جاد اللہ القرآنی


کسی بھی مسلمان کیلئے اس سے بڑھ کر خوشی نہیں ہوتی جب وہ سنتا ہے کہ فلاں غیر مسلم نے اسلام قبول کیا ہے، شاید یہ چیز مسلمانوں  کی جبلت میں ہے۔ دوسرے مذاہب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے، نصرانیوں نے بھی اپنے دین کی تبلیغ اور ترویج کا کام نہیں چھوڑا۔ صرف یہودی واحد قوم ہے جس نے اپنے مذہب کو نسل کے ساتھ مخصوص کر کے اپنی تعداد محدود رکھی۔ بہت کم نئے لوگوں نے یہودی مذہب اپنایا اور بہت کم ہی ایسا سنا گیا کہ کسی یہودی نے اپنا مذہب چھوڑ کر دین اسلام قبول کیا۔

میں آج جس شخص پر بات کر رہا ہوں وہ ناصرف یہودیت سے اسلام میں داخل ہوا بلکہ کم و بیش دوسرے ساٹھ لاکھ لوگوں کے مسلمان ہونے کا سبب بھی ٹھہرا۔ یہ ساٹھ لاکھ افراد صرف جنوب سوڈان، کینیا، یوگنڈا اور اس کے گردو نواح کے ممالک اور علاقہ جات سے ہی کیوں تھے کو بنیاد بنا کر اس شخص اور اس سے منسوب قصے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ویکیپیڈیا پر عربی زبان میں ایک یتیم سا مضمون کسی بات کو نا جھٹلانے کا سبب بنتا ہے اور نا ہی تصدیق کا ذریعہ۔ گو کہ اس شخص پر ایک ایوارڈ یافتہ فلم بھی بن چکی ہے جو اس شخص سے زیادہ فلم بنانے والے کے مزاج اور مقاصد کو زیادہ بیان کرتی ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے در اصل یہ شخصیت افسانوی کردار ہے جو ایک فرانسیسی ناول سے مستعار لیا گیا ہے اور بعد میں مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کیلئے کسی نے دارفور میں ساٹھ لاکھ لوگوں کے مسلمان ہونے کا قصہ شامل کر دیا۔

یوٹیوب پر  میں نے وقت حاضر کے چند علماء اور خاص طور پر جناب  شیخ نبیل العوضی (ویڈیو) یا جناب  صفوت حجازی (ویڈیو ا23) کو  ان کے بارے میں بولتے دیکھا تو میرا شک کافی حد تک جاتا رہا اور میں نے اس مضمون کو آپ لوگوں کیلئے پسند کیا۔ اس شخصیت کا نام جاد اللہ القرآنی ہے انہوں نے سن 2003 میں انتقال فرمایا، اللہ تبارک و تعالٰی ان پر اپنی ڈھیروں رحمتیں نازل فرمائیں۔ مضمون ملاحظہ کیجیئے:

سن 1957 کی بات ہے فرانس میں کہیں ایک رہائشی عمارت کی نکڑ میں ترکی کے ایک پچاس سالہ بوڑھے آدمی نے چھوٹی سی دکان بنا رکھی تھی۔ ارد گرد کے لوگ اس بوڑھے کو چاچا ابراہیم کے نام سے جانتے اور پکارتے تھے۔ چاچا ابراہیم کی دکان میں چھوٹی موٹی گھریلو ضرورت کی اشیاء کے علاوہ بچوں کیلئے چاکلیٹ، آئسکریم اور گولیاں ٹافیاں دستیاب تھیں۔

اسی عمارت کی ایک منزل پر ایک یہودی خاندان آباد تھا جن کا ایک سات سالہ بچہ (جاد) تھا۔ جاد تقریبا روزانہ ہی چاچا ابراہیم کی دکان پر گھر کی چھوٹی موٹی ضروریات خریدنے کیلئے آتا تھا۔ دکان سے جاتے ہوئے چاچا ابراہیم کو کسی اور کام میں مشغول پا کر جاد نے کبھی بھی ایک چاکلیٹ چوری کرنا نا بھولی۔

