امامت، کیوں اور کیسی – 1


بس راوالپنڈی ڈایوو اڈے پر پہنچی  تو صبح کی نماز کا وقت تھا اور ہر طرف اذانیں ہو رہی تھیں۔ اڈے کی عارضی طور پر بنی  مسجد میں خوب رش تھا، میں نے بھی جلدی جلدی  وضو کر کے سنتیں ادا کیں تاکہ جماعت پا سکوں مگر ادھر تو ہر کوئی انفرادی نماز پڑھ کر بھاگنے کے چکر میں تھا۔ پہلے تو میں دیکھتا رہا پھر بول ہی پڑا کہ بھائیو کم از کم پچاس لوگ اب تک انفرادی نماز پڑھ کر جا چکے ہیں کیوں نہیں ایک جماعت کرا لیتے۔ ایک باریش شخص نے مجھے کہا کہ اگر میں امامت کراؤں تو وہ میرے پیچھے نماز پڑھے گا۔ حیرت کے ساتھ میں نے امامت کی اور دس پندرہ لوگوں نے میری اقتداء میں نماز پڑھی۔

شرق الاوسط میں بسنے والے جانتے ہیں کہ امامت کو وہاں پر مسئلہ نہیں بنایا جاتا۔ کسی ایک کو آگے بڑھا کر جماعت کرا لی جاتی ہے۔ اور بات بھی اتنی سی ہی ہے کہ امامت اس کو دیدی جائے  جو علم میں زیادہ ہو، سب برابر ہوں تو عمر میں بڑے کو آگے کر دیا جائے ، عمر میں بھی سب برابر ہوں تو اعلیٰ مرتبے والا یا پھر کوئی ایک امام بن جائے۔

سعودی عرب میں جب ہم نے متفقہ طور پر دو کی بجائے  جب ایک سیشن میں ڈیوٹی دینا  منظور کرائی تو جہاں ہمیں  کئی فوائد ملے وہیں یہ نقصان بھی ہوا کہ دوپہر کو ہماری کمرشل عمارت  مکمل طور پر بند ہوجاتی اور ہم اپنے دفتر میں محصور ہو کر رہ جاتے۔  اس طرح ہم عصر کی نماز وہیں اپنے دفتر میں پڑھتے، سری نماز میں تکبیر اور سلام تو کوئی بھی کہہ لیتا تھا اس لیئے جب بھی کبھی ،  اگر مجھے آگے کیا گیا تو میں   نا  امامت سے ہچکچایا اور نا ہی اسے کوئی بوجھ سمجھا۔

ایک بار ٹرانزٹ میں بنکاک ایئرپورٹ پر، وہاں کی مسجد میں جا کر  میں نے پوچھا کسی نے مغرب یا  عشاء  پڑھنی ہو تو میرے پیچھے آ جائے اور اس طرح پہلی بار جہری نماز پڑھائی۔ وہیں پہلے سے موجود  کچھ لوگوں نے ذہن بنا لیا کہ صبح کی نماز بھی مجھ سے پڑھوائیں گے جس کا مجھے بعد میں علم ہوا۔ نمازوں سے فارغ ہو کر میں نے مزیدکچھ وقت گزارا  اور پھر چائے کافی کیلئے باہر چلا گیا۔ جب صبح کے قریب ٹہلتا ہوا واپس آیا تو ایک بزرگ کو پریشانی کی حالت میں اپنی طرف آتے دیکھا۔ کہنے لگے تم ادھر پھر رہے ہو اور ادھر ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں کہ جماعت کرواؤ۔ میری حیرت دیدنی تھی ،  میں نے جلدی جلدی تیار ہو کر کوئی پچیس تیس لوگوں کی امامت کرا ڈالی۔ بڑی ذمہ داری کا احساس تھا پتہ نہیں نماز میں کیا کیفیت رہی مگر یہ مرحلہ گزر گیا۔  بعد میں جہاز پر مجھے ایک شخص آ کر ملا اور کہنے لگا آج  میں نے صبح کی نماز آپ کے پیچھے پڑھی ہے اور یقین کریں جتنی تسکین  مجھے آج ملی ہے اتنی پہلے کبھی نہیں ملی تھی، اس کے یہ تاثرات میرے لئے بہت ہی حیرت کا باعث تھے۔

اس کے بعد  (پاکستان میں) مجھے جب بھی موقع ملتا امامت کیلئے اپنی خدمات پیش کر دیتا مگر  اپنی ظاہری شباہت کے باعث کبھی بھی کامیاب نا ہو سکا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ جب مسجد گیا تو صبح کی نماز ہو چکی تھی۔ میرے علاوہ بھی دو تین اور لوگ تھے جنہوں نے  ابھی نماز نہیں پڑھی تھی۔ باہمی اتفاق سے طے پایا اگر میں امامت کرواؤں تو وہ میرے پیچھے نماز پڑھنے کیلئے تیار ہیں۔  اور دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر میں نے نماز پڑھا ڈالی۔ جیسے ہی سلام پھیرا تو مسجد میں موجود دوسرے تیس چالیس لوگ انتہائی ناراضگی کے عالم میں ہمارے سروں پر کھڑے تھے۔ ان کا مدعا یہ تھا کہ ہم نے مسجد میں یہ کیا تماشہ کیا ہے ۔ انہوں نے نماز کے بعد بآواز بلند ذکر کرنا تھا اور ہماری نماز نے ان کے ذکر میں خلل ڈالا۔ اگر واقعی ہمیں با جماعت نماز کا شوق تھا ہی تو ہم وقت پر مسجد میں کیوں نہیں آئے۔ اگر ہم نے اپنی ہی جماعت کرانی تھی تو ہم نے چھوٹی سورتوں کا انتخاب کیوں نہیں کیا۔ اگرہم کل چار پانچ لوگ تھے تو تلاوت میں اپنی آواز اتنی کیوں بلند کی۔ ماحول کچھ یوں تھا کہ ان لوگوں نے ہمیں ابھی مارا کہ تبھی مارا۔ میری اقتداء میں بیٹھے ایک شخص نے مجھے آنکھ ماری اور صورتحال سے لطف اندوز ہونے کا اشارہ کیا، جبکہ میں اپنے محلے داروں کی معصومیت پر کڑھ رہا تھا۔ اس کے بعد مسجد میں مجھے جن عجیب نظروں سے دیکھا جاتا تھا وہ علیٰحدہ داستان ہے۔

