صانکی یدم


مساجد کے ناموں میں ایک نام (مسجد یہ چیز تو میں نے کھائی ہوئی ہے)  بہت ہی حیرت سے سنا جائے گا۔ مسجد یہ چیز تو میں کھائی ہوئی ہے اصل میں ترکی لفظ Sanki Yedim Camii کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ مسجد ترکی کے مشہور شہر استنبول کے ایک محلے فاتح میں واقع ہے۔ اور اس کی وجہ تسمیہ کے پیچھے ایک بہت ہی سبق آموز قصہ ہے۔

مشہور عراقی مفکر اسلامی اور مؤلف اورخان محمد علی (1937-2010) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب (روائع من التاریخ العثمانی) میں اس مسجد کے بارے میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

استنبول شہر کے ایک محلے فاتح میں ایک غریب مگر مخلص اور دردمند دل رکھنے والا شخص خیرالدین آفندی رہتا تھا۔ خیرالدین آفندی کا جب بھی بازار  سے گزر ہوتا اور اسے کوئی کھانے کی چیز اچھی لگتی یا کبھی پھل، گوشت یا پھر کسی مٹھائی وغیرہ کے کھانے کا دل کرتا تو وہ اپنے آپ کو کہتا صانکی یدم، یعنی یہ چیز تو میری کھائی ہوئی ہے یا اس کا مطلب یہ بھی بنتا ہے کہ فرض کیا یہ چیز میری کھائی ہوئی ہے، اور اس کے ساتھ ہی وہ اس چیز کو کھانے پر خرچ ہونے والے پیسوں کو علیحدہ کرتا اور گھر جا کر ایک صندوقچی میں ڈال دیتا۔

مہینوں اور سالوں تک یہ شخص اپنے آپ کو دنیا کی لذت سے محروم رکھ کر پیسے اکٹھے کرتا رہا اور یہ تھوڑے تھوڑے پیسے اس صندوقچی کو بھرتے چلے گئے۔  حتیٰ کہ بیس سال کے بعد وہ دن آن ہی پہنچا جب خیرالدین آفندی کے پاس اتنے پیسے جمع ہو چکے تھے کہ وہ ان سے اپنے محلے میں ایک مسجد تعمیر کر سکتا تھا۔ محلے میں مسجد کی تعمیر ہونے پر جب اہل محلہ کو اس غریب مگر اپنے مقصد کیلئے اس قدر خلوص نیت کے ساتھ جدوجہد کرنے والے شخص کا قصہ معلوم ہوا تو انہوں نے اس مسجد کا نام ہی صانکی یدم رکھ دیا۔

حاصل موضوع: ہم لوگوں کو اپنا ذہن اور اپنی سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے پاس کسی رفاہی کام میں دینے کیلئے زیادہ پیسے ہوتے نہیں اور تھوڑے دیتے ہوئے ہم ندامت اور خجالت محسوس کرتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر ہم کچھ بھی نہیں کر پاتے۔

گھروں میں نعمتوں کی بھرمار ہوتی ہے، سبزیاں اور پھل فریج میں رکھے رکھے باسی اور خراب ہو رہے ہوتے ہیں مگر وافر سامان خریدتے ہوئے ہمارے منہ سے کبھی بھی یہ فقرہ نہیں نکلتا کہ یہ چیزیں تو ہم نے کھائی ہوئی ہیں تاکہ بچ جانے والے وہ پیسے ہم کسی مستحق کو ہی دیدیں۔

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اصلاحی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

18 Responses to صانکی یدم

  1. محبوب بھوپال نے کہا:

    اسلام و علیکم

    تحریر پڑھ کر تحریک ملتی ہے کاش ھم بھی کوئی کام کر جائیں کہ مرنے کے بعد لوگ یاد کریں آمین
    سلیم صاحب بہت اچھا

  2. بدر یوسف نے کہا:

    بہت خوب تحریر ہے- سلیم انکل آپ نے قرآن مجید میں بتائے اصول کا بہترین حوالہ دیا ہے- واقعتآ آجکل بھکاریوں کو صدقہ دیتے ڈر لگتا ہے – صدقہ ہمیشہ دیکھ بھال کر اور جانچ پڑتال کرنے کے بعد دینا چاہیے- آپ سب لوگ کی اس بارے میں کیا آراء ہیں –

