پردیسی عربوں کے ملک میں


رفیک، سدیک، علی عوض، ابو صرہ، ابو فسییہ۔ یہ وہ الفاظ ہیں جن سے عرب ملکوں میں عموما اور سعودی عرب میں خصوصیت کے ساتھ لوگوں کو پکارا جاتا ہے۔ یہ اُن لوگوں کے نام نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں کی توہین، سخریہ اور استہزاء کیلئے اُن کو بلانے کے طریقے ہیں۔

ایسا نا سمجھیں کہ مجھے اتنی املا بھی نہیں آتی کہ رفیک کو ٹھیک کر کے رفیق لکھوں یا سدیک کو صدیق لکھ کر۔ عربوں کے ملک میں ویسے تو ہر غیر ملکی کو فرداً فرداً اجنبی اور مجموعی طور پر اجانب کہہ کر بلایا جایا جاتا ہے چاہے یہ اجنبی کسی بھی حیثیت کا ہو اور ہر مقامی شہری کو مواطن کہا جاتا ہے چاہے وہی کسی درجے اور کسی حیثیت کا ہی کیوں نا ہو۔  اور یہی مواطن اصل میں اس خطے میں پایا جانے والا حقیقی معنوں میں انسان ہوتا ہے۔ اٹلی، جرمنی، سپین اور جاپان وغیرہ میں رہنے والوں کو میرے اس مضمون کی سمجھ اُسی وقت ہی آ سکتی ہے اگر وہ خود اس خطے میں رہ چکے ہو یا اُن کا کوئی عزیز اس خطے میں رہتا ہو۔ یہ مضمون پڑھنا جاری رکھیئے تاکہ آپ میری بات کو سمجھ سکیں۔ امید ہے اب آپ کو اب پتہ چل گیا ہو گا کہ رفیق اور صدیق جس اعلی، ارفع اور نفیس درجے کے الفاظ ہیں مگر اس خطے میں وہ اس لہجے میں نہیں سموئے جا سکتے جس نظریئے میں بولے جاتے ہیں

broken heartbroken heartbroken heartbroken heartbroken heart

 خاوند نیند سے جاگا، بیوی سے پوچھا میرا رومال کدھر ہے؟ بیوی نے بتایا خادمہ نے استری کرتے ہوئے جلا دیا ہے۔ کہا ٹھیک ہے ذرا استری کو گرم کرو۔ جا کر خادمہ کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لایا، بائیں گال کو استری والی میز پر رکھا اور داہنے گال کو استری سے جلا دیا۔ کیسا ظلم ہے یہ اور کیسی حیوانیت ہے یہ۔  دینی تعلیمات اور مذہبی رواداری تو بعد کی بات ہے، اس آدمی کے دل میں ذرا سی انسانیت بھی ہے کیا؟ کیا ایک رومال کے جل جانے کی سزا کا کوئی اور طریقہ نہیں تھا اس کے پاس؟ تنخواہ سے رومال کے پیسے کاٹ سکتے تھے۔ کیا گال جلا دینے سے رومال ٹھیک ہو گیا ان صاحب کا؟ حد ہوتی ہے ظلم کی بھی۔

broken heartbroken heartbroken heartbroken heartbroken heart

 سڑک پر کوئی ڈاکٹر ہے، انجینئر ہے، استاد ہے، بڑا ہے، چھوٹا ہے مگر یہاں بد زبانی سے کوئی بھی محفوظ نہیں محض اس لئے کہ وہ اجنبی ہے۔ اس کے بر عکس اگر کوئی مواطن ہے تو چاہے کسی بڑی سے بڑی زیادتی کرنے کا مرتکب ہو جائے، اکثر حالات میں اس کا بال بھی بیکا نہیں کیا جا سکتا۔  اس کے خلاف کوئی شکایت درج کرانا یا اس شکایت پر عمل درآمد کروا لینا تو بہت بعد کی بات ہوتی ہے۔

broken heartbroken heartbroken heartbroken heartbroken heart

 بیوی کو شک گزرا کہ جب وہ ملازمت پر جاتی ہے تو اُس کا خاوند گھر کی خادمہ کے ساتھ دست درازی کرتا رہتا ہے۔ خاوند سے بات کی تو اُس نے کہا ہاں جب تم نہیں ہوتی تو یہ مجھے ورغلاتی رہتی ہے۔ نتیجہ: خادمہ کی پٹائی، چہرے کو بگاڑ دیا، بال کاٹ ڈالے۔ لیجیئے، کیسی ذلت ہے یہ؟ یعنی خاوند اپنی بات میں اتنا سچا ٹھہرا؟ نوکری سے نکال دو اُسے، زیادہ غصہ ہے تو اُسے ملک بدر کروا دو مگر ایسا بھی کیا کہ ظلم کی حد کردو؟ کس لئے؟

broken heartbroken heartbroken heartbroken heartbroken heart

 دونوں ایک شادی کی تقریب میں ملے۔ ان صاحب کی ایک شخص سے ملاقات ہوئی، مزاج ملے، دوستی ہوئی، روزانہ ملنے لگے اور کبھی کبھار تو ایک دن میں دو دو ملاقاتیں بھی ہو جاتیں۔ پھر ایک دن ان کا ایک اور دوست ملنے کیلئے آیا۔ ایک دوسرے کا حال احوال پوچھا۔ باتوں باتوں میں اُس دوست کا بھی ذکر ہوا تو پتہ چلا کہ اُس کے حالات اچھے نہیں ہیں اور اجنبی ہونے کی وجہ سے وہ کچھ مشکلات کا شکار ہے۔ ان کو جھٹکا لگا، اچھا تو وہ اجنبی ہے؟ ہاں وہ اجنبی ہے، مگر پھر کیا ہوا؟ نہیں بس ایسے ہی، کوئی خاص بات نہیں ہے۔ دوستی ختم، ملاقاتیں ختم،۔ کیوں بس اس لئے کہ وہ اجنبی ہے ناں۔ سبحان اللہ۔

broken heartbroken heartbroken heartbroken heartbroken heart

تنخواہ 800 ریال، پیشہ بہت چھوٹا سا (مزدور)، سال بھر کی تنخواہ 9600 ریال۔

اقامہ کی تجدید 750 ریال، تامین 1500 ریال، مکتب عمل کی فیس اور رسوم 2500 ریال۔

روزانہ تین وقت کا کھانا 15 ریال اور ماہانہ 450 ریال، رہائش کا کرایہ 300 ریال ماہانہ یا 3600 ریال سالانہ۔

