جرمنی سے ایک نصیحت آموز سبق


مال تمہاری مگر وسائل معاشرے کی ملکیت ہوا کرتے ہیں

جرمنی ایک صنعتی ملک ہے جہاں دُنیا کی بہترین مصنوعات اور بڑے بڑے برانڈز  مثلاً مرسیڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور سیمنز پروڈکٹس بنتے ہیں۔ ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے پمپ تو  محض اس ملک کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں بنتے ہیں۔ اس طرح کے ترقی یافتہ ملک کے بارے  میں کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ وہاں  لوگ  کس طرح عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہونگے، کم از کم میرا خیال تو  اُس وقت یہی تھا جب میں پہلی بار اپنی تعلیم کے سلسلے میں سعودیہ سے جرمنی  جا رہا تھا۔

میں جس وقت ہمبرگ پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود  میرے دوست میرے استقبال کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں دعوت کا پروگرام بنا چکے تھے۔ جس وقت ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے  اس وقت وہاں گاہک نا ہونے کے برابر اور اکثر میزیں خالی نظر آ رہی تھیں۔  ہمیں جو میز دی گئی اس کے اطراف میں ایک میز پر  نوجوان میاں بیوی کھانا کھانے میں مشغول تھے ،  اُن کے سامنے صرف ایک ڈش میں کھانا رکھا  ہوا تھا جس کو وہ اپنی اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھا رہے اور شاید دونوں کے سامنے ایک ایک گلاس جوس بھی رکھا ہوا نظر آ رہا تھا جس سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ بیچاروں کا رومانوی ماحول میں بیٹھ کر کھانا کھانے کوتو  دل چاہ رہا  ہوگا مگر جیب زیادہ اجازت نا دیتی ہو گی۔ ریسٹورنٹ میں ان کے علاوہ کچھ عمر رسیدہ خواتین نظر آ رہی تھیں۔

ہم سب کی بھوک اپنے عروج پر تھی  اور اسی بھوک کا حساب لگاتے ہوئے میرے دوستوں نے کھانے کا فراخدلی سے آرڈر لکھوایا۔ ریسٹورنٹ میں گاہکوں کے نا ہونے کی وجہ سے ہمارا کھانے لگنے میں زیادہ وقت  نا  لگا اور ہم نے بھی کھانے میں خیر سے کوئی خاص دیر نا لگائی۔

پیسے ادا کر کے جب ہم جانے کیلئے اُٹھے تو ہماری پلیٹوں میں کم از کم ایک تہائی کھانا ابھی بھی بچا ہوا تھا۔ باہر جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے  ریسٹورنٹ میں موجود اُن بڑھیاؤں نے ہمیں آوازیں دینا شروع کر دیں۔ ہم نے مڑ کر دیکھا تو وہ ساری اپنی جگہ کھڑی ہو کر زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اور ہم نے یہی اندازہ لگایا کہ اُنکا موضوع ہمارا ضرورت سے زیادہ کھانا طلب کرنا اور اس طرح  بچا کر ضائع کرتے ہوئے جانا تھا۔ میرے دوست نے جواباً اُنہیں کہا کہ ہم نے جو کچھ آرڈر کیا تھا اُس کے پیسے ادا کر دیئے ہیں اور تمہاری اس پریشانی اور ایسے معاملے میں جس کا تم سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا میں دخل اندازی کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔  ایک عورت  یہ بات سُنتے ہی  ٹیلیفون کی طرف لپکی اور کسی کو فوراً وہاں آنے کو کہا۔ ایسی صورتحال میں ہمارا وہاں سے جانا یا کھسک جانا ہمارے لیئے مزید مسائل کھڑے کر سکتا تھا اس لئے ہم وہیں ٹھہرے رہے۔

کچھ ہی دیر میں وہاں ایک باوردی شخص آیا جس نے اپنا تعارف ہمیں  سوشل سیکیوریٹی  محکمہ کے ایک افسر کی حیثیت سے کرایا۔ صورتحال کو دیکھ اور سن کر اُس نے ہم پر پچاس مارک کا جرما نہ عائد کر۔ اس دوران  ہم چپ چاپ کھڑے رہے۔  میرے دوست نے آفیسر سے معذرت کرتے ہوئے پچاس مارک جرمانہ ادا کیا اور اس نے ایک رسید بنا کر میرے دوست کو تھما دی۔

