امامت، کیوں اور کیسی – 2


اگر چہ ہر امام مسجد یہ جانتا ہے کہ ایک قانون بنا دیا گیا ہے کہ "تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہرایک سے اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں سوال کیا جاے گا”۔ مگر امام صاحب کی کمزور سماجی حیثیت بعض اوقات اسے اس کی ذمہ داریاں نہیں نبھانے دیتی۔ آپ (پاکستان کی) اکثر مساجد میں جا کر دیکھ لیں، وہاں پر نماز پڑھنے والے ایک ہی صف میں کھڑے باہم شیر و شکر محمود و ایاز نہیں ہوتے۔ بلکہ اپنے اپنے سماجی رتبوں کے ساتھ کھڑے ٹوانہ، چیمہ اور خاکوانی صاحبان ہی ہوتے ہیں۔ اب امام صاحب کہے تو کسے کہے کہ جناب صفیں درست فرما لیں۔

نماز پڑھتے ہوئے صورتحال یوں بنتی ہے کہ امام صاحب  خاموشی سے جا کر مصلے پر براجمان ہوئے، ایک صاحب نے کھڑے ہو کر اقامت کہی، وہ جب حی علی الصلاۃ پر پہنچا تو مقتدی کھڑے ہوئے، امام صاحب نے بھی کھڑے ہو کر  اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کرائی اور السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہہ کر ختم۔  چہروں پر بے رغبتی عیاں  لئے نماز کیلئے کھڑے ہونے والے، نا کھڑے ہونے میں  اہتمام،  نا نماز میں کہیں تزک و احتشام اور نا ہی کہیں خشوع و خضوع کی ادنیٰ سی جھلک۔ کیسی صف، کیسی ترتیب اور کیسی صفیں درست کرنے کی تلقین۔

اپنے دائیں بائیں کی صفیں درست کرنے کا کام امام صاحب کی بجائے آپ  کرنا چاہتے ہیں تو کیجیئے، صورتحال  کچھ یوں بنے گی: بھائی، ذرا ساتھ ہو جائیں، نمازیوں میں کافی فاصلہ نظر آ رہا ہے۔ جسے آپ نے کہا وہ بجائے نیچے اپنے پاؤں اور صف کو دیکھے آپ کے منہ  کی طرف دیکھے گا، صاف پتہ چلے گا کہ آپ کی بات یا تو اُسے ناگوار گزری ہے یا اُس نے آپ کو اپنے معیار کا جانا ہی نہیں کہ آپ کی بات کو قابل عمل جانے۔ یہ تو نماز سے پہلے کی بات ہے، اگر دوران نماز آپ کو محسوس ہو کہ ساتھ والا نمازی ہر رکعت کے ساتھ پرے ہی ہوتا جا رہا ہے اور آپ اُسے کندھے یا بازو سے پکڑ کر ساتھ ملانے کی کوشش کریں تو جناب آپ کا واسطہ اُس سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے پڑے گا جس کے بارے میں آپ آج تک معاشرتی علوم میں پڑھتے رہے ہیں۔ ایک بار میرے ساتھ کچھ ایسی ہی صورتحال ہوئی۔ میں نماز میں قیام کی حالت میں ہر رکعت کے ساتھ بڑھتے فراغ کو پُر کرنے کے چکروں میں  سٹینڈ ایٹ ایز  ہوتا چلا گیا۔ آخری تشہد کے بعد سلام پھیرا تو میرے دائیں بائیں دو دو بالشت جگہ تھی۔ میں نےبآواز بلند امام صاحب سے کہا جناب نمازیوں کو نماز سے پہلے صفیں درست  کرنے اور ساتھ ساتھ کھڑے  ہونے کی تلقین کیا کریں اب خود دیکھ لیں میرے دائیں بائیں دو دو بالشت کا فراغ ہے۔ امام صاحب منمنائے کہ جناب سب خود سمجھتے ہیں۔ میرے بائیں طرف تو ایک نوجوان تھا جو سر جھکائے یہ سنتا  رہا، دائیں طرف ایک بزرگ تھے جنہوں نے کھسکنے میں عافیت جانی۔ مزیداری کی بات یہ تھی کہ سب نمازیوں نے میری ہاں میں ہاں ملائی اور بتایا کہ جی  بالکل ایسے تو شیطان نماز میں گھس آتا ہے، گویا سب کو عتاب کا بھی پتہ ہے مگر عمل نہیں کرنا۔ شاید آپ کو میری بات عجیب لگے مگر آئندہ ایسی صورتحال پر غور کرنا شروع کریں تو سمجھ آ جائیگی کہ واقعی ایسا ہوتا ہے۔

نماز کے بعد اجتماعی دُعا یا اجتماعی ذکر کا رواج پتہ نہیں کب سے چلا، رواج ڈالنے والے کا مقصد کبھی بھی غلط کام نہیں رہا ہوگا مگر میرے خیال میں اس  رواج  نے بندے اور رب کا انفرادی تعلق ہی کاٹ کر رکھ دیا ہے۔