کل ملا کر دیکھا جائے تو سال بھر کا خرچہ آمدنی سے زیادہ ہے۔

اس نے ملازمت کے بعد ادھر اُدھر سے کچھ کام ڈھوڈھنے اور کرنے کا سلسلہ شروع کیا، کام کیا ہوتے تھے بس قلی گیری، پورٹر، کاروں کی دھلائی، ورکشاپ میں کام، صفائی کا کام، بجلی کی مرمت وغیرہ۔ مقصد محض اتنا سا کہ کچھ بچت ہوجائے تو پیچھے گھر والوں کو بھی کچھ بھیج دیا کرے۔ اللہ پاک نے کرم کیا، کئی مہینوں کی محنت اور مشقت رنگ لائی اور وہ کچھ پیسے اپنےخاندان کو بھجوانے کے قابل ہوگیا۔ بنک گیا، اتنے پیسے کہاں سے آئے کی وجہ سے پوچھ گچھ کیلئے روک لیا گیا۔ اقامہ مزدور پیشہ کا اور پیسے گھر بھجواتا ہے اتنے سارے! پولیش آئی، پکڑا، جیل میں ڈالا، اور کیا فیصلہ ہونا تھا کچھ دنوں کے بعد خروج لگا کر واپس بھیج دیا گیا۔

broken heartbroken heartbroken heartbroken heartbroken heart

سپیڈ پوسٹ بھیجنے کیلئے ڈاک خانے گیا، کاؤنٹر سے ایک فارم اُٹھایا، پُر کیا اور لا کر کاؤنٹر پر بیٹھے صاحب کو دیا کہ اُس کا پارسل بھجوا دے۔ صاحب نے فارم پھاڑ کر منہ پر مارا کہ یہاں سے بغیر پوچھے اُٹھایا کیسے تھا، اب پہلے مجھ سے فارم مانگو، پھر جا کر پُر کرو اور مجھے لا کر دو۔ بات تو ٹھیک ہے کہ ایک سعودی مواطن (انسان) کے سامنے سے تم اجنبی (کیا مناسب لکھوں ذہن میں نہیں آ رہا) اُس کی اجازت کے بغیر ایک فارم اُٹھا لو؟

broken heartbroken heartbroken heartbroken heartbroken heart

اجنبی۔۔۔ اللہ کی لعنت ہو ان پر۔۔۔۔ اللہ ان کو برباد کرے۔۔۔ اللہ ان کو آگ لگائے۔۔۔ ہمارا جینا دو بھر کر کے رکھا ہوا ہے ان لوگوں نے۔۔۔ ہمارے رزق پر ڈاکہ ڈالا ہوا ہے انہوں نے۔۔۔

اچھا یہ تو بتائیں یہ اجنبی ہیں کون؟ کوڑا کرکٹ اُٹھانے والے، ورکشاپ کے مکینک، عمارتوں پر رنگ کرنے والے، دکان دار، دھوبی، چوکیدار، پلمبر، بیکری بٹھیوں پر ملازم، پنکچر لگانے والے، نالیاں گٹر صاف کرنے والے، کاریں دھونے والے۔

ہے کوئی تمہارا مواطن یہ سب چھوٹے اور کم تر کام کرنے والا۔ اگر نہیں ہے تو کس کے بارے میں باتیں کرتے ہو کہ انہوں نے تمہارا دم گٹھا رکھا ہے۔ سبحان اللہ، اب تم اتنے گٹھیا سے کام کرنے والوں سے بھی حسد کرنے لگے ہو؟

broken heartbroken heartbroken heartbroken heartbroken heart

بیٹے کی عمر 18 سال ہو گئی ہے۔ اب تم سب لوگوں کا اقامہ تجدید نہیں ہو سکتا۔ کیوں؟

پہلے اپنے اس بیٹے کو اپنے ملک واپس بھیجو پھر تمہارا اور تمہارے باقی خاندان کا اقامہ تجدید ہو سکے گا۔

کس ملک کی بات کر رہے ہو تم؟ میرا بیٹا کیا میں خود بھی تمہارے اسی ملک میں پیدا ہوا ہوں۔ میرا باپ یہاں پچھلے ساٹھ ستر سالوں سے رہ رہا ہے۔ میرا بیٹا تمہاری فٹ بال کی ٹیم کا عاشق ہے اُس کے جیتنے پر وہ جشن مناتا ہے۔ تمہارے ملک کا قومی ترانہ وہ پڑھتا اور گاتا ہے۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا بیٹا تو کیا مجھے اپنے ملک کا قومی ترانہ یاد نہیں ہے۔ کہاں جائے گا اور کس کے پاس جائے گا میرا بیٹا؟ کون تمہیں بتائے کہ تم نے جو قانون بنا رکھے ہیں وہ ظلم کے زمرے میں آتے ہیں۔

broken heartbroken heartbroken heartbroken heartbroken heart

رات کو گھوم پھر رہے ہیں کہ اچانک پولیس سے سامنا ہو جاتا ہے جنہوں نے ایک سڑک کو بند کر کے اُس پر ایک نقطہ تفتیش بنا رکھا ہے۔ سب کو پکڑ کر بٹھا لیا جاتا ہے۔ مواطن یا اجانب سب کے بیانات لیئے جاتے ہیں۔ مواطن کی انگلیوں کے نشانات لیکر گھر جانے دیا جاتا ہے اور اجانب کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ تین سال کے بعد (راتوں کو آوارہ گردی کرنے کے) کیس کا فیصلہ آتا ہے اور اجانب کو اُن کے ملک بدر کر دیا جاتا ہے اور مواطن کو کیس سے بری۔ اگر اس جرم کی سزا اتنی ہی سخت ہے تو یہ بھی تو بتا دیا کرو کہ سعودی مواطن کیا تحفیظ قرآن کی کلاس سے واپس آرہے تھے؟

broken heartbroken heartbroken heartbroken heartbroken heart

ماموں (ماں کا بھائی، نصیب مٰیں سعودی کا سالا بننا لکھا ہوا تھا) عمر 19 سال۔ بھانجا عمر 18 سال۔

