تشریف لائٰیں۔

      لوگ اپنے بچوں کو انگریزی نصاب انگریزی کلچر کے کردار پڑھانے یا انگریز بنانے کے لیے نہیں پڑھاتے، بلکہ اس لیے پڑھاتے ھیں کہ اُن کے دل میں ایک موہوم سی امید ھوتی ھے کہ شائد یہ نصاب پڑھ کر بچے انگریزوں کی طرح اخلاقی طور پر اعلٰی اقدار کے مالک بن جائٰیں۔ (اُن کا یہ ٹرسٹ انگریزی سسٹم پر ھے۔ نہ کہ انگریزوں پر۔ سارے انگریز حاجی نہیں ھوتے۔) اور اُن پر کسی حرام زدگی کے بغیر وافر حلال روزی کمانے کے دروازے کُھل جائٰیں۔

      مزید یہ کہ نصاب جو کوئی بھی ہو، جن بچوں کی تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری ماں باپ نے ٹیوٹر، مولوی اور مائیوں کو تفویظ کر رکھی ہو، اُن کو چاہے سارا قٰرآن اور انگریزی نصاب یاد ہو، انہوں نے لٹ ہی بننا ہوتا ہے۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جاوید بھائی، تبصرے کیلئے شکریہ۔ اللہ ہماری آئندہ نسل کو اسلام اور ایمان پر کاربند رکھے اور ہمیں اپنے فرائض سے بدرجہ اتم سرخرو کرے آمین۔ آپ ایک درد دل رکھنے والے حساس انسان ہیں، آپ کا پیغام ہر والدین کیلیئے مشعل راہ ہے

  12. ماشاللہ آپ کی تحریر بہت جاندار ہے۔ ایک تو چینی مسلمانوں کے بارے میں جان کر خوشی ہوئی دوسرے آپ کی مذہب کیساتھ وابستگی نے متاثر کیا۔ براہ مہربانی جب تک آپ ادھر ہیں اس جگہ کے بارے میں لکھتے رہیے گا۔

  13. ماشاءاللہ بہت عمدہ لکھا ہے آپ نے
    اللہ آپ سے اپنے دین کی مزید خدمت کروائے اور آپ کو دنیا و آخرت میں کامیاب فرمائے

  14. کوثر بیگگ نے کہا:

    ماشاءاللہ ، آپ کو دین و دنیا میں اللہ پاک ایسے ہی عزت سے نوازتا رکھے۔

    عجیب اتفاق ہے فجر کے بعد بچوں کو تلاوت کے دوران ترجمہ سنایا تو اس میں گواہی کی بات آئی میں نے گواہی کے بارے میں سمجحاتے سمجھاتے اللہ نے میرے دل میں یہ گواہی بھی ڈالی اور بات کلمہ اور ایمان مجمل کی بھی نکل آئی پھر میں نے جاننا کہ سب سے اہم سب سے زیادہ ہمیں ان کی تجدید کرتے رہنا چاہے پھر اللہ نے مجھے مزید پکا کرنے تحریم کے بلاگ اور پھر آپ کے بلاگ سے توجہ دیلائی ہے جزاک اللہ خیر

    • محمد سلیم نے کہا:

      بہن جی، اتنی دعائیں، آج تو دامن کی تنگی کا گمان ہو گیا۔ اللہ پاک آپ کیلئے خوشیوں کے میلے لگائے رکھے، آمین
      چلو میری تحریر نے آپ کیلئے اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب کی بات پر آخری مہر لگائی

  15. سعید نے کہا:

    الدال علی الخیر کفاعلہ ۔۔۔ اللہ تعالی مساجد کے حوالے سے مسلمانوں کی ضرورت کی تکمیل اور سہولت کے بہم پہنچانے میں آپکے وسیلہ بننے کو قبول فرماکر دارین میں بہتر سے بہتر بدلہ عنایت فرمائیں ۔۔۔ دنیا میں تو آپکو مہمان خصوصی بناہی دیا اللہ تبارک و تعالی نے دعا گو ہوں کہ اللہ جل شانہ و عم نوالہ آخرت میں بھی آپکو یونہی مہمان خصوصی بناکر عزتوں سے نوازیں ۔۔۔ ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد

  16. بڑے خوش قسمت ہیں آپ کہ اللہ تعالیٰ آپ سے دین کا کام لے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید فیوض و برکات سے نوازے۔ آمین۔
    امید ہے کہ اب ایمانِ مفصل و ایمانِ مجمل یاد رہے گا 🙂

    • محمد سلیم نے کہا:

      ارے عمار ابن ضیاء بھائی، آپ نے بھی کمال کیا کہ نظر خامیوں پر ڈالنی بجائے خوبیوں پر ٹکا دی۔ ہاں آئندہ یہ کلام تو یقیناً یاد رہے گا۔
      میرے بلاگ پر تشریف لانے کا شکریہ، راہنمائی کیلئے آتے رہا کریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s