خاموشی کی جاذبیت


خاموشی کی جاذبیت

کچھ لوگ بہت کم بولتے ہیں اور محفلوں یا بیٹھکوں میں انکی آواز خال خال ہی سنائی دیتی ہے۔ اگر ان لوگوں کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو محض ان کے سر ہلتے ہوئے نظر آئیں گے یا پھر انہماک اور توجہ سے بھرپور آنکھیں یا پھر چہرے پر آئی ہوئی مسکراہٹ اور بدلتے ہوئے تأثرات۔۔۔ بات چیت کریں گے تو کبھی کبھار اور وہ بھی مختصر۔ ان سب باتوں کے باوجود بھی ان لوگوں کو پسند بھی کیا جاتا ہے اور یہ لوگ محفل کی جان بھی سمجھے جاتے ہیں۔

معاشرے میں نمایاں اثر رکھنے والے اور کامیاب ترین لوگ ہمیشہ اچھے سامع اور دوسروں کی باتوں کو غور سے سننے والے لوگ رہے ہیں۔ زیادہ باتیں کرنا کبھی بھی کامیاب شخصیت کی علامت نہیں رہا اور نا ہی زیادہ باتیں کرنے والے لوگ با اثر ہوتے ہیں۔ بلکہ زیادہ بولنے والے کی گفتگو کے اختتام پر اُسکی کی ہوئی باتوں پر دلیلیں اور پھر وضاحتیں دینے کا کام شروع ہو جایا کرتا ہے۔

 ماہرین سماجی نفسیات کہتے ہیں کہ لوگوں کو محبت اور غور سے سننے والے اصل میں لوگوں کے دلوں پر حکومت کرنے کا راز جاننے والے لوگ ہوا کرتے ہیں اور لوگوں سے اُنکے تعلقات ہمیشہ ثمر آور ہوا کرتے ہیں۔

ایک اچھا سامع ہونا بھی مہارت کا کام ہے۔ کچھ لوگ تو یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بولنے کیلئے تو ایک زبان مگر سننے کیلئے دو کان بنائے ہیں تاکہ سُنا زیادہ اور بولا کم جائے۔ اگر آپ سننے کی عادت ڈالنے کا ارادہ کر ہی لیں تو یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ چاہے بولنے والے کی بات پر آ پکو اعتراض ہی کیوں نا ہوا کرے اُسے بات پوری کرنے کا موقع دیا کریں۔

 مشہور مصنف سٹیفن کوفی اپنی کتاب (کامیاب ترین لوگوں کی سات عادتیں) میں ایک ایسے شخص کے ساتھ کی ہوئی اپنی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے جس کے اپنے بیٹے کے ساتھ تعلقات خراب تھے۔

اُس آدمی نے سٹیفن کو بتایا: میں اپنے بیٹے کو سمجھ نہیں پا رہا، کیونکہ وہ میری بات سننا ہی نہیں چاہتا۔

سٹیفن نے کہا: دیکھو، جو کچھ تم نے مجھے بتایا ہے میں اُسے اِن الفاظ میں ترتیب دیکر تمہیں بتاتا ہوں: تم اپنے بیٹے کو سمجھ ہی نہیں پا رہے کیونکہ تمہارا بیٹا تمہاری کوئی بات سُننا ہی نہیں چاہتا۔

اُس آدمی نے کہا؛ جی، میری بات کا یہی مطلب تھا۔

سٹیفن نے کہا: میں تمہاری بات کو تمہیں ایک اور انداز سے بتاتا ہوں کہ تم اپنے بیٹے کو سمجھ ہی نہیں پا رہے کیونکہ وہ تمہاری باتوں کو ہرگز سُننا ہی نہیں چاہتا۔

اُس آدمی نے بیزاری سے کہا: جی جناب، میری بات کا یہی مطلب ہے۔

سٹیفن نے پھر کہا: میرا تو خیال یہ بنتا ہے کہ تم کسی ایسے آدمی کو سمجھ ہی نہیں پا رہے جس کو تُم سُننا نہیں چاہتے۔

