ایک کپ کافی دیوار پر


ہم دونوں دوست ، پانیوں اور روشنیوں  کے شہر  وینس  کےایک  نواحی قصبے کی مشہور کافی شاپ پر بیٹھے ہوئے کافی سے لظف اندوز ہو رہے تھے کہ  اس کافی شاپ میں ایک گاہک داخل ہوا  جو  ہمارے ساتھ والی  میز کو خالی پا کر یہاں  آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے بیٹھتے ہی بیرے کو آواز دیکر بلایا اور اپنا آرڈر یوں  دیا؛  دو کپ کافی لاؤ، اور اس میں سے ایک وہاں دیوار پر۔

 ہم نے اس  شخص کےاس انوکھے  آرڈر کو دلچپسی سے سنا۔  بیرے نے آرڈر کی تعمیل کرتے ہوئے  محض ایک کافی کا کپ اس کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ اس صاحب نے کافی  کا  وہ ایک کپ نوش کیا مگر پیسے دو کے ادا کئے۔ اس گاہک کے جاتے ہی بیرے نے دیوار پر جا کر ایک ورقہ چسپاں کر دیا   جس پر لکھا تھا؛ ایک کپ کافی۔  

ہمارے وہاں بیٹھے بیٹھے دو اور گاہک آئے جنہوں نے تین کپ کافی کا آرڈر دیا، دو ان کی میز پر اور ایک دیوار پر، پیئے تو انہوں نے دو ہی کپ، مگر ادائیگی تین کپ کی اور چلتے بنے۔ ان کے جانے کے بعد بھی بیرے نے ویسا ہی کیا، جا کر دیوار پر ایک اور ورقہ چسپاں کردیا جس پر لکھا تھا؛ ایک کپ کافی۔

ایسا لگتا تھا یہاں ایسا ہونا معمول کی بات ہے مگر ہمارے لئے انوکھا اور ناقابل فہم تھا۔ خیر، ہمیں کونسا اس معاملے سے کچھ لینا دیا تھا، ہم نے اپنی کافی ختم کی، پیسے ادا کیئے  اور چلتے بنے۔

چند دنوں کے بعد ہمیں ایک بار پھر اس کافی شاپ پر جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم بیٹھے کافی سے لطف اندوز ہو  رہے تھے کہ یہاں ایک ایسا شخص داخل ہوا جس کے کپڑے اس کافی شاپ کی حیثیت اور یہاں کے ماحول سے قطعی میل نہیں کھا رہے تھے۔ غربت اس شخص کے چہرے سے عیاں تھی۔ اس شخص نے بیٹھتے ہی  پہلے دیوار کی طرف دیکھا اور پھر بیرے کو بلایا اور کہا؛ ایک کپ کافی دیوار سے لاؤ۔ بیرے نے اپنے روایتی احترام اور عزت کے ساتھ اس شخص کو کافی پیش کی جسے پی کر یہ شخص بغیر پیسے دیئے چلتا بنا۔ ہم یہ سب  کچھ حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ بیرے نے  دیوار  پر لگے ہوئے ورقوں میں سے ایک ورقہ اتار کر کوڑے دان میں پھینک دیا۔  اب ہمارے لئے اس بات میں کچھ چھپا نہیں رہ گیا تھا، ہمیں سارے معاملے کا پتہ چل گیا تھا۔اس قصبے کے باسیوں کی اس عظیم الشان  اور اعلیٰ انسانی قدر نے ہماری آنکھوں کو  آنسووں سے بھگو  کر رکھ دیا تھا۔

کافی نا تو ہمارے معاشرے کی ضرورت ہے اور نا ہی ہمارے لئے واجبات زندگی طرح  کی اہم کوئی کوئی چیز۔ بات تو صرف اس سوچ کی ہے کہ کسی بھی نعمت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آپ  ان لوگوں کا تصور ہی  کرلیں جو اس نعمت  کو اتنا ہی پسند کرتے ہیں جتنا کہ آپ مگر وہ اس کے حصول  سے محروم ہیں۔

اس بیرے کے کردار کو دیکھیئے جو صاحب حیثیت لوگوں اور ضرورتمندوں کے درمیان رابطے کا کردار نہایت خندہ پیشانی اور کھلے دل کے ساتھ لبوں پر مسکراہٹ سجائے کر رہا ہے۔

اس ضرورتمند کو دیکھیئے جو اس کافی شاپ میں اپنی عزت نفس کو مجروح کیئے بغیر ہی داخل ہوتا ہے، اور اسے یہ پوچھنے کی قطعی ضرورت پیش نہیں آئی کہ آیا اس کو ایک کپ کافی مفت میں مل سکتا ہے یا نہیں۔ اس نے دیوار پر دیکھا، کافی کا آرڈر موجود پا کر،  یہ پوچھے اور جانے بغیر ہی، کہ یہ کپ کس کی طرف سے اس کو دیئے جانے کیلئے موجود ہے، اپنے لئے ایک کپ کا آرڈر دیا،  کافی کو سرور کے ساتھ پیا اورخاموشی سے چلتا بنا۔