ماموں محض مقیم ہے یا دوسرے معنوں میں ایک اجنبی ہے۔ بھانجا ایک مواطن ہے یا دوسرے معنوں میں ایک انسان ہے۔

ایک دن گھر بیٹھے کسی بات پر توتکار ہوئی۔ بات بڑھی تو بھانجے نے اُٹھ کر ماموں کے منہ پر ایک تھپڑ جڑ دیا۔ ماموں نے بھی واپسی بھانجے کو ایک تھپڑ ٹکا دیا۔ بہن درمیان میں کودی، کچھ بیٹے کو کہا تو کچھ بھائی کو سنائیں اور اس طرح بات ختم ہو گئی۔

شیطان نے آگ لگائی، بھانجا باہر جا کر اپنے جیسے دوستوں میں بیٹھا۔ مشورہ ملا کہ ایسے کیسے چپ کر لے گا تو؟ بالکل ہی معاف نہیں کرنا تو نے، مت چھوڑ اسے ایسے۔ بھانجا پولیس کے پاس پہنچا، شکایت کی۔ ماموں پکڑا گیا، ترحیل میں دو دن، چار دن اور پھر وہی پرانا فیصلہ ملک بدری کا۔ کیا کہنے ہیں اس انصاف کے۔

broken heartbroken heartbroken heartbroken heartbroken heart

حضرات، یہ مضمون میری طبیعت سے میل نہیں کھاتا کیونکہ میں پسند نا ہو تو کھانا چھوڑ دیتا ہوں مگر شکایت زبان پر نہیں لایا کرتا۔ جس درخت کے نیچے بیٹھوں اس کی پھلنے پھولنے اور بڑھنے کی دعائیں کرتا ہوں اس کی جڑیں نہیں کاٹتا۔ پچھلے دنوں یاسر بھائی نے عربوں پر کچھ بات کی اور ڈاکٹر جواد بھائی نے اُن کی تائید کی تو میں نے اس پر اپنا بھرپور مؤقف  دیکر اعتراض کیا۔  تو اب پھر اچانک ایسی کیا بات ہو گئی ہے جو یہ مضمون لکھ ڈالا ہے میں بتاتا ہوں۔

ڈاکٹر سلمان العودہ صاحب سعودی عرب کے ایسے عالم ہیں جو مذہب کی تشریح حالات حاضرہ کے واقعات اور حقائق کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں۔ امت کو ایک فکر دیتے ہیں اور نئی نئی جہتیں دکھاتے ہیں نا کہ پرانے افکار کو متشدد طریقے سے لاگو کرنے پر زور دیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نا تو سید قطب کے ہم عصر ہیں اور نا ہی مولانا مودودی صاحب کے رفقاء کار مگر اپنے افکار میں انہیں کے ہم مدرسہ ضرور لگتے ہیں۔ اگر حق کہنے کی جرات رکھتے ہیں تو سچ سننے اور کہنے کا حوصلہ بھی۔ کلمہ حق کہنے والے اس جری شخص کا نام تاریخ عزت و احترام کے ساتھ سنہری حرفوں میں لکھے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی عمر میں برکت دیں۔ سعودیہ میں رہ کر سعودی نظام کے خلاف بلا خوف بات کرنے والے ان حضرت کا مضمون (انسان غیر) مجھے تپ چڑھانے اور زبان کھولنے کا سبب اور اس مضمون کو لکھے جانے کی وجہ تسمیہ بنا۔

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in Uncategorized, اصلاحی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

50 Responses to پردیسی عربوں کے ملک میں

  1. شاہد ظفر نے کہا:

    السلام علیکم

    بہرحال مضمون نگار نے سعودیز کے بارے میں اپنے تجربات اور ذہن کے مطابق موثر مضمون لکھا ہے، جس سے کچھ نے اتفاق کیا اور کچھ نے اسکو کسی انداز میں ریجکٹ کیا۔

    میرا اپنا یہی ماننا ہے کہ جتنے خراب اور متعصب سعودیز ہیں اور جتنے خراب ہم انہیں کہتے ہیں انتے ہی ہمارے اپنے ملکوں میں بھی مل جائینگے۔، ہر چیز واضح ہے کہنے کا کچھ فائدہ نہیں۔

    کہنے کامقصد صرف یہ ہے یہ اچھے اور خراب لوگوں سے دنیا تعبیر ہے، ریشیو کم زیادہ ہے بس

    والسلام

  2. منیب جونیئر نے کہا:

    سعودی عربیوں کے بارے میں پڑھ کر بہت حیرت ہوئی

    • محمد سلیم نے کہا:

      منیب جونیئر، میرے بلاگ پر آنے کا شکریہ۔ سعودی اچھے لوگ ہیں۔ ہمارے پاکستانیوں‌نے اپنا وقار کہاں‌کہاں‌نہیں‌خراب کیا، بس کچھ ایسی ہی کیفیت سعودیہ میں‌ہے اب۔

  3. مطلوب حسین نے کہا:

    ہاں اکثر ایسا ہوتا ہے
    اک شعر یاد آیا ،،،، کفیل کے بارے میں ہے۔
    کل پھر وہ ظالم اپنی بات سے مًکرا
    میں اس کے گھر گیا تو بولا تعال بًکرہ

  4. Sara نے کہا:

    Salam alaikum haji sahb.I agree with you because I am living in Gulf for many years.I went once for umrah and didnt find the people very nice.whereas emartis are better than saudis and I would say that Qataris are the best people because I am in Qatar from last 4 years and many of my coworkers are qataris.they are very nice people but saudis are very rude.