اُس باپ کے منہ سے ایک آہ (صدمہ کی سی کیفیت سے) نکلی، پھر ایک طویل خاموشی کا وقفہ آیا، اُس نے پھر ایک بار کہا : اوہ ہ ہ ہ

یہ باپ ایسے لوگوں میں سے ایک چھوٹی سی مثال ہے جو یہ کہہ کہہ کر نہیں تھکتے کہ مجھے تمہاری سمجھ ہی نہیں آ رہی، جبکہ حقیقت میں تو اُس نے نا تمہاری بات سنی ہے اور نا ہی آ پ کو اس قابل بنایا ہے کہ آپ بھی اُس کی بات کو سنو۔

آئیے لگے ہاتھوں ایک قصہ سنیئے۔۔۔

نبوت کے ابتدائی زمانے میں جب کہ مسلمانوں کی تعداد چند ایک ہی تھی، کفار زور و شور سے نبوت کو جھٹلانے کے ساتھ ساتھ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کو پاگل (مجنون) اور جادوگر جیسے طعنے دیکر طنز و تشیع کیاکرتے تھے۔ ایسے میں مکہ میں ایک شخص آیا جس کا نام ضماد تھا۔۔۔

ضماد پیشے کے لحاظ سے طبیب تھا، جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کے پاگل پن اور اُن پر کیئے گئے جادو اور جنات کے اثرات کا بھی علاج کیا کرتا تھا۔

ضماد لوگوں سے مل ملا کر ابھی بیٹھ ہی رہا تھا کہ شور سا اُٹھا؛ وہ دیکھو پاگل آ گیا۔۔۔۔

ضماد نے پوچھا: کدھر ہے وہ پاگل شخص، ہو سکتا ہے اِسے میرے ہاتھوں شفا مل جائے۔

لوگوں نے اُسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کھڑا کیا۔

ضماد جب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو کہا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، میں ایسی بیماریوں کیلئے دم درود کرتا ہوں اور اللہ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھوں سے شفا دے دیتا ہے، اگر کہو تو میں تمہارا علاج کر دوں؟

اور ضماد لگا بولنے اپنے علاج، طریقہ علاج اور علاج سے شفا پانے والوں کے بارے میں، اور میرے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم لگے سننے اُسکی باتوں کو، یہ بولتا جا رہا ہے اور سرکار سنتے جا رہے ہیں۔

کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کس شخص کو اس قدر توجہ سے سن رہے تھے؟

جی ہاں؛ ایک کافر کو، اور کافر بھی وہ جو اُن کے پاگل پن کا علاج کرنا چاہتا تھا۔

جب ضماد اپنی بات مکمل کر چکا تو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:

إن الحمد للہ، نحمدہ و نستعینہ

من یھدہ اللہ فلا مضل لہ و من یضلل فلا ھادی لہ،

و أشھد اَن لا الہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ،

ضماد نے حیرت کے ایک جھٹکے سے جھرجھری سی لی اور کہا؛ اپنی بات کو ذرا پھر سے دُہرانا، اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کہی ہوئی بات کو ایک بار پھر دُہرا دیا۔

ضماد نے کہا؛ اللہ کی قسم، میں نے تعویذ و گنڈے کرنے والوں اور کاہنوں کے کلام بھی سنے ہیں اور جادو گروں کے منتر بھی، میں نے شاعروں کے کلام بھی سُنے ہیں مگر ایسا کلام کبھی نہیں سُنا جو سمندروں سے زیادہ گہرا اثر رکھتا ہو۔ کیا تم (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے اپنا ہاتھ نہیں دوگے کہ اُسے تھام کر اپنے اسلام لانے کیلئے بیعت کر لوں؟

سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ضماد کی طرف بڑھایا اور ضماد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دُہرا رہا تھا (أشھد أن لا الہ إلا اللہ و أشھد أن محمد عبدہ و رسولہ)۔