ایک بار جاد دکان سے جاتے ہوئے چاکلیٹ چوری کرنا بھول گیا۔ چاچا ابراہیم نے جاد کو پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا جاد آج چاکلیٹ نہیں اُٹھاؤ گے کیا؟ چاچا ابراہیم نے یہ بات محبت میں کی تھی یا دوستی سے مگر جاد کیلئے ایک صدمے سے بڑھ کر تھی۔ جاد آج تک یہی سمجھتا تھا کہ اس کی چوری ایک راز تھی مگر معاملہ اس کے بر عکس تھا۔ جاد نے گڑگڑاتے ہوئے چاچا ابراہیم سے کہا کہ وہ اگر اسے معاف کر دے تو  آئندہ وہ کبھی بھی چوری نہیں کرے گا۔

مگر چاچا ابراہیم نے جاد سے کہا؛ اگر تم وعدہ کرو کہ اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی کی چوری نہیں کرو گے تو روزانہ کا ایک چاکلیٹ میری طرف سے تمہارا ہوا۔ ہر بار دکان سے جاتے ہوئے لے جایا کرنا۔ اور بالآخر اسی بات پر جاد اور چاچا ابراہیم کا اتفاق ہو گیا۔

وقت گزرتا گیا اور اس یہودی بچے جاد اور چاچا ابراہیم کی محبت گہری سے گہری ہوتی چلی گئی۔ بلکہ ایسا ہو گیا کہ چاچا ابراہیم ہی جاد کیلئے باپ، ماں اور دوست کا درجہ اختیار کر چکا تھا۔

جاد کو جب کبھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا یا پریشانی ہوتی تو چاچا ابراہیم سے ہی کہتا، ایسے میں چاچا میز کی دراز سے ایک کتاب نکالتا اور جاد سے کہتا کتاب کو کہیں سے بھی کھول کر دو۔ جاد کتاب کھولتا اور چاچا وہیں سے دو صفحے پڑھتا، جاد کو مسئلے کا حل بتاتا، جاد کا دل اطمینان پاتا اور وہ گھر کو چلا جاتا۔

اور اسی طرح ایک کے بعد ایک کرتے سترہ سال گزر گئے۔ سترہ سال کے بعد جب جاد چوبیس سال کا ایک نوجون بنا تو چاچا ابرہیم بھی اس حساب سے سڑسٹھ سال کے ہوچکا تھا۔ داعی اجل کا بلاوا آیا اور چاچا ابراہیم وفات پا گیا۔ چاچا نے اپنے بیٹوں کے پاس جاد کیلئے ایک صندوقچی چھوڑی جس میں وہی کتاب بند تھی جسے جاد اکثر و بیشتر چاچا کی دکان میں دیکھا کرتا تھا۔ چاچا کی وصیت تھی کہ اس کے مرنے کے بعد یہ صندوقچی اس یہودی نوجوان جاد کو تحفہ میں دیدی جائے۔

جاد کو جب چاچا کے بیٹوں نے صندوقچی تحفہ دی  اور اپنے والد کے مرنے کا بتایا تو جاد بہت غمگین ہوا کیونکہ چاچا ہی تو اسکا غمگسار اور مونس تھا ۔ جاد نے صندوقچی کھول کر دیکھی تو اندر وہی کتاب تھی جسے کھول کر وہ چاچا کو دیا کرتا تھا۔ جاد چاچا کی نشانی گھر میں رکھ کر تقریبا بھول ہی گیا۔ مگر ایک دن اُسے کسی پریشانی نے آ گھیرا، چاچا ہوتا تو اسے سناتا اور چاچا کتاب کھول کر دو صفحے پڑھتا اور مسئلے کا حل سامنے آجاتا۔ جاد کے ذہن میں خیال آیا کیوں ناں وہ خود کوشش کرے۔ کتاب کھولی مگر کتاب کی زبان اور لکھائی اُس کی سمجھ سے بالا تر تھی۔ کتاب اُٹھا کر اپنے تیونسی عرب دوست کے پاس گیا اور اُسے کہا مجھے اس میں سے دوصفحے پڑھ کر سناؤ، مطلب پوچھا اور اپنے مسئلے کا اپنے تئیں حل نکالا۔ واپس جانے سے پہلے اُس نے اپنے دوست سے پوچھا یہ کیسی کتاب ہے۔ تیونسی نے کہا یہ مسلمانوں کی کتاب قرآن ہے۔ جاد نے پوچھا مسلمان کیسے بنتے ہیں؟ تیونسی نے کہا کلمہ شہادت پڑھتے ہیں اور پھر شریعت پر عمل کرتے ہیں۔ جاد نے کہا تو پھر سن لو میں کہہ رہا ہوں أشهد ألا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله۔

