قبر سے ایک ایمیل


میرے ایک واقفکار نے یہ واقعہ سنایا۔ کہتا ہے اُس کا ایک بہت اچھا دوست تھا جو پچھلے دنوں روڈ ایکسیڈنٹ میں مارا گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اُس پر اپنا رحم فرمائے اور اُس کی خطاوں کو معاف فرمائے۔ مرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ وہ مر گیا، سب نے مرنا ہے۔ لیکن اس کی موت سے کچھ قباحتیں اور مشکلات کھڑی ہوئی ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ مرنے والا انٹرنیٹ سے متعلقہ امور میں مہارت رکھنے والا  شخص تھا۔ فحش مواد والی ویب سائٹس اُسکی کمزوریاں تھیں اور ننگی تصاویر جمع کرنا اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔

حتیٰ کہ اُس نے اپنی ایک ویب سائٹ بھی بنا رکھی تھی جس پر ہر طرح کی فحش تصاویر کا ایک بہت بڑا مجموعہ لوگوں کی تفریح طبع کیلئے موجود تھا۔ ویب سائٹس کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ رجسٹرڈ ممبران کو نئی تصاویر یا ہر کچھ دنوں کے بعد چند تصاویر کا ایک مجموعہ خود بخود ہی ان کے ایمیل پر پوسٹ ہو جاتا تھا۔

اب میرے اس دوست کی ناگہانی موت نے ہمارے لیئے یہ مصیبت کھڑی کر دی ہے کہ ہمیں اس کی ویب سائٹ کا پاس ورڈ معلوم نہیں ہے تاکہ کم از کم اس ویب سائٹ کو بند کریں یا کوئی دوسرا حل نکالیں۔

کہتا ہے: جب میں مسجد میں بیٹھا اس کی نماز جنازہ کا انتظار رہا تھا تو یہی  سوچ رہا تھا اور جب ہم سب اس کی لاش کو اُٹھا کر قبر کی طرف جا رہے تھے تو بھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ یہ قبر میں جا کر کس چیز کا سامنا کرے گا؟ ننگی تصاویر کا؟ حسبنا اللہ و نعم الوکیل

قبرستان میں قبروں کی وحشت اور ویرانگی مگر جنازے کے ساتھ آئے ہوئے لوگوں کے رش کے باوجود میرا دماغ بس یہی بات ہی سوچتا رہا۔ میں نے قبر کے اندر ایک نظر ڈالی اور افسوس کے ساتھ سوچا پتہ نہیں میرے دوست کا یہاں کیا حشر ہوگا؟

میرے دوست کے کچھ قریبی احباب تو رو بھی رہے تھے اور میں یہ سوچ رہا تھا کیا انکا رونا میرے دوست کے کسی کام آ سکے گا؟

ہم نے میت دفنائی اور واپس چل دیئے۔ جی ہاں اپنے دوست کو قبر میں اکیلا چھوڑ کر، اسکا سارا مال اور اس کے سارے اھل خانہ واپس، وہاں رہا تو اس کے اعمال تھے، اور کیا پتہ اس کے کیسے اعمال تھے؟

میرے دوست کی ماں اکثر خواب میں دیکھتی کہ لڑکے اس کے بیٹے کی قبر پر آتے ہیں اور پیشاب کر کے چلے جاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ مجھ سے پوچھتی کہ یہ کیسا خواب ہے اور اسکی کیا تعبیر ہوگی؟ اس بیچاری کو کیا پتہ کہ اس خواب کے پیچھے کیا راز تھے!

میں اپنے آپ کو کہتا کہ خواب کی تعبیر تو واضح ہے لڑکے وہ لوگ تھے جن کو میرا دوست ننگی تصاویر بھیجا کرتا تھا اور وہ لڑکے یہ تصاویر آگے سے آگے پہنچاتے تھے۔ اللہ اکبر، یہ کیسا جال سا پھیلا ہوا تھا اور کس کس کے گناہ میرے دوست کو ڈس رہے ہونگے؟

میں نے اپنے دوست کی ویب سائٹ کی ہوسٹنگ کمپنی سے رابطہ کیا تاکہ وہ اس ویب سائٹ کو بند کردیں۔ مگر انہوں نے معذرت کر لی کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ میرے اصرار پر انہوں نے مجھے یہاں تک بھی کہا کہ وہ مجھ پر یقین نہیں کر سکتے کیونکہ جس نام اور جس پاس ورڈ سے یہ ویب سائٹ خریدی اور بنائی گئی تھی وہ معلومات میرے پاس نہیں تھیں۔ میں نے انہیں غصے میں بھی لکھا کہ لوگو، میرے دوست پر رحم کر دو، وہ بیچارہ مر گیا ہے مگر سب بے سود تھا۔

