پھولوں کے نیچے کانٹے یا کانٹوں کے اوپر پھول؟


ہو سکتا ہے مندرجہ ذیل قصے کا حقیقت سے کوئی تعلق نا ہو، مگر اس سے حاصل ہونے والے فائدے کیلئے آخر تک پڑھ لیجیئے۔

٭٭٭٭٭

ایک شخص نے بہتر گھر خریدنے کیلئے اپنا  پہلے والا  گھر بیچنا چاہا۔

اس مقصد کیلئے وہ اپنے ایک ایسے دوست کے پاس گیا جو جائیداد کی خرید و فروخت میں اچھی شہرت رکھتا  تھا۔

اس شخص نے اپنے دوست کو مُدعا سنانے کے بعد کہا کہ وہ اس کے لئے  گھر برائے فروخت کا ایک اشتہار لکھ  دے۔

اس کا دوست اِس گھر کو بہت ہی اچھی طرح  سے جانتا تھا۔ اشتہار کی تحریر  میں اُس نے گھر کے محل وقوع، رقبے، ڈیزائن، تعمیراتی مواد، باغیچے، سوئمنگ پول سمیت ہر خوبی کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔

اعلان مکمل ہونے پر اُس نے اپنے دوست کو  یہ اشتہار  پڑھ کر سُنایا تاکہ تحریر پر اُسکی رائے لے سکے۔

اشتہار  کی تحریر سُن کر اُس شخص نے کہا، برائے مہربانی اس اشتہار کو ذرا   دوبارہ پڑھنا۔ اور اُس کے دوست نے  اشتہار دوبارہ پڑھ کر سُنا دیا۔

اشتہار کی تحریر کو دوبارہ سُن کو یہ شخص تقریباً چیخ ہی پڑا کہ کیا میں ایسے شاندار گھر میں رہتا ہوں؟

اور میں ساری زندگی ایک ایسے گھر کے خواب دیکھتا رہا جس میں کچھ ایسی ہی خوبیاں ہوں۔ مگر یہ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ میں تو رہ ہی ایسے گھر میں رہا ہوں جس  کی ایسی خوبیاں تم بیان کر رہے ہو۔  مہربانی کر کے اس اشتہار کو ضائع کر دو، میرا گھر بکاؤ ہی نہیں ہے۔

٭٭٭٭٭

ایک منٹ ٹھہریئے، میرا مضمون ابھی پورا نہیں ہوا۔

ایک بہت پرانی کہاوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نعمتیں تمہیں دی ہیں ان کو ایک کاغذ پر لکھنا شروع کر دو،  یقیناً اس لکھائی کے بعد تمہاری زندگی اور زیادہ خوش و خرم ہو جائے گی۔

اصل میں ہم اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا ہی بھلائے بیٹھے ہیں کیوں کہ جو کچھ برکتیں اور نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں ہم اُن کو گننا ہی نہیں چاہتے۔

ہم تو صرف اپنی گنی چنی چند پریشانیاں یا کمی اور کوتاہیاں دیکھتے ہیں اور برکتوں اور نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔

کسی نے کہا:  ہم شکوہ کرتے ہیں کہ اللہ نے  پھولوں کے نیچے کانٹے لگا دیئے ہیں۔ ہونا یوں چاہیئے تھا کہ  ہم اللہ کا شکر ادا کرتے کہ اُس نے کانٹوں کے اوپر بھی پھول اُگا دیئے ہیں۔

ایک اور نے کہا: میں اپنے ننگے پیروں کو دیکھ کر کُڑھتا  رہا، پھر ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاؤں ہی نہیں تھے تو  شکر کے ساتھ اللہ کے سامنے سجدے میں گر گیا۔

اب آپ سے سوال

کتنے ایسے لوگ ہیں جو آپ جیسا گھر، گاڑی، ٹیلیفون، تعلیمی سند،  نوکری  وغیرہ،  وغیرہ،  وغیرہ کی خواہش کرتے ہیں؟

کتنے ایسے لوگ ہیں جب  آپ  اپنی گاڑی پر سوار جا رہے ہوتے ہو تو وہ سڑک پر ننگے پاؤں یا پیدل جا رہے ہوتے ہیں؟

کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے سر پر چھت نہیں ہوتی جب آپ اپنے گھر میں محفوظ آرام سے سو رہے ہوتے ہیں؟