    • محمد سلیم نے کہا:

      Respected Sara, welcome to my blog and thanks for sharing your experiences.
      Mostly times, when going to perform Umrah and hajj, we do not face Saudies by themselves. Those are either other nationalities people acting as those were Saudies or some illiterate rural areas Saudies.
      Since we are there at Umrah purpose, so we do not care so much for their actions. May Allah accept your all good deeds and give you reward here and afterwards.
      Your analysis are quite ok, Qatari people are nice in the Gulf areas.

  5. ظہیر اشرف نے کہا:

    بجا فرمایا جی ۔
    بےغیرتی اور بےشرمی کا طعنہ دینے والے اس معاملے کو نہیں سمجھ سکتے ، اور ان کو سمجھانا میں وقت کا ضیاع جانتا ہوں۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب ظہیر اشرف صاحب، بلاگ پر خوش آمدید۔ تبصرہ کیلئے شکریہ قبول کریں۔
      جی آپ کا ٹھیک کہنا ہے کہ ہر آدمی اپنے حالات سے خوب آگاہ ہوتا ہے اور اُسے ہی پتہ ہوتا ہے اُس نے ان حالات سے کیوں اور کیسے نبھاہ کرنا ہوتا ہیے۔

  6. saeed نے کہا:

    The points given here are not new, anyone who has lived /worked in saudia, knows about it. I have worked over there for 13 months, they had a policy that if you want to resign you need to give a 2 months notice, otherwise they will deduct your two months salary, now which company in the world will wait for 2 months for an employee to recruit, therefore poeple need to sacricifice at least one month salary in order to get rid of their job. But on the other hand i had some educated saudi friends who were very good in their behaviour. Same is the case over here in uae, i have many educated colleagues who are national but are very good with me, but i had one villa owner (i used to rent room in his villa), that guy and his wife were the worst people i have ever come across. It is not right to abuse here on this forum othewise i can write a 5000 words essay to describe those two people.

    • محمد سلیم نے کہا:

      Janab Saeed Sahb, Thank you very much for sharing your personal experiences while you were staying there in Saudi Arabia.
      You are right, almost everybody have suffered same or similar situations there. Since good or bad are everywhere. This is life.
      I appreciate your silence about what happened between you and your landlord. You had passed that time, may Allah reward you good and good in future. Please keep visiting my blog for further guidance. Thank you very much.

  7. محمد اقبال مغل (مدینہ منورہ) نے کہا:

    اسلام علیکم و رحمتہ اللہ
    اپنی قدر و قیمت مالوم کرن لئی تُہاڈے بلاگر تک وی پہنچ ای گئے آں ،ایتھے تے صرف ساڈے نال صرف اک قوم ای ناروا سلوک کردی اے جنہوں اسی اپنے آقا سمجھ کے قبول کر لینے آں ،لیکن اپنے پیارے ملک وچ جدوں اپنے خونی رشتے ساڈےجسم توں اپنے من پسند دی بوٹیاں نوچن دی کوشش کردے نیں تے فیر خیال آوندا اے کہ اپنے انہاں ساریاں دی ہوس نالوں ،غلام بن کے رہن وچ ای فائیدہ اے تحقیر ای اے ناں رفیک سدیک ای چنگے آں،
    اللہ بیلی تے سوہنا رب راکھا ساریاں دا

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم جناب محمد اقبال مغل صاحب، و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ بلاگ پر خوش آمدید، اھلا و سھلا و مرحبا۔ تبصرہ کیلئے شکریہ قبول کریں۔
      جی ہاں، اپنے دیس میں‌بھی تو یہی کچھ ہوتا ہے۔ بندہ ڈیرے پر اُٹھوا لیا جاتا ہے۔ ایک وقت کے کھانے کے بدلے پورا خاندان ونگار دے رہا ہوتا ہے۔ فصل کے موسم میں سال کچھ چاول یا گندم ملنے کی آس پر سارا سال اولگی بن کر رہتے ہیں۔ آپ نے بالکل صحیح نشاندہی کی ہے۔ اللہ پاک ہماری روزی اور رزق میں برکت عطا فرمائیں آمین یا رب

  8. عبداللہ آدم نے کہا:

    السلام علیکم !

    عرب سے جو بھی کوئی عزیز رشتہ دار آتا ہے وہ ایسی ہی باتیں سناتا ہے ، ابھی پچھلے دنوں کنگ فہد یونی ورسٹی میں پڑھانے کے لیے ایک بے چارہ سا دوست گیا تھا ، اایم ایس بائیو کیمسٹری …. اور اسی کے لیول پر جو امریکی پڑھا رہا ہے اس کو تین گنا تنخواہ اور لاؤنسز اور نوابی الگ سے ….. اب یہ بے چارہ دو دفعہ لڑ چکا ہے ہیڈ سے بھی ، وی سی تک بھی جا چکا ہے …… یہ تو سرکاری طور پر حالات ہیں . غیر سرکاری تو آپ نے بیان کر ہی دیے ہیں.