ہمارے ہاں  مساجد میں صورتحال کچھ یوں بنتی ہے کہ امام صاحب نے نماز ختم کرائی، کچھ نمازوں میں اس نے آپ کو ایک تسبیح پڑھنے کا موقع دیا۔ تسبیح کے اذکار (سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر) کو کس محبت، چاہت، ادب، لگن، یک سوئی  اور احترام سے کہنا ہے اس کا انحصار امام صاحب کی مصروفیت اور مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک مخصوص سے وقت کے بعد انہوں نے ایک ایسی   لگی بندھی دُعا کیلئے ہاتھ اُٹھا دینے ہوتے ہیں جس میں لوگوں کی اکثریت نے صرف آمین کہنا ہوتا ہے یا  دُعا ختم ہونے پر  انہوں نے ہاتھوں کو  اپنے منہ پر پھیرنا  ہوتا ہے۔

  اس روٹین سے ہٹ کر، اگر آپ نے پڑھ رکھا ہے کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فرض نمازوں  کے بعد پڑھی ہوئی آیۃ الکرسی  اگر موت حائل نا ہو تو بندے  کیلئے جنت کی ضمانت ہوتی  ہے،  اور آپ یہ آیۃ الکرسی پڑھنا بھی چاہتے ہیں۔مزید  اگر  آپ نے یہ بھی سُن رکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  فجر و مغرب کے بعد  تین تین بار اور باقی نمازوں کے بعد  ایک ایک بار  معوذتان اور اخلاص پڑھنے کی تلقین فرمائی  گئی ہے اور آپ اس تلقین پر عمل پیرا بھی ہونا چاہتے ہیں تو سمجھ لیجیئے کہ آپ گئے کام سے۔ اول تو  آپ امام صاحب کی اجتماعی دُعا میں  شریک ہونے سے رہے،  دوم  آپ ذکر میں مصروف جبکہ دوسرے لوگ دُعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے ہوئے، جن نظروں سے سے آپ کو دیکھا جانا ہے اُن کا کوئی مداوا  ہی  نہیں۔  یقین جانیئے آپ مسجد میں ہی نہیں محلے میں بھی تنہا رہ جائیں گے۔

فجر اور جمعہ کی نمازیں تو نمازیں  کم ایک تقریب زیادہ لگتی ہیں۔ فجر کی نماز کے بعد خاموشی کا ایک وقفہ جس میں آپ نے اپنی پوری سپیڈ سے تسبیح کرنا ہوتی ہے کیونکہ اس کے بعد امام صاحب نے اس خاموشی کے وقفے کے بعد  افضل الذکر لا الہ الا اللہ کہنا ہوتا ہے اور  پھر لا الہ الا اللہ کو بیس پچیس بار بآواز بلند کہا جاتا ہے، اس کے بعد امام صاحب سلام کا سلسلہ شروع کراتے ہیں جو یوں ہوتا ہے کہ الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ، الصلوٰۃ والسلام علیک یا حبیب  اللہ،  الصلوٰۃ والسلام علیک یا نور اللہ  وغیرہ۔ اس کے بعدایک  اجتماعی دُعا ہوتی ہے جس کے بعد سارے کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں یا گلے ملتے ہیں اور باتیں کرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔  نماز کے بعد کے مسنونہ اذکار کیا ہیں، صبح کے اذکار کیا ہیں، کس ذکر اور کس دعا کی تلقین کی گئی ہے، یہ سب کہاں رہ گیا ہے کوئی پتہ نہیں چلتا اور پھر  اس ساری تقریب کا مقصد کیا تھا؟

امام صاحب نے لوگوں کو ذہنی طور پر کچھ اس طرح یرغمال بنایا ہے کہ اگر عامۃ الناس میں سے کسی کو  کوئی پریشانی آجائے اور گویا  اس کیلئے اللہ کے حضور گڑگڑانے، سر نیاز خم کرنے، اپنی عاجزی دکھانے، بندگی کا اظہار کرنے اور لاچاری بیکسی کا پیکر بننے کا موقع بن پڑے تو وہ زیادہ سے زیادہ جرنل دعا کے  امام صاحب سے ایک خصوصی دعا کیلئے کہہ دے گا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔

حضرات محترم۔ یہ مضمون کسی کیلئے دل آزاری کا باعث بنے تو میں معذرت خواہ ہوں۔ کسی قسم کی مطابقت محض اتفاق ہوگی۔ مضمون اختلافی نا ہوجائے اس لئے اسے  یہیں ختم کرتا ہوں۔  اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنی اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دیں آمین۔

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اسلامی معاشرت, اصلاحی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

9 Responses to امامت، کیوں اور کیسی – 2

  1. Sheikh SB نے کہا:

    جزاق اللہ خیر!

