بیوی کا عاشق (۲)


محترم جناب محمد صدیق بخاری صاحب  ماہنامہ سوئے حرم کے مدیر  ہیں اور میرے بلاگ کے قاری بھی ہیں۔ میرے مضمون( بیوی کا عاشق) پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے اپنی  سچی آپ بیتی لکھ دی تھی جسے پڑھ کر میری آنکھیں اشکبار ہو گئی تھیں۔ یہ آپ بیتی دراصل  اُن کی طرف سے اپنی زوجہ کیلئے ایک خراج تحسین ہے  ۔  یہ سچی کہانی اور  آپ بیتی بین السطور شاید آپ کی وہ توجہ نا پا سکی ہو جس کی وہ مُستحق تھی۔ سراپا ایثار اور قربانی کی عظیم مثال اس خاتون کی عظمت کو سلام پیش کرنے کی خاطر اور معاشرے کیلئے ایک اچھے سبق کی حیثیت سے میں یہاں  پر دوبارہ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

ایک شوہر کا اپنی بیوی کو خراج تحسین

یہ7 199 اکتوبر کی آخر ی رات تھی ۔جوں جوں رات بیت رہی تھی اس کی بے کلی اور بے قراری میں اضافہ ہوتاجا رہا تھا۔ وہ کبھی بیٹھ جاتی اور کبھی ادھر ادھر گھومنے لگتی ۔ اسے طرح طرح کے اندیشے اور خیال آر ہے تھے۔ اس کا دلِ مضطرب مسلسل دعا میں مصروف تھا۔وہ اللہ سے اپنے شوہر کی خیریت مانگ رہی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کا خاوند کبھی وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور جو بات کہتا ہے اسے پورا کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتا ہے ۔ اس کے خاوند نے مغرب کے وقت اسے فون کیا تھا کہ وہ سفر سے واپس آ گیا ہے اور عشا تک گھر پہنچ جائے گا۔ اس پیغام سے وہ بہت خوش ہوئی کیونکہ وہ کم وبیش چالیس دن بعد واپس آر ہا تھا۔اس مسافر کی والدہ اور اس کے بچے الگ منتظر تھے مگر مغرب سے عشا ہو ئی وہ نہ آیا ۔ عشا کے بعد بھی رات ڈھلتی رہی، مگر وہ نہ آیا۔ ایک گھنٹہ ، دو گھنٹے ، تین گھنٹے ، مگر پھر بھی دروازے پر کوئی دستک نہ ہوئی ۔ اب تو وہ بہت مضطرب ہو گئی تھی۔آخر وہ نماز کے لیے کھڑی ہو گئی ۔ اور سجدے میں اپنے رب کوپکارتی رہی۔ نمازسے کچھ سکون ملا تو وہ بستر پر دراز ہوئی مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ ہرہر آہٹ پر چونک جاتی اور ہر ہر دستک پر تڑپ اٹھتی مگر بے سود۔ کروٹیں بدلتے بدلتے تہجد کا وقت آن پہنچا تھا۔ وہ ایک بار پھر رب کے حضور سجدہ ریز ہو گئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اتنی بے قراری اور اضطراب بے وجہ نہیں ۔ دل تھا کہ سنبھل ہی نہیں پا رہا تھا۔
اِدھر اس کی یہ بے قراری تھی اور اُدھر اس کا خاوند لاہور کے جنا ح ہسپتا ل میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ چالیس دن کا سفر کر کے ژوب ،بلوچستان سے واپس آیاتھا اور رائے ونڈسے اس نے اپنی بیوی کو اطلاع دی تھی کہ وہ عشا کے بعد گھر پہنچ جائے گا۔