محلے کی مسجد میں کئی بار ایسا ہوا کہ امام صاحب لیٹ ہوگئے۔ لوگوں کا اضطرابی حالت میں بار بار گھڑی دیکھنا ایک عجیب نظارہ ہوتا ہے مگر کسی کو توفیق نہیں ہوتی کہ آگے بڑھ کر امامت سنبھال لے۔ مجھے تو کبھی بھی ایسا نا کرنے دیں کیونکہ میں کئی بار رضاکارانہ طور پر پیش کش کر کے آزما چکا ہوں۔  ہماری مسجد میں سب لوگ اقامت کے دوران بیٹھے رہتے ہیں جب اقامت کہنے والا حی علی الصلاۃ پر پہنچتا ہے تو سب کھڑے ہوتے ہیں۔ اس بار میں نے دیکھا کہ امام صاحب تو نہیں آئے مگر پھر بھی ایک بابا جی اُٹھ کر اقامت کہہ رہے ہیں۔ میں دیکھنا چاہتا تھا  کہ کس سے امامت کرائی جاتی ہے۔ تو ایک نوجوان سا لڑکا آگے بڑھا اور سب نے اُس کی اقتداء میں  نماز پڑھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ لڑکا امام صاحب کا بیٹا ہے اور امامت کیونکہ ایک پیشہ ہے اس لئے اگر  امام خود نہیں آئے گا تو متبادل  کے طور پر کسی کو بھیجے گا۔

میں نے جہاں تک دیکھا ہے  امامت کرنے والے کسی شخص کو معاشی طور پر آسودہ حال نہیں پایا۔ گویا یہ بھی ایک شرط ہو کہ امام صاحب مفلس اور مفلوک الحال بھی ہونگے۔ عموما امام صاحب دور دراز کے علاقے یا محلے   سے ہوتے ہیں ورنہ ایسی باتیں جو امام کی شان میں مناسب نا ہوں وہ ظاہر ہو جاتی ہیں۔ امام کی بیوی پردہ دار ہو، اس کے گھر میں ٹی وی نا ہو،  بیٹیاں اس کی سکول و کالج جانے والی نا ہوں۔ گویا زندگی کی کسی سہولت کا ان کے گھر میں دخل نا ہو۔  یہ ہیں جی  پاکستان میں امامت کی شرائط۔

ہمارے علاقے کی ایک بڑی مسجد کے شیخ صاحب نے اپنی  جمعہ کی تقریر میں بتایا کچھ لوگ ان کے پاس آئے کہ ہم نے مسجد بنائی ہے اور امامت کیلئے ایسا بندہ تلاش کر رہے ہیں جو ہزار پندرہ سو روپے  پر راضی ہو جائے۔ نیک پاک ہو، فارغ وقت میں کیونکہ ہمارے بچے بچیوں کو قرآن بھی پڑھائے گا اس لیئے اخلاق اور کردار کا بھی اعلیٰ ہو۔ ٹی وی نا دیکھتا ہو، سگریٹ نا پیتا ہو۔ اس کے اپنے گھر والے پردہ دار ہوں اور دینی تعلیم کے علاوہ کوئی اور کام نا کرتے ہوں۔ شیخ صاحب کہتے ہیں جب ان لوگوں نے بولنا بند کیا تو میں نے کہا میرے ذہن میں ایک آدمی ہے تو سہی۔ اچھا اخلاق ہے، با کردار ہے، شاید آپ سے یہ تنخواہ بھی نا لے۔ ماضی میں بہت سے اہم کام سر انجام دیتا رہا ہے مگر آج کل فارغ ہے اور ریٹائرڈ زندگی گزار رہا ہے۔ کہو تو اس کا نام بتا دوں خود جا کر مل لو۔ بندے بہت خوش ہوئے کہ جی لگتا ہے ہم ایسا ہی کوئی آدمی تلاش کر رہے تھے آپ ہمیں اس کا نام پتہ بتائیں ہم ابھی جا کر اس سے ملتے ہیں۔ شیخ صاحب نے کہا اس فارغ آدمی کا نام جبرائیل (علیہ السلام)  ہے جو آپ لوگوں کی شرطوں پر پورا اترتا ہے جا کر مل لیجیئے۔

(جاری ہے)

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اسلامی معاشرت, اصلاحی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

18 Responses to امامت، کیوں اور کیسی – 1

  1. محبوب بھوپال نے کہا:

