میرے فیس بکی سٹیٹس (1)


ڈاکٹر خالد المنیف گھریلو تعلقات کے علم میں عبور رکھتے ہیں
اسی موضوع پر ایک بار لیکچر دیتے ہوئے انہوں نے حاضرین سے فرمائش کی کہ سب لوگ اپنے اپنے موبائل فون نکال کر میسیج میں (آئی لو یو) لکھیں اور اپنی اپنی گھر والی کو یہ میسیج بھیجیں۔ کچھ لوگوں نے واقعی یہ پیغام لکھ کر روانہ کیا، ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ان لوگوں کے موبائل فون بجنے یا پیغام واپس آنا شروع ہوگئے۔ ایک خاتون نے لکھا تھا کہ یہ فقرہ سننے کیلئے تو میں ترس ہی گئی تھی میں بھی تم سے پیار کرتی ہوں اور مرتے دم تک تمہارے اس پیغام کو یاد رکھونگی۔  ایک نے یوں لکھا تھا: تم خیریت سے تو ہو ںاں؟ ہسپتال تو نہیں پہنچے پڑے، مجھے فورا اپنی خیریت سے آگاہ کرو۔  جن لوگوں کو پیغامات کی بجائے فون آئے تھے ان میں ایک نے تو اس بات پر اصرار کیا تھا کہ ابو محمد تمہارا موبائل کہیں چوری تو نہیں ہوگیا کیونکہ مجھے ابھی ایک عجیب قسم کا پیغام ملا ہے۔

٭٭٭٭٭٭

بچے کو غصے میں ہلکی سی چپت لگا دیں تو رو پڑے گا مگر مذاق میں مارے ہوئے زور کے تھپڑ سے بھی ہنستا رہے گا۔ نفسیاتی درد جسمانی درد سے زیادہ شدید ہوتا ہے اور زبان کا لگا ہوا زخم کلہاڑی کے زخم سے زیادہ دردناک

٭٭٭٭٭٭

بچپن کی خوبصورت یادوں میں سے ایک یاد: جب نیند آئی تو گھر کے کسی کونے کھدرے میں گر پڑ کر سو گئے مگر جاگے تو اپنے بستر پر ہوا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔
اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا، (سورة الإسراء – آیۃ 24)

٭٭٭٭٭٭
ایک آدمی ہمیشہ کوشش کرتا تھا کہ لوگ اسے اہم شخص سمجھیں۔۔ ایک بار اس نے حسب عادت دروازے سے کسی کو اندر آتے دیکھا تو ریسیور اٹھا کر ایسی اداکاری کرنا شروع کی جیسے کسی بڑے آدمی سے بات کر رہا ہو۔ جب وہ آدمی اندر آ چکا تو اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا تم انتظار کرو میں ایک مسئلہ سلجھا رہا ہوں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں۔ اور ٹیلیفون پر کئی منٹ باتیں کرتا رہا۔ پھر ریسیور کو واپس کریڈل پر رکھتے ہوئے اس آدمی سے پوچھا بتاؤ کیا کام ہے؟ ۔۔۔ اس آدمی نے کہا، محترم، میں محکمہ ٹیلیفون کی طرف سے آیا ہوں تاکہ تمہارا خراب ٹیلیفون ٹھیک کر سکوں۔
دیکھیئے آپ جیسے ہیں ویسے ہی بہت اچھے ہیں، لوگ بناوٹ کو پہچان لیتے ہیں، بہتر ہے اپنے اصل پر ہی رہیں۔

٭٭٭٭٭٭

چینی اور نمک دونوں کی شکل میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا، دونوں کا ایک جیسا ہی رنگ ہوتا ہے، ہاں استعمال کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ نمک کیا ہے اور چینی کون!

بس کچھ ایسا ہی معاملہ انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭

اگر آپ کے پاس ایک سیب ہو اور میرے پاس بھی ایک، اور ہم ان سیبوں کا آپس میں تبادلہ کر لیں،  تو کچھ بھی نہیں ہوگا،  آپ کے پاس بھی ایک سیب رہے گا اور  میرے پاس بھی ایک سیب رہے گا۔
اگر آپ کے پاس ایک اچھا خیال (آئیڈیا) ہو اور میرے پاس بھی ایک اچھا خیال ہو، اور ہم اپنے اپنے خیالات کا آپس میں تبادلہ کریں تو آپ کے پاس دو خیالات ہوجائیں گے اور میرے پاس بھی دو خیالات۔

گویا علم / خیالات / تجربہ بانٹنے سے تو بڑھتا ہے، ہیں ناں!

