دوست معدنیات کی مانند ہوتے ہیں


عربی زبان کی کہاوت ہے کہ دوست معدنیات (دھاتوں) کی مانند ہوتے ہیں، کئی بہت سستے تو  کچھ بہت ہی مہنگے

(الأصدقاء كالمعادن منهم الرخيص ومنهم النفيس)

میں نے جب سے یہ کہاوت پڑھی ہے ذہن میں یادوں کا رش لگ گیا ہے،

دوستوں کے ساتھ  گزرے وقت  اور بتائے ہوئے لمحوں کی یادیں۔

ان دوستوں کو کن دھاتوں سے تشبیہ دوں کا فیصلہ کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے کہ جب تک ان کی کچھ باتیں دہرا کر اپنی یادوں کو تازہ   نا کرلوں۔

اگر کچھ دوست ایسے تھے جن  کو  خالص سونے کی اینٹ سے  تشبیہ نا دینا زیادتی ہوگی،

تو کچھ دوست ایسے بھی تھے جن کو زنگ آلود لوہا کہہ کر پکارنا بھی اچھا نہیں لگ رہا،

تو کچھ دوست ایسے بھی تھے جن کی کسی صحیح ، مناسب  اور قیمتی دھات سے تشبیہ دیئے جانے سے قبل ہی ان سے تعلق ٹوٹ گیا۔

سچ تو یہ ہے کہ مجھے یہ کہاوت بہت اچھی لگی ہے کیونکہ میں سونے کی قدر و قیمت اور اہمیت بھی جانتا ہوں  اور سونے سے متعلقہ سارے اعتقادات اور  تصورات بھی۔

حقیقی زندگی میں ہم بہت سے دوستوں کو کھو بیٹھتے ہیں کیونکہ ہم اُنہیں کھرے  سونے جیسا دیکھنا چاہتے ہیں یا اُن سے خالص اور کھرے  سونے  جیسی توقعات رکھتے ہیں ۔ چہ جائیکہ سونے پر لگا گرد و غبار  یا اُس پر چڑھی میل صفائی ستھرائی یا دھلائی سے اُتاری بھی جا سکتی ہے ۔

یا پھر ہم ان دوستوں سے صرف لیتے رہنے کی توقع رکھتے ہیں مگر دینے کیلئے کبھی بھی نہیں سوچتے۔

یا پھر ہم اپنے ان دوستوں کی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں کو پکڑ لیں گے۔

اُن کی معمولی باتوں  کو گانٹھ باندھ کر  حساب کرنے کیلئے  رکھ چھوڑیں گے۔

گویا ہم اُن سے یہ توقع کرتے تھے کہ وہ ہمارے لئے فرشتوں کی مانند ہوا کریں۔

سچ تو یہ ہے کہ ہمارے اپنے اندر بھی کئی خامیاں ہوتی ہیں،  ارادتا یا غیر ارادی طور پر ہم ان کوتاہیوں  کا سبب بھی دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرتے  ہیں۔

شاید سیانے اسی لئے تو کہتے ہیں کہ جس نے بغیر عیب کا دوست ڈھونڈھنے کی کوشش کی وہ ساری عمر کسی دوست کے بغیر ہی رہا۔

بہت سے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن سے آپ کسی شخص کےساتھ اُس  کی دوستی کے بارے میں پوچھ لیں تووہ کچھ اس طرح کہنا شروع کرے گا کہ؛

بخدا بندہ تو بہت ہی پیارا اور بہت ہی اچھا ہے مگر۔۔۔۔

اور پھر اس کے بعد وہ  شخص اپنے دوست  کے معمولی عیبوں کو بھی خورد بین لگا کر دیکھنا

 اور بڑھا  چڑھا کر بیان کرنا شروع کرے گا ،

اس کی کمیوں اور کوتاہیوں کو  ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر سامنے لائے گا

اس پر اپنے ملاحظات کےا نبار لگاتا جائے گا

برائیوں کو اس طرح سے بیان کرے گا کہ

اس دوست کی خوبیاں دفن ہو کر رہ جائیں اور  کوئی اس کی شکل دیکھنے کو بھی روادا رنا ہو۔

