زندگی – منفی اعتقا دات کے ساتھ


کولمبیا کی ایک یونیورسٹی میں ریاضیات کے لیکچر کے دوران کلاس میں حاضر ایک لڑکا بوریت کی وجہ سے سارا وقت پچھلے بنچوں پر مزے  سے  سویا رہا، لیکچر کے اختتام پر طلباء کے باہر جاتے ہوئے شور مچنے پر اسکی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ پروفیسر نے تختہ سیاہ پر دو سوال لکھے ہوئے ہیں۔ لڑکے نے انہی دو سوالوں کو ذمیہ کام سمجھ کر جلدی جلدی اپنی نوٹ بک میں لکھا اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ ہی کلاس سے نکل گیا۔ گھرجا کرلڑکا ان دو سوالوں کےحل سوچنے بیٹھا۔ سوال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی مشکل ثابت ہوئے۔ ریاضیات کا اگلا سیشن چار دنوں کے بعد تھا اس لئے لڑکے نے سوالوں کو حل کرنے کیلئے اپنی کوشش جاری رکھی۔ اور یہ لڑکا چار دنوں کے بعد ایک سوال کو حل کر چکا تھا۔

اگلی کلاس میں لڑکے کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پروفیسر نے آتے ہی بجائے دیئے ہوئے سوالوں کے حل پوچھنے کے، نئے موضوع پر پڑھانا شروع کر دیا تھا۔ لڑکا اُٹھ کر پروفیسر کے پاس گیا اور اُس سے کہا کہ  اُستاد صاحب، میں نے چار دن لگا کر ان چار صفحات پر آپکے دیئے ہوئے دو سوالوں میں سے ایک کا جواب حل کیا ہے اور آپ ہیں کہ کسی سے اس کے بارے میں پوچھ ہی نہیں رہے؟

اُستاد نے حیرت  سے  لڑکے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ میں نے تو کوئی ذمیہ کام نہیں دیا تھا۔ ہاں مگر میں نے تختہ سیاہ پر دو ایسے سوال ضرور لکھے تھے جن کو حل کرنے میں اس دُنیا کے سارے  لوگ ناکام ہو چکے ہیں۔

جی ہاں۔ یہی منفی اعتقادات ہیں جنہوں نے اس دُنیا کے اکثر علماء کو ان مسائل کے حل سے ہی باز رکھا ہوا تھا کہ انکا کوئی جواب دے ہی نہیں سکتا تو کوئی اور کیوں کر انکو حل کرنے کیلئے محنت کرے۔ اور  اگر یہی طالبعلم عین اُس وقت جبکہ پروفیسر تختہ سیاہ پر یہ دونوں سوال لکھ رہا تھا، جاگ رہا ہوتا  اور  پروفیسر کی یہ بات بھی سن رہا ہوتا کہ کہ ان دو مسائل کو حل کرنے میں دنیا ناکام ہو چکی ہے تو وہ بھی یقیناً  اس بات کو تسلیم کرتا اور ان مسائل کو حل کرنے  کی قطعی کوشش ہی نا کرتا۔ مگر  قدرتی طور ہر اُسکا سو جانا اُن دو مسائل میں سے ایک کے حل کا سبب بن گیا۔ اس مسئلے کا چار صفحات پر لکھا  ہوا حل آج بھی کولمبیا کی اُس یونیورسٹی میں موجود ہے۔

تیز دوڑنےسے متعلق  غلط ا عتقادات

آج سے پچاس سال پہلے تک دوڑنے کی مشق کے بارے میں ایک غلط عقیدہ پایا جاتا تھا کہ: کوئی بھی انسان چار منٹوں سے کم وقت میں دوڑ کر ایک میل کی مسافت طے نہیں سکتا۔ اگر کسی شخص نے ایسا کرنے کی کوشش بھی کی تو اُسکا دل پھٹ جائے گا۔

ایک کھلاڑی نے اس بارے میں پوچھ گچھ شروع کی کہ کیا اب تک  کسی نے چار منٹ سے کم میں یہ مسافت طے کرنے کی کوشش بھی کی ہے یا نہیں؟ یا کتنے ایسے لوگ ہیں جنکا دل ایسا کرنے سے پھٹ گیا ہو؟ مگر اس بات کا کوئی بھی ثبوت نہیں تھا اور ناہی کوئی اس بات کی حقیقت کو جانتا تھا کہ کسی  فرد واحد کا آج تک دل پھٹا بھی تھا یا نہیں!