٭٭٭٭٭٭

آپ جانتے ہیں ناں کہ؛

اندھا اس دنیا کا نظارہ کرنا چاہتا ہے خواہ ایک لمحے کیلئے ہی سہی، بہرہ سننے کیلئے بیتاب ہوتا ہے چاہے ایک لفظ ہی کیوں نا ہو، مفلوج چلنا چاہتا ہے بھلے ایک ہی قدم کیوں نا ہو، بستر پر مریض بیٹھنے اٹھنے اور چلنے کی حسرت لیئے پڑا ہوتا ہے

اور آپ تو خیر سے سنتے ، بولتے، چلتے پھرتے صحتمند ہیں،،،،  تو پھر الحمد للہ کہیئے ناں

٭٭٭٭٭٭

مولوی صاحب نے اپنی تقریر میں کہا:
میری زندگی کے سب سے سہانے شب و روز جس عورت کے بازوؤں میں گزرے وہ عورت میری بیوی نہیں تھی۔ حاضرین کو سانپ سونگھ گیا کہ مولوی کہہ کیا رہا ہے؟
تھوڑے توقف کے بعد مولوی صاحب نے کہا؛ جی، وہ عورت کوئی اور نہیں میری ماں تھی۔
ایک صاحب کو یہ بات بہت اچھی لگی، اس نے سوچا کیوں ناں گھر جا کر اس کا تجربہ کر لے۔ سیدھا کچن میں گیا جہاں اس کی بیوی انڈے فرائی کر رہی تھی، اسے کہا کہ میری زندگی کے سب سے سہانے شب و روز جس عورت کے بازوؤں میں گزرے وہ عورت کم از کم تم نہیں تھی۔
چار دن کے بعد جب ان صاحب کے منہ سے پٹیاں اتاری گئیں اور تیل کی جلن کچھ کم ہوئی تو بولے؛ کاپی پیسٹ ہمیشہ بھی سود مند نہیں ہوا کرتا۔

٭٭٭٭٭٭

سڑک کے کنارے کھمبے پر چپکے کاغذ پر لکھا ہوا تھا

میرے پچاس روپے گم ہو گئے ہیں، جس کو ملیں وہ میرے گھر واقع فلاں گلی پہنچا دے، میں ایک بہت ہی غریب اور بوڑھی عورت ہوں، میرا کوئی کمانے والا نہیں، روٹی خریدنے کیلئے بھی محتاج رہتی ہوں۔

ایک آدمی کو یہ پچاس روپے ملے تو وہ کاغذ پر لکھے ہوئے پتے پر پہنچانے چلا گیا۔

جیب سے پچاس روپے نکال کر بُڑھیا کو دیئے تو وہ پیسے لیتے ہوئے رو پڑی۔

کہنے لگی: بیٹے آج تم بارہویں آدمی ہو جسے میرے پچاس روپے ملے ہیں اور وہ مجھے پہنچانے چلا آیا ہے۔

آدمی پیسے دیکر مسکراتے ہوئے جانے لگا تو بُڑھیا نے اُسے پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا:

بیٹے، جاتے ہوئے وہ کاغذ جہاں لگا ہوا ہے اُسے پھاڑتے جانا

کیونکہ ناں تو میں پڑھی لکھی ہوں اور ناں ہی میں نے وہ کاغذ اُدھر چپکایا ہے۔

( وفي السماء رزقكم وما توعدون – آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے)