اس دنیا میں کچھ دوست دل کے بہت ہی اچھے مگر تھوڑا بہت جھوٹ بولنے والے ہوتے ہیں،

تو کچھ دوست بہت ہی کرم نواز اور مخلص مگر بزدل قسم کے ہوتے ہیں،

کچھ دوست بہت جلدی غصہ کر جانے والے مگر دل کے بہت ہی کھرے ہوتے ہیں،

تو کچھ دوست ہنسی مذاق کئے بغیر نہیں رہ سکتے مگر ان کا دل بہت صاف ہوتا ہے۔

کچھ دوست انتہائی کنجوس مگر ان کی دوستی پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔

کچھ دوست ایسے بھی ہوتے ہیں جو وعدوں کا تو خیال نہیں رکھتے مگر ویسے بالکل سچے ہوتے ہیں۔

اور بھی دوستوں کی بہت سی قسمیں ہیں۔۔۔۔۔

بس کہنے کی بات صرف اتنی ہے کہ ہم  فرشتہ صفت دوستوں  کی تلاش میں نا ہوں

کیوں کہ دوست تو بندہ بشر ہی ہوگا۔

بس ہم پہلے اپنے آپ کو جانچ کر دیکھیں

اپنی کمیوں کوتاہیوں اور عیبوں کو دیکھ لیں

اور پھر ان کمیوں کوتاہیوں کا موازنہ اپنے دوست میں موجود  کوتاہیوں سے کر لیں

ہم اپنی عادت کو ٹوہ لگانے ، خامیاں کریدنے اور برائیاں ڈھونڈھنے والا نا بنائیں۔

اگر سامنے والا بھی کچھ ایسے ہی فرشتہ طینت دوست کی تلاش میں نکلا ہوا مل گیا تو پھر۔۔

آپ کو کچھ ایسے پرکھے گا کہ آپ کو اپنا سانس بھی دبتا ہوا محسوس ہوگا۔

آپ کی معصوم اور  بے ضرر خامیوں کی تفسیر بھی  آپ سے کچھ اس طرح سے پوچھے گا  کہ

آپ تڑپیں گے غصہ کھائیں گے اور دل کو زخمی کریں گے

لیکن وہ آپ کو  کوئی الزام بھی نہیں دینے دے گاکیونکہ

اس طرح اس کی انا مجروح ہو سکتی ہوگی

وہ تو صرف لینے کی نیت سے نکلا ہوگا دینے کیلئے نہیں

کیا کریں آپ بھی تو کچھ ایسے ہی تھے ناں۔۔

آپ جیسے اور ان جیسے لوگوں کو آخر میں تنہائی ہی ملتی ہے اور

نفسیاتی امراض ان لوگوں کا مقدر ہوا کرتے ہیں۔

وفا، اخلاص جیسی مثالی شرطوں کے ساتھ دوستی کی تلاش کرنے والوں کے مقدر میں کتے،  بلیوں اور بندروں جیسے جانوروں  سے دوستی کرنا لکھا ہوتا ہے،

بالکل ایسے ہی جیسے مغرب والوں نے یہ روش اپنائی ہے۔

انسان حیرت کے مارے مبہوت رہ جاتا ہے جب راہ چلتے ہوئے ایسے لوگوں کو دیکھتا ہے جو اپنے کتے سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ یا پھر کوئی کتیا لیکر باغ میں بیٹھے اسے کھانا کھلا رہے ہوتے ہیں،  اس سے ہنس رہے ہوتے ہیں ، اسے چوم چاٹ رہے ہوتے ہیں اور کبھی کبھی اسے غصہ اور سرزنش تک بھی کر رہے ہوتے ہیں۔

حیوانوں کےساتھ اس انسانی قرب کی وجہ  ان انسانوں کی ضرورت سے زیادہ انا پرستی ہوتی ہے یا پھر  دولت اور انا پرستی کے زعم میں انسانوں سے میل جول کی رغبت کا ختم ہوجانا ہوا کرتا ہے۔