حسب ِوعدہ وہ اپنے دو دوستوں کے ساتھ رائے ونڈ سے لاہور کے لےے ایک پرائیویٹ کار میںروانہ ہوا مگر ابھی رائے ونڈ سے پانچ ہی کلومیٹر دور آئے تھے کہ کا رایک ٹریکٹر ٹرالی کے ساتھ براہ راست ٹکر ا گئی ۔اللہ کی شان تھی کہ ڈرائیور سمیت اس کے دونوں ساتھی بالکل محفوظ رہے مگر تقدیر کو اس کا امتحاں مقصود تھا۔ اس کی ٹانگ تین جگہ سے اس طرح ٹوٹ گئی تھی کہ ہڈی کے بعض ٹکڑے ہی غائب ہو گئے تھے۔ہاتھ ، پسلیاں، چہرہ اور سر بھی بری طرح مجروح تھے۔پیشانی سے ایک بڑا شگاف سر کے اندر تک چلا گیا تھا اور اس میں سے بے تحاشا خون بہ رہا تھا ۔ وہ مکمل بے ہوشی میں تھا۔ اس کے ساتھیوں نے بڑی مشکل سے اسے پچکی ہوئی گاڑی میں سے نکالا اور جیسے تیسے جناح ہسپتال پہنچایامگر انہیں امید نہ تھی کہ زندگی کی شمع جلتی رہے گی۔
رات کا اختتام ہوا چاہتا تھا۔ مساجد سے فجر کی صدا بلند ہوئی او راس نے انتہائی بے بسی کے عالم میں آسمان کی طرف دیکھا اور یا اللہ کہہ کر نظریں جھکا لیں۔بچے انتظارکر تے کرتے سو ئے تھے اس لیے فجر میں فوراً بیدا ر ہو گئے اور مسجد کی طرف بھاگے۔ ان کا خیا ل تھا کہ شاید ان کے والد مسجد میں آ چکے ہوںگے ۔ مسجد میں دیکھا تو اس کے والد کے وہ دوست تو موجود تھے جو اس کے ساتھ گئے تھے مگر والد کا کہیں پتا نہ تھا۔ یہ دیکھ کر بچے انتہائی اضطراب میں گھر کو واپس دوڑے اور ماں سے پوچھا ، امی، ابو کہاں ہیں؟ ماں نے یہ سنا تو دل تھام کے بیٹھ گئی ۔ اس یوں لگا کہ اس کے خدشات سچ ثابت ہو نے کا وقت آن پہنچا۔اسی اثنا میں وہ دوست گھر آ پہنچے ۔ان کی خاموشی ایک پوری داستان سنا رہی تھی۔ جب مسافر کی والدہ نے پوچھا کہ میرا بیٹا کہاں ہے ؟ تو انہوں نے بس یہ کہا کہ دعا کریں۔ یہ الفاظ سنتے ہی اسے یہ محسوس ہو ا کہ جیسے زمین اس کے پاﺅں سے نکلی جارہی ہو یا جیسے اس کے سر سے آسمان کی چھت ہٹ رہی ہو ۔ایک بار پھر وہ بہتے آنسوﺅں کے ساتھ دست بدعاتھی۔ وہ روتی رہی اور روتی رہی ۔ پھر اچانک اسے یوں لگا کہ جیسے کسی فرشتے نے اس کے دل کو تھام لیا ہو۔ اس کے آنسو رک گئے تھے اور اس کا دل یقیں سے بھر گیا تھا۔ اب وہ ایک نئے عزم کے ساتھ ایک نئے سفرکے لیے تیار ہورہی تھی۔
سورج نکل آیا تھا مگر اسے محسوس ہی نہ ہوا کیونکہ اس کا اپنا سورج جو گہنا گیا تھا۔ وہ ہسپتال جانے کی تیاری کر رہی تھی ۔ اور ساتھ ہی ساتھ تلاوت اور دعا میں مصروف تھی۔ لوگو ں کی تسلیاں اسے طفل تسلیا ں محسوس ہو رہی تھیں۔ البتہ اپنے مالک کے کرم سے اسے امید ضرور تھی کہ اس کے سر کا سائباں قائم رہے گا ۔ اس نے کہا مالک !میں اس بے رحم دنیا کی چلچلاتی دھوپ میں تنہا سفر نہیں کر سکتی تو کرم فرمادے ۔ وہ کبھی گھر سے باہر نہ نکلی تھی مگر اس کے مالک نے اسے اس مشکل گھڑی سے نبرد آزما ہونے کے لیے بے پناہ حوصلہ دے دیا تھا۔ اس نے ایک بچے کوگود اٹھایا ، ایک کو انگلی لگایا اور ہسپتال کے لیے روانہ ہو گئی۔ وہاں پہنچی تو آنسوﺅں کاسیلاب پھر امڈ آیامگر اس نے انتہائی صبر سے خود کو تھامے رکھا۔ اس نے دیکھا کہ اس کا خاوند نیم بے ہوشی میں ہے تا ہم پہچانتا ضرور ہے ۔ وہ اس بات پر اپنے مالک کی بے انتہاشکر گزار تھی کہ وہ ایک با رپھر اپنے شوہر کو زند ہ حالت میں دیکھ رہی تھی۔ اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنے شوہر کو تسلی دینے کی کوشش کی ۔تھوڑی دیر بعد اس کے شوہر نے کہا کہ اب تم گھر چلی جاﺅ اسے عجیب سا لگا ۔وہ وہاں اور رکنا چاہتی تھی مگر اس کے شوہر کو یہ فکر تھی کہ اس نے اکیلے جانا ہے اس لیے رات سے پہلے پہلے گھر پہنچ جائے۔ اس کے بعد دو ہفتے مسلسل اس حال میں گزرے کہ وہ تہجد کے وقت بیدا رہوتی تو رات کے گیارہ بج جاتے مگر اسے آرام کا ایک لمحہ نہ ملتا۔مگر وہ پھر بھی مطمئن تھی کیونکہ اسے امید ہو چلی تھی کہ اس کاخاوند صحت یاب ہو جائے گا۔وہ تن تنہا اس نئے چیلنج کا سامنا کر رہی تھی۔گھرسے کبھی نہ باہرنکلنے والی یہ خاتون اب روزانہ ویگنوں میں سفر کرتی اور روزانہ ہسپتال جاتی۔وہ کئی گھنٹے وہاں ٹھہرتی اور پھر واپسی پر گھر کو سنبھالتی ۔ ایک یا دو بچوں کو وہ ہسپتال ساتھ لے جاتی اور دو کو ان کی دادی جان کے پاس چھوڑ جاتی۔اسکا دل چاہتا تھا کہ وہ ہسپتال ہی میں رہے اور اپنے خاوند کی خدمت کرے مگر اس کے گھر کو کون سنبھالتا اس لیے ہر روز وہ چاروناچار ہسپتال سے واپس لوٹ آتی۔ اس کے شوہر کے ہر ہر زخم پر پٹی بندھ چکی تھی مگر ٹانگ کے فریکچر باقی تھے ۔ ان کا آپریشن ہونا تھا مگر ڈاکٹر سر کی چوٹ سے مطمئن نہ تھے ان کا خیا ل تھا کہ آپریشن کے لیے اگر ہم نے اسے بے ہوش کیا تو یہ پھر ہوش میں نہ آئے گا۔ وہ خود بھی سر کی چوٹ سے بہت پریشان تھی کیونکہ کبھی کبھی اس کاخاوند ایسی بات کر جاتا تھا جس سے محسوس ہوتا تھا کہ اس کی یاد داشت صحیح کام نہیں کررہی یااسے پہچاننے میں دقت ہو رہی ہے ۔ او ر پھر اس دن وہ کتنی خو ش ہوئی تھی جب اس کے شوہر نے ڈاکٹر سے پوچھا تھا کہ ڈاکٹر آپ میری ٹانگ کا آپریشن کیسے کریں گے ؟ ڈاکٹر نے کہاتھا کیوں؟ تو اس نے کہا تھا کہ میرے سرہانے رکھی فائل پر سرخ روشنائی سے لکھا ہے no sedative تو آپ تو مجھے نیند کی ایک گولی بھی نہیں دے سکتے تو پھر بے ہوشی کی دوا کیسے دیں گے ،تو ڈاکٹر نے جواب میں اس کے لواحقین سے کہا تھا کہ مبارک ہو ۔ اس کا دماغ بالکل صحیح کا م کر رہا ہے اب وہ آپریشن کرے گا۔ وہ اس پر بہت خوش ہوئی تھی۔
فریکچروں کے آپریشن کے بعد اسے گھر منتقل کر دیا گیا۔ اب اس کی مشقت میںاس حوالے سے تھوڑی کمی ہو گئی تھی کہ اسے ہسپتال نہیں جانا پڑتاتھا مگر ایک اور حوالے سے مشقت زیادہ ہو گئی تھی۔اب اس کی ڈیوٹی چوبیس گھنٹے کی ہو گئی تھی۔پہلے تو رات کو چند گھنٹے آرام کے مل جاتے تھے مگر اب وہ بھی نہ تھے۔جوں ہی وہ سونے لگتی تو اس کا شوہر آواز دیتا کہ اس کے پاﺅں کویا ٹانگ کو سیدھا کر دے ، اوپر کر دے یا نیچے کر دے اور وہ پھر بیدار ہو جاتی ۔ کبھی پاﺅں سہلاتی ، کبھی سر دباتی اور کبھی باتیں کر کے اسے تسلی دینے لگتی حالانکہ خود اسے تسلی کی ضرورت تھی ۔ اس نے کبھی اسے محسوس نہ ہونے دیا کہ اب وہ اس کا محتاج ہو گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اب وہ اپنی بشری حاجات کے لیے بھی ہر وقت اس کا محتاج تھا۔ اس نے کبھی ماتھے پہ بل نہ ڈالا اور کبھی اکتاہٹ کا اظہا ر نہ کیا۔اگر اس کا شوہر بیماری کے ہاتھوں مجبور کوئی سخت بات کہہ بھی دیتا تو وہ ہنس کر ٹال دیتی اور کبھی شکا یت نہ کرتی۔وہ اس محتاجی کی حالت میں بھی اسے اپنے سر کا تاج سمجھتی تھی ۔اور یہ کوئی دو چار ہفتوں کی بات نہ تھی ،پورا ڈیڑھ برس اسی حال میں گزرا تھا۔اکیلی جان ، چھوٹے چھوٹے بچوں کی ذمہ داری، بوڑھی والدہ کی خدمت اور شوہر کی نگہداشت۔یہ اسی کا حوصلہ تھا کہ سب کچھ بطریق احسن ہو رہا تھا اورکسی کوبھی کوئی شکایت نہ تھی۔ اور پھروہ دن بھی آیا کہ اس کا شوہر ایک بار پھر اپنے پاﺅں چلنے کے قابل ہو گیا۔ اس دن وہ کتنی خوش ہوئی تھی اور اس نے اپنے رب کاکتنا شکر ادا کیا تھا یہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ اس نے کسی کو بتایا ہی نہیں ۔ وہ کہتی ہے کہ یہ اس کا اور اس کے رب کا معاملہ ہے ۔
اس مہیب سا ل کو گزرے تیر ہ برس ہو گئے مگر آج بھی اس کا شوہر اس کا احسان مند ہے ۔وہ اپنے دوستوں سے کہا کرتا تھا کہ شادی تو آئیڈیل سے دستبرداری کا نام ہے مگر ساتھ ہی کہا کرتا تھا ، لیکن دوستو، مجھے تو میرا آئیڈیل مل گیا ہے ۔ اس بھیانک سال کا ایک ایک پل اُس کے اس دعوے پر مہر تصدیق ثبت کر گیا تھا۔
آج بھی جب کبھی وہ اس کا شکریہ ادا کرتا ہے تو وہ شرما کے کہتی ہے، جانِ من، میں نے آپ پر کوئی احسان نہیں کیاتھا بلکہ اپنا فرض اداکیا تھا ۔اور وہ سوچنے لگ جاتا ہے کہ کیا اس زمانے کی ازدواجی زندگی میں وفاداری ، محبت اور ایثارکی اس سے بہترمثال مل سکتی ہے؟ یا پھر بہتر نہیں توکیا ایک مسلمان بیوی اور مشرقی عورت کی اس جیسی مثال ہی مل سکتی ہے ؟ اور پھر اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس زمانے میں ایسی مثالیں ملنا نا ممکن نہیں تو محال ضرور ہیں۔
اس کے شوہر کو ہمیشہ یہ اعتراف رہا اور ہے کہ اُس کی زندگی توبس دو عورتوں سے عبارت ہے ایک اُس کی ماں اور دوسری اُس کی بیوی۔اوراکثر شب تنہائی میں وقتِ نیم شب وہ جب ان عورتوں میں سے ایک کے لیے بخشش مانگتا ہے اور دوسری کے لیے سلامتی اور عافیت ،تو نہ جانے اس کی آنکھوں سے آنسو کیوں چھلک آتے ہیں ۔ اور وہ یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ یہ آنسو شکر کے ہیں یا عجز کے عجز اس بات کا کہ وہ ان دونوں کے احسانات کا بدلہ نہ ادا کر پایا۔ اور شکر اس بات کا کہ اس کے مالک نے جو بھی دیااس کی طلب سے سوِا دیا۔