    شیخ سلمان کا دو قسطوں پر مشتمل یہ مضمون ہے شاید.
    http://islamtoday.net/salman/artshow-28-178019.htm

    http://islamtoday.net/salman/artshow-28-178368.htm

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم جناب عبداللہ آدم صاحب، بلاگ پر خوش آمدید۔ جی ہاں ایک ہی قسم کی ملازمت کیلئے مختلف جنسیات کے لوگوں کو مختلف مشاہرے پر لایا جانا بہت سے لوگوں کیلئے ذہنی کوفت کا باعث بنتا ہے۔ آپ نے جن دو مضامین کا لنک دیا ہے وہ بالکل اسی موضوع سے متعلقہ ہی ہیں۔ شکریہ

  9. Duffer Dee نے کہا:

    عربوں میں‌ سعودیوں اور پھر کویتیوں کا جو ”مقام“ ہے اسکو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اسکے بعد باری آتی ہے اماراتیوں عمانیوں اور قطریوں کی۔ میرے خیال میں قطری بلاشبہ ایک نفیس قوم ہیں اگر عربوں کی سب کیٹگریز بنائی جائیں‌تو

    • محمد سلیم نے کہا:

      ڈیئر ڈفر ڈی المحترم۔ آپ کا تجزیہ بالک ٹھیک ہے۔ پیسے کی فراوانی سے اس خطے میں‌جو اخلاقی انحطاط آیا اس کی زد میں‌سعودی باشندے زیادہ آئے۔ ہم لوگ تو دور کے ہیں خود سعودی اپنے گرد و نواح کے عرب ملکوں‌میں‌بھی عزت سے نہیں‌دیکھے جاتے۔ میں‌سعودیہ کا مقیم ہو کر بھی رفیق کہلاتا ہوں‌جبکہ دبئی امیگریشن آفیسر نے مجھے بیت بیتک کہہ کر انٹری لگا کر دی۔

  10. میرئے خیال میں سارئے سعودی ایسے نہیں،بلکہ بعض ایسے ہیں،کیونکہ ان میں سے بعض جو معتبر خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں ،انکا اخلاقی رویہ کافی اچھا ہوتا ہے۔

    ہاں چونکہ تیل کی دولت سے مالامال ہیں ،اسلئے شائد انکو تھوڑا تکبر چھڑا ہوا ہے۔
    لیکن دوسرئے عرب ممالک میں شائد ایسا نہیں ۔کیونکہ وہاں رہنے والے اجنبی کافی سھولت محسوس کرتے ہیں۔اور بعض اجنبیوں سے انکے کافی اچھے تعلقات ہیں۔

    تعلیم کی کمی بھی اسکا ایک اہم وجہ ہوسکتا ہے ۔کیونکہ سعودی عرب میں تعلیمی شرح شائد انتہائی کم ہے۔میں نے ان میں کوئی ڈاکٹر یا انجئنر یا کوئی دوسرا بڑا ماہر فن نہیں دیکھا۔سوائے چند ایک کے۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب درویش خراسانی صاحب، یقینی بات ہے سارے سعودی ایسے ہرگز نہیں ہیں۔ سخاوت، مہمان نوازی، ایثار اور صلہ رحمی اور جان نثاری جیسی خصوصیات ان عربوں سے ہی عبارت ہیں۔
      رمضان شریف میں یہی سعودی آپ کو افطار کرانے کیلئے آپ کی منت تک کرنے پر اُتر آتے ہیں۔ حجاج کو کھانا کھلانے کیلئے دنیا کا سب سے بڑا مفت ریسٹورنٹ بھی تو اسی سرزمین پر بنایا گیا تھا۔ بات شرقیہ اور جنوبی علاقوں سے آنے والے سعودی لوگوں کی ہے جو یہ ہضم ہی نہیں کر پاتے کہ غیر ملکی اپنا رزق کھاتے ہیں۔ مجھے آپ کی ساری باتوں سے اتفاق ہے۔

  11. عبدالرؤف نے کہا:

    اگر شیخ صاحب کے مضمون کی اردو یا انگریزی نقل مل جاتی تو آپ کے مضمون کی شانَ نزول کو سمجھنا اور بھی آسان ہوجاتا، باقی یہ کہ جو واقعات اور روئیے اوپر بیان کیئے گئے ہیں وہ "فرعونیت” کی چند مثالیں ہیں، جوکہ معمولی سی تلاش پر آپ کو ہر ملک اور معاشرے میں‌مل جائیں‌گی، اپنے پاکستان کے سندھی وڈیرے ، پنجابی چوہدری، بلوچی و پٹھان سردار اور کراچی و حیدرآباد کے بھائی لوگ بھی اپنے اپنے علاقوں‌میں‌کچھ کم "فرعونیت” کا مظاہرہ نہیں‌کرتے۔ بس عرب اس لیئے لپیٹے میں‌آجاتے ہیں کیونکہ ان کے عام لوگوں میں‌بھی نسلی تفاخر بہت زیادہ پایا جاتا ہے جوکہ عجمیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے تعصب کی صورت میں‌ظاہر ہوجاتا ہے۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب عبدالرؤف صاحب، ڈاکٹر سلمان سلطان وقت کے سامنے کلمہ حق کہنے والے مرد حق ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت کی پالیسیوں پر اکثر لکھتے اور بولتے ہیں۔ نیچے ہی ایک قاری عبداللہ آدم نے اپنے تبصرے میں دو مضامین کے لنک پیسٹ کئے ہیں جن میں ڈاکٹر صاحب نے اسی جیسے مسائل پر بات کی ہے۔

  12. خدا کا شکر ہے کہ ہم کافروں کے درمیان رہتے ہیں۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب بلال امتیاز احمد صاحب، بلاگ پر خوش آمدید
      ایک لحاظ‌سے آپ کی بات غلط ہے کہ کفار کے درمیان رہنے کو ایک اچھا اور قابل تحسین فعل جانا جائے۔ عربستان جانے والے گھروں‌کو تو لوٹے، کفار کے پاس جا کر ٹھہرنے والے تو کئی تو ان کے رنگ میں رنگے گئے اور ان جیسے ہی ہو گئے۔

  13. بدر یوسف نے کہا:

    سلام میرے پیا رے انکل۔ آپ صدا خوش رہیں اور اسی طرح ہمارے علم اور شعور میں اضافہ کرتے رہیں- آپکی یہ تحریر پڑھ کر دل بہت خراب سا ہوا ہے۔ میں تو عرب لوگوں کے بارے میں بہت اچھا تصور رکھتا تھا۔ مگر آج مایوسی ہوئ۔ کیا اکثر عربی لوگ یعنی مواطن ایسے ہی ہیں- اچھے برے تو ہر جگہ ہوتے ہیں – ویسے اجنبی اور مواطن کا خوب تضاد نکھر کر سامنے آیا ہے 🙂
    اصل میں – کسی اجنبی کو مواطن پر اور کسی مواطن کو اجنبی پر کویئ فوقیت حاصل نہیں۔ سب مسا وی ہیں-

    • محمد سلیم نے کہا:

      پیارے بھتیجے بدر یوسف المحترم، (کیا خوب فقرہ لکھا ہے کہ کسی اجنبی کو مواطن پر اور کسی مواطن کو اجنبی پر کویئ فوقیت حاصل نہیں۔ سب مسا وی ہیں)۔
      اہم مناصب پر فائز لوگ اپنے اپنے اداروں اور اپنے گردو نواح میں اچھی عزت اور اچھے احترام سے ہی کام کرتے ہیں۔ مگر ان اداروں اور ان حدود سے باہر مواطن کا ایک محروم طبقہ جو یہ سوچتا ہے کہ کس طرح اجنبی آ کر ہم مواطن سے زیادہ اچھا رہ رہا ہے اپنے تعصب کا اظہار کرتا ہے۔

  14. گرامی قدرجناب سلیم صاحب!
    میرے لیے آپ ان چند لوگوں میں سے ہیں جن کی بات کو غلط قرار دینا میرے لیے انتہائی مشکل کام ہے۔
    یاسر بھائی کے مضمون پر میری تائید کا مقصد ڈاکٹر سلمان العودہ صاحب کی توہین نہیں تھی بلکہ ایک کھلی حقیقت کی طرف اشارہ تھا۔ میں نا ہی سلمان العودہ صاحب کو جانتا ہوں اور نا ہی کسی دوسرے سعودی عالم کو۔ اگر آپ انکے بارے اچھے خیالات رکھتے ہیں تو یقینا یہ اچھے لوگ ہی ہونگے۔
    آپ نے کہا کہ ہر گھر میں بیت الخلاء ہوتا ہے ۔۔ بجا ارشاد مجھے اپنے یا کسی دوسرے پاکستانی کے بارے میں ایسی کوئی خوش فہمی نہیں ہے۔ میں تو صرف یہ کہتا ہوں کہ بیت الخلاء کی بدبو اگر بیت الخلاء تک نا رہے اور کھانے کی میز تک آنے لگے تو کراہیت کا اظہار کیے بغیر چارہ نہیں رہتا۔
    معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کے مضمون کا مقصد میں ابھی بھی نہیں سمجھ سکا۔ ایک طرف آپ نے حقیقت کا اظہار کیا ہے تو دوسری طرف ” احسان ناشناسی ” پر تنقید بھی کی ہے۔
    پھر ڈاکٹر سلمان العودہ صاحب کا تذکرہ اس مضمون جس غرض سے کیا گیا ہے وہ بھی میں نہیں سمجھ سکا۔
    کیا یہ مضمون ڈاکڑ سلمان العودہ صاحب نے لکھا ہے؟

    • بدر ےیوسف نے کہا:

      جی ہاں کچھ تو کجی ہے اس مضمون میں- کچھ وضا حت دیں-

    • محمد سلیم نے کہا:

      برادر محترم جناب جواد احمد خان، اللہ پاک آپ کو خوش رکھے، آمین۔
      چند ایک الفاظ‌کی کمی کی وجہ سے مسئلہ بن گیا۔ ہوا یوں‌کہ مجھے لکھنا تھا کہ جب یاسر بھائی نے مضمون لکھا اور آپ نے ان کی تائید کی تو میں‌نے کیوں‌آپ سے اختلاف کیا۔ اور آج اچانک کیا بات ہو گئی کہ مجھے احساس ہو گیا کہ اس دن مجھے آپ سے اختلاف نہیں‌کرنا چاہیئے تھا۔ بس اتنی سی بات تھی۔
      جی ہاں، اس مضمون کا مرکزی خیال مکمل طور پر ڈاکٹر سلمان صاحب کی تحریر سے لیا گیا ہے مگر دیگر معلومات اور واقعات صرف دو تہائی ان سے ماخوذ ہیں۔ میں‌اپنا معافی نامہ باقاعدہ طور پر آپ کو ایمیل کر رہا ہوں۔

  15. عمیر ملک نے کہا:

    آپ نے صحیح کہا، اٹلی ، جرمنی، جاپان والے یہ سب پڑھ کر عجیب محسوس کریں گے۔ اور کیوں۔۔ اس کیلئے پوری ایک تحریر درکار ہے۔ اگر یورپ کے زیادہ تر ممالک میں رائج صرف ایک سوشل بینیفٹس دینے والا سسٹم ہی کسی نے تفصیل سے بیان کر دیا تو گلف یا عرب ممالک میں رہنے والے واقعی ’اجنبی‘ محسوس کریں گے۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      برادرم عمیر ملک، کنیڈا والے جب اپنے ملک کی خصوصیات سناتے ہیں‌تو لگتا ہے کہ دور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خوبیاں‌گنوا رہے ہیں۔ مگر سیدنا عمر کی سر زمین پر ان کے اصول و ضوابط ناپید ہیں آج۔

  16. ابراہیم نے کہا:

    میں عمان میں ہو ں اور یہاں کے عرب بلا مبالغہ بہت اچھے ہیں اور سعودی لوگوں کو جانتے بھی بہت اچھی طرح ہیں۔۔ اسی لئے یہاں سعودی لوگوں کو بہت برا سمجھا جاتا ہے

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم ابراہیم، بلاگ پر خوش آمدید۔ آپ کا ٹھیک کہنا ہے کہ عرب خطے میں‌عمانی اور قطری لوگ اچھے شمار کیئے جاتے ہیں اور اپنے نامناسب رویئے کی وجہ سے سعودیوں‌کو ان کے اپنے عرب معاشرے میں‌بھی اچھا نہیں‌سمجھا جاتا۔

