کیا زندگی اتنی ہی کٹھن ہے؟


اگر آپ اُن لوگوں میں سے ہیں جنکا خیال ہے کہ یہ زندگی بہت کٹھن ہے تو آپکو اپنی رائے پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ کیوں کہ آج میں جس شخص کے بارے آپکو بتانا چاہتا ہوں اُسکی ٹانگیں تو نہیں ہیں مگر وہ ٹانگوں والوں کو چلنا سکھاتا ہے۔ جس کے بازو بھی نہیں ہیں مگر وہ بازوؤں والوں کو تھامنا سکھاتا ہے۔ اپنی تمام تر معذوری کے باوجود بھی اُس نے وہ کُچھ کر دکھایا ہے جو بہت سارے تندرست نہیں کر سکتے۔ خود انحصاری کی عمدہ ترین مثال یہ شخص اُن لوگوں کو جینے کے طریقے سکھاتا ہے جو اپنی تمام تر جسمانی سلامتی اور صلاحیتیوں کے باوجود بھی دوسروں کے مُحتاج بنے رہتے ہیں۔


میرا مطلب ۲۹ سالہ نِک ووئےچیچ (Nick Vujicic – pronounced – Vooy-cheech) سے ہے جو پیدائشی طور پر دونوں بازوؤں اور دونوں ٹانگوں سے محروم ہے۔ پیشے کے لحاظ سے مبلغ، گشتی مقرر اور ایک غیر منافع بخش تنظیم ‘بغیر اعضاء کے زندگی’ (Life without limbs) کا سربراہ ہے۔ یہ تنظیم پیدائشی یا حادثاتی طور پر معذور اشخاص کو جینے کے ڈھنگ سکھانے کے ساتھ ساتھ با عزت زندگی گزارنے کے فن سکھاتی ہے۔


نک 4 دسمبر 1982 کو آسٹریلیا کے شہر بریسبین میں مُقیم ایک سرب خاندان میں پیدا ہوا۔ نک اپنے والدین کی پہلی اولاد تھا، وہ ٹیٹرا امیلیا (Tetra Amelia) نامی ایک نادر بیماری، جس کیلئے سائنس کوئی توضیح بھی نہیں پیش کر سکتی کا شکار دونوں بازوؤں اور ٹانگوں سے محروم پیدا ہوا۔ کسی قسم کی پیشگی معلومات نہ ہونے کی بناء پر نوزائیدہ بچے کی ایسی معذوری دیکھ والدین اور ڈاکٹروں کو انتہائی صدمہ پہنچا۔ نک کے صرف بائیں دھڑ کےنیچے ایک چھوٹا سا دو انگلیوں والا پیر لگا ہوا ہے۔ پیدائش کے وقت نک بازو اور ٹانگیں نہ ہونے کے باوجود بھی صحتمند تھا۔ نک کے والدین کے ہاں بعد میں بھی دو اولادیں ہوئیں جن میں کسی قسم کا کوئی بھی جسمانی عیب نہیں ہے۔


نک کا بچپن بہت ہی پریشان کُن گزرا۔ مینسٹریم سکول میں قانونی طور معذوروں کیلئے داخلہ منع ہونے کے باوجود بھی اُسے داخلے کی اجازت تو مِل گئی مگر اپنے ساتھی طالبعلموں کی طرف سے تضحیک کا نشانہ بننے سے اُسے کوئی نہ بچا سکا۔


سات سال کی عمر میں نک کو کُچھ مصنوعی اعضاء لگانے کی کوشش کی گئی۔ اِن اعضاء کے ساتھ بھی وہ اپنے آپ کو دوسروں جیسا نہ پا سکا۔ یہ کوششیں اُسکی خوشی کا باعث بننے کی بجائے اور بھی زیادہ دکھ اور غم کا سبب بنیں۔ جب وہ اُچھل اُچھل کر چلتا تو بچے اُسکا مذاق اُڑاتے۔ دِل شکنی اور نفسیاتی دباؤ کے اِس احساس کی وجہ سے محض 8 سال کی عمر میں اُس نے پہلی بار ناکام خودکُشی کی کوشش کی۔ عمر کے دسویں سال ایک بار پھر اُس نے ڈوب کر مرنے کا ارادہ کیا، باوجود پانی میں اُتر جانے کے، اپنے والدین کی مُحبت کا سوچ کر اپنا ارادہ ملتوی کردیا۔ نک ہمیشہ اپنے آپ سے سوال کرتا تھا وہ دوسرے بچوں سے مُختلف کیوں ہے اور اُسکی تخلیق کا آخر مقصد کیا ہے؟ اپنے بازوؤں اور ٹانگوں کے اُگ آنے کی دُعائیں مانگ مانگ کر بھی ناکام رہنے سے اُسے یقین ہوگیا کہ زندگی کو اِسی طرح ہی قبول کرنا پڑے گا۔ حقیقی معنوں میں اُسکی ذہنی بحالی کا موڑ اُس وقت آیا جب اُس کی ماں نے اُسے ایک اخبار دکھایا جیس میں ایک شخص کے بارے میں لکھا تھا جو شدید معذوری کے باوجود بھی بُلند حوصلوں کے ساتھ پھرپور زندگی گُزار رہا تھا۔ یہیں سے نک کو احساس ہوا کہ صرف وہی انوکھا اور اکیلا نہیں ہے اور وہ اب دُنیا کو جی کر دِکھائے گا۔ اور ہوسکا تو اپنے جیسوں کیلئے جینے کی ایک مثال بنے گا۔


بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ نک اپنی معذوری سے نباہ کرتے ہوئے جینے کے ڈھنگ سیکھتا چلا گیا۔ حتی کہ اُس نے جان لیا کہ روزمرہ کے کئی کاموں کیلئے تو بازوؤں اور ٹانگوں کا ہونا ضروری بھی نہیں۔ نک نے دانت صاف کرنا، اپنے سر کے بالوں کو برش کرنا، کمپیوٹر چلانا، ٹائپ کرنا، اپنی شیو کرنا، ٹینس گیند کو پھینکنا، پانی کا گلاس لینا، ٹیلیفون کا جواب دینا، حتیٰ کہ تیراکی اور کُچھ کھیل اور ورزشیں تک کرنا بھی سیکھ لیں۔


ساتویں جماعت میں اُسے اپنے سکول کا کیپٹین منتخب کیا گیا۔ سٹوڈنٹس کونسل کی معاونت کرتے ہوئے نک نے مُستحق اور معذور طالبعلموں کیلئے فنڈز جمع کیئے۔ 17 سال کی عمر میں نک نے مذہبی تقاریب میں لوگوں سے خطاب کرنا شروع کیا۔


19 سال کی عمر سے نک نے اپنے خوابوں کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا۔ اُس کے خواب نہ صرف دوسروں کی مدد کرنا تھے بلکہ اس پیغام کو بھی عام کرنا تھا کہ اُمید کا دامن تو کبھی بھی ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ اِس مقصد کیلئے اُس نے گھوم پھر کر لوگوں کو لیکچر دینا شروع کیئے جن میں وہ لوگوں کو اپنی زندگی کے قصے سناتا اور بتاتا ہے کہ کسطرح اُس نے اپنے مسائل کو خود حل کرنے کی ٹھانی اور اُن پر قابو پاتا چلا گیا۔


نک نے 21 سال کی عمر میں اپنی گریجوایشن ڈبل میجر کے ساتھ اکاؤنٹنگ اور فنانشل پلاننگ میں مکمل کی مگر پیشے کے طور پر مقرر رہنا ہی پسند کیا۔ 2005 میں نک کو ‘ینگ آسٹریلین آف دی ایئر’ کے اعزاز کیلئے نامزد کیا گیا۔


نک دُنیا کے پانچ بر اعظموں میں واقع ۲۴ ممالک میں گھوم پھر کر 30 لاکھ سے زیادہ اشخاص سے خطاب کر چکا ہے۔ اُسکے سامعین میں طلبا سے لیکر اعلیٰ حکام، کاروباری حضرات اور ادارتی سربراہ شامل ہوتے ہیں۔




نک جہاں بھی جاتا ہے اخبارات اور ٹیلیویزن اُسکے انٹرویو لینے اور چھاپنے کی تگ و دو میں رہتے ہیں۔ اُس کے حالاتِ زندگی پر فیچر شائع کیئے جاتے ہیں اور اُسے دل شکستہ لوگوں کیلئے اُمید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔


نک کئی عالمی شہرت یافتہ اور بیسٹ سیلر کُتب کا مؤلف ہے، ڈی وی ڈیز میڈیا کے ذریعے بھی اُس کے پروگرام موجود ہیں جبکہ کئی مشہور زمانہ اینکرز اُس کا انٹرویو کر چکے ہیں۔ نک ٹی وی پروگراموں میں آتا ہے۔ مُختصر دورانیئے کی ایک فلم میں کام کر کے کئی ایک ایوارڈ لے چکا ہے۔ نک آجکل نک امریکی ریاست کیلیفورنیا میں مقیم ہے۔

آخر میں، کبھی بھی اور کسی بھی حال میں اللہ کی اُن نعمتوں کا شُکر ادا کرنا نہ بھولئے جن کی بارش تُم پر ہو رہی ہے۔ اللہ تبار ک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:


اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو گن نہ سکو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اصلاحی and tagged , , , . Bookmark the permalink.