٭٭٭٭٭٭

ٹیکسی والے کی نصیحت؛
ایک صاحب سناتے ہیں کہ: میں ٹیکسی میں ایئرپورٹ جانے کیلئے سوار ہوا، ٹیکسی ڈرائیور ماہر آدمی تھا اور اپنی لین میں سیدھا چل رہا تھا۔ اچانک ایک پارکنگ لاٹ سے بیک کرتی ہوئی گاڑی باہر نکلی، میرے ڈرائیور نے پوری قوت سے بریک لگا کر اور تھوڑا سا دوسری لین میں ڈال کر بمشکل ہی ٹیکسی کو حادثے سے بچایا۔ ٹیکسی انچوں کے فاصلے سے ٹکرانے سے بچی، دوسری لین میں پیچھے سے آتا ایک کار والا کھڑکی سے منہ باہر نکال کر ہمیں ماں بہن کی گالیاں دیتا ہوا نکل گیا۔  میرے ڈرائیور نے ناصرف مسکرانے پر اکتفا کیا بلکہ معذرت خواہانہ انداز میں اپنا ہاتھ ماتھے تک بھی لایا۔  میں بڑا حیران ہوا کہ ہم ایئرپورٹ کی بجائے ہسپتال جانے سے بال بال بچے ہیں، ہمارا کوئی قصور بھی نہیں تھا، اُلٹا گالیاں بھی ہم نے کھائی ہیں، میں نے ڈرائیور سے کہا تم عجیب آدمی ہو، گالیاں کھا کر ہنستے ہو، حالانکہ تم اس معاملے میں مظلوم تھے۔ ٹیکسی والے جس طرح سے مجھے جواب دیا، مجھے اس سے ایک اچھا سبق ملا، بعد میں، میں نے اس سبق کو
کوڑے والے ٹرک کی اصلیت کا نام دیا۔  ڈرائیور نے مجھے کہا تھا کہ؛ اس دنیا میں بہت سے لوگ گندگی اور کچرہ اُٹھانے والے کوڑے کے ٹرک کی طرح ہر دم غصے، جہالت، ناکامی اور مایوسی کے بوجھ کو اُٹھائے لدے پھندے گھومتے رہتے ہیں، جب اُن کے اندر اس گندگی کا ڈھیر اور اُسکا بوجھ بڑھ جاتا ہے تو اُن سے جہاں بن پڑے گرانے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ کس طرح ایسے لوگوں کو اپنے اوپر گند پھینکنے کا موقع نا دیں۔

٭٭٭٭٭٭

جب معاویہ بن ابی سفیان کو غصہ آیا تو تاریخ میں پہلی بار بحری جہاز لیکر روم پر چڑھائی کر دی۔

 جب معتصم باللہ کو غصہ آیا تو عموریہ شہر کو فتح کر کے بیزنطوں کیلئے عبرت بنا دیا

جب صلاح ایوبی کو غصہ آیا تو قسم کھائی جب تک فلسطین مسلمانوں کو واپس نہیں دلائے گا نہیں ہنسے گا

جب عبدالرحمٰن غافقی کو غصہ آیا تو مسلمانوں کے لشکر کو پیرس کے وسط تک پہنچا دیا

جب محمد فاتح کو غصہ آیا تو قسطنطنیہ کو فتح کرکے رومیوں کیلئے نشان عبرت بنا دیا

جب عراق، غزہ، چیچینیا اور افغانستان میں بیگناہ مسلمانوں کے قتل عام پر مسلم حکمرانوں کو غصہ آیا تو اقوام متحدہ کو خط لکھ کر مذمت کر دی

جب پاکستانی حکمرانوں کو پاکستان میں مظلوم، بے گناہ اور بے بیکس بچوں بوڑھوں پر ڈرون حملوں پر غصہ آیا تو اخبار میں مذمتی اشتہار چھپوا دیا۔

٭٭٭٭٭٭

دوستوں کا جمگھٹا کامیاب ہونے کی نشانی نہیں، نا ہی اکیلا ہونا ناکامی کی علامت۔ بھیڑ ریوڑ میں بھی بھیڑ، شیر اکیلا بھی شیر کہلاتا ہے۔
چھوٹی، انگوٹھی والی، درمیانی اور شہادت کی انگلی، یہ چاروں ہر وقت اکٹھی، انگوٹھا سب سے الگ اور تنہا، وہ اکٹھی رہ کر بھی کمزور، یہ اکیلا ہو کر بھی موثر۔
یقین نہیں آتا تو انگوٹھے کے بغیر چار انگلیوں سے ایک بٹن بند کر کے دکھا دیں یا ایک لفظ لکھ کر دکھا دیں۔
اکیلے رہیں تو معاشرے کیلئے مفید مل کر رہیں تو بھی لوگوں کیلئے منفعت بنیں

٭٭٭٭٭٭

ٹائیٹانک جہاز کو اپنے وقت کے ماہر ترین لوگوں نے بنایا تھا، کشتیِ نوح کو بنانے والے اس پیشے سے بھی واقف نا تھے
اول الذکر نے لوگوں کو ڈبو کر رکھ دیا، دوسرے والے نے بنی نوع انسانیت کو بچا لیا۔
تو پھر جان لیجیئے کہ؛ بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق کی ہوتی ہے۔
ہمت، محنت اور کوشش کرنے میں کسر نا چھوڑیئے، اللہ تعالیٰ آپ کی لگن کا صدقہ آپ کو کامیابی سے نوازے گا