  17. یہ سب کچھ پڑھنے کے بعد میں سوچ رہا ہوں کہ میرے ہموطن وہاں جا کر کمانے کیلئے اتنے بیتاب کیوں رہتے ہیں خاص کر جب وہ ٹھیک طرح سے کام کریں تو بچت کچھ نہیں ہوتی ؟ یہاں سے زیور یا جائیداد بیچ کر جائز و ناجائز طریقے سے جا کر آخر اپنی عزت کا سودا کیوں کرتے ہیں ؟
    اپنے ملک میں اللہ پر بھروسہ کر کے محنت کی جائے تو روکھی سوکھی سہی باعزت روٹی تو مل ہی جائے

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب، تبصرہ کیلئے بہت شکریہ۔ الفقر کافر – غریبی بڑی کافر چیز ہوتی ہے جی۔ ایک آدھ بندہ اپنی عزت نفس کا سودا کر کے اگر دس پندرہ افراد کے کنبے کو اچھی طرح چلا دے تو سودا برا نہیں‌ہے۔ اللہ تبارک و تعالٰی ایسے اسباب بنا دین کہ کسی کو غریب الوطن نا بننا پڑے۔

  18. سعد نے کہا:

    پس ثابت ہوا چاہے جیسا بھی ہو اپنا وطن ، گھر اپنا ہی اچھا!

  19. بنیاد پرست نے کہا:

    اک دوست حج پر گئے انہوں نے اک نو مسلم کی بات سنائی جو انکے ایئرپورٹ کے عملے کا رویہ دیکھ کر بہت بددل اور غصہ سے بھرا بیٹھا تھا کہہ رہا تھا ہم لوگ تو انکو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسائے ہونے کی نسبت سے افضل انسان سمجھتے تھے یہ تو کالے کافروں سے بھی بدتر اور ذلیل ہیں…
    ایک اور دوست وہاں نوکری کرتے ہیں انہوں نے اس طرح کے کئی واقعات سنائے کہ کس طرح وہاں غیر ملکی مسلمانوں سے توہین آمیز سلوک اور ناانصافی کا برتاو کیا جاتا ہے کفالت کے نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنے لگے انکی ‘ان اکرمکم عند اللہ اتقٰکم’ کی آوازوں کے درمیان میں کفالت جیسا غلامی والا نظام میرے دل میں ہمیشہ ہی ان سے نفرت پیدا کرتا رہتا ہے، ساری دنیا میں ایسا بدترین نظام نہیں.. خود کو اصل مسلم قرار دیتے ہیں اور ان کا غرور ہے کہ ختم ہونے کو نہیں آتا.
    اللہ ہی انہیں ھدایت دے جی.

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم جناب بنیاد پرست صاحب، کیا حال ہیں؟
      سعودی عرب کے اصل مواطن اپنے برتاؤ اور اخلاق کے لحاظ سے بہت ہی اچھے لوگ ہیں خاص طور پر اہل مدینہ تو بہت ہی اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ یمن کی طرف والے لوگ اجڈ اور ثقافت سے دور ہیں تو دوسری جنسیات سے آئی ہوئی دوسری نسل اصلی اقدار سے محروم ہے۔
      دور دراز سے لائے گئے سعودی بہت ہی کم مناصب پر بھی اپنے آپ کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ بنک کا سعودی گارڈ اپنے آپ کو بنک کے مالک سے کم درجے کا نہیں سمجھتا۔ یہی حال ایئرپورٹس اور دوسرے اداروں میں فائز سعودیوں کا ہے۔

  20. میری ایک سعودی سے دوستی ہو گئی۔
    عموماً جمعہ کے نماز کے بعد کھانا چلے جاتے تھے۔
    عموماً میں ہی پیسے دیتا تھا۔
    یہ جاپان کی بات ہے۔سعودی تو نا چاہتے ہوئے بھی ہمارے لئے قابل احترام ہو جاتا ہے۔
    ایک بار ان کے دو تین سعودی دوست بھی ساتھ چل دیئے ۔
    عربی میں باتیں کرتے رہے ۔
    کھانا کھانے کے بعد ٹیبل پر ہی ان عربی دوست نے انہیں پیسے دینے منع کر دیا کہ مہمان ہیں۔
    ابھی پیسے دیئے نہیں گئے تھے ،کہ عربی میں ہی انہوں نے کہا اس مسکین کے بھی پیسے دو گے!!
    اتنی بات تو ہمیں بھی سمجھ آگئی تھی۔ میں خا موشی ہو گیا۔
    پاکستانی ریسٹورنٹ والا ہمارے ٹیبل پر آیا اور پوچھا یاسر بھائی کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔
    میں نے کہا میں بعد میں کاؤنٹر پر آؤں گا یہ لوگ پہلے آئیں گے۔
    ان سے کہنا یاسر نے پیسے دے دئے ہیں۔
    ایسا ہی ہوا۔
    باہر نکل کر ان عربوں کو اتنی شرم بھی نا آئی کہ شکریہ ہی ادا کر دیتے۔
    بحرحال میں نے انہیں کچھ نہیں کہا ۔
    لیکن اس کے بعد عربوں سے فاصلہ ہی رکھنا شروع کر دیا۔
    دین سے محبت اپنی جگہ ۔۔۔۔عربوں سے محبت بھی اچھی بات ہے اگر انسان ہوں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    • عبدالرؤف نے کہا:

      آپ تو بڑے دیالو ہو، پھر ہماری دعوت کب کررہئے ہیں؟
      ویسے عرب اپنے دوستوں کو بہت عزت دیتے ہیں، اور انکی مہمان داری بھی بہت مشہور ہے۔
      آپ کو کچھ کم نسل لوگوں سے واسطہ پڑگیا ہوگا۔

      • عبدالرؤف نے کہا:

        کہاوت مشہور ہے:
        اصل / اصیل سے خطاء نہیں، کم نسل سے وفاء نہیں !

