والدین کی خدمت و اطاعت


ایک مسلمان مبلغ یورپ کے دورے پر تھا

گاڑی کے انتظار میں اسٹیشن پر بیٹھے ہوئے

اُس کی نظر ایک بڑھیا پر پڑی

عمر ستر کے قریب تو ضرور ہوگی

ہاتھ میں ایک سیب لیئے، اپنے بچے کھچے دانتوں کی مدد سے

کھانے کی کوشش میں مصروف۔

یہ آدمی اُس کے قریب جا کر بیٹھا۔

بڑھیا کے ہاتھ سے سیب لیکر کاٹا اور باریک قاشیں بنا کر بڑھیا کو دیں تاکہ اُسے کھانے میں آسانی آئے

بڑھیا سیب لیتے ہوئے رو پڑی

اس آدمی نے پوچھا؛ آپکو کس بات پر رونا آیا ہے؟

بڑھیا بولی؛ مجھے کسی سے بات کیئے بھی دس سال ہو گئے ہیں،

اور تو اور، میرے اپنے بچوں نے میری لوٹ کر خبر نہیں لی۔

تم نے میرے ساتھ اتنی ہمدردی کیوں کی ہے؟

اس آدمی نے کہا؛ جس دین کا میں پیروکار ہوں وہ مجھے ایسا کرنے کا حکم دیتا ہے

اور والدین کی خدمت و اطاعت کا حکم دیتا ہے۔

میرے ملک میں، جہاں میں رہتا ہوں، میری ماں میرے ساتھ ہی رہتی ہے،

اور وہ میرے گھر میں ایک ملکہ کی طرح رہتی ہے۔

ہم اس کی اجازت کے بغیر اپنے گھر سے باہر بھی نہیں نکلتے،

پہلے وہ کھاتی ہے ہم بعد میں کھاتے ہیں۔

میں اور میری اولاد اس کے سامنے خدمت کیلئے حاضر رہتے ہیں۔

یہ سب کچھ ہمیں کسی اور نے نہیں، ہمارے دین نے سکھایا ہے۔

بڑھیا بولی؛ کیا نام ہے تیرے دین کا، جو تمہیں برالوالدین کا ایسا درس دیتا ہے؟

اس آدمی نے کہا؛ میرے دین کا نام اسلام ہے۔

 اور پھر اس اچھے اخلاق و برتاؤ والا یہ مبلغ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی رو سے

لأن يهدي الله بك رجلاً واحداً خير لك من حمر النعم

 اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے

تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے

حمر النعم  کے حاصل کرنے  سے اچھا کام کر چکا تھا۔

میں نے کل ایک عربی دوست کا فیس بک سٹیٹس کچھ یوں دیکھا:

والدین کی خدمت گزاری اور اطاعت ایک قصہ ہے جسے آپ  کے بچوں نے آپ کو پڑھ کر سنانا ہے۔

جتنا اچھا یہ قصہ تم  تحریر کرو گے، اتنا اچھا تمہیں سنتے ہوئے  لگے گا۔

اختیار آپکے اپنے ہاتھ میں ہے۔

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اسلامی معاشرت, اصلاحی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

8 Responses to والدین کی خدمت و اطاعت

  1. owais ahmed نے کہا:

    mian bhi ziria maash ki talash main Dubai mian ho muj say yaha aik aisi galti sarzad hoo gai ha jiss ka nuksaan sirf mujy hee ha lakin main pachwaa karty hoay tention layy rha hoo koi samjh nia ati ye muj sa say kaisy Q kab or kaisy hoo gya main aisaa bilkul bhi nai tha main apny zameer say sharmindaa ho ap sab maery liy Dua karo Allah pak muj ko bahsh day ..Ameen

  2. والدین کی خدمت سے انسان کے دونوں جھاں میں سرخرو مل سکتے ھیں.

  3. محبوب بھوپال نے کہا:

    والدین کی خدمت گزاری اور اطاعت ایک قصہ ہے جسے آپ کے بچوں نے آپ کو پڑھ کر سنانا ہے۔
    جتنا اچھا یہ قصہ تم تحریر کرو گے، اتنا اچھا تمہیں سنتے ہوئے لگے گا۔
    اختیار آپکے اپنے ہاتھ میں ہے

  4. محبوب بھوپال نے کہا:

    آسلام و علیکم

    والدین کی خدمت کا صلہ اسی دنیا میں ملتا ھے اور نافرمانی کی سزا بھی۔ دین اور دنیا ٹھیک کرنا ھے تو والدین کی خدمت کر لیں

    پیار کرتا ھے زمانہ مجھ سے یہ میری ماں کی دعائوں کا اثر لگتا ھے

  5. محمد اسلم انوری نے کہا:

    ڈاکٹر صاحب اسلام علیکم

    صرف دومختصر تبصرہ ہی والدین کی جانب برتی جانے والی غفلت کا ثبوت ہے ۔اللہ تعلی اس مجرمانہ غفلت سے ہم سب کی حفاظت فرمائے اور سب کے والدین کو لمبی عمر عطا فرمائے اور ہمیں اپنے والدین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور جن کے والدین وفات پا چکے ہیں ان کو بے حساب بخشے۔ آمین

  6. علی نے کہا:

    ویسے میرا ذاتی خیال ہے کہ اس معاملے میں ضروری نہیں کہ جنہوں نے والدین کی خدمت کی ہو انکی اولاد ان کی بھی خدمت کرے۔ لیکن والدین کی خدمت تو فرض ہے اس سے انکار ممکن نہیں۔ اللہ سب کے والدین کو لمبی عمر عطا فرمائے اور ہمیں اپنے والدین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور جن کے والدین وفات پا چکے ہیں ان کو بے حساب بخشے۔ آمین

  7. کوثر بیگ نے کہا:

    بالکل ٹھیک ، جیسی کرنی ویسی بھرنی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s