    اسلام و علیکم
    بہر صورت یہ یاد رہے کہ بغیر عزر کے جماعت سے پیچھے رہنا اور خواہ مخواہ سستی اور کاہلی کا شکار ہو کر دوسری جماعت کا رواج ڈالنا درست نہیں کیونکہ دوسری جانب جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی بہت تاکیدوار دہوئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے تھے کہ مومنوں کی نماز اکھٹی ہو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
    ” مجھ یہ پسند ہے کہ مومنوں کی نماز ایک ہو یہاں تک کہ میں نےا رادہ کیا ہے کہ کچھ آدمیوں کو محلوں میں پھیلا دوں اور وہ لوگوں کو نماز کے وقت کی اطلاع دیں ۔”
    مسائل سے ھٹ کر پاکستان میں دوسری جماعت کا مطلب ھے
    1۔ لوگ جان بوجھ کر لیٹ ائیں گے
    2۔ جماعتیں دو نہیں کئی ھوں گی
    3۔ مسجد میں دوسری جماعت دوسرے مسلک کے بھی شروع کر
    سکتے ھیں جو مسجد پر قبضہ کرنے کا کوئی موقع ھاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اس لیے بعض مساجد میں لکھ دیا جاتا ھے امام کی اجازت کے بغیر دوسری جماعت منع ھے وغیرہ۔

    سلیم بھائی ماشائآللہ آپ نے کافی علم کے موتی بھکیرے ھین جزاک اللہ

  2. دوسرا کاشف نے کہا:

    حنفی مسلک میں ایک مسجد میں دوسری جماعت کروانے کی اجازت نہیں ہے. بات آپ کی منطق کی نہیں بلکہ علما دین کے اجماع کی ہے.

    یہ لنک چیک کریں

    http://www.askimam.org/public/question_detail/17487

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم دوسرا کاشف صاحب، اپنی لا علمی پر معذرت خواہ ہوں۔ تاہم میں نے اپنی ذاتی رائے آپ کی اس بات (میری معلومات کے مطابق فقہ حنفیہ میں مروج ہے کے دوسری جماعت وہ شخص کرواۓ گا جو پہلی جماعت میں شریک ہو)کے جواب میں کہی تھی۔
      ایک ہی مسجد میں دوبارہ جماعت کرانے کے مسئلہ پر مختلف مکتبہ فکر مختلف آراء رکھتے ہیں جس پر بات کرنا میرا مقصود نہیں ہے۔ تاہم میں نے بات شروع کی تو ڈائیو اڈے پر واقع نماز کی مخصوص کردہ جگہ پر پڑھی جانے والی انفرادی نماز کی بات کی تھی۔
      دیگر مساجد میں اس بارے میں کیا رولنگ موجود ہے میں اس پر پابند ہوں۔ تاہم ایک رائے یہ بھی ہے۔
      س: جب ایک مسجد میں نماز با جماعت ادا ہو جائے ، پھر اس کے بعد کچھ اور لوگ آجائیں تو کیا دوبارہ جماعت کروا سکتے ہیں کتاب و سنت کی رو سے واضح کریں ؟

      ج: ایک مسجد میں دوسری جماعت کر وانے کے متعلق سلف صالحین میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ بعض ائمہ مثلا امام احمد بن جنبل رحمہ اللہ اور امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ دوسری جماعت کرانا جائز ہے جبکہ امام مالک رحمہ اللہ ، امام شافعی رحمہ اللہ ، اور اصحاب الرائے وغیرہ کا موقف یہ ہے کہ دوسری جماعت مکروہ ہے۔ امام شافعی کا کہنا ہے کہ جس مسجد میں امام اور موذن مقرر ہوں وہاں دوسری جماعت کرانا مکروہ ہے ۔ اگر جماعت کر الیں تو کفایت کرتی ہے ۔ ملاحظہ ہو کتاب الام للشافعی ( ١۱/۱۳۶٣٦،۱۳۷٣) جبکہ اصحاب الرائے احناف کا کہنا ہے کہ مکروہ تحریمی ہے جیسا کہ فتاویٰ شامی وغیرہ میں مذکرو ہے۔
      فریق اول کے دلائل درج ذیل ہیں ۔
      ابو سعید خدوی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو مسجد میں اکیلا نماز پڑھ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون اس کے ساتھ تجارت میں شریک ہوگا کہ اس کے ہمراہ نماز ادا کرے ۔ دوسری روایت میں ہے کہ ایک آدمی مسجد میں اس وقت داخل ہوا جب جماعت ہو چکی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
      ” کون اس پر صدقہ کرے گا کہ اس کے ساتھ نماز ادا کرے ؟ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر اس کے ساتھ نماز ادا کی”
      بیہقی میں ہے کہ ابو بکر نے اس کے ساتھ نماز ادا کی ۔ ( ملاحظہ ہو ( المنتقی لا بن جا رود ( ٣٣۳۳۰٠) ابو داؤد، (٥٧۵۷۴٤) ترمذی (٢٢٠۲۲۰) دارمی ١۱/ ۲۵۸، مسند احمد ۳٣/ ۶۴،٨۸۵٥،٥۵/ ۴۵٥ مسند ابی یعلی ٢۲/ ۳۲۱٣ ابن حبان (٤۴۳۶٣٦، ۴۳۷٤٣٧، ۴۳۸٤٣٨) ، طبرانی صغیر ١۱/ ۲۱۸٢٨،٢۲۳۸٣٨)بہیقی ۳٣/ ۶۹٦، المحلی ۴٤/ ۲۳۸٢٨، حاکم ١۱/ ۲۰۹، شرح السنۃ ۳٣/۴۳۶ ٣ابن ابی شیبہ ۲٢/۳۲۲٢٢،ابن خزیمہ (١۱۶۳۲٢)، نصب الرایۃ ۲٢/ ۵۷) التدوین فی اخبار قوین للرافعی ٢۲/ ۲۵۸)