کیونکہ یہ لوگ   وہی تو  ہوتے ہیں جو دوستوں سے صرف لینا چاہتے ہیں دینا ہرگز نہیں، یہ دوستوں سے خواہش رکھتے ہیں کہ وہ ان کی دلیلیں اور تاویلیں سنیں، واہ واہ کریں بلکہ ان کے مزاج کی تبدیلی تک کو بھی برداشت کریں۔

دیکھئے دوست ایک نعمت ہوا کرتے ہیں اور یہ نعمت حفاظت چاہتی ہے،

یہ ناطہ لینے اور دینے سے چلتا ہے،

ایک دوسرے کی کمی کوتاہیوں سے صرف نظر اور باہمی برداشت سے چلتا ہے۔

دوست آپ کا سہارا ہوتے ہیں بازو ہوتے ہیں ایک چھاؤں ہوتے ہیں اور ایک دیوار ہوتے ہیں،

اس سے پہلے کہ آپ بندروں اور کتے بلیوں میں جا کر پناہ ڈھونڈھیں اس رشتے کی قدر کر لیں۔

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in Uncategorized, اصلاحی and tagged , , , . Bookmark the permalink.

5 Responses to دوست معدنیات کی مانند ہوتے ہیں

  1. ام عروبہ نے کہا:

    السلام علیکم
    جزاک اللہ خیر، بہت اچھی نصیحت کی آپنے سلیم بھائ-

  2. محبوب بھوپال نے کہا:

    آسلام و علیکم بہت اچھی دوستوں کی پرکھ کا فارمولا ھے لیکن لوگوں کا تجربہ اس بارے مں مختلف ھے
    لیکن آج حاصل مطالعہ پڑھیے یہ کہانی پھر سہی
    کہتے ہیں ایک بار شیخ جنید بغدادی سفر کے ارادے سے بغداد روانہ ہوئے۔ حضرت شیخ کے کچھ مرید ساتھ تھے۔ شیخ نے مریدوں سے پوچھا: "تم لوگوں کو بہلول کا حال معلوم ہے؟”

    لوگوں نے کہا: ” حضرت! وہ تو ایک دیوانہ ہے۔ آپ اس سے مل کر کیا کریں گے؟”

    شیخ نے
    جواب دیا: "ذرا بہلول کو تلاش کرو۔ مجھے اس سے کام ہے۔”

    مریدوں نے شیخ کے حکم کی تعمیل اپنے لیے سعادت سمجھی۔ تھوڑی جستجو کے بعد ایک صحرا میں بہلول کو ڈھونڈ نکالا اور شیخ کو اپنے ساتھ لے کر وہاں پہنچے۔ شیخ، بہلول کے سامنے گئے تو دیکھا کہ بہلول سر کے نیچے ایک اینٹ رکھے ہوئے دراز ہیں۔ شیخ نے سلام کیا تو بہلول نے جواب دے کر پوچھا: "تم کون ہو؟”

    "میں ہوں جنید بغدادی۔”

    "تو اے ابوالقاسم! تم ہی وہ شیخ بغدادی ہو جو لوگوں کو بزرگوں کی باتیں سکھاتے ہو؟”

    "جی ہاں، کوشش تو کرتا ہوں۔”

    "اچھا تو تم اپنے کھانے کا طریقہ تو جانتے ہی ہو ں گے؟”

    "کیوں نہیں، بسم اللہ پڑھتا ہوں اور اپنے سامنے کی چیز کھاتا ہوں، چھوٹا نوالہ بناتا ہوں، آہستہ آہستہ چباتا ہوں، دوسروں کے نوالوں پر نظر نہیں ڈالتا اور کھانا کھاتے وقت اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔”

    پھر دوبارہ کہا: "جو لقمہ بھی کھاتا ہوں، الحمدللہ کہتا ہوں۔ کھانا شروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھوتا ہوں اور فارغ ہونے کے بعد بھی ہاتھ دھوتا ہوں۔”

    یہ سن کر بہلول اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا دامن شیخ جنید کی طرف جھٹک دیا۔ پھر ان سے کہا: "تم انسانوں کے پیر مرشد بننا چاہتے ہو اور حال یہ ہے کہ اب تک کھانے پینے کا طریقہ بھی نہیں جانتے۔”