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

36 Responses to میرے فیس بکی سٹیٹس (1)

  1. پنگ بیک: محمد سلیم کا بلاگ » » میرے فیس بکی سٹیٹس (4)

  2. پنگ بیک: محمد سلیم کا بلاگ » » میرے فیس بکی سٹیٹس (3)

  3. پنگ بیک: Muhammad Saleem » » میرے فیس بکی سٹیٹس (2)

  4. محبوب بھوپال نے کہا:

    لکھے پڑھے ھوتے اگر تو تم کو خط لکھتے اور تمھاری تعریف کے پل باندھ دیتے

  5. فیصل مشتاق نے کہا:

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    ہمیشہ کی طرح بہت خوبصورت تحریر۔ فیس بک پر پڑھنا صرف پڑھنا ہوتا ہے۔ مگر آپ کے قلم سےسنورنے کے بعد یہ الفاظ سیدھا دل تک پہنچتے ہیں۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ جزاک اللہ خیر و احسن الجزاء

  6. بچپن کی یادیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

  7. مہتاب عزیز نے کہا:

    زبردست جناب آپ نہ صرف بہت اچھی پوسٹ پڑھنے کو دی بلکہ ایک پوسٹ کا آئیڈیا بھی دے دیا۔

  8. کوثر بیگ نے کہا:

    بہت زبردست باتیں اکٹھا کردی آپ نے ماشاءاللہ

  9. جوانی پِٹًا نے کہا:

    نفسیاتی درد جسمانی درد والی بات میرے دماغ میں اٹک گئی ۔ بہت اچھی آبزرویشن ھے۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب جوانی پٹا صاحب، میرے بلاگ پر خوش آمدید۔
      آپ کو نفسیاتی درد اور جسمانی درد والا سٹیٹس پسند آیا، یہ آپ کے حساس دل کی نشانی ہے۔ اللہ پاک آپ کو خوش رکھے

  10. منصور الحق نے کہا:

    تحریر کی عمدگی وشگفتگی تو کوئی آپ سے سیکھے۔ ماشاء اللہ

  11. السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    محمد سلیم بھائی ماشاء اللہ بہت عمدہ
    اللہ آپ کے علم و عمر میں مزید برکت دے

    • محمد سلیم نے کہا:

      بھائی ایم اے راجپوت صاحب، و علیکم السلام و رحمۃ‌اللہ و برکاتہ
      مضمون کی پسندیدگی اور آپ کی نیک خواہشات کیلئے آپ کا بیحد مشکور ہوں۔ اللہ پاک آپکو خوش رکھے آمین۔

  12. محمد امتیاز شیخ نے کہا:

    سلیم بھائی آپ کی تحریروں نے مجھے ایک کشتی کا سوار بنا دیا ہے جہاں رھو خوش رھو نے میرا ذہن تبدیل کر دیا ہے . آپکی منتخب تحریریں بہت سبق آموز ہیں اور انسان کی اصلاح کرتی ہیں . الله ہم کو عمل کی توفیق عطا فرمائے. آمین

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم جناب محمد امتیاز شیخ صاحب، میرے بلاگ پر تشریف لانے کا بہت بہت شکریہ۔ آمدنت باعث آبادی ما۔ آپ کے پُر محبت تبصرے کیلئے انتہائی شکرگزار ہوں۔ میری حوصلہ افزائی کیلئے تشریف لاتے رہا کریں، آپ کی مہربانی ہوگی

  13. مصطفےٰ ملک نے کہا:

    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

  14. افتخار راجہ نے کہا:

    اللہ آپ کو جزا دے، آپ ہمیشہ بہت اچھا لکھتے ہیں

    اللہ کرے زورقلم اور زیادہ، لکھتے رہئے

  15. فضل دین نے کہا:

    جزاک اللہ سلیم صاحب۔
    فیس بُک کی وال تو وقت کے ساتھ ساتھ بدل جاتی ہے لیکن پوسٹ بہرحال موجود رہے گی۔
    شیئر کرنے کیلئے شکریہ 🙂