جاد مسلمان ہو گیا اور اپنے لئے جاد اللہ القرآنی کا نام پسند کیا۔ نام کا اختیار اس کی قرآن سے والہانہ محبت کا کھلا ثبوت تھی۔

جاد اللہ نے قرآن کی تعلیم حاصل کی، دین کو سمجھا اور اور اس کی تبلیغ شروع کی۔ یورپ میں اس کے ہاتھ پر چھ ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسلام قبل کیا۔

ایک دن پرانے کاغذات دیکھتے ہوئے جاد اللہ کو چاچا ابراہیم کے دیئے ہوئے قرآن میں دنیا کا ایک نقشہ نظر آیا جس میں بر اعظم افریقہ کے ارد گرد لکیر کھینچی ہوئی تھی اور چاچا کے دستخط کیئے ہوئے تھے۔ ساتھ میں چاچا کے ہاتھ سے ہی یہ آیت کریمہ لکھی ہوئی تھی (ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة : اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ)۔ جاد اللہ کو ایسا لگا جیسے یہ چاچا کی اس کیلئے وصیت ہو۔ اور اسی وقت ہی جاد اللہ نے اس وصیت پر عمل کرنے کی ٹھانی۔

جاد اللہ نے یورپ کو خیر باد کہہ کر کینیا، سوڈان، یوگنڈہ اور اس کے آس پاس کے ممالک کو اپنا مسکن بنایا، دعوت حق کیلئے ہر مشکل اور پرخطر راستے پر چلنے سے نا ہچکچایا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ انسانوں کو دین اسلام کی روشنی سے نوازا۔ جاد اللہ نے افریقہ کے کٹھن ماحول میں اپنی زندگی کے تیس سال گزار دیئے۔ سن 2003 میں افریقہ میں پائی جانے والی بیماریوں میں گھر کر محض چون سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی کو جا ملے۔

جاد اللہ کی محنت کے ثمرات اس کی وفات کے بعد بھی جاری رہے۔ وفات کے ٹھیک دو سال بعد اس کی ماں نے ستر سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔

جاد اللہ اکثر یاد کیا کرتے تھے کہ چاچا ابراہیم نے اس کے سترہ سالوں میں کبھی بھی اسے غیر مسلم محسوس نہیں ہونے دیا اور نا ہی کبھی کہا کہ اسلام قبول کر لو۔ مگر اس کا رویہ ایسا تھا کہ جاد کا اسلام قبول کیئے بغیر چارہ نا تھا۔

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in معلوماتی, اسلامی معاشرت, اصلاحی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

8 Responses to جاد اللہ القرآنی

  1. محبوب بھوپال نے کہا:

    اسلام و علیکم
    بھائیو۔ اس کہانی کا اصل مطلب ھے چچا ابراھیم کی طرح ھو جاوء اصل تبلیغ کردار سے ھوتی ھے جیسا کہ برصغیر میں بزرگان دین نےاور انڈونیشیا میں عرب تاجروں نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ اسلام یہ ھے۔