جب ہم اس مذکورہ بالا کہانی کی جزئیات کو جانیں گے تو ہمیں اس کہانی کے کرداروں کے ساتھ ساتھ اس دیوار کے کردار کو بھی یاد رکھنا پڑے گا  جو اس قصبے کے درد دل رکھنے والے باسیوں کی عکاس بنی ہوئی ہے۔  

(عربی سے مترجم و منقول)

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in Uncategorized, اصلاحی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

33 Responses to ایک کپ کافی دیوار پر

  1. umm-e-abubakr نے کہا:

    BISMI RABBI
    Respected Brother

    Assalaamu Alaikum Wa Rahmatullahi Wa Barakatuhu

    Masha Allah your article is so amazing. It really touches the heart & soul and stirs one’s thoughts. We feel the urge to share it further through our mailing lists and via our websites. Kindly verify if or not we are allowed to do so.
    Secondly is it really a true incident or is it fake?-

    May ALLAH SWT reward you all with the best ajar for promoting goodness ameen
    Wassalaam

    • محمد سلیم نے کہا:

      Dear Sister Umm_e_abubakr
      Wa Alaikum Salam wa rahmatullah wa barakatohu

      it is my pleasure you liked my article. And it will be my honor if my article can be useful for you in any way. Please feel free to share it where ever you like and where ever you want.
      I am very much thankful to you for kind wishes and prayers…. same for you. jazak Allah .. Wassalam

  2. نیہا شاہ نے کہا:

    بھائی،
    اسلام و علیکم

    کیا خوبصورت تحریر ھے پڑھ کر بہت مزا آیا اور ایک نیا سا تجربہ لگا کاش ہمارے لوگ بہی اس سےکچھ سیکھ سکیں

    • محمد سلیم نے کہا:

      بہن جی، و علیکم السلام۔ بلاگ پر خوش آمدید اور تحریر کی پسندیدگی کیلئے شکریہ قبول کریں۔ نیکی کی ابتداء بارش کے پہلے قطرے کی مانند ہوتی ہے جو ڈرتی ہے کہ وہ کب کسی کی پیاس بجھا پائے گی مگر یہی قطرے مل کر سمندر بن جایا کرتے ہیں۔ اللہ ہمیں کچھ کرنے کی توفیق دے۔

  3. بدر یوسف نے کہا:

    اگر زندگی میں کبھی اتفاق ہوا تو اسے عمل میں لاؤں گا- سلیم انکل عمدہ تحریر کا شکریہ

    • محمد سلیم نے کہا:

      پیارے بھتیجے بدر یوسف، کیا حال ہیں؟ یار میں 7 جولائی سے 20 جولائی تک اسلام آباد میں رہا، اب نا ملنے کا دکھ ہو رہا ہے، آئندہ زندگی نے وفا کی تو ضرور ملوں گا۔
      نیکی کی نیت ہی اجر کا باعث ہوتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری نیت کو قبول فرمائے اور عمل کی توفیق دے۔ تبصرے کیلئے شکریہ۔

  4. سیدہ ناعمہ آصف نے کہا:

    بے حد شکریہ بھائی۔

  5. محمد سلیم نے کہا:

    محترمہ سیدہ ناعمہ آصف صاحبہ، ایک بار پھر بلاگ پسند کرنے پر شکریہ قبول فرمائیں۔ آپکی نیک خواہشات میرے لئے بہت معنی رکھتی ہیں۔ اور آپکا قیمتی تبصرہ بہت پسند آیا۔
    آپکا بلاگنگ میں‌آنا بہت ہی خوش آیند ہوگا۔ معذرت خواہ ہوں‌کہ شاید آپ کو اس موضوع پر خاطر خواہ معلومات نا دے سکوں۔ بلال بھائی کا بلاگ (http://www.mbilalm.com/blog/)آپ کو ہر قسم کی راہنمائی دے گا جہاں‌سے آپ اردو اور اردو میں‌بلاگنگ سے متعلق سب کچھ جان سکتی ہیں، ان کے مضامین برائے اردو بلاگنگ اس زمرہ میں‌دیکھئے
    http://www.mbilalm.com/blog/category/urdu-blogging/

  6. سیدہ ناعمہ آصف نے کہا:

    السلام علیکم!