  3. بدر یوسف نے کہا:

    بہت خوب تحریر ہے- سلیم انکل آپ نے قرآن مجید میں بتائے اصول کا بہترین حوالہ دیا ہے- واقعتآ آجکل بھکاریوں کو صدقہ دیتے ڈر لگتا ہے – صدقہ ہمیشہ یکھ بھال کر اور جانچ پڑتال کر دینا چاہیے- آپ سب لوگ کی اس بارے میں کیا آراء ہیں –

  4. کہتے ہیں ہمتِ مرداں مددِ خدا

  5. محمد اسلم انوری نے کہا:

    اسلام علیکم
    محمد سلیم صاحب
    ڈاکٹر جواد احمد خان کا تبصرہ ھی اس تحریر کا حق ہے ، بھت خوب مبارک باد قبول کیجے۔
    "لیکن اپنی لذتوں کو ترک کرنا اتنا آسان ہوتا تو ہر شخص ولی اللہ ہوتا”۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب محمد اسلم انوری صاحب، و علیکم السلام و رحمۃ اللہ۔ تبصرہ کیلئے شکریہ۔
      جی ہاں، ڈاکٹر صاحب نے خوب فرمایا تھا جس کی آپ نے تائید کی۔ شاید اسی لئے تو مولانا الطاف حسین حالی مرحوم نے کہا تھا۔
      فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا – مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

  6. فیصل مشتاق نے کہا:

    ماشاءاللہ، ہمیشہ کی طرح دل میں اترنے والی تحریر۔
    صدقہ دیتے وقت یہ بات ضرور مدِنظر ہو کہ جسے دیا جا رہا ہو واقعی میں ضرورت مند ہے۔ یہاں یہ حال کہ جب کسی فقیر کو 100 کا نوٹ دیتے ہیں اور کہتے ہیں 90 واپس کرو اور وہ اپنی شلوار قمیض کی خفیہ تجوری کھولتا ہے تب اپنی غربت کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ پھر اسی موقع پر خیال آتا ہے کہ "اللہ بھلا کرے” کی دعا ہی ان لوگوں کے لئے بہترین صدقہ ہے۔
    اللہ ہمیں صحیح جگہ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب محترم فیصل مشتاق صاحب، جی ہمارے معاشرے میں ایک مسئلہ یہ پیشہ ور مانگنے والے بھی ہیں جو حقداروں تک حق پہنچنے میں رکاوٹ ہیں۔ اسی لئے تو قرآن مجید نے ایک اصول وضع کیا ہے کہ:
      « لِلْفُقَراءِ الَّذِینَ أُحْصِرُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ لا یَسْتَطِیعُونَ ضَرْباً فِی الْأَرْضِ یَحْسَبُهُمُ الْجاهِلُ أَغْنِیاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِیماهُمْ لا یَسْئَلُونَ النَّاسَ إِلْحافاً »
      (اور ہاں تم جو خرچ کرو گے تو) ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے (البقرۃ – 273)
      میں اس بار رمضان شریف میں پاکستان میں تھا، مسجد میں جوتیوں والی جگہ کے نزدیک ایک شخص کے چہرے پر دل کو پھاڑ دینے والی ناداری دیکھی، تھوڑے سے پیسے ڈرتے ڈرتے دیئے کہ وہ بھکاری نہیں تھا مگر اس نے رکھ لئے۔ میرا ایک ہمسایہ مجھے دیکھ رہا تھا جس نے باہر نکلنے پر مجھے بتایا کہ آپ نے جس شخس کو پیسے دیئے ہیں وہ سامنے والی مارکیٹ کا مالک ہے مگر اولاد نے قبضہ کر لیا اور اس بیچارے کو در در پر دھکے کھانے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔ اس آدمی کے حالات جان کر دل خون کے آنسو رویا ۔ ایسی ہی اور مثالیں پاکستانی کلچر میں نو وارد اولڈ ایج ہومز میں رہائش پذیر بد نصیبوں کے منہ سے سننے کو ملتی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں ان سب آفتوں سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب۔
      آپ کے قیمتی تبصرے کا بہت بہت شکریہ۔