اس کھلاڑی نے چار منٹ سے کم مدت میں ایک میل کا سفر کرنے کیلئے کوشش شروع کی اور ایک دن اس میں کامیاب بھی ہو گیا۔ جب لوگوں نے اُس کے منہ سے ایسا سنا کہ وہ ایک میل کا سفر چار منٹ سے بھی کم وقت میں دوڑ کر طے کر سکتا ہے تو شروع شروع میں لوگوں نے اُسے پاگل اور جھوٹا سمجھا اور بعد میں یہ شک کیا کہ اُسکی گھڑی غلط ہوگی۔ لیکن بعد میں اُس شخص کے مسلسل اصرار پر لوگوں نے خود جا کر اُسے دیکھا کہ وہ واقعی ایک میل کی مسافت چار منٹ سے کم وقت میں دوڑ کر طے کر سکتا ہے، اس کے بعد صرف وہی شخص ہی نہیں دنیا بھر سے 100 سے زیادہ لوگوں نے یہی کارنامہ سر انجام دیکر ایک ایسے عقیدے کو جھوٹا ثابت کیا جس کے ساتھ لوگ ازل سے جی رہے تھے۔ ان 100 سے زیادہ لوگوں نے یہ ثابت کیا کہ کوشش کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہوتا۔

ایک اور واقعہ سنیئے:

کہتے ہیں کہ کسی  غذائی مواد  کو سٹور اور فروخت کرنے والی  کمپنی  کے ایک کولڈ سٹور میں،  وہاں کام کرنے والا ایک شخص سٹور میں  موجود سٹاک کے  معائنے  اورسامان کی  گنتی کیلئے گیا۔وہ جیسے ہی کولڈ سٹور میں  داخل ہوا تو پیچھے سے دروازہ بند ہوگیا۔ اس شخص نے شروع میں خود دروازہ کھولنے اور پھر بعد میں دروازہ پیٹ کر باہر سے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی مگر دونوں صورتوں میں ناکام رہا۔ بد قسمتی سے اس وقت ہفتے کے اختتامی لمحات  چل رہے تھے۔ اور اگلے دو دن ہفتہ وار چٹھیاں تھیں۔ اس شخص نے جان لیا کہ باہر کی دنیا سے رابطہ کا کوئی ذریعہ نہیں رہا اور نا ہی  وہ کسی کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے تو یقینی بات ہے کہ  اُس کی ہلاکت کا وقت آ چکا ہے۔  تھک ہار کر یہ شخص بیٹھ کر اپنے انجام کا انتظار کرنے لگ گیا۔ اور دو دن کے بعد جب یہ کولڈ سٹور دوبارہ کھولا گیا تو واقعی یہ شخص مرا ہوا پایا گیا تھا۔

لوگوں نے اُس کے قریب ہی پڑے ہوئے کاغذات اٹھا کر دیکھے جن پر وہ شخص اپنے مرنے سے پہلے اپنے محسوسات لکھتا رہا تھا۔ کاغذوں پر لکھا ہوا تھا کہ۔۔۔۔(میں اس کولڈ سٹور میں مکمل طور پر قید ہو چکا ہوں۔ ۔۔۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میرے آس پاس برف جمنا شروع ہو گئی ہے۔۔۔۔  میں سردی سے ٹھٹھر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ اب تو مجھے ایسا لگ  رہا ہے کہ میں حرکت بھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں سردی سے مر ہی جاؤں گا۔۔۔۔) لکھائی ہر جملے کے ساتھ ضعیف سے ضعیف تر ہوتی گئی تھی یہاں تک کہ لکھنے کا سلسلہ ہی منقطع ہو گیا تھا۔

ان سب باتوں میں جو سب سے عجیب بات دیکھنے میں آئی تھی وہ یہ تھی کہ کولڈ سٹور  میں کولنگ سسٹم کی تو بجلی ہی بند تھی اور وہ تو چل ہی نہیں رہا تھا۔

کیا خیال ہے آپکا؟ کس نے قتل کیا تھا  اس شخص کو؟ جی ہاں، اس شخص کو اُس کے وہم نے مار ڈالا تھا۔  اُسے یقین تھا کہ کولڈ سٹور چل رہا ہے اور یہاں کا درجہ حرارت صفر سے بھی نیچے ہے جس سے ہر چیز جم جائے گی اور وہ مر جائے گا۔