  2. آپ نے جن مسائل کی طرف توجہ دلائی ہے وہ مسائل ہندوستان میں بھی ہیں ۔اور اس کی وجہ وہی سماجی بے حیثیتی ہے ۔خدا اس قوم پر رحم کرے

  3. عمران اقبال نے کہا:

    سلیم بھائی۔۔۔ یقین جانیے۔۔۔ آپ کی اس تحریر کے ایک ایک لفظ سے متفق ہوں۔۔۔ اور جن نئی روایات کو "بدعتِ حسنہ” کا نام دے کر شروع کیا گیا ہے۔۔۔ انہوں‌نے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔۔۔ پاکستان کی کسی بھی مسجد میں‌بھی نماز پڑھی تو ایسی ہی کیفیت ہوئی کہ یار جو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اذکار ثابت ہیں وہ پڑھنے کی مہلت بھی نہیں دیتے۔۔۔

  4. فیصل مشتاق نے کہا:

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ محترم سلیم بھائی،
    بہت خوب رگڑا لگایا آپ نے اپنی اس پوسٹ میں۔ کچھ باتیں ان میں شامل نہیں۔ مثال کے طور دو باتیں نوٹ کریں:
    اذان کے اوقات کار ہی کو دیکھ لیں، ہر مسجد کا اپنا ہی الگ وقت ہے اذان کا۔ آدھ سے پونے گھنٹے تک علاقہ میں ایک وقت کی اذان ہوتیں رہتی ہیں۔رمضان المبارک کو چھوڑ کر آپ فجر و مغرب کی اذان ہی دیکھ لیں۔ ان میں ب 20 سے 25 منٹ لگ جاتے ہیں۔ کسی اذان کا جواب دینا شروع کریں آپ، پھر دیکھیں کیسی کھچڑی پکتی ہے۔
    دوسری بات: تہجد کی اذان ہو،نمازکے بعد اور نماز کے علاوہ نعت ہو، نماز ہو، بعد از نماز ذکر اذکار ہوں، درود شریف کا ورد ہو، کوئی جلسہ ہو،چندہ کی اپیل اور چندہ دینے والے کے حسب نسب اور آخرت میں اعلی مقام سے اہلِ محلہ کو اگاہ کرنا ہو، میلاد ہو، چہلم ہو، وغیرہ لاوڈ سپیکرز کا استعمال کرنا اور اپنی آواز دوسرے محلے کے آخری گھر کے آخری کونے تک، دن رات کے ہر ہر لمحے پہنچانا ہر فرض سے لازمی فرض ہے۔ آپ چاہے جس بھی حالت میں ہوں، عبادت کر رہے ہوں(بالخصوص خواتین) ، کسی خاص میٹنگ میں ہو، کوئی تفریح کر رہے ہوں، کسی تقریب میں ہوں، نہا رہے ہوں، بیت الخلاء میں ہوں، وغیرہ وغیرہ اس چیز سے مسجد انتظامیہ کو کوئی لینا دینا نہیں۔ ان کی آواز آپ تک پہنچنی چاہیے بس۔
    جو قوم اپنی عبادات میں متحد و یکجا نظر نہیں آتی، نا کوئی طریقہ ہے نا ہی سلیقہ، اس قوم کی زندگی کے دوسرے شعبہ جات میں بھی اسی بدنظمی و نا اتفاقی کی جھلک نظر آتی ہے۔
    اللہ تبارک وتعالی ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین

  5. بہت عمدہ جناب۔۔۔۔ آپ نے معاشرے میں قیام الصلواۃ کے معاملے میں برتی جانے والی غلطیوں کی خوب نشاندہی کی ہے۔

  6. السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    محمد سلیم بھائی ماشاءاللہ بہت عمدہ تحریر لکھی ہے۔ لیکن اس مسئلے کی سب سے بڑی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم قرآن و حدیث سے دور ہو چکے ہیں اسی لئے ہمیں ان اذکار کی اہمیت کا بھی ٹھیک سے اندازہ نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج ہم بہت سے ایسے کام بھی سنت سمجھ کرکرتے ہیں جن کا پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں تصور بھی نہیں تھا۔
    اللہ ہمیں ہدایت دے

  7. وسیم رانا نے کہا:

    ماشاءاللہ سلیم بھائی بڑا ناپ تول کر اس(قدرے ٹیڑھے) موضوع پر ایک فکر انگیز تحریر لکھی آپ نے ۔۔۔۔۔ جزاق اللہ۔۔

  8. افتخار راجہ نے کہا:

    ہم لوگ اسلام کو چھوڑ کر مذہب کے پیروکار ہوگئے ہیں، جہاں ہر بات صرف رسم و رواج کے طور پر کی جاتی ہے، افسوس اسلام جیسے انقلاب کو ہم نے قدامت پرستی اور رواجوں کے کھونٹے سے باندھ دیا۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب افتخار راجہ صاحب المحترم۔ خوش آمدید
      بالکل سچ فرمایا آپ نے۔ اسلام ناپید اور نت نئے رواج پنپ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ‌ہمیں‌ان رواجوں‌سے محفوظ‌رکھے آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s