کتنے ایسے لوگ ہیں جو علم حاصل کرنا چاہتے تھے اور نا کر سکے اور تمہارے پاس تعلیم کی سند موجود ہے؟

کتنے  بے روزگار شخص ہیں جو فاقہ کشی کرتے ہیں اور آپ کے پاس ملازمت اور   منصب موجود ہے؟

اور وغیرہ وغیرہ وغیرہ ہزاروں باتیں لکھی اور کہی جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔

کیا خیال ہے ابھی بھی اللہ کی نعمتوں کے  اعتراف  اور اُنکا شکر ادا کرنے کا وقت نہیں آیا کہ ہم کہہ دیں

يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجہك وعظيم سلطانك

اللہم لك الحمد حتی ترضی و لك الحمد إذا رضيت ولك الحمد بعد الرضا 

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اصلاحی and tagged , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

36 Responses to پھولوں کے نیچے کانٹے یا کانٹوں کے اوپر پھول؟

  1. محبوب بھوپال نے کہا:

    يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجہك وعظيم سلطانك
    اللہم لك الحمد حتی ترضی و لك الحمد إذا رضيت ولك الحمد بعد الرضا

  2. محمد سلیم نے کہا:

    محترم تابش خاں‌صاحب۔ و علیکم السلام۔ بلاگ پر خوش آمدید۔ اھلا و سھلا۔
    آپکے نیک جذبات، خواہشات اور دعاوں‌کا شکریہ۔ اللہ ہمیں‌ عقل دے اور اپنا عبادت گزار بندہ بنائے امین۔
    راہنمائی کیلئے تشریف لاتے رہا کریں۔

  3. تابش خاں نے کہا:

    اسلام و علیکم،
    امید کرتا ہوں کے آپ خیریت سے ہوں گے ، بہت خوبصور ت بات لکھی آپ نے پڑھ کر آچھا لگا ، میری رائے اس بلاگ کے متعلق صرف اتنی ہی ہے کے ہم لوگ آپنی زندگی میں‌صرف اچھی چیز چاہ رکھتے ہیں کبھی یہ نہیں دیکھتے کے اس رب العزت نے ہمیں کتنی اچھی چیزوں‌سے نوازہ ہے اللہ کی کسی چیز کا شکر تو دور کی بات بلکہ خرابی نکالنے میں لگے رہتے ہیں‌۔ اللہ ہمیں‌ عقل دے اور اپنا عبادت گزار بندہ بنائے امین

  4. Muhammad Waseem نے کہا:

    پیارے بھا یء
    اسلام علیکم
    خدا تعالی کی نعمتوں کے بارے جو اپ نے زکر کیا کا ش کے ھماری سمجھ میں اجائے امین۔ جبکہ سورھہ رحمان میں کتنی جگہوں پر فرمادیاں ہیکہ تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاوگے۔بس ہمارا خدا تعالی سے یہی شکوہ رہتا ہیکہ اسکو اتنا دے دیا وتنا دے دیا لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ خدا تعالی کے ہر کا م میں کوئ نہ کوئ بہتری ضرور ہوتی ہے۔ بس اسکا ایک چھوٹا سا حل ہیکہ اگر ہم صرف ہمیشہ نیچے کی طرف دیکھنا شروع کردے تو خدا تعالی کے فضل و کرم سے اپنے اپ کو ہر طرح سے بہتر پایئگے۔
    ؔا خر میں دعا ہیکہ خدا تعا لی ؔاپکو مزید ہمت عطا فرمایئں ۔ ؔامین

  5. فیصل آیاز نے کہا:

    سبحان آللھ،،،،،
    جزآ ک آللھ،،،،،
    بھت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  6. Muhammad Owais نے کہا:

    Appreciated!