اسی وجہ سے تو کہا جاتا ہے کہ منفی افکار اور عقائد سے بندھ کر اپنی زندگی کو کنٹرول کرنا ہی نا بند کر دیا جائے۔  ہزاروں لوگ ایسے  گزرے ہیں جنہیں اپنی ذات پر بھروسہ ہی نہیں تھا اور انہوں نے اپنے ہاتھوں میں آئے ہوئے کاموں اور موقعوں کو یہ سوچ کر چھوڑ دیا تھا کہ یہ کام اُن کے بس کا نہیں تھا ۔ جبکہ حقیقت میں معاملہ اسکے بالکل ہی بر عکس تھا۔

ہاتھی اور اُسکی رسی کا واقعہ:

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں جب  میں نے ایک چڑیا گھر میں ایک عظیم الجثہ ہاتھی کو ایک چھوٹی  سی رسی سے  اسکے اگلے پاؤں کو بندھا ہوا دیکھا تو مجھے بہت حیرت  ہوئی تھی۔ ہاتھی رسی کے ساتھ بندھے ہوئے کھڑا  تھا ایک محدود دائرے میں گھوم رہا تھا۔ ہاتھی کی ضخامت کے اعتبار سے تو اُسے کسی مضبوط زنجیر اور فولادی کڑے سے باندھا جانا چاہیئے تھا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ ہاتھی کسی بھی لمحے اپنے پاؤں کی معمولی جنبش سے اس رسی کو تڑا کر آزادی حاصل کر سکتا تھا مگر وہ ایسا نہیں کر رہا تھا۔

مجھے جیسے ہی ہاتھی کا رکھوالا نظر آیا تو میں نے اُسے اپنے پاس بلا کر پوچھا: یہ اتنا بڑا ہاتھی کس طرح ایک چھوٹی سی رسی سے بندھا ہوا کھڑا ہے اور یہ کیوں نہیں اپنے آپ کو چھڑوا کر بھاگ جاتا؟

ہاتھی کے رکھوالے نے مجھے بتایا کہ: اس طرح کے بڑے جانور جب پیدا ہوتے ہیں تو یقینی بات ہے کہ اس سے کہیں چھوٹے ہوتے ہیں۔ ہم ان کو باندھنے کیلئے اس قسم کی چھوٹی سی رسی ہی استعمال کرتے ہیں۔اس قسم کی چھوٹی سی رسی اس وقت اُن کی عمر اور جسم کے لحاظ سے باندھنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ جانور تو بڑے ہوتے رہتے ہیں مگر ان کی سوچ وہی رہتی ہے کہ کہ ابھی بھی وہ اس رسی کو نہیں توڑ سکتے۔

 یہ جان کر مجھے بہت حیرت ہو رہی تھی کہ اتنے بڑے جانور جو اپنی طاقت سے بڑی بڑی وزنی چیزوں کو اٹھا کر ادھر ادھر کر سکتے ہیں۔ مگر  انکا  دماغ  اسی پرانی سوچ سے بندھا رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس رسی کی قید سے کبھی بھی نجات نہیں پا سکتے۔

بعض اوقات ہماری مثال بھی تو بالکل ایسی ہی ہوتی ہے ۔ یہی سوچ کر کہ ہم کچھ نہیں کر پائیں گے یا کچھ کیا تو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا یا یہ کام ہمارے بس اور ہمارے روگ کا ہی نہیں جیسی سوچ کی وجہ سے ہم قناعت کے ساتھ ایک  لگے بندھے مفاد کے ساتھ چپکے رہتے ہیں ۔ اسی سوچ کی وجہ سے ہم اپنی ذات، مفاد اور رہن سہن میں بھی کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔

کوشش کرکے نئے وسائل اور نئے راستوں کو اپنائیےاور اپنی زندگی میں  مثبت  طریقے سے اور مثبت تبدیلیاں لا کر  بہتری کی طرف قدم بڑھائیے۔ ہمارے ماحول اور معاشرے میں تو کئی ایسے جھوٹے اعتقادات اور وہمی افکار موجود ہیں جو ہمیں کامیابی کی طرف قدم ہی نہیں اُٹھانے دیتے، کامیابی تو اس کے بعد کا مرحلہ ہے۔ ہمارا واسطہ اکثر -یہ تو ناممکن ہے-،  -یہ تو بہت مشکل کام ہے-،  -یہ تو مجھ سے نہیں ہو پائے گا- وغیرہ جیسے کلمات سے سے پڑتا ہے۔ یقین جانیئے یہ سب کچھ جھوٹ اور بنی ہوئی باتیں ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ پر عزم ، بلند حوصلے اور اللہ پر توکل رکھنے والا انسان ان سب کہاوتوں  کا  انکار کرتے ہوئے ان  رکاوٹوں کو عبور کر لیا کرتا ہے۔

تو پھر آپ ان جھوٹے افکار و عقائد کے خلاف ایک آہنی ارادے کے ساتھ کیوں نہیں اُٹھ کھڑے ہوتے؟ ایک پختہ عزم اور پکے ارادے کے ساتھ اور  کامیابی کے راستے پر گامزن ہونے کیلئے؟

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اصلاحی and tagged , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

36 Responses to زندگی – منفی اعتقا دات کے ساتھ

  1. نذیر احمد نے کہا:

    مجھے بھی آپ کا بلاگ پسند ہے.

  2. Khurram نے کہا:

    AOA
    I really liked your post, in fact these days I am reading the books on self improvement and all books are telling the same thing which you mentioned. Yes we need to change our thinking from negative way to positive way. Keep it up. Allah Hafiz

  3. محمد سلیم نے کہا:

    برادرم اکرام اللہ ارقم صاحب، بلاگ پر خوش آمدید۔ میرے مضمون کو پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ، اللہ تبارک و تعالیٰ آپکو آپکی تعلیم میں‌کامیاب و کامران فرمائے۔ میرے لئے نیک خواہشات کا بہت شکریہ۔

  4. اکرام اللہ ارقم نے کہا:

    Assalam o alaikum Saleem Bhai! How r u? may this msg find u in good health. ur topics are ssooooooooooooo nice n ifomative , thinkable, and……………..and………………. and………………….. many more properties. I m from Pakistan, n M.Phil scholer in Chemistry. I really very much like ur articles .May Allah keep u health n smiling for ever. May u Succeed in ur immortal life.

  5. فرخ صدیقی نے کہا:

    برادرم عزیز
    السلام علیکم
    آپ نے کافی قابل ستائش کام کیا ہے ۔ جزاکم اللہ
    لوگوں کو سیکھنے کو ملے گا۔
    دیگر۔۔۔۔
    میں آپ کی تحریریں کسی اور ذریعے سے پڑھ چکا تھا ۔
    پر صاحب تحریر کا علم نہ ہوتا تھا ، اور نہ ہی آپ کے بلاگ تک میری رسائی تھی۔
    میرا طریقہ یہ ہے کہ میرے پاس جو بھی اچھی چیز کہیں سے بھی آجائے اسے ای میل یا پھر اپنے بلاگ میں شایع کر دیتا ہوں ۔ ہاں یہ ضرور کوشش کرتا ہوں کہ صاحب تحریر سے اجازت لوں یا کم از کم ان کے نام سے شایع کروں ۔
    میں نے اپنے بلاگ میں آپ کی یہ تحریر آپ کی پیشگی اجازت کے بغیر شامل بھی کر دی تھی۔مجھے یہ تحریر عبد الباعث نامی شخص کے ای میل سے ملی تھی ۔ میں نے ان کے نام سے شائع کی تھی ۔ اب اسے تبدیل کر کے آپ کے نام سے دوبارہ شایع کی ہے ۔
    میں سہوا کی ہوئی غلطی پر معذرت خواہ ہو ں ۔
    امید ہے مزاج سخن پہ گراں نہ گزرے گا۔
    بلاگ لنک : http://sinp-pk.blogspot.com
    والسلام
    آپ کا بھائی
    فرخ صدیقی
    کراچی

    • محمد سلیم نے کہا:

      برادرَ محترم جناب فرخ‌صدیقی صاحب، و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ بلاگ پر خوش آمدید، آمدنت باعث آبادی ما۔ آپ کو میرے مضامین پسند آئے ۔ بہت شکریہ۔ آپ کی تعریف و ستائش اور نیک خواہشات کیلئے ممنون ہوں۔
      میں نے آپ کے بلاگ پر چکر لگایا ہے اور اپنی کچھ تحاریر وہاں‌ دیکھ کر بہت فخر محسوس کیا ہے۔ چاہے آپ میرا نام نا بھی شائع کریں مجھے پھر بھی خوشی ہوگی۔ ویسے میں‌ذاتی طور پر حقدار کو اسکا حق ملے کا قائل ہوں اسلیئے آپکے اس رویہ کی تعریف کرتا ہوں‌کہ آپ پسندیدہ مقالات اپنے بلاگ پر ڈال کرمصنف کا حوالہ ضرور دیتے ہیں۔ اللہ آپکو خوش رکھے، وقتا فوقتا تشریف لا کر راہنمائی کیا کریں۔

  6. عدنان شاہد نے کہا:

    السلامُ علیکم بھائی بہت ہی عمدہ تحریر ہے ۔
    اور جو آپ نے بیان کیا ہے ایسا کم و بیش ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے ۔ لیکن بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو اس کو ہینڈل کرپاتے ہیں۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      برادر عدنان شاہد صاحب، و علیکم السلام، بلاگ پر خوش آمدید۔ تحریر پسند کرنے کا شکریہ۔ جی ہاں، واقعی بہت سے لوگ ایسی صورتحال میں صحیح فیصلہ نہیں‌کر پاتے نتیجتآ
      تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
      ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

  7. Asghar Mehdi نے کہا:

    Salam alekum,
    This article reflects the truth and prevalent mindset of Muslims

    Thanks
    Regards

  8. محمد ابرار قریشی نے کہا:

    سليم صاحب ، آپ کوزے میں دریا بند کرنےکے ہنر سےماہر ہین۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      محمد ابرار قریشی صاحب، اس بار تو دریا کوزے میں نہیں اچھے خاصے بڑے مٹکے میں بند ہوا۔ ہاہاہا۔ یہ مذاق اس بار کے مضمون کی طوالت کی وجہ سے کیا ہے۔ آپ کی نیک تمناؤں کیلئے مشکور ہوں۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ آمین یا رب

  9. بدر یوسف نے کہا:

    واہ سلیم انکل ! آج تبصرہ پڑھا اور دل خوش ہو گیا اور ایک مشکل بھی آسان ہو گی-شکرا۔ جزاک اللہ

  10. عبدالقدوس نے کہا:

    ہاہاہاہا چھا گئے

  11. محمد سعید پالن پوری نے کہا:

    یہ کسی تحریر کا ترجمہ ہے یا آپ کی نگارش ہے؟ بہر دو صورت آپ تعریف کے مستحق ہیں۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب سعید پالن پوری صاحب، تحریر تھی یا کہ میری ذاتی کوشش، آپ ہر دو صورتوں‌میں‌ہی تعریف کے قابل سمجھ رہے ہیں‌تو میں‌کیوں خواہ مخواہ راز سے پردہ اٹھاوں؟ تشریف لا کر راہنمائی کیا کریں۔

  12. محمد رفیق۔ اٹک نے کہا:

    برادرم سلیم صاحب! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ،
    ماشا ء اللہ آپ کی تحریریں بہت ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں ۔ جب میں‌دیکھتا ہوں کہ آپکے موضوعات پڑھنے کے کے بعد لوگ مثبت تبصرہ کرتے ہیں اور آپکی تعریف وتوصیف ہوتی ہے تو مجھے گوناں‌خوشی محسوس ہوتی ہے کہ آپ کی حوصلہ افزائی کیلئے صاحبِ علم اور باذوق احباب اپنی آرا ء اور توصیف سے آپکو نوازتے ہیں۔ میں ہی آپ کا ایک کم ظرف دوست ہوں جو آپ سے دوستی کے دعوےٰ تو بہت کرتا ہوں لیکن عملی طور پر اپنے دعوےٰ کو ثابت نہیں کر پاتا۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ مزید آپکی صلاحیتوں میں‌نکھار پیدا ہو اور آپکی صلاحیتوں اور قابلیتوں‌سے احبابِ ذوق اور زیادہ مستفید ہو سکیں۔
    والسلام علیکم و رحمتہ اللہ

  13. فکرپاکستان نے کہا:

    بہترین مثالیں دی ہیں آپ نے، اللہ نے ایسا کوئی مسلہ نہیں اتارا جسکا حل نہ رکھا ہو، لیکن مسلوں کے حل لگی بندی ذہنیت والے کبھی بھی نہیں ڈھونڈ سکتے، مسلوں کے حل وہ ہی قومیں وہ ہی لوگ تلاش کرتے ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں جو تدبر تفکر سے کام لیتے ہیں۔ مکھی پہ مکھی بٹھانے والی تھیوری اب نہیں چلنے والی، اب کامیابی اسے ہی ملے گی اور مل بھی رہی ہے، جو غور و فکر کرے گا تدبر تفکر سے کام لے گا۔ ہمارا المیہ ہی یہ رہا ہے کے ہماری پرورش لگے بندے مائنڈ سیٹ کے تحت کی گئی ہے، مگر اللہ کا شکر ہے کے اب اس لگی بندی ذہنیت کا سحر ٹوٹ رہا ہے اب لوگ سوال کرنے لگے ہیں، بھلے سوالوں کے جواب نہ ملیں مگر یہ سوال اپنا اثر دکھا رہے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب آنے والی نسلیں ان لگی بندی ذہنیت والوں کو انکے منصب سے اٹھا کر باہر پھینک دیں گی انشاءاللہ۔

  14. عمران اقبال نے کہا:

    بہت بہترین۔۔۔ جناب سلیم بھائی، اب تو آپ کو ہمارا استاد ہی کہنا پڑے گا۔۔۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے آپ سے۔۔۔ اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔ آمین

    • محمد سلیم نے کہا:

      پیارے عمران اقبال، میں تو خود ہی بتاشے خرید کر آپ کے پاس شاگرد بیٹھنے کیلئے آنا چاہتا ہوں۔ میرے ٹوٹے پھوٹے اور بے ربط الفاظ آپکو پسند آتے ہیں‌یہ آپکا حسن ظن ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ آپکو خوش رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

  15. سلیم بھائی!۔ لاجواب۔
    آپکی سبھی تحریریں پُر مغز اور نصائح پہ مبنی ہوتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر کچھ تحریریں اپنے اندر خیر کا ایک سمندر سموئے ہوتی ہیں۔ یہ تحریر بھی انہی تحریروں سے ہے۔ اگر ایک بھی ناکام اور مایوس فرد نے آپ کی اس تحریر سے تحریک پائی اور اس نے اپنی مشکلات پہ قابو پالیا۔ تو یقین مانیں اسکا آپ کو بہت اجر ملے گا۔
    جزاک اللہ۔

  16. پنگ بیک: زندگی – منفی اعتقا دات کے ساتھ | Tea Break

  17. شعیب صفدر نے کہا:

    عمدہ تحریر ہے آپ کی!!!

  18. بہت عمدہ بات کہی ہے۔ آپ کو بجا طور پر دوسرا جاوید چوہدری کہا جا سکتا ہے۔۔۔

  19. dr Iftikhar Raja نے کہا:

    جناب بہت شکریہ ادھر گوگل پلس سے ہوتے ہوئے آپ کے اس پیج تک پہنچا ہوں، جزاک اللہ آپ نے ایک بہت ہی باریک موضوع کو بہت زیرک طرز پر بیان کیا ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اس پر بہت محنت کی گئی ہے اور مثالیں بھی روز مرہ سے بیان کی گئی ہیں کہ کوئی اسے درویش کی بڑھ نہ سمجھ پائے۔ میں آپ سے بلکل اتفاق کرتا ہوں کہ انسان کا دماغ جو اسے دکھائے وہ وہی دیکھتا ہے، شیزوفرینیا کے مریض اسکی واضع مثال ہیں۔ مگر ضروری ہے کہ ہمت مرداں مدد خدا کے فارسی محاورے کو یاد رکھا جائے، کہ جب کوئی ہمت کرلیتا ہے تو اسکی خدا بھی مدد کرتا ہے ایسے ہی کرتا جیسے آپ نے بالا مثالوں سے واضع کیا ہے۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      ڈاکٹر افتخار راجہ صاحب۔ آپ اتنا چکر کاٹ‌کر ادھر تک پہنچے اور مضمون کا اتنی گہرائی سے مطالعہ کیا جس کیلئے میں‌آپکا ممنون ہوں۔ آپ کی ستائش میرے لئے سرمایہ ہے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔

  20. احمر نے کہا:

    بہت عمدہ زبردست

  21. پنگ بیک: زندگی منفی اعتقادات کے ساتھ | Muhammad Saleem

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s