آفیسر نے جرمانہ وصول کرنے کے بعد شدید لہجے میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ : آئندہ جب بھی کھانا طلب کرو تو اُتنا ہی منگواؤ جتنا  تم کھا سکتے ہو۔ تمہارے پیسے تمہاری ملکیت  ضرور ہیں مگر وسائل معاشرے کی امانت ہیں۔ اس دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جو غذائی کمی کا شکار ہیں۔ تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ تم کھانے پینے کی اشیاء کو اس طرح  ضائع کرتے پھرو۔

بے عزتی کے احساس اور شرمساری سے ہمارے چہرے سرخ ہورہے تھے۔  ہمارے پاس اُس آفیسر کی بات کو سننے اور اس سے اتفاق کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ ذہنی طور پر ہر اُس بات کے قائل ہو چکے تھے جو اُس نے  ہمیں کہی تھیں۔  مگر کیا کریں ہم لوگ ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جو وسائل کے معاملے میں  تو خود کفیل نہیں ہے مگر ہماری عادتیں کچھ اس طرح کی بن گئی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی مہمان آ جائے تو  اپنا منہ رکھنے کیلئے یا اپنی جھوٹی  عزت یا خود ساختہ اور فرسودہ روایات   کی پاسداری خاطر دستر خوان پر کھانے کا ڈھیر لگا دیں گے۔ نتیجتاً بہت سا  ایسا کھانا کوڑے کے ڈھیر کی نظر ہوجاتا ہے جس کے حصول کیلیئے کئی  دوسرے ترس رہے ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم  اپنی  ان بری عادتوں کو تبدیل کریں اور نعمتوں کا اس طرح  ضیاع اور انکا اس طرح سے  کفران  نا کریں۔

ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر  میرے دوست نے سامنے کی ایک دکان سے  جرمانے کی رسید کی فوٹو کاپیاں بنوا کر ہم سب کو اس واقعہ کی یادگار کے طور پر دیں تاکہ ہم گھر جا کر اسے نمایاں طور پر کہیں آویزاں کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہ آئندہ کبھی بھی اس طرح کا اسراف نہیں کریں گے۔

جی ہاں! آپکا  مال یقیناً آپکی مِلکیت ہے مگر وسائل سارے معاشرے کیلئے ہیں۔ 

مال تمہاری ملکیت مگر وسائل معاشرے کی ملکیت ہوا کرتے ہیں

مال تمہاری ملکیت مگر وسائل معاشرے کی ملکیت ہوا کرتے ہیں

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اصلاحی and tagged , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

32 Responses to جرمنی سے ایک نصیحت آموز سبق

  1. محبوب بھوپال نے کہا:

    اسلام و علیکم

    محترم

    جی ہاں! آپکا مال یقیناً آپکی مِلکیت ہے مگر وسائل سارے معاشرے کیلئے ہیں اللہ اس ملک کے اقتدار کے طبقے کو ھدایت دے جو وسائل پر سانپ بن کر بیھٹے ھوئے ھیں آمین

  2. قیصر خان نے کہا:

    Hamaray is Muaashray ka kia ho ga jis main Wassail ki zyaadtti is qadar hai ki Shaadi ki taqreebaat ho ya Saalgiraah ke mawaaqeh Bejaa Israaf humein tabaahi ke dahaanay pe lay aate hain…

  3. قیصر خان نے کہا:

    sabakamoz

  4. عتیق الرحمن شاہد نے کہا:

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
    ماشا اللہ تحریر اورواقعہ بہت اچھا ہے .اللہ تعالیٰ آپ کواس کی جزائ دے.
    ہر فرد اگرکفایت شعاری پر عمل کرناشروع کردےتو یقینا اس کی ترقی کے ساتھ ملک بھی ترقی کرے گا.
    اللہ تعالیٰ سے دعاکریں کہ ملک پاکستان میں بھی ایساقانون بنے جس سے ملک کے اندر سے بیروزگاری اورمہنگائی کاطوفان ختم ہو اورملک ترقی کی راہ پر گامز ن ہو.
    نیک دعاوں میں یاد رکھنے کی استدعا کے ساتھ
    والسلام
    عتیق الرحمن شاہد

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم عتیق الرحمٰن شاہد صاحب۔ و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ بلاگ پر خوش آمدید، اللہ تبارل و تعالیٰ آپکو بھی جزائے خیر سے نوازے۔
      جی آپ ٹھیک کہتے ہیں کہ اگر نعمتوں‌کی قدر و منزلت کا ادراک ہوجائے تو معاشرے میں بہت سی اچھائیاں‌پیدا ہو جائیں‌گی۔ اللہ ہمیں‌نیکی کے راستے پر چلائے۔