      یہی حدیث انس بن مالک سے سنن دار قطنی ۱١/۲۷۷ میں مروی ہے جس کے بارے میں علامی نیومی حنفی نے آثار السنن ١۱/ ۲۶۷٢ لکھا ” اسنادہ، صحیح ”علامہ زیلعی نے نصب الرایہ میں ٢۲/ ۵۸٨ پر لکھا ( وسندہ جیدا ) اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی نے الداریہ ١/ ١٧٣ پر اس کی سند کو جید قرار دیا ہے۔
      ابو سیعد خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث کو امام ترمذی نے حسن، یامام حاکم و امام ذہبی اور امام ابن حزم رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے ۔ امام بغوی رحمہ اللہ شرح السنہ میں اس حدیث کے بعد فرماتے ہیں :
      ” یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس آدمی نے ایک دفعہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لی ہو ، اس کیلئے جائز ہے کہ وہ دوسری مرتبہ دوسرے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کر لے ۔ اسی طرح مجسد میں دوبارہ جماعت قائم کرنا بھی جائز ہے۔ یہ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اور تابعین عظام رحمہ اللہ کا قول ہے”
      امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرامتے ہیں :
      ” ایک مسجد میں جماعت کا اعادہ کران مکرو ہ نہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب محلے کے امام نے نماز پڑھ لی اور دوسری جماعت حاضر ہو گی تو اس کیلئے مستحب ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں ۔ یہ قول عبداللہ بن مسعود، عطاء ، نخعی، حسن، قتادہ، اور اسحق بن راوھویہ رحمہ اللہ کا ہے ”۔ ( المغنی ٣۳/۱۰ ١٠)

      پھر امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے اس کے بعد حدیث ابی سعید بھی ذکری کی :
      دوسری دلیل
      ” ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جماعت کی نماز کی فضیلت اکیلئے آدمی کی نماز پر ۲۵ درجے زیاد ہے ”۔
      (بخاری مع فتح الباری ۲٢/۳۹۹ ٣٩٩، مسلم ۵٥/ ۱۵۱١، مع نووی موطا ۱١/۲۹ ٩، نسائی ١۱/ ۲۴۱، ۲٢/ ۱۰۳١٠٣، ترمذی (٢۲۱۶١٦) ، ابن ماجہ (٧۷۸۷٨٧)، دارمی ١۱/۲۳۵٣٥، ابو عوانہ ۲٢/۲ ٢، ابن خزیمہ ٢۲/۳۶۴ ٤، ابن حبان ٣۳/ ۳۱۸١، ٣٨٢۳۸۲، بیہقی ۳٣/۶۰ ٦٠، شرح السنہ ۳٣/۳۴۰ ٣٤٠)۔
      اسی طرح عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی حدیث میں ٢۲۷٧ درجے فضیلت کا ذکر ہے۔
      (ملاحظہ ہو بخاری مع فتح الباری ٢۲/۱۳۱٣١)
      یہ حدیث اپنے عموم کے اعتبار سے پہلی اور دوسری دونوں جماعتوں کو شامل ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی آدمی کی پہلی جماعت فوت ہو جائے توہ دوسری جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے تو مذکورہ فضیلت پا لے گا۔