    یہ کہہ کر بہلول نے اپنا راستہ لیا۔ شیخ کے مریدوں نے کہا: "یا حضرت! یہ شخص تو دیوانہ ہے۔”

    "ہاں! دیوانہ تو ہے، مگر اپنے کام کے لیے ہوشیاروں کے بھی کان کاٹتا ہے۔ اس سے سچی بات سننا چاہیے۔ آؤ، اس کے پیچھے چلیں۔ مجھے اس سے کام ہے۔”

    بہلول ایک ویرانے میں پہنچ کر ایک جگہ بیٹھ گئے۔ شیخ بغدادی اس کے پاس پہنچے تو انھوں نے شیخ سے پھر یہ سوال کیا: "کون ہو تم؟”

    "میں ہوں بغدادی شیخ! جو کھانا کھانے کا طریقہ نہیں جانتا۔”

    بہلول نے کہا: "خیر تم کھانا کھانے کے آداب سے ناواقف ہو تو گفتگو کا طریقہ جانتے ہی ہوں گے؟”

    شیخ نے جواب دیا: "جی ہاں جانتا تو ہوں۔”

    "تو بتاؤ، کس طرح بات کرتے ہو؟”

    "میں ہر بات ایک اندازے کے مطابق کرتا ہوں۔ بےموقع اور بے حساب نہیں بولے جاتا، سننے والوں کی سمجھ کا اندازہ کر کے خلق خدا کو اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ یہ خیال رکھتا ہوں کہ اتنی باتیں نہ کہوں کہ لوگ مجھ سے بیزار ہو جائیں۔ باطنی اور ظاہر ی علوم کے نکتے نظر میں رکھتا ہوں۔” اس کے ساتھ گفتگو کے آداب سے متعلق کچھ اور باتیں بھی بیان کیں۔

    بہلول نے کہا: "کھانا کھانے کے آداب تو ایک طرف رہے۔ تمھیں تو بات کرنے کا ڈھنگ بھی نہیں آتا۔” پھر شیخ سے منہ پھیرا اور ایک طرف چل دیے۔ مریدوں سے خاموش نہ رہا گیا۔ انہوں نے کہا: "یا حضرت! یہ شخص تو دیوانہ ہے۔ آپ دیوانے سے بھلا کیا توقع رکھتے ہیں؟”

    "بھئی! مجھے تو اس سے کام ہے۔ تم لوگ نہیں سمجھ سکتے۔” اس کے بعد شیخ نے پھر بہلول کا پیچھا کیا۔ بہلول نے مڑ کر دیکھا اور کہا: "تمھیں کھانا کھانے اور بات کرنے کے آداب نہیں معلوم ہیں ۔ سونے کا طریقہ تو تمھیں معلوم ہی ہو گا؟”

    شیخ نے کہا: "جی ہاں! معلوم ہے۔”

    "اچھا بتاؤ، تم کس طرح سوتے ہو؟”

    "جب میں عشا کی نماز اور درود و وظائف سے فارغ ہوتا ہوں تو سونے کے کمرے میں چلا جاتا ہوں۔” یہ کہہ کر شیخ نے سونے کے وہ آداب بیان کیے جو انہیں بزرگان دین کی تعلیم سے حاصل ہوئے تھے۔

    بہلول نے کہا: "معلوم ہوا کہ تم سونے کے آداب بھی نہیں جانتے۔”

    یہ کہہ کر بہلول نے جانا چاہا تو حضرت جنید بغدادی نے ان کا دامن پکڑ لیا اور کہا: "اے حضرت! میں نہیں جانتا ۔ اللہ کے واسطے تم مجھے سکھا دو۔”

    کچھ دیر بعد بہلول نے کہا: "میاں! یہ جتنی باتیں تم نے کہیں، سب بعد کی چیزیں ہیں۔ اصل بات مجھ سے سنو۔ کھانے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے حلال کی روزی ہونی چاہیے۔ اگر غذا میں حرام کی آمیزش (ملاوٹ) ہو جائے تو جو آداب تم نے بیان کیے، ان کے برتنے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا اور دل روشن ہونے کے بجائے اور تاریک ہو جائے گا۔”