    بہت خوب، سبق آموز۔
    پہلی کہانی پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ یہ کہانی پاکستان کے تعلیمی نصاب کا حصہ رہی ہے۔ اب یہ تو ٹھیک سے یاد نہیں کہ یہ میڑک کے نصاب میں تھی یا پھر ایف۔اے کے۔ مگر یہ یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ میں نے نیکلیس والی کہانی نصاب میں پڑھ رکھی ہے۔
    البتہ دوسری کہانی میرے لیے یکسر نئی اور دلچسپ تھی۔ واقعی انسان کو ایسی غلطیاں سوچ سمجھ کر کرنی چاہیں۔
    لکھتے رہیے۔

    ایک سوال ہے میرا۔ آپ کے بلاگ اور مضمون سے یکسر ہٹ کر۔ مگر سمجھ نہیں آئی کہ اس کے علاوہ آپ سے کہاں پوچھوں۔ اسی لیے یہاں میسج چھوڑ رہی ہوں۔
    کیا میں‌اپنا ایسا ذاتی بلاگ بنا سکتی ہوں؟آپ کے بلاگ جیسا، اردو زبان میں۔ لکھنے سے مجھے بھی شغف ہے اس لیے اگر ایسا پلیٹ فارم مل جائے تو میں بھی اپنی تصنیفات اکٹھی کر سکوں گی۔ اگر آپ اپنے قیمتی وقت سے تھوڑا وقت نکال کر میری رہنمائی کر سکیں تو بے حد مشکور ہوں گی۔
    فی امان اللہ۔

  7. Ahmed Sajjad نے کہا:

    That’s what our religion tells us to take care of every one around us as Haqooq-al-Ibad. May Allah Almighty show us all the right path and give us courage to share whatever He has blessed us with (Ameen)

  8. M.A.Siddiqui نے کہا:

    Very good heart touching story.Well done and keep it up.
    Allah Hafiz

  9. محبوب بھوپال نے کہا:

    اسلام و علیکم حسب معمول عمدہ تحریر پڑھنے کو ملی دعا دیتا ھوں آللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ ھمارے بزرگوں کا طریق رھا ھے جب بھی گھر کے لیے سودہ سلف خریدتے اس میں غریبوں کا حصہ ضرور نکالتے تھے وہ کہتے تھے کہ اگر ایک من آٹا خریدو اس میں سے دس سیر آٹا غیبوں کے لیے رکھو اس سے رزق میں برکت پڑے گی۔
    لیکن ھمارے ھاں اب ساری خیر اپنے لیے رکھ لیتے ھیں نا لوگوں کے لیے اسانیاں اور نا اپنے لیے برکت ۔ رزق جتنا بھی ھو کم ۔
    ایک واقع یاد آ گیا ھم گھر والےفیصل آباد ھوٹل میں مرغ پلاؤ کھانے کیلیے بیٹھے سامنے والی میز پر ایک رائے فیملی (جاگیردار)آ کر بیٹھ گئی ان کے ساتھ ان کی ملازمہ تھی جو زمین پر بیٹھ گئی اور رائے فیملی نے کھانے میں کافی آئٹم منگوائے اور شروع کر دیا مالازمہ نے اپنی پوٹلی کھول کر روٹی اور اچار کھانا شروع کر دیا۔ ھم سب دیکھ رھے تھے۔ میری مرحومہ بھابھی نے میرے بھائی جان سے کہا آپ اس کو ایک پلیٹ لے دے دیں۔ بھائی جان ان لوگوں کی فطرت کو جانتے تھے انہوں نے بھابھی کو بتایا کہ لوگ ملازمہ کو نکال دیں گے وہ اس بات کو اپنی بیعزتی خیال کریںگے جبکہ بیعزتی تو اس میں تھی جو وہ کر رھے تھے۔ اس کے بعدمرحومہ بھابھی نے کھانا نہیں کھایا اور کافی دیر انکھوں سے انسو بہاتی رہی اور ھم سب بھی غمگین ھو گئے۔
    آللہ ھمیں اسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق دے امین

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب محبوب بھوپال صاحب، و علیکم السلام و رحمۃ‌اللہ و برکاتہ
      مضمون کو اس توجہ سے پڑھنے اور اتنا نفیس تبصرہ کرنے کے علاوہ ذاتی تجربہ شیئر کرنے کیلئے شکریہ قبول کریں۔ آپکا لکھا ہوا واقعہ پڑھ کر دل اداس ہوا۔

  10. دہرہ حے نے کہا:

    بہت عًمدہ تحریر پرمیں آپ کا شُکر گُزار ہوں۔ یہ دیوار پر کافی کپ کا آئڈیا بہت ہی اچھا لگا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے ہاں بھی دوسروں کا درد محسوس کرنے والے اور اُن کی خدمت کرنے والے افراد کی تعداد کم نہیں ہے۔ مگر ہمارے یہاں تو کوئی بھی غریب انسان اس احترام کے ساتھ کافی کے ایک کپ کا شائد تصور بھی نہیں‌کر سکتا۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب دہرہ حے صاحب، بلاگ پر خوش آمدید، مضمون پسند کرنے کا بہت شکریہ۔ جی، ہمارے ہاں‌بھی دوسروں‌کا درد محسوس کرنے والوں‌ کی کمی ہرگز نہیں‌ہے مگر بعض‌اوقات خودنمائی کی خواہش غالب آ جاتی ہے ہمارے لوگوں‌پر۔

  11. بہت ہی پیاری اور نیکی کی طرف راغب کرنے والی تحریرہے۔

  12. پنگ بیک: ایک کپ کافی دیوار پر | Muhammad Saleem

  13. علی نعیم نے کہا:

    کیا کہوں سلیم بھائی آپ کی سب کہانیاں سیدھا دل کو چھوتی ہیں۔ بہت بہت شکریہ

  14. محمدصابر نے کہا:

    زبردست
    کوئی ایسی ہی تحریر ہو گی کوئی ایسی ہی تقریر ہو گی۔ جو ہمیں جگا دے گی۔ لیکن پتہ نہیں وہ کب آئے گی۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب محمد صابر صاحب، بلاگ پر خوش آمدید، آمدنت باعث آبادی ما۔
      اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے، شاید کسی دن ایسا کچھ ہو جائے گا جس سے ہم سب جاگ جائیں‌گے۔

  15. علی نے کہا:

    واہ جی واہ
    کاش ہم بھی کچھ ایسا اچھا کر سکیں

    • محمد سلیم نے کہا:

      علی جی، کیا حال ہیں؟ پسندیدگی کا شکریہ۔
      بلا گسپاٹ کی یہاں‌پر بندش کی وجہ سے آپ کی تحاریر ماورائی فیڈ کے ریڈینگ پین میں ہی پڑھتا ہوں، تبصرے دل میں رہ جاتے ہیں۔

  16. منصورالحق منصور نے کہا:

    ہمیشہ کی طرح نہایت سبق آموز واقعہ ہے مگر اس سے تو صرف وہی سبق حاصل کرسکتا ہے جس کے اندر سمجھنے کی کچھ صلاحیت بھی ہو۔ وہ کیا سمجھے گا جس کے دل سے ہر وقت "ھل من مزید” کی صدا نکلتی رہتی ہے۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب منصور الحق منصور صاحب، خوش آمدید۔
      خیر کی ہمارے ہاں‌کمی تو نہیں‌ہے مگر اجمالی طور پر ایک شعور کو بیدار کرنے کا کام ابھی باقی ہے۔ اللہ کریم ہم سب پر اپنا کرم فرمائیں۔

  17. احمر نے کہا:

    بہت خوبصورت،
    ہمارے کچھ دوستوں کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ اپنے محلے کے ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹورز پر ماہانہ کچھ رقم دے آتے ہیں کہ اگر کوی سفید پوش یا غریب خاندان ڈاکٹر کی فیس سن کر بجھ سا جاے ، کم کرانے پر اصرار کرےیا میڈیکل اسٹور پر دوا کی قیمت سن کر اسے لینے کا ارادہ ترک کردے واپس جانے لگے تو وہ اس رقم کو استعمال کرتے ہوے ان کی مدد کردیں اور خصوصا اگر معاملہ بچوں کا ہو اور امدادی رقم ختم ہوچکی ہو تو وہ اپنے پاس سے ڈال دیں اور پھر ان سے وصول کر لیں-

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب محترم احمر صاحب، قابل تحسین ہیں آپ کے دوست۔ اللہ ان کو جزائے خیر دے۔ ہمارے معاشرے میں ابھی بھی بہت خیر ہے، اللہ اوپر والے ان گمنام ہاتھوں‌میں‌اور بھی برکت دے جو دیتے ہیں‌تو ایسے کہ ان کہ ان کے بائیں طرف والے ہاتھ کو بھی پتہ نہیں‌چلتا کہ دائیں‌نے کیا دیا ہے۔
      اس تحریر کے آخر میں‌ میں‌بہت کچھ اپنی طرف سے لکھنا چاہتا تھا مگر یہ سوچ کر کہ نتائج قاری خود اخذ کرے رہنے دیا۔ مجھے نفرت ہے فوٹو سیشن کیلئے تھوڑی سی امداد دیکر کسی کی عزت نفس کی دھجیاں‌اڑانے والوں‌سے۔ قوم کو بھیک منگا بنا کر رکھ دیا ہے ان لوگوں نے۔

  18. ہمیشہ کی طرح بہت خوبصورت تحریر۔ اردو بلاگستان کو اس نوع کی تحریریں کمیاب ہی ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s