      تیسری دلیل
      ” ابو عثمان الجعد سے مروی ہے کی بنو ثعلبہ کی مسجد میں انس بن مالک ہمارے پاس سے گزرے تو کہا کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ میں نے کہا ہاں اور وہ صبح کی نماز تھی ۔ آپ نے ایک آدمی کو حکم کیا، اس نے اذان و اقامت کہی ، پھر اپنے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی ” ( یہ خبر بخاری میں تعلقیاً ۲٢/ ۱۳۱١٣١ مع فتح الباری اور مسند ابی یعلی(٤٣۴۳۵۵٥٥) ٨۷/ ۳۱۵، ابن ابی شیبہ ۲٢/۳۲۱٢١، بیہقی ٣۳/ ۷۰، مجمع الزوائد٢۲/۴ ٤، المطالب العالیہ ١۱/ ۱۱۸(٤۴۲۶٢٦) تغلیق التعلیق ٢۲/۲۷۶ ٦، عبدالرزاق ۲٢/۲۹۱ ٢٩١ طبقات المحدثین لابی الشیخ ١۱/۴۰۲٠٢ ، ۴۰۳٣ میں موصولاً مروی ہے۔ )
      چوتھی دلیل ابن ابی شیبہ میں ہے کہ :
      ” عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو لوگوں نے نماز پڑھ لی تھی تو آپ نے علقمہ ، مسروق اور اسود کو جماعت کرائی ”۔
      (ابکار المنن ص ٢۲۵۳٣، اس کی سند صحیح ہے ۔ مر عاۃ شرح مشکوۃ ٤/ ١٠٤)
      مذکورہ بالا احادیث و آثار صریحہ سے معلوم ہوا کہ مسجد میں دوسری جماعت کرا لینا بلا کراہت جائز و درست ہے اور یہ موقف اکابر صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کا تھا۔
      مکروہ سمجھنے والوں کے دلائل
      ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ :
      ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے اطرف سے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرانا چاہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر والوں کو جمع کیا، پھر ان کے ساتھ نماز ُپڑھی ”
      (الکامل لا بن عدی ٦۶/ ۳۲۹۸، مجمع الزوائد٢۲/۴۸٨، طبرانی اوسط (٤۴۷۳۹٣٩) علامہ البانی نے اس سند کو حسن قرار دیا ہے تمام المنہ ۱١/۱۵۵٥)
      اور علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کو طبرانی نے معجم کبیر و اوسط میں بیان کیا ہے۔ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے یہ دلیل کی جاتی ہے کہ اگر دوسری جماعت بلا کر اہت جائز ہوتی ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی فضیلت کو ترک نہ کرتے یعنی مسجد نبوی میں نماز ادا کرنے کی فضیلت عام مسجد میں نماز ادا کرنے سے بہت زیادہ ہے۔
      ج= اولاً: مولانا عبید اللہ مبارک پوری رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں ‘ اس حدیث سے دوسری جماعت کی مکروہیت پر دلیل پکڑنا محل نظر ہے۔ اسلئے کہ یہ حدیث اس بارے میں نص نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں نماز پڑھائی ہو بلکہ اس با ت کا بھی احتمال موجود ہے کہ آپ نے انہیں نماز مسجد میں پڑھائی ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر کی طرف جانا گھر والوں کو جمع کرنے کیلئے تھا، نہ کہ گھر میں جماعت کروانے کیلئے ، توا س صورت میں حدیث اس مسجد میں جس کا موذن و امام متعین ہو، دوسری جماعت کے استحاباب کی دلیل ہو گی ۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں جماعت کروانے کیلئے، تو اس صورت میں یہ حدیث اس مسجد میں جس کا موذن و امام متعین ہو، دوسری جماعت کے استحباب کی دلیل ہو گی۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو گھر میں ہی جماعت کرائی تو اس سے مسجد میں دوبارہ جماعت کی کراہت ثابت نہیں ہوتی بلکہ اتنہائی آخری بات جو ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر ایک آدمی ایسی مسجد میں آئے جس میں جماعت ہو چکی ہو تو اس کو چاہئے کہ اس مسجد میں نماز نہ پڑھے بلکہ اس سے نکل کر گھر چلا جائے تو گھر میں اپنے اہل کے ساتھ نماز پڑھے۔
      بہر حال اس کیلئے مسجد میں دوسری جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کو مکروہ کہنا اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ یہ حدیث کے بعد میں آنے والے اکیلے آدمی کی اس مسجد میں نماز کی کراہت پر دلالت نہیں کرتی ۔ اگر اس حدیث سے مسجد میں دوبارہ جماعت کے مکروہ ہونے پر دلیل کی جائے تو پھر اس سے یہ بھی ثابت ہو گا کہ اکیلے بھی اس مسجد میں نماز نہ پڑھے ۔ ( مر عاۃ ۴٤/۱۰۵ ٥)
      دوسری دلیل:
      ثنایاً: اگر چہ علامہ البانی نے اس کی سند کو حسن کہا ہے مگر یہ محل نظر ہے کیونکہ اس کی سند میں بقیہ بن الولید مدلس راوی ہیں اور یہ تدلیس التسویہ کرتا ہے جو کہ انتہائی بڑی تدلیس ہے اور اس کی تصریح بالسماع مسلسل نہیں ہے۔
      ” ابراہیم نخفی سے مروی ہے کہ علقمہ اور اسود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ مسجد کی طر ف آئے تو لوگ انہیں اس حالت میں ملے کہ انہوں نے نماز پڑھ لی تھی توابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ان دونوں کے ساتھ گھر کی طرف چلے گئے، انہوں نے ایک کو دائیں جانب اور دوسری کو بائیں جانب کیا پھر ان کو نماز پڑھائی ” (عبدالرزاق ٣٨۳۸۸۳٨٣)٢۲/ ۴۰۹، طبرانی کبیر(٩۹۳۸۰٣٨٠)

      اس روایت کی سند میں حماد بن ابی سلیمان ہیں جو مختلط اور مدلس تھے۔ ملاحظہ ہو طبقات المدلسین ٣٠ اور یہ روایت معنعن ہے اور مدلس کی عن عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ نبیز حماد کے اختلاف سے قبل تین راویوں کی روایت حجت ہوتی ہے۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:
      ” حماد بن ابی سلیمان کی وہ روایت قبول کی جائے جو اس سے قدماء یعنی اختلاط سے پہلے والے راویوں کی رویات ہوگی جیسے شعبہ ، سفیان ثوری اور ہشام دستوائی اور جو ان کے علاوہ اس سے روایت کریں وہ بعد از ختلاف ہے ۔”
      تقریباً یہی بات امام احمد بن جنبل رحمہ اللہ سے منقول ہے۔ ملا حظہ ہو شرح علل ترمذی لا بن رجب ص ٣۳۲۶٦ وغیرہ اور یہ روایت حماد سے معمر نے بیان کی ہے لہٰذ ایہ بھی قابل حجت نہیں ۔د وسری بات یہ ہے کہ اس میں ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دونوں شا گردوں کوئی دائیں بائیں کھڑا کر کے جماعت کروائی اور یہ بات احناف کو مسلم نہیں جیسا کہ محمد بن حسن شیبانی شاگرد امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الآثار ص ٦۶۹٩ مترجم میں ذکر کیا ہے۔
      تیسری بات یہ ہے کہ اوپر ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مسجد میں دوبارہ جماعت کروانا صحیح سند کے ساتھ نقل ہوا ہے۔ لہٰذا مذکورہ بالا توضیحات سے معلوم ہوا کہ دوسری جماعت میں کراہت کے بارے میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں بلکہ صحیح روایت سے دوسری جماعت کا جواز نکلتا ہے ۔ اویرہی جواز والا مذہب ا قرب الی الصواب ہے ۔ مولانا عبدی اللہ رحمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔
      ” ہمارے نزدیک راحج قول یہ ہے کہ جو آدمی مسجد میں اس حال میں پہنچا کہ امام معین کے ساتھ نماز ادا ہو چکی ہواور اس نے وہ نماز نہیں پڑھی اور عذر کی بناء پر اس کی جماعت فوت ہو گئی تو اس کیلئے جائز و مباح ہے کہ وہ جماعت ثانیہ کے ساتھ نماز ادا کر لے ”۔
      بہر صورت یہ یاد رہے کہ بغیر عزر کے جماعت سے پیچھے رہنا اور خواہ مخواہ سستی اور کاہلی کا شکار ہو کر دوسری جماعت کا رواج ڈالنا درست نہیں کیونکہ دوسری جانب جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی بہت تاکیدوار دہوئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے تھے کہ مومنوں کی نماز اکھٹی ہو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
      ” مجھ یہ پسند ہے کہ مومنوں کی نماز ایک ہو یہاں تک کہ میں نےا رادہ کیا ہے کہ کچھ آدمیوں کو محلوں میں پھیلا دوں اور وہ لوگوں کو نماز کے وقت کی اطلاع دیں ۔”

