میرے فیس بکی سٹیٹس (4)


باتیں بھی دواء کی طرح ہی ہوتی ہیں، تھوڑی ہوں تو بہت فائدہ مند، زیادہ ہوں تو مار ڈالتی ہیں۔

 ٭٭٭٭٭٭

چھتری پاس ہونے کا مطلب یہ تھوڑا ہوتا ہے کہ یہ بارش کو ہی روک لے گی۔  چھتری تو انسان کو بارش میں کھڑا ہونے کا سہارا دیتی ہے۔ بالکل اسی طرح ہی تو "اعتماد” ہوا کرتا ہے جو انسان کو کامیابی تو نہیں دیدیا کرتا، ہاں مگر کامیابی حاصل کرنے کیلئے ڈٹے رہنے کا موقع ضرور دیا کرتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭

اپنی شکل پر کیسا فخر، یہ تو نے خود تو نہیں بنائی، نا ہی اپنی ذات اور نسب پر فخر، جو تو نے خود اختیار نہیں کی۔  ہاں، تیرا اپنے اخلاق پر فخر کرنا بنتا ہے، کہ یہ تیرا اپنا بنایا ہوا ہے۔
٭٭٭٭٭٭

گولیوں کی آواز سے ڈرتے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، کیونکہ جس گولی سے تیرا مرنا لکھا ہے تو اس کی آواز نہیں سن پائے گا۔

٭٭٭٭٭٭

اگر ڈاکٹر سب کو ایک ہی دوا دینا شروع کردے  تو بہت سے مریض تو مر ہی جائیں، بس کچھ اسی طرح ہی انسان ہوتے ہیں، سب سے ایک جیسا برتاؤ بہت ساری خرابیاں پیدا کر دیتا ہے

٭٭٭٭٭٭

جس طرح سچی باتیں ہمیشہ اچھی نہیں ہوا کرتیں، بلکل اسی طرح اچھی باتیں بھی ہمیشہ سچی نہیں ہوا کرتیہں۔

٭٭٭٭٭٭

کسی کا احترام کرنے کا مطلب اس سے پیار کرنا نہیں ہوا کرتا مگر تیری اچھی تربیت کا ثبوت ضرور ہوا کرتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭

بہت جاننا چاہتا ہے ناں کہ تو دوسروں کو کیسا لگتا ہوگا، ایک بات تو بتا، تو اپنی نظروں میں اپنے آپ کو کیسا لگتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭

بھیڑیوں کے ساتھ دوستی رکھنا چاہتا ہے تو رکھ لے مگر ایک ہاتھ میں کلہاڑی لیکر۔

٭٭٭٭٭٭

لمبی زبان کا مطلب بس اتنا ہی ہوتا ہے کہ اس کے ہاتھ بہت چھوٹے ہونگے۔
٭٭٭٭٭٭
جب پیسہ بولنے لگ جائے تو سچائی چپ ہو جایا کرتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
دکان بنانی ہے تو پہلے مسکرانا سیکھنا پڑتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
جب سر ہی کٹ رہا ہو تو پھر بالوں پر نہیں رویا کرتے۔
٭٭٭٭٭٭
کیکٹس کے پودے پر سیب تو نہیں لگے گا، بہتر ہے کہ پہلے چیزوں کی اصلیت اور ان کا ماضی دیکھ لیا کرو۔ نہیں تو صدمہ ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭
ہو سکتا ہے کہ ایک پرندے کو مچھلی سے پیار ہوجائے، مگر مصیبت یہ ہے کہ جا کر رہیں تو کہاں رہیں؟ کچھ ایسا ہی ہی ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو ایسی چیز کی چاہت کر بیٹھتے ہیں جو ان کیلئے نہیں بنی ہوتی۔ آخر میں ایک کو اڑ جانا ہوتا ہے تو دوسرے کو غموں کے سمندر میں غرق رہنا ہوتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ انسان اللہ سے ڈرتا رہے اور اسی پر قناعت کرے جو اس کیلئے حلال ہے اور اس کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔
1017331_10152944905140632_1277661981_n
٭٭٭٭٭٭
پانی کا ایک قطرہ بھی چیونٹی کے گھر میں سمندر کی مانند ہوا کرتا ہے۔ چیزوں کی قیمت ہمیشہ ان کے حجم سے نہیں، ان کی افادیت سے ناپا کرتے ہیں۔ افادیت چیزوں کا حجم مقرر کیا کرتی ہے نا کہ احجام چیزوں کی افادیت۔
٭٭٭٭٭٭
ہم پیدا ہی اس لیئے کیئے گئے ہیں کہ دوسرے کے کام آئیں، دوسرے کس لیئے پیدا کیئے گئے ہیں، ہمارے لیئے یہ جاننا اتنا ضروری اور اہم نہیں ہونا چاہیئے۔
٭٭٭٭٭٭
روشنی بانٹنے کے صرف دو ہی طریقے ہیں: ہم خود شمع بن جائیں، یا پھر شیشہ بن جائیں جس سے اس شمع کی روشنی منعکس ہو کر پھیل جایا کرے
٭٭٭٭٭٭
بے سود حزن اور فضول کا افسوس کیسا؟ دوسروں نے جو بگاڑ پیدا کیئے ہیں اپنی استطاعت کے مطابق ان کی اصلاح ہی کر دیا کریں
٭٭٭٭٭٭
سچی خوشی اس عطا میں ہے جس کے بدلے کسی صلے کی امید ہی نا ہو۔
٭٭٭٭٭٭
ایک بیج جانتا ہے کہ اگر اسے مٹی کے نیچے دفن کردیا گیا تو زمین کی تپش، گھٹن اور اندھیروں سے لڑ کر ہی دوبارہ روشنی تک پہنچ پائے گا۔
٭٭٭٭٭٭
کتے کو اپنی دُم نظر نہیں آتی جبکہ وہ سب کی دیکھ لیتا ہے۔  کچھ ایسے ہی تو بعض انسان ہوتے ہیں؛ دوسروں کو نصیحتیں کریں گے، مذمتیں کریں گے، مشورے دیں گے، فیصلے سُنائیں گے۔ ایک نہیں ہو پائے گا ان سے تو بس اپنے گریبان میں جھانکنا نہیں ہو پائے گا۔

٭٭٭٭٭٭

زندگی میں کبھی ناکامیاں اور مایوسیاں چھا جائیں تو زندگی نے کسی نا کسی طرح چلنا ہی ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے گھڑی خراب بھی ہوجائے تو وقت چلتا ہی رہتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اپنے بچوں کو پیسے کمانے کے نہیں خوش رہنے کے گر سکھائیے، جب وہ بڑے ہوں تو چیزوں کی قدر انکی قیمتیں دیکھ کر نا محسوس کیا کریں۔
٭٭٭٭٭٭
برطانوی مفکر انڈریو فُلر کہتا ہے: اگر تم اپنی زندگی کو چوہوں کی دوڑ بنا لو تو اس کا اختتام بس ایک ہی چیز پر ہوگا کہ تمہارا شمار چوہوں میں ہو رہا ہو گا چاہے تم اس دوڑ میں جیتو یا ہارو۔
٭٭٭٭٭٭
 میں وقتا فوقتا فیس بک پر لکھے گئے اپنے سٹیٹس کو آپ کیلئے یہاں جمع کیا کرتا ہوں۔ امید ہے آپ کو ایک آدھی بات ضرور اچھی لگتی ہوگی۔ اس سے قبل میں  اپنے سٹیٹس کا مجموعہ نمبر 1  ،  مجموعہ نمبر 2  اور مجموعہ نمبر 3 بھی شائع کر چکا ہوں۔
Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

7 Responses to میرے فیس بکی سٹیٹس (4)

  1. محبوب بھوپال نے کہا:

    کسی کا احترام کرنے کا مطلب اس سے پیار کرنا نہیں ہوا کرتا مگر تیری اچھی تربیت کا ثبوت ضرور ہوا کرتا ہے۔
    اسلام و علیئکم
    سلیم بھائی بہت خوب باتیں بتائی آپ نے ۔ سدا خوش رھو۔

  2. محبوب بھوپال نے کہا:

    Wish you and your loved ones a very happy Ramadan Mubarak. Aslam o Alakum

  3. بھیڑیوں کے ساتھ دوستی رکھنا چاہتا ہے تو رکھ لے مگر ایک ہاتھ میں کلہاڑی لیکر۔

    یہ بہت اچھا ہے۔

  4. علی نے کہا:

    بجلی آئے تو بندہ کمنٹس بھی کرے 🙂

  5. ماشاءاللہ تعالیٰ بہت خوب ۔
    لگتا ہے فلسفیوں کی سیڑھی پر چڑھنے کا ارادہ کر لیا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s