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اصلاحی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

16 Responses to بیوی کا عاشق (۲)

  1. امجد میانداد نے کہا:

    ماشاءاللہ بہت پیاری تحریر اور مثال ہے۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ نیک عورت ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کسی بھی روپ میں ہو اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔

  2. سيد جان نے کہا:

    ( دلچسپي )

    ميرا گهر الرياض حي الفوطه ميں هے- مجهے يهاں 14 سال هو گے ليكن ابهي پچھلے سال مجهے پته چلا كه همارے گھر كه پيچھے ايك چھوٹا اور پرانا قبرستان هے جب ميں ادهر گيا تو كافي بڑا بورڈ بهي لگا تها جس پر لكها تها ( مقبرة الفوطه )
    يه ايك معمولي بات هے ليكن اكثر اس معمولي عادت سے لوگوں كي زندگي بهت غير دلچسپ اور يكسانيت كي وجه سے بور گزرتي هے۔
    اپ نے اكثر لوگوں سے سنا هو گا اسكے كافي دوست هيں جنكے نام تك اسے نهيں معلوم ۔ اكثر كو اپنے همسايوں كا نهيں پته ۔
    بلكه كي لوگ تو اس روڈ كا نام نهيں جانتے جس پر اسكا گھر هوتا هے۔
    هماري معلومات بلكل سطحي هوتي هے يا هم جاننے كي كوشش نهيں
    كرتے اگر اج اپ زهن اور انكهيں كهول كر اپنے محلے كا چکر لگاو تو كافي چيزيں
    اپكو نئي نظر اّيگي-
    دوسري وجه همارا هر كام پر توجه نه دينا هے۔ هم نماز دل سے نهيں پڑتے.
    هم كهانا ارام اور توجه سے نهيں كهاتے۔ هم سبزي كهاتے هوے مرغي كه بارے ميں سوچتے هيں – اور مرغي كهاتے هوے هميں بكرے كا گوشت ياد اتا هے۔ هم كسي اچهي جگهه چلے جائے تو اس جگھه كو انجواے كرنے كي بجايے دوسري جگه كه بارے ميں سوچتے هيں۔
    هم ايك وقت ميں كئي كام كر رهے هوتے هيں – جسكي وجه سے هم ايك بهي كام صحيح نهيں كر پاتے۔ هم جب ٹرين ميں سفر كرتے هيں تو هم جهاز كه بارے ميں سوچتےهيں- جهاز ميں تو موقع ملے نه ملے البته هم ٹرين كا سفر خراب كر ديتے هيں۔ كهانے كيساته ٹي وي ديكهتے هيں۔ اور قران كي تلاوت كرتے هوے هميں نيند انے لگتي هے۔
    بظاهر يه چهوٹي چھوٹي باتيں هيں ليكن اگر هم اس پر توجه ديں تو هماري زندگي كافي دلچسپ اور مقصد والي زندگي بن سكتي هے۔
    دنيا ميں كوئي كام بڑا يا چھوٹا نهيں هوتا كرنے والے كي نيت۔ محنت – اور دلچسپي اسكو چهوٹا يا بڑا بناتي هے-
    اس ليے پهلے خود سے ملو ۔ سوچو تم كون هو ؟ تمهے كيا اچها لگتا هے.
    تمهاري زندگي كا مقصد كيا هے ۔ تمهے ميٹها اچھا لگتا هے يا نمكين ۔ سردي كا موسم اچها لگتا هے يا گرمي كا – تمهارے فرايض اور حقوق كيا هے۔
    جب تمهاري صبح هوتي هے تو تمهے معلوم هونا چاهيے كه اج كيا كرنا هے
    اور جب يه سب كچهه تمهے واضح طور پر معلوم هوگا تو تم محسوس كروگے كه
    تم – هاں صرف تم اس دنيا ميں اهم اور كامياب شخص هو- اور اگر والدين حيات هيں ۔ تو اپني صبح كا اغاز والدين كه ماتهے پر بوسه دے كر كرو
    اگر راه چلتے هوے كوي پتهر بهي راستے سے هٹا ليا۔ كسي معزور كو سڑك پار كروادي۔ تو تم نے اج كه دن كا حق ادا كرديا- اور ثابت كرديا كه انسان اشرف المخلوقات هيں-
    جب اپنے دوستوں اور رشته داروں سے ملو تو خوب محبت اور خلوص سے ملو
    دوسروں كه مسايل ميں دلچسپي لو۔ بيمار پرسي كرو۔ اور صبروشكر كيساته هر معاملے كا مقابله كرو۔
    جب گهر واپس هو تو بيوي سے مسكرا كر ملو۔ بچوں سے شفقت اور محبت كيساته ملو۔
    اور اپني دعاوں ميں وهي مانگو جو تم چاهتے هو ۔اور اسكے ليے ضروري هے كه تمهے معلوم هو كه تم كيا چاهتے هو۔ اور جب تمهے پته چلے گا كه تم كيا چاهتے هو۔ تو اسكے ملنے اور نه ملنے ۔ دونوں صورت ميں تم خوش اور شكر گزار رهو گے۔۔۔۔۔۔۔۔
    والله اعلم

    اسلام عليكم
    سليم صاحب اج ميں نے پهلي دفعه لكها هے- اپ سے درخواست هے كه اسكو اپنے بلاگ ميں شايع كر ديں- اگر شايع كرنے كه قابل هے تو–

    شكريه

  3. عمر فاران نے کہا:

    حقیقی محبت کی لا زوال داستان۔۔۔۔۔۔!!!