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب فضل دین المحترم، آمدنت باعث آبادی ما۔ بلاگ پر خوش آمدید۔
      جی ہمارے وڈے اُستاد م بلال م نے ایک بار اس بات پر لکھا تھا کہ وقت کے ساتھ فیس بک پر لکھا قصہ پارینہ بن جاتا ہے، اسی کو ذہن میں رکھ کر تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے ان سٹیٹس کو 😀

  16. محمد سلیم نے کہا:

    جناب والا محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب۔ آپ کی تشریف آوری کسی مضمون کیلئے معراج ہوتی ہے۔ شکریہ۔
    یہ سارے سٹیٹس فیس بک پر تو بہت عرصے میں‌چسپاں‌ہوئے تھے مگر ادھر ایک دم ہی لگ گئے ہیں۔ الفاظ‌کے ردو بدل یا اسی موضوع کو مختلف طریقے سے لکھے جانے کی بناء پر آپ کو کچھ باتیں نئی بھی لگیں۔ تبصرے کے ساتھ آپ کے تجربات کا پڑھنا تو اور بھی اچھا لگا۔ اللہ پاک آپہ کو عمر مدید سے نوازے، ہم آپ کے مکتب کے ہی تو طفل ہیں۔ اگر آپ ان کو نقل کر کے کہیں‌ لکھیں‌ یا بھیجیں‌گے تو یہ صحیح طریقے سے لوگوں‌کیلئے ہدایت بنیں‌گے۔
    کھمبے والے واقعے نے مجھے بھی گھنٹوں‌رلایا تھا۔ شکریہ۔

  17. محمد نواز نے کہا:

    سلیم بھای اپ نے بھت اچھا لکھا اور بھت دل چسپ ھے ایسے مین فیس بک پر دال سکتا
    اپ کی اجازت ھو تو
    سکریا
    نواز

    • محمد سلیم نے کہا:

      بھائی محمد نواز صاحب، میرے بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ۔
      آپ ان کلمات کو شیئر کیئے جانے کے قابل سمجھتے ہیں، اس کیلئے شکر گزار ہوں۔ اللہ پاک آپ کو خوش رکھے آمین

  18. اتنا کچھ ایک ہی سانس میں کہہ گئے ہیں ۔ کس کس کی تعریف کریں ۔ آئی لَو یو اگر میں اپنی بیوی کو لکھتا تو وہ اللہ جانے کتنے دن یا ہفتے یا مہینے پریشان رہتی ۔ 45 سال شادی کو ہو گئے مگر یہ فقرہ آج تک ادا نہ ہوا ۔ ٹیلیفون والی بات میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ پیش آ چکی ہے ۔ دو بار تو میرا بھائی سچ سمجھتا رہا ۔ تیسری بار اس نے دیکھا کہ ٹیلیفون کی تار کٹی ہوئی تھی ۔ کھمبے پر چپکے کاغذ والی بات پہلی بار پڑھی اور ایمان تازہ ہوا ۔غُصہ والی بات جس میں ڈرون حملے اور پاکستان کا ذکر ہے بھی پہلی بار پڑھی ہے ۔ خیال ان دونوں کو نقل کر کے سب احباب کو بھیجوں ۔ آخری والی بات اللہ نے میری رگ رگ میں سمو رکھی ہے ۔ سُبحان اللہ

  19. نورمحمد نے کہا:

    سلیم بھائی ۔۔ کیا کہوں ۔۔ ۔ میرے پا س تو الفاظ کم ہی رہتے ہیں ۔۔۔ہمیشہ کی طرح ۔۔۔

    دل کر رہا ہے کہ اوپر کے پورےمضمون کو میرے بلاگ پر اور جہاں جہاں ممکن ہو شیئر کرتا جاؤں ۔۔

    بس آپ کی اجازت کا انتظار ہے ۔ ۔ ۔ ۔

    والسلام

  20. منیر عباسی نے کہا:

    "The Law of the Garbage Truck”.

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب منیر عباسی صاحب، اچھا میں نے اس (“The Law of the Garbage Truck”) والے سٹیٹس کو انگریزی میں کبھی نہیں پڑھا تھا، میں اسے ہمیشہ عربوں کے بلاگز اور فورمز پر ہی دیکھتا تھا، آپ کی توجہ سے اب انگریزی میں پڑھا، شکریہ۔ میرا خیال تھا ڈاکٹر خالد المنیف صاحب والا سٹیٹس زیادہ پسند ہونا تھا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s