میں اکثر بیٹھ کر اپنے دوست کی حالت پر سوچتا جو کہ مجھے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس ارشاد مبارک کے مصداق نظر آتا جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں میں سے کچھ شر کے راستے کھولنے والے اور خیر کے بند کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور مین تڑپ کر رہ جاتا میرا دوست کس طرح لوگوں کے گناہ اُٹھائے گا جن کیلئے اس نے شر کے دروازے کھولے تھے۔ اور کس طرح قیامت کے دن ان سب گناہوں کو اپنے کندھے پر لاد کر محشر میں جائے گا؟

میں جانتا ہوں کہ میری ان باتوں کا کسی پر کچھ اثر نہیں ہونے لگا، کیونکہ نوجوان تو اس کو محض وقت گزاری جانتے ہیں، جب کہ اللہ کی پناہ؛ ان تصاویر کے نتائج کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لڑکوں نے ایسی تصاویر دیکھیں،  اپنی خواہشات کے سامنے بے بس ہوئے اور گناہوں کے گڑھوں میں کرتے چلے گئے اور کتنی ہی معصوم بچیاں بربادیوں میں پھنستی چلی گئیں۔

میرا دوست تو مر گیا مگر میں جانتا ہوں کہ روز قیامت اس سے ضرور سوال کیا جائے گا کہ تو نے کتنی ایسی تصاویر ہر اپنی نظریں ڈالیں اور تیری دوسروں کو بھجی ہوئی تصویروں پر کس کس کی نظریں گئیں؟ تو نے کدھر کدھر یہ تصاویر پھیلائیں اور اور جن تک تیری بھیجی ہوئی تصاویر گئین انہوں نے کس قدر آگے ان کو آگے پھیلایا؟

مجھے اب بالکل کچھ نہیں سوجھ رہا کہ اس سلسلے کو میں کس طرح روک دوں؟ اللہ میرے دوست پر رحم فرمادے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمار خاتمہ اچھا لکھ دے۔ اور اللہ کرے یہ قصہ عقل والوں کیلئے عبرت کا سامان ہو۔ آمین یارب

(عربی سے ماخوذ و مترجم)


Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اسلامی معاشرت, اصلاحی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

30 Responses to قبر سے ایک ایمیل

  1. محبوب بھوپال نے کہا:

    میری ہر دم دعا ہے “یا رحمٰن و رحیم اور قادر و کریم ۔ مجھے اور میرے احباب اور تمام مسلمانوں کو شیطان مردود سے پناہ عطا فرما ۔ ہماری رہنمائی فرما اور ہمیں سیدھی راہ پر چلا”۔ کاش ہم مسلمان کہلانے والے نماز پڑھتے ہوئے اُن الفاظ پر غور و فکر کریں جو ہم نماز کے اندر کہتے ہیں ۔ اور کچھ نہیں تو اِھدنا صراط المستقیم کو ہی پوری نیک نیّتی سے ادا کریں اور پھر اس کیلئے کوشش بھی کریں ۔ یا میرے مالک و خالق ھماری سب کی رہنمائی فرما اور ھم کو ہر دم سیدھی راہ پر چلا ۔ آمین

  2. محمد سلیم نے کہا:

    Respected Mr. Shah, welcome to my blog..
    First of all, I appologize for not mentioning this article was translated by me from Arabic. The first thing I did after your message was, to update the article by mentioning, it was taken from Arabic and translated by me.
    Since the matter is in its own, a true advise to such people who publish nudity etc, at the name of fun and entertainment.
    I wish my intention was true and thanks…

  3. Mr.Shah نے کہا:

    sir, apki nasihat sabaq amooze he, wese website automatically band bhi hosakti he.agar apko maloom se site tou wo hack bhi hosakti he…agar app yeah kam kerna pasanad fermaey tou kaisi bhi hacker se contact kerlen..neet achi kam hojaye ga…thank your.