  7. دوست نے کہا:

    بجا فرمایا۔ صدقہ دینا معمول بنا لینا چاہیئے چاہے کتنا ہی کم کیوں‌ نہ دیں۔
    جمعہ کو مسجد جاتے ہوئے، قابل اعتبار این جی اوز (اخوت، سیلانی، ایدھی وغیرہ وغیرہ) کو ضرور کچھ نہ کچھ دیتے رہنا چاہئے۔ آج کل سیلاب زدگان کو امداد کی ضرورت ہے ان کےلیے کچھ تو کیا ہی جا سکتا ہے، پچاس سو تو کچھ بھی نہیں اتنا تو دے ہی سکتے ہیں۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      پیارے دوست، شکریہ۔ اتنے فکر انگیز اور راہ نما تبصرہ کیلئے شکریہ۔
      اسلام میں صدقہ و خیرات کیلئے مقدار کی تو اہمیت ہی نہیں ہے۔ جس کی مثال یہ آیت کریمہ (فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یره) ہے جسکا مفہوم ہے کہ جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی تو وہ اسکا اجر ضرور پائے گا۔ لفظ ذرہ کا مطلب ایٹم ہے جو اس کائنات کی سب سے چھوٹی اکائی ہے۔ اور اتنی چھوٹی نیکی کا بھی اجر ملے گا۔ اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کھجور کا ایک دانہ بھی صدقہ کیا کرتی تھیں بلکہ اس دانے کو صدقہ کرنے سے قبل باقاعدہ اہتمام (ہاتھ دھو کر اور باقاعدہ ہاتھوں پر خوشبو لگا کر)بھی کیا کرتی تھیں۔
      صدقہ تو ہے وہی کہ جسے دینے کے بعد آپ کو کسی قسم کی تنگی نا ہو۔ بس ذہن بدلنے کی ضرورت ہے کہ سوالی کو انکار یا اسے جھڑکنے کی بجائے کچھ دیا جائے۔
      اس تحریر کو لکھنے کی شہ کویت کے ایک سکالر ڈاکٹر عبدالرحمٰن السمیط کی ایک ٹی وی پروگرام میں یتیم بچوں کیلئے چندہ اکٹھی کرنے کی مہم کے دوران کی گئی گفتگو تھی۔ وہ اسی بات کو سمجھا رہے تھے کہ اگر حیثیت اور فراوانی نہیں ہے تو تھوڑا دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
      بلکہ اسلام میں تو مادیت سے ہٹ کر بھی کچھ کام صدقہ شمار ہوتے ہیں کہ دوست کو ملتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ ہی لائی جائے، راہ پڑے اذیت کا باعث بننے والے پتھر کو ہی راستے سے ہٹا دیا جائے وغیرہ وغیرہ۔
      امید ہے کہ وہ دوست جو یہ سوچ کر کہ اس رفاہی کام میں ان کے تھوڑے سے پیسے کیا اثر دکھائیں گے کا بہانہ بنا کر ہاتھ جیبوں سے باہر رکھنے کی بجائے آئندہ تھوڑا سا دیتے ہوئے بھی نہیں جھجکیں گے۔ یا اللہ ہمیں اپنی راہ پر خرچ کرنے والا بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔

  8. فراز اکرم نے کہا:

    ہمیشہ کی طرح ایک عمدہ تحریر

  9. منصورالحق منصور نے کہا:

    بہت خوبصورت اور بھولا ہوا سبق یاد دلانے والی تحریر ہے۔ زورقلم اور زیادہ ہو۔

  10. بہت عمدہ اور نصیحت آموز داستان ہے۔
    لیکن اپنی لذتوں کو ترک کرنا اتنا آسان ہوتا تو ہر شخص ولی اللہ ہوتا۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم جناب ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب، تشریف آوری اور مضمون کیلئے پسندیدگی پر شکریہ قبول فرمائیں
      لذتوں کو ترک کرنا تو ممکنات میں‌سے نہیں مگر ان آسائشوں‌میں‌اوروں‌کو کسی حد تک شامل کرلینا انسانیت کی خدمت ہوگی۔ اللہ رب العزت ہمیں‌نیکی کی توفیق دے۔ آمین یا رب

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s