محی الدین کی دکان


پیارے دوستو! بہت دنوں کے بعد آپ سے ملاقات ہو رہی ہے۔ اللہ کی رحمت اور کرم کا طلبگارمیں بالکل خیریت سے ہوں۔ انسان آزمائشوں سے جلدی گھبرا جاتا ہے حالانکہ اللہ کے ہاں دیر تو ہوتی ہے مگر اندھیر ہرگز نہیں۔ بالکل یہی صورتحال میرے ساتھ پیش آئی۔ میں آپ سب احباب کا بیحد مشکور ہوں جن کی دعاوں اور نیک خواہشات کے طفیل میں ان مراحل سے بآسانی گزر رہا ہوں، چند ایک اور رکاوٹیں ہیں جو ان شاء اللہ جلد ہی دور ہو جائیں گی۔
آنکھ پہاڑ اوجھل کے مصداق میں ڈر رہا تھا کہ زیادہ عرصہ آپ سے دور رہا تو کہیں محو ہی نا ہو جاوں، اسلیئے دوبارہ اس محفل میں باقاعدگی سے آنے کیلئے حاضر ہوا ہوں۔ بقول شاعر
کون رکھے گا ہمیں یاد اس دور مفلسی میں
حالات ایسے ہیں کہ لوگوں کو خدا یاد نہیں
ہم جیسے ملازمت پیشہ درمیانہ طبقے کے لوگوں کا ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ آنے والے کل کیلئے کچھ نہیں کر رہے ہوتے۔ اور اگر میری طرح کمانے والا صرف ایک ہی جی ہو تو وہ بیچارہ ویسے بھی ہلکان ہو جاتا ہے۔ اور خدا نا خواستہ اگر یہی ملازمت ہی جاتی رہے تو پریشانیاں تباہ کر دیتی ہیں۔ سمجھ دار ہیں وہ لوگ جنہوں نے ایسے دنوں کیلئے اپنے ملک میں بھی روزگار کا ساتھ ساتھ کوئی سلسلہ بنا لیا تھا۔ مجھے اپنے سعودی دوست کا سنایا ہوا ایک واقعہ یاد آرہا ہے جس کے دفتر میں چائے وغیرہ بنانے کیلئے ایک ملیباری محی الدین کام کرتا تھا۔ عمر تیس سے تجاوز کر رہی تھی مگر اُس نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی۔ میرا دوست جب بھی اُس سے شادی کے بارے میں پوچھتا تو محی الدین کہتا، میری امی کہتی ہے کہ پہلے ایک دکان خرید لو پھر شادی کرنا، دکان چلے گی تو پھر شادی کرنا اس طرح گھر داری کے اخراجات اٹھانا کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ اور پھر محی الدین کا دکانیں خریدنے کا سلسلہ ایسا دراز ہوا کہ وہ سعودیہ کو بھی خیربادکہہ کر چلا گیا۔
میں نے ان دنوں کیر سائڈ بزنس کیلئے پاکستان میں بھی تگ و دو کی مگر کامیاب نہیں ہوا۔ میرے بچے ماشاء اللہ ایسے ہیں اگر کہو کوئی کام کر لو تو کہتے ہیں کہ ابھی اور پڑھنا ہے اور جب دل لگا کر پڑھنے کا کہو تو کہتے ہیں کہ کوئی کام کرا دو۔ ایک سے جب کام کے سلسلے میں کمٹمنٹ چلی تو مجھے ایک بہت پرانا سنا ہوا لطیفہ یاد آگیا۔ ایک خاتون اپنی سہیلی کو بتا رہی تھی کہ کل اس نے اپنی بیٹی کو زمانے کی اونچ نیچ بتانے کی کوشش کی۔ سہیلی نے پوچھا تو پھر تمہاری بیٹی کو بہت سی نئی باتوں کا پتہ چلا ہوگا؟ خاتون نے کہا نہیں، میری معلومات میں بہت اضافہ ہوا۔
ہم بچوں سے اگر توقعات ایسی کر لیں کہ وہ آنکیں بند کیئے ہماری سب مان لیں گے تو شاید ایسا اب ممکن نہیں رہا (الا من رحمہم اللہ)۔ بچپن میں سنی ہوئی کہانیوں میں ایک ایسی کہانی یہ بھی ہوا کرتی کہ بادشاہ نے اپنے دو بیٹوں کا امتحان لینے کیلئے ایک ایک بند صندوق دیکر ہمسایہ ملک کے بادشاہ کو جا کر دینے کیلئے بھیجا۔ ایک بیٹے نے تو سعادتمندی کا مظاہرہ کیا اور جا کر صندوق ویسے ہی پیش کر دیا جیسے اس کے باپ نے دیا تھا مگر دوسرے نے راستے میں کھول لیا تاکہ دیکھے تو سہی کہ آخر صندوق میں ہے کیا چیز؟ اور صندوق میں امتحان کی خاطر بند کیا ہوا چوہا نکل کر بھاگ گیا تھا۔
زندگی ایک تجربہ گاہ ہے اور یہاں ہم روز نت نئے تجربات سے گزرتے ہیں۔ بلاگ کا ایک فائدہ یہ بھی تو ہے ناں کہ ہم اپنے اپنے تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں اور ان سے فائدہ اٹھائیں۔ ان شاء اللہ اب آپ سے باقاعدگی سے ملاقات رہے گی۔