  4. عمر نے کہا:

    اللہ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے
    آمین

  5. اللہ ہمیں اسلام کی ترویج و اشاعت کی کوششیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے
    اتنا نہیں ہو سکتا تو اسلام کے بنیادی ارکان ہی درست طور پر سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے

    آمین

  6. کیا ہی خوبصورت واقعہ ہے۔اور سبق آموز بھی ۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب درویش خراسانی صاحب، کیا حال ہیں؟ جی ہاں، اس واقعے کا احاطہ تحریر میں لانے کی غرض و غایت یہی سبق دینا ہی تھا۔ ربنا تقبل منا جمیع الاعمال الصالحہ۔ آمین یا رب العالمین

  7. ام عروبہ نے کہا:

    السلام علیکم
    جزاک اللہ خیر سلیم بھائ، بہت سبق آموز واقعہ ہے- اللہ ہم سب کو برائ سے بچنے کی توفیق دے آمین- اور جو جو ایسے کاموں میں ملوث ہیں انکو مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق دے آّمین-

  8. اللہ ہمیں اپنی امان میں رکھے اور ہماری لغزشوں کو درگزر فرمائے آمین

  9. ہمیشہ کی طرح نہایت عمدہ۔۔۔۔ جزاک اللہ خیر

    • محمد سلیم نے کہا:

      پیارے ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب المحترم، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو صحت و سلامتی دے اور خوش و خرم رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔ تشریف آوری کا ہمیشہ شکریہ۔

  10. Mohammed Aslam Anwary نے کہا:

    Saleem Bhai Assalam Alikom.
    Us ki maa ka khwab hi sach hoga Allah Subhanawatala hum sab ki Hifzat farmaye aur aap ko Jazia Khair Ata farmai ke aap ne hu se yeh blog share kiya Aameen.

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب محمد اسلم انوری صاحب المحترم صاحب، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اپنی پناہ میں‌رکھے، نیکی کی توفیق دے اور شر سے بچائے، آمین یا رب العالمین۔

  11. میری ہر دم دعا ہے "یا رحمٰن و رحیم اور قادر و کریم ۔ مجھے اور میرے بیوی بچوں کو شیطان مردود سے پناہ عطا فرما ۔ ہماری رہنمائی فرما اور ہمیں سیدھی راہ پر چلا”۔ کاش ہم مسلمان کہلانے والے نماز پڑھتے ہوئے اُن الفاظ پر غور و فکر کریں جو ہم نماز کے اندر کہتے ہیں ۔ اور کچھ نہیں تو اِھدنا صراط المستقیم کو ہی پوری نیک نیّتی سے ادا کریں اور پھر اس کیلئے کوشش بھی کریں ۔ یا میرے مالک و خالق میری رہنمائی فرما اور مجھ ہر دم سیدھی راہ پر چلا ۔ آمین

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب محترم افتخار اجمل صاحب المحترم صاحب، اللہ تبارک و تعالیٰ‌آپ کو صحت و سلامتی سے نوازے، آمین یا رب۔ آپ کی بہت پیاری دعا میرے الفاظ‌میں:
      “یا رحمٰن و رحیم اور قادر و کریم ۔ ہمیں‌اور ہمارے بیوی بچوں کو شیطان مردود سے پناہ عطا فرما ۔ ہماری رہنمائی فرما اور ہمیں سیدھی راہ پر چلا”۔ کاش ہم مسلمان کہلانے والے نماز پڑھتے ہوئے اُن الفاظ پر غور و فکر کریں جو ہم نماز کے اندر کہتے ہیں ۔ اور کچھ نہیں تو اِھدنا صراط المستقیم کو ہی پوری نیک نیّتی سے ادا کریں اور پھر اس کیلئے کوشش بھی کریں ۔ یا میرے مالک و خالق ہماری رہنمائی فرما اور ہم کو ہر دم سیدھی راہ پر چلا ۔ آمین

  12. باذوق نے کہا:

    نہایت اہم موضوع پر آپ نے متاثر کن تحریر پیش کی ہے۔ جزاک اللہ خیرا
    آج بھی ایک نہیں‌ سینکڑوں‌مودودی کی ضرورت ہے جنہوں‌نے اپنے دور میں‌نوجوان نسل کو معاشرت بیزاری اور بےراہ روی کے راستے سے ہٹا کر دین حنیف کی عملی راہ پر لانے کی تحریک برپا کی تھی اور ہزاروں‌ لاکھوں قلوب و اذہان کی تطہیر میں کامیابی بھی حاصل کی

    • محمد سلیم نے کہا:

      پیارے باذوق، تشریف آوری کیلئے شکریہ۔ جی آپ نے بالکل صحیح اشارہ کیا ہے کہ کس طرح نوجوانوں‌کو گناھ سے نفرت اور نیکی کی طرف آمادہ کیا جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اپنی امان میں‌رکھے، آمین یا رب۔

  13. م بلال م نے کہا:

    جس طرح صدقہ جاریہ ہوتا ہے، یہ تو اسی کے الٹ گناہ جاریہ ہے۔ ہمیں اس طرح کی برائیوں سے بچنا چاہئے جو کہ ہمارے جانے کے بعد بھی ہمیں گناہ پہنچاتی رہیں۔
    آپ کی باقی تحاریر کی طرح یہ بھی ایک سبق آموز تحریر ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و تندرستی دے اور آپ یونہی ہمیں نصیحت آموز تحریر پڑھاتے رہیں۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      پیارے بلال بھائی، جی ہاں، اس مضمون میں مصنف نے یہی بات باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ کوئی ایسا کام جو بندے کے مرنے کے بعد بھی وبال بنا رہے سے اجتناب کیا جائے، اللہ تبارک و تعالٰی ہمیں‌ہدایت دے۔

  14. عمران اقبال نے کہا:

    اناللہ وانا الیہ راجعون۔۔۔
    اللہ ہم سب کو گناہوں سے بچائے۔۔۔ اور ہماری مغفرت کرے۔۔۔ آمین۔۔۔
    سلیم صاحب۔۔۔ آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں کہ ایسے سبق آموز واقعات کو نہایت اچھے طریقے سے ہم سب سے شئیر کر رہے ہیں۔۔۔ اللہ ہی آپ کو اس نیک عمل کا اجر عطا فرما سکتا ہے۔۔۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      پیارے بھائی عمران اقبال المحترم، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے اور شر سے محفوظ فرمائے۔ جی ہاں، مضمون کا مطمع نظر کسی حد تک برائی سے نفرت دلانا تھا، اللہ تبارک و تعالیٰ نیت کو قبول فرمائے۔ آمین یا رب۔

  15. معاذاللہ میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے اس واقعہ کو پڑھنے کے بعد۔اگر ویب سائٹ کی رقم جو بھری جاتی ہے کو ختم کردیا جائے تو ویب سائٹ ختم ہوسکتی ہے۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      پیارے محمد بلال خان، اس جیسی کہانیوں‌کی مصداقیت کے بارے میں‌تو یقین سے کچھ نہیں‌ کہا سکتا مگر ایک بات ضرور ہے کہ یہ عبرت اور درس حاصل کرنے سبب ضرور ہوتی ہیں۔
      ہمارے دین نے معاشرے کے ہر فرد کو ایک ذمہ داری سونپی ہے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی۔
      مذہب کی سادگی کی بھی انتہا ہے کہ صرف نیکی کی طرف توجہ دلا دینے والے کو بھی نیکی کرنے والے جیسا اجر ملتا ہے، اور اس کے بر عکس برائی کے باب وا کرنے والے کو بھی ویسا اجر ملتا ہے۔ بلکہ ہمارے ہاں‌تو فتنہ کو قتل سے بھی بڑا جرم گردانا جاتا ہے۔
      بعض لوگ اس حقیقت کو نہیں‌سمجھ پاتے کہ وہ کیسے گورکھ دھندے میں پڑنے جا رہے ہیں۔ محض وقت گزاری یا تفریح‌طبع کیلئے کیئے گئے کام ان کی آخرت برباد کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔
      بحیثیت ویب سائٹ کے مالک یا بلاگر ہونے کے، ہم پر بھی ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اگر ہم اچھائی کی ترویج نہیں کرسکتے تو کم ازکم برائی کے بیج تو نا بوئیں۔
      اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں‌نیکی کی ہدایت دے ۔ آمین یا رب العالمین۔
      (مندرجہ بالا مضمون میں نے عبرت کیلئے عربی سے ترجمہ کرکے یہاں پر شائع کیا تھا)

      • اگر آپ واقعہ کے آخر میں حوالہ بھی لکھ دیں تو اچھا ہوگا۔ویسے اگر یہ واقعہ سچ نہیں ہے تو اس واقعہ میں قصہ جو بیان ہے وہ تو بے شمار لوگ کررہیے ہیں انہیں روکنے کے لیئے ہمیں کوئی اقدام کرنا چاہیئے۔

  16. عمر نے کہا:

    aaj ka doar ki haqeeqat hy ALLAH ham sab ko tamam burayon say mehfooz rakhe

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s