      • محمد سلیم نے کہا:

        جناب عبدالرؤف صاحب۔ تشریف آوری کا شکریہ۔
        ارے جناب کاہے کے دیالو، بات اگر دعوت کی ہے تو وہ تو کھجور کے ایک دانے پر بھی کی اور دی جا سکتی ہے۔ اللہ پاک کبھی اکٹھے ہونے کی سبیل بنائے۔
        جی ہاں، عرب اکثر مہمان نواز ہیں مگر ان میں متعصب بھی ہیں۔ زندگی میں ہر قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      یاسر بھائی، خوش آمدید۔ میرے اس مضمون سے آپ کی کچھ پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔
      ہم پاکستانیوں کے سامنے اکثر عربی اپنے سعودی ہونے کا بہروپ بناتے ہیں، جس طرح کے رویئے سے آپ کا واسطہ پڑا ہے مجھے وہ عربی (یمن) سے لگ رہے ہیں۔

  21. ابراہیم نے کہا:

    مذکورہ مضمون انسان ‏‏غیر کا لنک بھی فراہم کیجئے۔۔۔!

    • محمد سلیم نے کہا:

      برادرم ابراہیم، خوش آمدید۔
      یہ والا مضمون مجھے واٹس ایپ کے ذریعے ایک دوست نے بھیجا تھا۔ اس مضمون کو اُنکی ویب سائٹ پر تلاش کرنا تو میرے لئے ممکن نا تھا تاہم فیس بک پر سینکڑوں لوگوں نے اسے شائع کیا ہوا ہے۔ ویسے داکٹر سلمان العودہ صاحب سعودی عرب میں اجنبی بچوں کے مستقبل، نظام تجنیس اور اس جیسے کئی مواضیع پر بلا جھجھک بولتے اور لکھتے رہتے ہیں۔

      • عبداللہ نور نے کہا:

        محترم حاجی صاحب، السلام علیکم
        آپ کی ساری باتیں درست تسلیم کرتا ہوں۔ یہ سب جاننے کے بعد ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ اگر ہم لوگوں کو وہاں اس قدر تذلیل و توہین ہوتی ہے تو (زیارتِ حرمین شریفین کے علاوہ) ہمارا عرب شریف میں جانے اور بعض صورتوں میں وہاں کئی عشرے گزار دینے کا کیا مقصد ہے؟ اس کی دو ہی وجوہات میری سمجھ میں آتی ہیں۔
        اول : ہمیں روپیہ پیسہ، اپنی عزت و آبرو سے کہیں زیادہ پیارا ہے۔ اس کے حصول کے لیے ہم ذلت و رسوائی قبول کرنے کی کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ (اس سلسلے میں دیارِ مغرب میں جا آباد ہونے والے پڑھے لکھوں کا معاملہ مڈل ایسٹ کے ورکروں سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ یہ کارکن تو ایک نہ ایک روز واپس آہی جائیں گے لیکن غیر مسلم ممالک کو بخوشی اپنا وطن بنانے والے اپنی آئندہ نسلوں تک کے دین مذہب اور ثقافتی تشخص کا سودا کر لیتے ہیں۔ الا ماشا اللہ)
        دوم : ہمارے اپنے ملک میں ہمارے اپنے پیارے اپنی دولت، طاقت اور اختیار کے بل بوتے پر ہماری اتنی زیادہ بے عزتی کرتے ہیں کہ ناچار ہم ان عرب ملکوں میں ہونے والی بے عزتی کو کہیں معمولی جان کر وہاں معاشی پناہ گزین ہو جاتے ہیں ۔ اس امید پر کہ وہاں کمائے گئے پیسوں کے ذریعے اپنے خاندان والوں کے لیے روزی روٹی کے علاوہ تھوڑی بہت عزت حاصل کر لیں گے۔ لیکن عزت تو کیا ملنی ہے، روپے پیسے کی کچھ فراوانی ہمارے اپنے لیے اور معاشرے کے لیے اور طرح کے پیچیدہ اور سنگین مسائل کو جنم دیتی ہے۔ آخری تجزیے میں اکثرو بیشتر گھاٹے کا سودا ہی ہوتا ہے۔
        باقی ہر قوم میں ہر قماش کے لوگ ہوتے ہیں۔ ہندو سکھوں میں بھی عرش ملسیانی اور سرجیت سنگھ لانبا جیسے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے محب مل جاتے ہیں اور بد قسمتی سے مسلمانوں میں مرزا غلام احمد قادیانی اور سلمان رشدی بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ اسی مضمون میں آپ نے ڈاکٹر سلمان عودہ صاحب جیسے قابل قدر سعودی کا حوالہ بھی دیا ہے۔
        ایک اور بات ۔۔۔میں سمجھتا ہو کہ امیری غریبی کےفرق علاوہ ہم نام نہاد مسلمان ذات پات کی بنا کچھ لوگوں کو پیدائشی طور پر جس طرح ذلیل و کمتر سمجھتے ہیں اس کا تصور بھی عالم عرب میں نہیں ہو سکتا۔ بعض تاریخی واقعات کی بنا پر قبائلی تفاخر اور چیز ہے لیکن محض پیدائشی طور پر انسانوں کو اعلیٰ و کم تر قرار دے دینا ایک بالکل مختلف امر ہے۔ اور بدقسمتی سے یہ فخرہم برصغیر کے مسلمانوں ہی کو حاصل ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

        • محمد سلیم نے کہا:

          جناب عبداللہ نور صاحب، میرے بلاگ پر تہہ دل سے خوش آمدید۔ آپکا مدلل تبصرہ اپنے اندر سوالات لئے ہوئے تھا تو اُن کے جوابات بھی آپ کے تبصرے کے اندر موجود تھے۔ آپ کی آمد میرے لئے راہنمائی کا باعث بنتی رہے گی۔ شرکت لاتے رہا کریں۔ شکریہ

تبصرے بند ہیں۔