  5. فرخ صدیقی نے کہا:

    مع السلامۃ
    اظن ترجمت من القلب ۔(ممتاز)
    منذ یوم من الایام ایضا انا قرات ہذا فی الجریدۃ فی باکستان ۔
    الان
    قرات ھنا۔
    فرحت جدا ۔۔۔۔۔ لان کتابتک احسن منہ ۔۔۔
    فجزاکم اللہ خیرا
    یااخی الکریم !!!
    لا تترک مساحتک لاجل ھولاء الذین یریدون ان یصدونک عن سبیلک۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      الاخ‌الکریم فرخ‌صدیقی المحترم
      ارحب بک من اعماق قلبی علی موقعی ھذا۔
      مع الاسف الشدید، انا جید بمجال الترجمہ من العربی الی اللغات الاخری ولاکن عندی صعوبۃ بالترجمۃ من اللغات الاخری الی العربیہ۔ حیث ردک علی المقال بالعربی، فحبیت ان ارد علیک بالعربیہ ایضا۔
      الرجإ منک الزیارہ باستمرار و ارشادنا الی الخیر دائما۔
      اخوک فی اللہ / محمد سلیم

  6. زینیا نے کہا:

    Asslamoalikum sir aap ki mailz kafi sabakamoz or intersting hoti han kisi ko nasihut karny ka ye zaberdast tarika hy thanks for such nice mailz and mah a ramzan mubarak have a nice day

  7. پنگ بیک: جرمنی سے ایک نصیحت آموز سبق

  8. پنگ بیک: جرمنی سے ایک نصیحت آموز سبق | Tea Break

  9. عمیر ملک نے کہا:

    السلام علیکم
    تحریر بہت خوب ہے۔ اور پوشیدہ سبق بھی اعلیٰ ہے۔ اللہ ہم سب کو اسراف و نمود و نمائش سے محفوظ فرمائے۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      عمیر ملک؛ بلاگ پر خوش آمدید، تحریر پسند کرنے کا شکریہ۔ جی آپ نے خوب پہچانا اس کے اندر ایک درس پوشیدہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں‌ہدایت دے اور نعمتوں‌کے اسراف اور نمود و نمائش سے بچائے۔ آمین یا رب

  10. ظفرحیات چودھری نے کہا:

    اسلام علیکم! محترم سلیم بھائ!
    "تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب – یہ تو چلتی ھے تجھے اونچا اُڑانے کے لیے!
    میں نے اوپر تمام تباصر پڑھے ھیں اور ان میں اپنے چند نقّاد بھائیوں کی تنگ نظری اور تنگ ذھنی پر افسوس ھوا ھے اور دعا ھے کھ اللہ تبارک و تعالٰی ھمیں علمگیری سوچ عطا فرماے ! آمین!
    بات مغرب کی تعریف یا تضحیک کی نھیں – بات تو نعمتوں کی تھی جو اللہ عزّوجل کی طرف سے ھم جاھل، کم عقل ،تنگ نظر انسانوں کے لیے عطا کی گئیں ھیں ! اللہ عزّو جل نے تو ھمارے سانس لینے اور خارج ھونے والی ھوا کو بھی پودوں اور درختوں کے لیے فائدہ مند بنا دیا تاکہ ری سائیکلنگ کی عمل کے ذریعے کوئ نعمت ضائع نہ ھو۔ اور ا س مضمون میں کہیں پر بھی نھیں لکھا کھ وہ لوگ اور وہ سیکورٹی اھلکار غیر مسلم تھے۔
    اسلام ایک عالم گیر دین ھے جس پر مشرق / مغرب/شمال یا جنوب کی پابندیاں نھیں ھیں۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      محترم ظفر حیات صاحب؛ بلاگ پر خوش آمدید۔ آمدنت باعث آبادی ما۔ جی ہاں اللہ تعالیٰ نے ہر کام کا ایک نظام متعین فرمادیا دے۔ معلومات کا شکریہ۔ میں‌اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ مثبت تنقید سے بات کو سمجھنے میں‌آسانی رہتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ بد ظنی سے بچائے اور ہدایت دے کر ہمیں‌نیکی کے راستے پر چلا دے۔

  11. zulfiqar نے کہا:

    سلیم بھائئ شکریہ آپ بھت اچھا کا م کر رھے ھیں اللہ اپ کو اِ س کا اَ جر خیر دے

  12. محمد سلیم نے کہا:

    گل چوہدری، بلاگ پر خوش آمدید، اللہ ہم سب کو نعمت کی قدر کرنا سکھائے۔ آمین یا رب العالمین۔
    موقع کی مناسبت سے چند ایک گزارشات عرض کرنا چاہوں‌گا۔
    پاکستان میں‌لوگوں‌کی اکثریت تو لمبے شوربے والی دال یا پھر ایک بوٹی فی فرد کے حساب سے کھانے والوں کی ہے۔ پہلے تو گھر بھر کے افراد کیلئے روٹی کے پورا ہونے کا مسئلہ ہوتا ہے اور اگر کبھی کبھار بچ بھی جائے تو صبح اس روٹی کو پانی میں بھگو کر ایک پراٹھے نما چیز بنا لی جاتی ہے۔ اور شاید آپ نے روٹیوں‌کے ٹکڑوں‌سے تیار کردہ میٹھا نا سنا ہو، یہ ایسی روٹیوں‌ کے ٹکڑوں‌سے بنتا ہے جو کسی طور استعمال ہوتی نظر نا آرہی ہوں۔ اب ایسے لوگ نعمتوں‌کا کیا اور کیسے کفران کریں‌گے۔ اس قصے میں‌بنادی طور پر سبق ان لوگوں کیلئے ہے جو دوسروں کے منہ تک پہنچ پانے والے غلہ کو اپنے مال کے بل بوتے پر خرید کر مذہب سے بغاوت کا اعلان کرتے ہیں۔ جو اپنے پیسوں کی نمائش کے لئے رزق کی فراوانی کا مذاق اڑاتے ہیں۔
    اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت کے سائے میں‌ڈھانپا رکھے، جن کے پاس نہیں‌ہے ان کو عطا کرے اور جن کے پاس زیادہ ہے ان کو رزق کی قدر و قیمت سے آشنا کرے- یا رب آمین

  13. گل چوہدری نے کہا:

    سلیم صاحب! کاش پاکستان کے لوگ رزق کی قدر کرنا سیکھ لیں

  14. بدر یوسف نے کہا:

    اسد بھائی آپ نے کیا خوب کہا – میں نے پڑھا ہے کے یہ مت دیکھو کہ کون کہ رہا ہےیہ دیکھو کہ کیا کہہ رھا ہے۔۔۔

  15. بدر یوسف نے کہا:

    سلیم صاحب! لگتا ہے کہ جرمنی جا کر کھانا ضائع کرنے والوں میں سے دو دوست "فارغ اور جہالستان سے جاہل اور سنکی” ہی تھے۔ جنکو اس تحریر پڑھنے کے بعد کافی صدمہ ہوا ہے ۔

  16. محمد سلیم نے کہا:

    اسد، بلاگ پر خوش آمدید، یہ کہانی اپنے اندر ایک عبرت اور سبق لئے ہوئے ہے۔ نعمتوں‌کا کفران نعمتوں کے زوال کا سبب بھی بن سکتا ہے، اس بات پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نعمتوں کے زوال سے محفوط رکھے۔ سرکار دو عالم تو روٹی کا گرا ہوا ٹکڑا بھی اٹھا لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے اے عائشہ یہ (نعمت) جس قوم سے بھی روٹھی ہے پھر لوٹ کر نہیں‌آئی۔ یا اللہ ہمیں ایسی صورتحال سے محفوظ رکھنا۔

  17. اسد نے کہا:

    اسلام و علیکم

    میں نے پڑھا ھے کے یھ مت دیھکو کھ کون کھ رھا ھے یھ دیھکو کھ کیا کھ رھا ھے

    بھت اچھی نصحت ھے

  18. محمد سلیم نے کہا:

    جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ نے لکھا:
    میں‌اس قصے کے سچ ہونے یا جھوٹ کی وکالت نہیں کرنا چاہتا، یہ کوئی مذہبی واقعہ تو نہیں ہے مگر اپنے اندر ایک عبرت اور ایک سبق ضرور لیئے ہوئے ہے۔ اس مضمون کا عربی نام (المال ملكك لكن الموارد ملك المجتمع) ہے اور گوگل پر اسکا سرچ رزلٹ مندرجہ ذیل ہے
    (About 139,000 results (0.07 seconds)
    یہ واقعہ عربی زبان کی کئی معتبر ویب سائٹس پر موجود ہے جن میں سے ایک کا نام الساحۃ ڈات کام ہے اور سعودیہ میں رہنے والے اس ویب سائٹ کی قدر و قیمت خوب جانتے ہیں‌کہ حکومت کی بندش کی وجہ سے اس کو کس طرح جتن کرکے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سلطنت عمان کی وزارۃ التربیۃ والتعلیم کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی یہ واقعہ موجود ہے۔
    رزق کی قدروقیمت کی تعلیم تو اسلام دیتا ہے مگر ہم اس پر عمل پیرا ہی نہیں ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں نعمت کے زوال سے محفوظ رکھے۔
    عرب ملکوں میں‌ دعوتوں‌پر کھانے کی کس طرح بے حرمتی ہوتی ہے اس کا اندازہ لگانے کیلئے میں اس پوسٹ میں ایک تصویر کا اضافہ کیا ہے جس سے کچھ اندازے لگانے میں‌آسانی ہوگی۔

  19. اچھی بات کو نہ تو بورنگ ہونا چاہیئے اور نہ ہی انٹرسٹنگ ۔ ایک اچھی بات یہ ہے کہ سچ کے زور پر کسی بھی اچھی بات کو بورنگ بنایا جا سکتا ہے اور جھوٹ کے زور پر کسی بھی بری بات کو انٹرسٹنگ بنایا جا سکتا ہے ۔

  20. محمد سلیم نے کہا:

    جرمنی کے قانون آپ سے بہتر کون جان سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کہانی میں جھوٹ کے کچھ اضافات ہوں۔ بات کھانوں‌کے بے جا اسراف اور جھوٹی نمود و نمائش کی تھی تو اس کہانی میں یقینآ ایک اچھا درس موجود ہے اور قاری کو غیر محسوس طریقے سے ایک نصیحت کرتا ہے۔ میں‌خواہش کرونگا کہ قاری کی توجہ اسی فائدے کی طرف مبذول رہے۔
    اس سے قبل بھی جب میں‌ نے (اسلام کی قیمت بیس پنس) نامی مضمون لکھا تھا تو اسی قسم کا مسئلہ اور برطانوی قانون سے عدم واقفیت کا شبہ پیدا ہوگیا تھا مگر اللہ کا شکر ہے کہ اکثریت قراء نے مضمون کے اصل مقصد کی طرف ہی توجہ مبذول رکھی تھی۔ اللہ ہم سب کو معاف فرمائے۔

  21. فارغ نے کہا:

    یہ تحریر نصیحت آموز صحیح لیکن جھوٹ پر مبنی ہے۔ صاحب تحریر یا تو کبھی جرمنی گئے ہی نہیں یا پھر وہاں کے قوانین سے واقف نہیں۔ اگر موصوف فوٹو کاپی لگا دیں تو ھم کوئی نیا قانون دریافت کرلیں

  22. محمد سلیم نے کہا:

    محترم محمد ھارون غوری صاحب، بلاگ پر تشریف آوری اور مضمون پسند کرنے کا شکریہ۔ ہمت افزائی کیلئے بہت مشکور ہوں،

  23. Muhammad Haroon ghauri نے کہا:

    Bohot umda tarika hay nasihat karney ka Is koo jari rakhna yar ,Bohot sakht zaroorat hay is ki aj kal

  24. محمد سلیم نے کہا:

    دوست، تشریف آوری کا شکریہ۔ تحریر تو ذاتی ہے اور آج ہی معرض وجود میں آئی ہے۔ (ذاتی سے مراد عربی ادب سے مترجم – ترجمہ کل رات سے شروع کیا تھا اور آج ختم ہونے پر پوسٹ کیا ہے)۔ مجھے اللہ والا کہہ کر آپ نے مجھ پر بہت احسان کیا ہے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

  25. دوست نے کہا:

    اللہ والیو یہ تحریر کسی اخبار میں پڑھی ہوئی ہے پہلے۔ آپ کی اپنی ذاتی ہے؟

  26. محمد سلیم نے کہا:

    محترم یعقوب احمد صاحب، بلاگ پر خوش ٓمدید۔ جی ٓپ نے بالکل ٹھیک کہا ہے۔ قرٓن شریف میں یہ بات سورۃ الاسراء کی ٓیت نمبر 65 اور 66 میں فرمائی گئی ہے۔
    وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا – إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ
    اور فضول خرچی سے مال نہ اُڑاؤ – کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں۔

  27. yaqub ahmad نے کہا:

    Assalam o allikum,
    Awesome!!
    Islam ne be esraf se mana kia hy awar esraf kerne walo ko shaitan ka bai kaha hy.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s