سرکار کو جب پتہ چلا کہ ضماد اپنے قبیلے کا معزز اور عزت و افتخار والا شخص ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضماد سے کہا؛ تو پھر تم اپنی قوم کیلئے بھی (تو کچھ کروگے ناں)؟

ضماد نے کہا؛ ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)، میں اپنی قوم کیلئے بھی (ہدایت کا پیغام لے کر جاؤنگا)۔ اور ضماد اپنی قوم کیلئے ہدایت اور دعوت کا پیغام لے کر روانہ ہوگیا۔

دانا کہتے ہیں؛ اگر جاہلوں کے ساتھ بیٹھو تو اُنہیں خاموشی سے سُنو، اور اگر علماء کے ساتھ بیٹھو تو اُنہیں بھی خاموشی سے سُنو، جاہلوں کو خاموشی سے سُننے پر تمہارے حلم اور بُردباری میں اضافہ ہوگا، اور علماء کو خاموشی سے سُننے پر تمہارے علم میں اضافہ ہوگا۔

 تو کیا پھر کیا خیال ہے آپ بھی ایک اچھے سامع بننا چاہتے ہیں؟

تو پھر سنتے رہیئے۔ سر کو ہلا کر اپنی موجودگی اور بھرپور توجہ کا اظہار کرتے ہوئے۔ اور اپنے تأثرات کا اظہار کرنا تو بہت ہی ضروری ہے چاہے بولنے والا چھوٹا ہو یا بڑا۔ جی ہاں سنتے رہیئے، یہ احساس دلانے کیلئے کہ بولنے والا آپ کیلئے کتنا اھم ہے ، اِسی طرح ہی تو آپ اُسکا دل جیت پائیں گے۔

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اصلاحی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

22 Responses to خاموشی کی جاذبیت

  1. danish نے کہا:

    Great job with beautiful thoughts,thanks GOD bless u

  2. محمد شاہد چوہدری نے کہا:

    مکرمی جناب آپ کا مضمون بہت اچھا ہے اسی طرح سے لوگوں کی اصلاح کیلئے لکھتے رہیں اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب محمد شاہد چوہدری صاحب، بلاگ پر تشریف آوری اور مضمون کی پسندیدگی کا شکریہ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو ہدایت اور فلاح سے نوازے۔ آمین یا رب العامین

  3. Mian Shahid Sharif نے کہا:

    بہت عمدہ اور قابل ستائش تحریر ہے اور ایسے انداز اور رویئے اپنانا اور اختیار کرنا معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کے لئے بے حد مفید ہے

    سلیم بھائی اس خوبصورت تحریر کو پیش کرنے پر میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں امید ہے کہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری و ساری رہے گا

    والسلام

    میاں محمد شاہد شریف

  4. Abdul Aziz نے کہا:

    Mohd Saleem very nice post

  5. عامر شہزاد نے کہا:

    ماشاءاللہ، بہت اچھا مضمون ہے۔ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے۔

  6. Dr. Zubair Ahmad نے کہا:

    Dear Brother Muhammad Saleem, Asslam-o-Alikum !.
    I appreciate this logical article which sheded a light to tune up our dialy life activities. The literaty style is facile and absorbable by the common readers. It maped and marked ecology of civilization and provide a solution to eliminate mistakes. Allah ah! bless you long life and strengtened your literaty work. Keep continue to write for the society. Yours Brother,
    Dr. Zubair Ahmad

  7. عمران اقبال نے کہا:

    ایک نہایت اچھا سبق پھر سے یاد کرانے کے لیے بہت شکریہ۔۔۔

    اللہ آپ کو اسی طرح ہدایت کا ذریعہ بناتا رہے۔۔۔ آمین۔۔۔

  8. آ پ کی میلس اکژ پڑہنے ملتی ہیں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