  4. سيد جان نے کہا:

    الله هميں سب رشتوں كو احسن طريقے سے نبهانے كي توفيق عطا فرماويں
    سليم صاحب اپكا انداز بهت هي دلكش هے

  5. Shabbir mirza نے کہا:

    ماشاءاللہََ
    نیک بیوی دنیا میں اللہ کی طرف سے بہترین تحفہ ھے- اللہ تعالی سب کو نیک بیوی نصیب فرمائےـ

  6. Matloob نے کہا:

    Janab saleem Saheb,,,, aap ko bhi lagta hay VIP’s wali beemari lagi hay,, aap bhi kisi aam say banday kay tasray ka jawab nahi detay,,, sirf jis kay naam kay aagay Dr. Engr. ya koi takhalus wagher laga ho usay jawab dena gawara kartay hain,, Kya kahun aisi soch par…(aap Dbl. standard hain)…… yaqeenan..

  7. matloob Hussain نے کہا:

    Masha Allah buhut achi story hai,,, dunia aisay hi logon ki waja say qaem hay… Matloob Hussain – Jeddah

  8. پنگ بیک: بیوی کا عاشق (۲) | Tea Break

  9. محمد سلیم نے کہا:

    محترم جناب ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب
    برادرم خرم ابن بشیر صاحب
    محترم راشد ادریس رانا صاحب
    برادرم عمران اقبال صاحب
    جناب وقار اعظم صاحب

    آپ کی تشریف آوری کا بہت بہت شکریہ۔ واقعی یہ ایک دل کو چھو لینے والی آپ بیتی تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو مزید خوش و خرم رکھے۔
    ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار، و ادخلنا الجنۃ مع الابرار، یا عزیز یا غفار، یا رب العالمین۔

  10. وقاراعظم نے کہا:

    دلوں کو چُھو لینے والی کہانی ہے۔ واقعی وفا شعار بیوی اللہ کی طرف سے بہت بہترین تحفہ ہے۔۔۔

  11. عمران اقبال نے کہا:

    بہترین۔۔۔ سچ ہے کہ اچھی عورت گھر کو جنت بنا دیتی ہے اور بری عورت جہنم سے بھی بدتر۔۔۔
    آج کل کی خواتین کو ایسی وفاشعاری اور خدمت گزاری اور دین اسلام کی بتائے ہوئی احکامات پر چلنے کی بہت ضرورت ہے۔۔۔ اگر ایسا نا ہوا تو معاشرہ جو پہلے ہی جہنم بن چکا ہے، جہنم سے بدتر ہونے میں زیادہ وقت نا لے گا۔۔۔

  12. سر جی واقعی ہی۔۔۔۔۔

    آنکھیں بھر آئیں ہیں یہ پڑھ کر۔ اللہ تعالٰی ایسی وفا شعار بیوی قسمت والوں کہ ہی دیتا ہے۔

    اللہ تعالٰی ان کو بہت خوشیاں عطاء فرمائے،

    آمین

  13. خرم ابن شبیر نے کہا:

    السلام علیکم
    ماشاءاللہ پڑھ کر اس بات پر اور پختہ یقین ہو گیا ہے کہ اچھی بیوی دنیا میں ہی جنت بنا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو وفاشعار بیوی عطا فرمائے آمین

  14. بہت دلپذیر داستان ہے۔ میرا بھی یقین ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو وفا شعار اور خدمت گذار بیوی دے دے تو سمجھیں کہ اس نے آپ کے لیے دنیا آسان کر دی ہے۔
    لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ ابھی زیادہ وقت بھی نہیں گذرا، ہم بھی وہی ہیں ، لوگ بھی وہی ہیں پھر بھی آسمان کیسے کیسے رنگ بدل رہا ہے۔ آج یہ خدمت ، یہ وفا شعاری اور ایسی اطاعت گذاری پچھلے دور کی داستانیں بنتی جا رہی ہیں۔ نئے دور کے لوگ تو ان داستانوں کو عورت کے استحصال کا طریقہ سمجھنے لگ گئے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s