  7. پنگ بیک: پھولوں کے نیچے کانٹے یا کانٹوں کے اوپر پھول؟ « Gurupak’s Weblog

  8. محمد سلیم نے کہا:

    رانا راشد ادریس صاحب، اس پذیرائی کیلئے آپ کا بہت ممنون ہوں۔ ضزاک اللہ خیرآ

  9. سرجی، آپ کی تحریر بہت اچھی ہے اسی لئے میں نے آپ کے حوالے سے دوسروں تک بھی پہنچا دی، امید ہے کہ جن دستوں تک یہ پھول نہیں پہنچے تھے ابھی پہنچ گئے ہیں۔

    جزاک اللہ۔

  10. khalid shehzad نے کہا:

    MASHALLAH Buhat Khoobsoorat Tehreer Hai

  11. جاویداقبال نے کہا:

    بہت اچھاایک چھوٹی سی کہانی میں بہت ہی دردمندانہ پیغام دیاہے لیکن ہم لوگ اور تو اور آزادی کی نعمت کو بھی بھول چکےہیں ذرا کسی بھی پرندہ کو قید کرکے دیکھیں کہ کیاہوتاہے اللہ تعالی ہم کو آزادی کی صحیح قدروقیمت عطاء کرنے کی توفیق عطاء فرمائيں۔ آمین ثم امین

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم جاوید اقبال، بلاگ پر خوش آمدید، اھلا و سھلا و مرحبا۔ جی ہاں‌اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں‌نعمتوں‌کے زوال سے محفوظ‌رکھے اور ہمیں‌نعمتوں‌کی قدر اور شکر کرنا سکھائے۔ آمین یا رب العالمین۔

  12. سعید نے کہا:

    اللہم لک الحمد کالذی تقول، و لک الحمد کالذی نقول و خیر مانقول، و لک الحمد علی کل حال۔

  13. محمد شعیب نے کہا:

    بلا شبہہ بہت عمدہ بات ہے۔ اللہ کریم اسی سے ہمارے دلوں میں انقلاب پیدا فرما دے۔
    آمین۔

  14. سر آپ نے تو کمال ہی کر دیا اتنا اچھا سبق اور اتنے لفظوں میں‌بیان کیا کیا کہنے

  15. مدثر نے کہا:

    يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجہك وعظيم سلطانك
    اللہم لك الحمد حتی ترضی و لك الحمد إذا رضيت ولك الحمد بعد الرضا

    بہت خوب بھائی ، ان سب باتوں کا احساس تو ہے پر بھول کر نا شکری میں لگ جاتے ہیں۔ بہت شکریہ

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم مدثر صاحب؛ خوش آمدید۔ جی انسان بنا ہی نسیان سے ہے مگر سب سے برا نسیان نعمتوں‌کا شکر گزار نا ہونا ہے۔
      یا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجہك وعظيم سلطانك
      اللہم لك الحمد حتی ترضی و لك الحمد إذا رضيت ولك الحمد بعد الرضا

  16. بھائی محمد سلیم صاحب آپکی فکرانگیز کاوشات انسانی زندگی میں شعور و آگہی کو اجاگر کرنے میں ہمہ وقت پیش پیش ہیں ،اللہ رب العزت آپکو جزائےخیر عطا فرمائے (امین)

  17. بھائی محمد سلیم صاحب آپکی فکرانگیز کاوشات انسانی زندگی میں شعور و آگہی کو اجاگر کرنے میں ہمہ وقت پیش پیش ہیں ،اللہ العزت آپکو جزائےخیر عطا فرمائے (امین)

  18. مسعود احمد نے کہا:

    ماشااللہ بہت خوب، اللہ پاک ہمیں ھر حال میں اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

  19. غلام مرتضیٰ علی Ghulam Murtaza Ali نے کہا:

    بہت عمدہ اور فکر انگیز تحریر ہے۔ اللہ پاک ہمیں اُسکی عطا کردہ نعمتوں کی قدر کرنے اور شکر اد ا کرنے کی توفیق بخشے۔
    اللّٰہم اعنّا علیٰ ذکرک وشُکرک و حُسنِ عبادتک

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم غلام مرتضیٰ علی صاحب، خوش آمدید۔ تحریر پسند کرنے کا شکریہ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں‌اپنا شکر گزار بندہ بنائے۔ اللّٰہم اعنّا علیٰ ذکرک وشُکرک و حُسنِ عبادتک ۔ آمین یا رب العالمین

  20. بہت عمدہ۔۔۔اللہ تعالیٰ آپکو مزید ایسی تحریریں لکھنے کی توفیق عطا فرمائے،،،

  21. پنگ بیک: پھولوں کے نیچے کانٹے یا کانٹوں کے اوپر پھول؟ | Tea Break

  22. عدنان شاہد نے کہا:

    بھائی بہت اچھی اور فکر انگیز تحریر ہے اللہ پاک ہم سب کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s