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in Uncategorized and tagged , , . Bookmark the permalink.

13 Responses to محی الدین کی دکان

  1. Mohammed Aslam Anwary نے کہا:

    Assalam alikom
    Saleem Bhai
    Apke Blog Ko padhne ka muqua 5-6 mhine phele hi mela tha us ke bad shayed hi koi blog aap ne likha lekin abhi aaj hi apke teen blog 1 Anokha Muqdama 2 Mohiuddin ki Dukan aur Abu Saber ka Mazar padhne ka muqa mila yeqinan yeh urdu adab hissa hi hunge aaj ke daur me is terha ke haqiqi waqiya se sabq lenki zraurat hai Alla Sunhan wa Tala aap ke Zure Kalam Ko mazeed Badhai Ameen

  2. فیصل مشتاق نے کہا:

    اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    بہت اچھا لگا اتنے عرصہ بعد پوسٹ دیکھ کر۔آپ نے بچوں کے بارے جو کہا، بجا کہا۔مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بجے ہم سے 30-25 سال latest سوچ رکھتے ہیں۔
    بقول پروین شاکر
    ؂ جگنو کو دن کے وقت پکڑنے کی ضد کریں
    بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
    آپ کےاور آپ کے بچوں کے لئیے دنیا و آخرت میں بہترین جزا کی دُعائیں
    والسلام

  3. فراز اکرم نے کہا:

    اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    آپ کی واپسی دیکھ کر خوشی ہوئی، الله پاک آپ کو آسانیاں نصیب کرے اور آپ کی مشکلات کو دور فرماے..

  4. پنگ بیک: محی الدین کی دکان | Tea Break

  5. فکر پاکستان نے کہا:

    سلیم بھائی، بہت مس کیا آپکو، اتنے دن بعد آپکو بلاگ پہ دیکھہ کر بہت خوشی ہوئی۔ امید ہے آپ اپنی تحریروں سے ہمارے علم میں اضافہ کرتے رہیں گے۔

  6. جوں جوں آدمی سائنسی ترقی کر رہا ہے آدمی کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں ۔ گھر گھر ٹی وی اور کمپیوٹر نے اتنا علمیات میں اضافہ نہیں کیا جتنا نقلیات میں کیا ہے اور آدمی کے مصائب کا سبب یہی ہے

  7. وسیم رانا نے کہا:

    ماشا اللہ۔۔۔۔آپ کی دوبارہ آمد سے بے حد خوشی ہوئی۔۔۔۔۔

  8. ویلکم بیک جی ۔۔۔۔۔ اور واقعی میں بھی دو دن پہلے ہی سیارہ کے راونڈاپ کے دوران آپکا سوچ ہی رہا تھا کہ پتہ نہیں کہاں لاپتہ ہو گئے ہیں ۔۔۔۔۔
    اور واقعی آج کل کی جنریشن تو وہ، وہ جانتی اور کہتی ہے جو میں اور سوچ بھی نہیں سکتے ۔۔۔

    اور سلیم بھائی سب سے اچھی کمائی تو میرے خیال سے بچوں کی اچھی تربیت ہو جائے تو وہ ان شاءاللہ اپنے لئے خود ہی اچھا کر لیں گے نہیں تو جو ہوگا پاس پلے اسکو بھی ڈبو دینگے 🙂

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترمی جناب ضیا الحسن صاحب، اآپ کی پذیرائی کا بہت بہت شکریہ، جی ہاں‌بچوں‌کے معاملے میں‌کافی پریشانی کا سامنا ہے، اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ تشریف اآوری کا شکریہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s