    آللہ تعالی ھم کو بھی عملی مسلمان بننے کی سعادت نصیب کرے آمین

  2. ایک فرانس کی مووی بھی ہے۔
    جس میں مصر کے عمر شریف چاچا ابراہیم کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
    بحر حال ایمانی جذبات ابھارنے کیلئے علما کرام بغیر تصدیق کے عموماً
    اس طرح کے "افسانوں” قصے بیان فرما دیتے ہیں۔
    میرا ایک پاکستانی کسٹمر کچھ عرصے سے ادائیگی نہیں کر رہا ۔
    میرے لئے کافی بڑا مسئلہ ہے۔
    میں قرآن کھول کر دو صفحے ترجمے کے ساتھ پڑھ کر حل تلاش کرتا ہوں۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      یاسر بھائی، آپ نے خوب پہچانا کہ اس قصے پر فرانس میں ایک مووی بن چکی ہے جس میں عمر شریف نے چاچا ابراہیم کا کردار نبھایا تھا۔ ویسے تو میں‌نے لنک بھی دے رکھا تھا۔
      آپ کے مسئلے کے بارے میں مجھے ایک شعر یاد آ رہا ہے جس کے بارے میں کہتے ہیں‌کہ ایوب دور میں‌اس نے بہت شہرت پائی تھی۔
      چار کتاباں‌عرشوں لتھیاں (اتریں)، نال لتھیا (اترا) دگا (ڈنڈا)۔ چار کتاباں‌کجھ ناں‌کیتا، دگے کیتا سدھا۔
      پاکستان میں‌ہر فرعون کیلئے ایک موسیٰ موجود ہے۔ کسی موسیٰ کی خدمات حاصل کیجیئے آپ کے پیسے آپ کے پاس ہونگے۔

  3. fikrepakistan نے کہا:

    قرآن کو کہیں سے بھی کھول جاد کے مسلے کا حل کیسے بتایا جاسکتا ہے؟ یہ بات قابل فہم معلوم نہیں ہوتی، یہ بات بجا ہے کہ پورے قرآن میں کہیں نہ کہیں جاد کے مسلے کا حل موجود ہوسکتا ہے، لیکن کسی بھی جگہ سے کھول کر مسلے کا حل نکالنا کچھہ مناسب نہیں لگتا۔ مثال کے طور پر اگر پردے کا مسلہ درپیش ہے تو ظاہر ہے اسکے لئیے سورہ نور، یا سورہ احزاب سے ہی رہنمائی حاصل کی جائے گی، کہیں سے بھی کھولنے کا مطلب تو یہ ہوا کے ان دونوں آیات مبارکہ کے علاوہ کوئی سی بھی آیت کھل سکتی ہے۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب فکر پاکستان، خوش آمدید۔
      قرآن پاک کی تلاوت توتر اور اضطرابی کیفیت میں انسان کو سکون بخشتی ہے۔ ہو سکتا ہے مذکورہ بالا قصے میں‌جاد کو قرآن شریف تو سکون کیلئے سنایا جاتا ہو مگر چاچا ابراہیم اس کے مسئلے کا حل اپنی طرف سے دیتا ہو۔

    • منیر عباسی نے کہا:

      فکر پاکستان صاحب:: میرا خیال تھا آپ نے بلاگنگ سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ ایسا ہی کوئی اعلان آپ سے منسوب انٹرنیٹ یا فیس بک پہ دیکھا تھا۔

      بہر حال !

      آپ نے بہت اچھا اعتراض کیا ہے اور اب آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ ایک عدد بلاگ پوسٹ لکھ ماریں جس میں توہم پرستی اور قرآن مجید بارے غلط تصورات کی ماں بہن ایک کی جائے۔۔ عقلیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ قرآن کو ایک مزہبی کتاب ہی رکھا جائے اور اس کو ہفتے میں ایک دن ہی پڑھ لیا جائے۔ بھلا اتنی مشکل عربی زبان جو کہ ہماری مادری زبان بھی نہیں، کیسے ہمارے روز مرہ کے مسائل کا حل تجویز کر سکتی ہے۔۔ ہیں جی؟؟؟

  4. مصطفےٰ ملک نے کہا:

    اللہ پاک انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمإئیں ۔۔۔۔ آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s