    شیخ جنید نے بےساختہ کہا: "جزاک اللہ خیرأً۔” (اللہ تمہارا بھلا کرے)

    پھر بہلول نے بتایا: "گفتگو کرتے وقت سب سے پہلے دل کا پاک اور نیت کا صاف ہونا ضروری ہے اور اس کا بھی خیال رہے کہ جو بات کہی جائے ، اللہ کی رضامندی کے لیے ہو۔ اگر کوئی غرض یا دنیاوی مطلب کا لگاؤ یا بات فضول قسم کی ہو گی تو خواہ کتنے ہی اچھے الفاظ میں کہی جائے گی، تمہارے لیے وبال بن جائے گی، اس لیے ایسے کلام سے خاموشی بہتر ہے۔”

    پھر سونے کے متعلق بتایا: "اسی طرح سونے سے متعلق جو کچھ تم نے کہا وہ بھی اصل مقصود نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب تم سونے لگو تو تمہارا دل بغض، کینہ اور حسد سے خالی ہو۔ تمہارے دل میں دنیا اور مالِ دنیا کی محبت نہ ہو اور نیند آنے تک اللہ کے ذکر میں مشغول رہو۔”

    بہلول کی بات ختم ہوتے ہی حضرت جنید بغدادی نے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور ان کے لیے دعا کی۔ شیخ جنید کے مرید یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور یہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی کہ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ جو بات نہ جانتا ہو اسے سیکھنے میں ذرا بھی نہ شرمائے۔

    حضرت جنید اور بہلول کے اس واقعے سے سب سے بڑا سبق یہی حاصل ہوتا ہے کہ کچھ نہ جاننے پر بھی دل میں یہ جاننا کہ ہم بہت کچھ جانتے ہیں، بہت نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ اس سے اصلاح اور ترقی کے راستے بند ہو جاتے ہیں اور انسان گمراہی میں پھنسا رہ جاتا ہے .

  3. بہت خوب۔۔
    ان باتوں پر عمل پیرا ہوکر معاشرے میں کافی بہتری آسکتی ہے۔

  4. فاروق درویش نے کہا:

    بہت خوب تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دم تورتے ہوئے انسانی رشتوں کے دور میں بہت کم لوگ باقی ہیں جو دوستی کے سچے رشتے کی قدر سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ بدقسمتی سے ہم اس دور میں ہیں جب بہن اور بھائیوںحتیٰ کہ ماں باپ سے انس و محبت ختم ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔۔ ہائے ہائے ۔۔۔مادیت پرستی

  5. اس سے پہلے کہ آپ بندروں اور کتے بلیوں میں جا کر پناہ ڈھونڈھیں اس رشتے کی قدر کر لیں۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جناب اب تو ہمارے یہاں کم عمر بچے تک فائدے دیکھ کر دوست بنا رہے ہیں۔ نا صرف دوست بنا رہے ہیں بلکہ ایسے مفید دوستوں کے ہاتھوں بے عزت ہوکر بدمزہ نا ہونے تک کا فن بھی خوب تیزی سے سیکھ رہے ہیں۔
    ہم بھی وہی روش اپنا رہے ہیں۔ اور صرف دوستوں کی ہی کیا بات ،بڑے شہروں میں دور کے عزیزوں اور دور کے رشتے داروں سے غرض ہر اس قسم کا میل ملاپ ختم ہوتا جا رہا ہے جس میں معاملہ فائدے کا نہیں ہے۔ہم لوگ اپنے گھر اور اپنی فیملی(بیوی بچوں) تک محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ لوگوں کا زیادہ تر وقت ٹی وی کے سامنے یا ہوٹلنگ یا پھر فیملی پکنک پر خرچ ہوجاتا ہے۔
    ہر قسم کا دوستانہ اور غیر دوستانہ ڈائیلاگ ختم ہوتا جا رہا ہے ڈائیلاگ ہو رہا ہوتا تو آج ہمیں اس طرح انٹر نیٹ پر بیٹھ کر اتنی باتیں کرنے کی ضرورت ہی نا پڑتی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s