22 Responses to کیا زندگی اتنی ہی کٹھن ہے؟

  1. محمد سلیم نے کہا:

    جناب محترم فضل دین صاحب، بلاگ پر خوش آمدید، آمدنت باعث آبادی ما۔ آپ کے تبصرہ کیلئے مشکور و ممنون ہوں۔

  2. فضل دین نے کہا:

    بہت اچھا مضمون لکھا جناب۔۔ ہمت کی ایسی عظیم مثالیں ایک طرف تو ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونے کا موقع دیتیں ہیں جبکہ دوسری طرف زندگی میں کچھ اچھا کرنے کی موٹیویشن۔۔۔۔ بہت اعلیٰ برادر 🙂

  3. بے شک اللہ جسے چاہتا ہے، عزت دیتا ہے۔

  4. دہرہ حے نے کہا:

    اللہ نے اس شخص کو خاص بنایا اور خاص حوصلہ عطا فرمایا ۔۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب دہرہ حے صاحب، بلاگ پر خوش آمدید۔ اھلا و سھلا۔
      جی، یہ آدمی اللہ تبارک و تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ ایسی کچھ مثالیں ہمارے اپنے پاکستان میں‌بھی ہیں جنہوں‌نے اپنی عزت نفس کو برقرار رکھتے ہوئے رزق کی سعی کی ہے۔

  5. د نے کہا:

    اللہ نے اس شخص کو خاص بنایا اور خاص حوصلہ عطا فرمایا ۔

  6. سلیم بھائی!
    جزاک اللہ۔
    آپ نے جن تصاویر کے لنک یہاں دئیے ہیں غالبا وہ کام نہیں کر رہے۔ یا آپ نے جہاں تصاویر تھیں وہاں سے تصویر ہٹا لی ہیں۔
    مثلاً یہ ایک لنک ہے ۔۔ http://www.hajisahb.com/blog/wp-content/uploads/2011/04/040511_0352_17.png

    • محمد سلیم نے کہا:

      تصاویر کا معمہ میں خود سے تو حل نہیں کر سکا کیونکہ ہر چیز اپنی جگہ پر درست ہی تھی۔ بلال بھائی سے مدد کی درخواست کی ہے امید ہے وہ جلد ہی کوئی جواب دیں گے

  7. gunga نے کہا:

    Asslam-o-Alaikum
    Jazak Allah khair saleem bhai
    Allah dono atraaf ki asaniyaan atta farmaye
    Ameen

  8. Muhammad ABRAR Qureshi نے کہا:

    It gives a great lesson to be always grateful to
    Almighty Allah for His unlimited bounties upon us. He is fully empowered to create us as He wishes. Allah could have created us like His other creatures – animals – birds – treas – stones — but because of His great blessings Allah theAlmighty made us humanbeing and from humabeings followers of His last Prophet. It is 100% true "if you want to count his blessings, you would not be able to do so”. Thanks and thaks and thanks to Almighty Allah.

    • محمد سلیم نے کہا:

      Dear Muhammad Abrar Qureshi Sahb, you have read the article with the depth of its of its meanings and that is what was required. Thanks to the Almighty Allah for his all blessing upon us.
      This is why we are taught to say (الحمد للہ الذی عافانی مما ابتلاھا بہ وفضلنی علی کثیر ممن خلق تفضیلا
      تمام تعریفیں اس ذات کے لیے جس نے مجھے عافیت میں رکھا اس چیز سے جس میں وہ مبتلا ہے اور مخلوقات میں سے کتنوں پر اللہ نے مجھے فضیلت بخشی)

  9. Ahsan نے کہا:

    aur boht si examples hein jo ye prove krti hein k بانہہ بھنا کماندے، دل بھنا نی کمانداfor example. Jessica Cox ,couple of AHmad and Fatima
    And one of my favorite writers HELLEN KELLER
    I request you to plz translate her essay ” 3 days to see "

  10. nadeem murad نے کہا:

    MAY ALLAH BLESS HIM AND TAKE CARE OF HIM

  11. Darvesh Khurasani نے کہا:

    او خدایا ۔۔ ہم کتنے نا شکرے ہیں اور اس بندے کو دیکھو، افرین ہے اسکی استعداد اور کمال جرات پر۔ اس نے اپنے آپ کو معذور ہو کر بھی دنیا سے اپنا مقام منوایا۔

  12. 若楠 نے کہا:

    第一次看到生命力这么强的人,好感动,你知道吗 ,我哭了,这怎么做到的,世界上有些人真的是可以超人类。太强了!!!!

  13. ahsan نے کہا:

    an other wonderful artical. Mein ne Nick k baary mein parha tha apni presentation bnany k liye but this artical is superb

  14. پنگ بیک: کیا زندگی اتنی ہی کٹھن ہے؟ | Tea Break

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s