      اس کے علاوہ بھی جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی تاکید میں کئی ایک احادیث صحیحہ صریحہ وارد ہوئی ہیں جن سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ہمیں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔ سوائے عذر شرعی کے جماعت سے پیچھے نہیں رہنا چاہئے کیونکہ اگر ہم گھر سے نماز با جامعت کے ادارے سے نکلتے ہیں اور ہمارے آتے آتے نماز فوت ہو جاتی ہےتومسجد میں آکر ادا کرنے سے جماعت کاثواب مل جائے گا، جیسا کہ حدیث صحیحہ میں وار دہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
      ” جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر چل پڑ ا( مسجد کی طر ف) اُس نے لوگوں کو پایا کہ انہوں نے نماز پڑھ لی ہے تو اللہ تعالیٰ اس آدمی کو نماز با جماعت ادا کرنے اور اس میں حاضر ہونے والے کی طرح اجر دے گا۔ ان کے اجروں سے کچھ کمی نہیں کرے گا”۔
      (سنن ابو داؤد (٥۵۶۴٦٤)، نسائی ٢۲/۱۱۱ ١، شرح السنہ ۳٣/۳۴۲٤٢، مستدرک ۱١/۲۰۸٠٨، امام حاکم نے مسلم کی شرط پر صحیح کہا اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ مسند احمد۲ ٢/۸۰ ٨٠ تاریخ کبیر للبخاری ق۲ ٢، ج ۸٨ ص ۴۶٢٦)
      یہ روایت حسن ہے۔ نیل المقصود ( ٥٦۵۶۴٤) اور اس کا ابو داؤد میں ایک شاہد بھی ہے۔ ملا حظہ ہو (٥۵۶۳٦٣) لہٰذا بغیر عذر شرعی کے جماعت سے پیچھے نہیں رہنا چاہئے اور اگر کسی عذر کی بنا پر جماعت سے رہ گیا تو اور افراد کے ساتھ مل کر دوسری جماعت کرا لی تو بلا کراہت جائز ہے ۔
      بحوالہ(http://www.kitabosunnat.com/forum/%D8%B9%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%81-%D8%A7%DB%81%D9%84-%D8%B3%D9%86%D8%AA-%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%AC%D9%85%D8%A7%D8%B9%D8%AA-519/%D8%A2%D9%BE-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%D9%84-5731/index6.html)

  3. دوسرا کاشف نے کہا:

    میری معلومات کے مطابق فقہ حنفیہ میں مروج ہے کے دوسری جماعت وہ شخص کرواۓ گا جو پہلی جماعت میں شریک ہو. یہ چیز میں نے ایک مرتبہ عرب امارات میں بھی دیکھی جہاں ایک شاپنگ مال میں ایک عربی صاحب بار بار جماعت کروا رہے تھے. واللہ اعلم بالصواب

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب محترم دوسرا کاشف صاحب؛ خوش آمدید۔
      آپ کی یہ بات منطقی نہیں‌لگتی کہ دوسری جماعت وہی کرائے جو پہلی جماعت میں‌شریک تھا۔
      عرب امارات میں‌آپ نے جس صاحب کو دوبارہ بھی جماعت کراتے دیکھا وہ مسافر دوستوں‌پر مشتمل گروپ تھا جو اپنی نمازوں‌کو قصر اور جمع کر کے پڑھ رہے تھے۔ (ظہر اور عصر ملا کر کر یا مغرب اور عشاء ملا کر)۔ واللہ اعلم بالصواب۔

  4. کاشف نے کہا:

    پاکستان میں مسجد میں دوسری جماعت اور امامت کو خوامخاہ تفرقہ کا الزام لگا کر مسئلہ بنایا جاتا ھے۔ ادھر دبئی میں یہ کوئی اچھوتی بات نہیں ھے۔ کوئی بھی جماعت کروا لے اور مسجد میں کتنی ہی مرتبہ جماعت کروا لی جائے، کوئی برائی نہیں۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم کاشف صاحب؛ خوش آمدید
      پاکستان میں‌تلاش معاش کی بھاگ دوڑ میں‌مذہب ثانویت اختیار کر گیا ہے۔ مسجد کے دروازے پر پھلوں‌کا ٹھیلہ لگانے والا مسجد میں‌نماز نہیں‌پڑھتا۔ اس لیئے مذہبی معلومات کی کمی تفرقہ بازی نہیں بلکہ کم علمی ہے۔ عرب ملکوں‌میں‌دوسری جماعت کوئی مسعلہ تو نہیں‌مگر جیسے ڈاکٹر جواد صاحب نے لکھا وہاں‌امام کے اختیار میں‌بنیادی شرطوں‌سے بھی صرف نظر کیا گیا۔

  5. سلیم بھائی!
    دین آسان اور سمجھ میں آنے والی شئے ہے۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہئیے کہ سب مسلمانوں کو آذان۔ تکبیر اور جماعت اور قرائت ۔ وغیرہ کے بارے سمجھ اور تجربہ ہونا چاہئیے کہ جب بھی آذان دینا یا نماز پڑھوانی پڑھ جائے تو یہ عام معمول ہو۔ تانکہ مشکل اور جھجھک پیش نہ ہو۔
    البتہ پاکستان میں ہماری ایک بڑی اکثریت ابھی تک ایک لگے بندھے طریقے سے دین کے بارے علم رکھتے ہیں اور وہ بھی بس واجبی سا۔ اسلئیے اسطرح نماز یعنی جماعت کروانا ہمارے ہاں بہت سے لوگوں کو فہم سے بالا ہوجاتا ہے ۔ اکثر جنگل میں شکار وغیرہ پہ۔ یا دوران سفر ۔ یا عام مساجد میں ۔ بہت سے لوگوں کو اکیلے اکیلے اپنی نماز پڑھتے دیکھا جاتا ہے اور اچھے خاصے دین کا فہم رکھنے والے لوگ بھی سامنے آنے والی مخالفت کے ڈر سے خاموش ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔
    اس مسئلے کا ایک پہلو معاشی بھی ہے۔ میں ایک ایسی بستی کو بھی جانتا ہوں ۔ جہاں کے لوگ پاکستان کی عام آبادی کی نسبت بہت خوشحال ہیں ۔ اور وہاں ان مساجد میں امامت ملنے کے لئیے کچھ نیم خواندہ مگر غریب لوگوں نے باقاعدہ لابنگ کی ہے اور متواتر کرتے ہیں ۔ وہاں امام صاحب کی اسقدر آمدن ہے کہ اس سے انہوں نے اپنے علاقے میں ایک عدد مدرسہ تعمیر کروایا ہے ۔ اور اپنے آبائی علاقے میں خود باقاعدہ طور پہ وہاں چھ دن سارے معاملات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اور صرف جمعہ المبارک اور عیدین وغیرہ پڑھانے کے لئیے مذکورہ بستی تشریف لاتے ہیں۔ جبکہ بستی والوں کی عام دنوں کی امامت کے لئیے بڑے امام صاحب نے ایک اپنے سے کم تعلیم اور کم مرتبہ امام معمولی معاوضے پہ رکھا ہوا ہے۔
    پاکستان میں مساجد سے پورے پورے خاندان کا ذریعہ معاش اور سماج میں قدرے نمایاں مقام جڑا ہوتا ہے ۔ اسلئیے ایسی مساجد کے امام حضرات محض پیشہ ور نیم خواندہ لوگ ہوتے ہیں۔ جو اپنے سامنے کسی بھی نوارد کو کسی طور اہمیت دینے پہ تیار نہیں ہوتے ۔ کہ مبادا انکی روزی روٹی اور علمی حیثیت پہ حرف آجائے ۔
    یہ بھی ایک وجہ ہے کہ اسطرح کے پیشہ ور اور علم و عمل سے خالی اماموں کے پند و نصائح میں اثر باقی نہیں رہا۔ اور لوگ عام مولوی حضرات کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ جو کہ ایک بڑا المیہ ہے۔
    اللہ تعالٰی ہمیں درست طور پہ دین سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      برادر عزیز جناب جاوید گوندل صاحب۔ تشریف آوری کا شکریہ۔
      سچ ہے جہاں معاشرے کے دوسرے کرداروں نے مثبت یا منفی ترقی کی ہے یہ کردار بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا۔ ہمارے ہاں ایک امام صاحب کو تو سیلانی نیٹ ورک (فرضی نام) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہر خالی جگہ پر مدرسہ اور ہر مدرسے مسجد میں اپنے آدمیوں کو ملازمت اور دوسرے سینکڑے دھندوں کی وجہ سے اس کا یہ نام پڑا۔
      آئمہ کرام چھوٹے مسائل پر بات کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ مذہب کی مبادیات سے ناسمجھ اور نا بلد رہتے ہیں۔ جمعہ کے خطبات میں ہزاروں ایسے ماسئل ہیں جن پر بات کی جاسکتی ہے مثلا رکوع کے بعد قیام اور سجدوں کے درمیان قعدہ کی مقدار کیا ہوگی؟ نماز کا چور کون ہے؟ کس کی نماز کو کووں کے ٹھونگوں سے تشبیہ دہ گئی ہے۔ تحیۃ المسجد کی افادیت، صفوں کی درستگی کا صحیح طریقہ، صبغ و شام کے اذکار، مسنون دعائیں، وضو و غسل کے طریقے، جنازہ کی تعلیم، میت کے غسل کا طریقہ وغیرہ وغیرہ۔ ان سب پر بات کرنا ان کو چھوٹا بناتا ہے اور جو کچھ وہ بولتے کہتے ہیں اس سے دین کا نقصان اور معاشرے میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے انصاف کرنے کی توفیق دیں آمین