  9. پنگ بیک: خاموشی کی جاذبیت۔۔تحریر:محمد سلیم ،شانتو ،چائنا | سلیقہ میگ

  10. PROF DR. MIRZA BARJEES BAIG نے کہا:

    My dear Saleem sahib
    asslamoaliakum
    I have no words to thankyou for providing such informative articles. you always combine simple concept with the islamic quotes/examples.Your particular style give the reader to grasp the essence of the subject very quickly. As a gift, I send your articles to all my friends in different parts of the world. I admire your knowledge and devotion to share with others. I assure you will have big reward from ALLAH ALMIGHTY. Meanwhile please allow me to thankyou very much for providing us such remarkable articles to a wide circle of your reader around the globe. With warm regards. Sincerely,
    Prof. Dr. Mirza BARJEES BAIG
    KING SAUD UNIVERSITY, SAUDI ARABIA,.

  11. گمنام نے کہا:

    .Respected saleem bhai,aoa,indeed u r doing a great job n sadqa jaria n amar bilmaroof wa nahi anilmunkar lot of muslims like me we have developed a habit that we listien with great intreast the man who is making back biting (gheebat) of others,and that type of person is respectable and people gave him the khatab of much informative person.some time i have pointed out that type of person that u r making gheebat if u want to entertain other then go ahead without gheebat,n beleive me after that infront of me he has not any story or news and ofcourse they have start avoiding me .Pls write about on gheebat,aour Allaha say doaa hay k Allaha in gheebitioun ko hadayat day ta k wo ghebat karnay say bazz rehein aour hum logoo ko himmat day k hum in ki gheebat suneney say bazz rehein

  12. سلیم بھائی!

    اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ اسمین کوئی شک نہیں آپ کے تمام مضامین میں نصحیت کا ایک علم بند ہوتا ہے۔ اور آپ ایک سے بڑھ کر ایک موضوع چن کر لاتے ہیں۔

    حاتم طائی بنام پاکستانی بلاگرز۔ المعروف سوشل میڈیا سمٹ۔ ڈرامے کا ڈراپ سین ہوا۔ منتظمین کی نیت خواہ کچھ بھی رہی ہو۔ یار لوگوں کو آواری میں گپ شپ کا اچھا موقع ملا۔ . . . . . . . . . . . .

    • محمد سلیم نے کہا:

      پیارے بھائی جاوید گوندل صاحب، تشریف آوری اور مضمون پسند کرنے کا شکریہ۔ آپکی ھوصلہ افزائی میرے لئے مہمیز کا کام کرتی ہے۔ تشریف لاتے رہا کریں۔

  13. پنگ بیک: خاموشی کی جاذبیت | Tea Break

  14. hijabeshab نے کہا:

    بہت خوب ، واقعی زیادہ بولنا باعثَ مصیبت ہی ہے ۔۔

  15. Darvesh Khurasani نے کہا:

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ماشاء اللہ ایک زبردست بات کی طرف توجہ دلائی ہے۔واقعی میں نے دیکھا ہے کہ مجلس میں جو سب سے زیادہ باتیں کرتا ہے وہی مبغوض ٹہرتا ہے۔

    چند دن قبل ایسے ہی ایک دعوت میں شریک تھا۔ دعوت میں دو حضرات نے بس بولنے کا ٹھیکہ لے رکھا تھا۔ اخر ایک شخص سے رہا نہ گیا اور اس نے ان دونوں کو مخاطب کرکے کہا کہ جب تم دونوں نے باتیں کرنے کا ٹھیکہ لے ہی لیا ہے تو کھانا لگنے کے بعد بھی چپ نہ ہونا بلکہ بولتے رہنا۔ باقی سب حضرات نے بھی اس آدمی کی طرف دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں اسکی بات کی تائید کی۔

    آپکے پوسٹس بہت فائدہ مند ہوتے ہیں ۔ انکو جاری رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ آپکو خوش رکھے۔ شکریہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s