  6. بہت اعلیٰ جناب! ۔۔۔ ایک بہت اہم مسئلہ پر آپ نے توجہ دلائی۔۔ فقہہ حنفیہ میں مسجد کے اندر دوسری جماعت کرانا غالبآ معیوب سمجھا جاتا ہے شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ کہیں نماز کو ہلکا نا سمجھ لیا جائے۔ لیکن اس سے ایک بڑا نقصان یہ ہوجاتا ہے کہ بہت سارے لوگ جماعت سے محروم ہوجاتے ہیں۔
    سعودی عرب میں یہ مسئلہ نہایت ہلکا لےلیا گیا ہے اور امام کے لیے جن کم از کم شرائط کا خیال ضرور رکھا جانا چاہیے ان سے غفلت برتی جاتی ہے۔ یہاں ہر طرح کا زانی، بےایمان، بدمعاش اور حرام خور بڑے مزے سے امامت کراسکتا ہے اور کراتا ہے۔
    حتی ٰ کہ راقم کے ساتھ ایک عجیب و غریب واقع ہوا۔ کہ کلینک میں فجر کی نماز کے بعد ایک مصری نماز پڑھایا کرتا تھا۔ اور نماز پڑھانے میں خود آگے بڑھنا اپنا فرض سمجھتا تھا کہ فجر کے وقت باقی نمازی غیر عرب ہوا کرتے تھے۔ ایک دن نماز کے دوران اسکی جیب سے فرعون کی شبیہ والی کی چین نکل کر سامنے گرگئی۔ نماز کے بعد راقم نے خفگی سے اس پوچھا کہ فرعون کی شبیہ والی کی چین رکھ کر نماز کیوں پڑھاتے ہو تو جواب آیا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام والا فرعون نہیں۔ جس کے بعد میں نے عافیت اسی میں سمجھی کہ مسجد جا کر ہی نماز پڑھ لی جائے۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم جناب ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب، تشریف آوری کا شکریہ۔ آپ کے مشاہدات بالکل صحیح ہیں۔ عرب اپنے آپ کو ایک حد تک عجمی سے افضل گردانتے ہیں اور اس حساب سے امامت کیلئے اپنے آپ کو زیادہ مستحق۔ معاملات میں کمزور ترین ٹیکسی ڈرائیور بھی امات میں اپنے آپ آپ کو آگے کرتے ہیں۔ جزاک اللہ خیرا

  7. بدر یوسف نے کہا:

    میرے عزیزم ۔ آجکل پاکستانی مولوی اور امام بھی بڑے ماڈرن ہو چکے ہیں۔ راولپنڈی میں ہمارے علاقے کے امام صاحب کے گھر ٹی-وی بھی ہے مگر اسلامک چینلز دیکھتے ہیں۔ انکے تینوں بچے اعلیٰ یونیورسٹیز سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ حقیقت میں مجھے ایسا لگتا ہے کہ اِس ملک میں مذہب کی آڑ میں اور نام پر پیسے بٹورے جاتے ہیں اور مذہب کو ایک مفادپرستی کا کھیل بنا لیا ہے۔ آج جِسکی وجہ سے ہم لوگ اللہ سے دُور ہو چکے ہیں اور ہوتے جا رہے ہیں۔ مذاہب اور فرقوں کے چنگل میں بُری طرح پھنس چکے ہیں۔ ا للہ‎کی‎‎‎‎رسی پر ہماری گرفت مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہوتی جا رہی ہے اورایک دن جب یہ رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی تو قیامت ھو گی۔

    • منیر عباسی نے کہا:

      گویا امام صاحب اب اپنے بچوں کو بھی نہ پڑھائیں۔ افسوس ایسی سوچ پر۔

      • محمد سلیم نے کہا:

        محترم جناب منیر عباسی صاحب، تشریف آوری کا شکریہ۔
        پاک و ہند میں مزارات سے جڑے لوگ ہی قابل احترام ٹھہرے جبکہ دوسرے مذہبی لوگ اپنے مطلوبہ عزت و وقار سے محروم رہے۔ بات بے جا نا ہو تو ان بیچاروں کا شمار تو نچلے درجے کے کمی کمین لوگوں میں ہوا۔ ہمارے جنت نظیر ملتان (درباروں کی کمائی کے لحاظ سے) کی مثال سامنے ہے کسی نا کسی دربار سے جڑے بندے کو دیکھ لو دنیا و ما فیہا کی عشرتوں سے بہرہ ور ہے مگر دین کے خدام فقراء میں شمار ہوئے۔

    • گویا ٹی وی رکھنا یا اعلی’ تعلیم حاصل کرنا موڈرن ہونا ہے

      • محمد سلیم نے کہا:

        جناب الطاف سیلانی صاحب۔ خوش آمدید۔
        ایک بار کسی نے اخباری مفتی سے پوچھا تھا کہ ہمارے محلے کے مولوی کے گھر میں ٹی وی ہے۔ اس کے پیچھے کیا ہماری نماز ہو جائے گی۔ مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ اگر تم فرشتے ہو تو تمہاری نماز نہیں ہوگی۔

  8. احمر نے کہا:

    آپ کا ہاتھ معاشرے کی نبض پر ہے اور پاوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ دم پر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s