کیا میں چور ہوں؟


برطانیہ جانے والے ایک سیاح کا قصہ، جسے پُرخلوص مشورہ دینے پر چور کا خطاب مل گیا۔ اس سیاح کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا اپنے گردو نواح میں بسنے والے لوگوں سے تقابلی جائزہ کر کے فیصلہ کیجیئے کہ کیا وہ واقعی چور تھا؟ ہمیشہ کی طرح ایک لطیف موضوع پر لکھی ہوئی اصلاحی تحریر جو آپکے دلوں کو چھو لے گی۔۔۔مزید پڑھیئے۔۔۔۔

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اصلاحی and tagged . Bookmark the permalink.

4 Responses to کیا میں چور ہوں؟

  1. پنگ بیک: کیا میں چور ہوں؟ | Muhammad Saleem

  2. پنگ بیک: کیا میں چور ہوں؟ | Tea Break

  3. خرم ابن شبیر نے کہا:

    السلام علیکم
    سر یہ تحریر کن صاحب کی ہے آپ کی اپنی ہے یا شعیب تنولی صاحب کی پل ضرور بتائیں

    • محمد سلیم نے کہا:

      ڈیئر خرم ابن شبیر صاحب، وعیکم السلام و رحمۃ اللہ ، میرے بلاگ پر آپکی تشریف آوری میرے لیئے مسرت کا باعث ہے۔
      میں اپنے تعارفی صفحہ پر بتا چکا ہوں کہ میں بنیادی طور پر عربی سے اچھے مضامین ڈھونڈھ کر اردو میں ترجمہ کرتا ہوں۔ کونسا مضمون ترجمہ کرنے کے لائق ہے کا فیصلہ میرا ذاتی ہوتا ہے۔ ازراہ کرم آپ میرے سابقہ مضامین پر ایک نظر ڈالیں، آپکو اکثر تحاریر مانوس سی نظر آئیں گی۔ میری چند ایک تحاریر تو لاکھوں کی تعداد میں انٹرنیٹ پر موجود ہیں جن میں سے خاص طور پر مسجدوں کا عاشق اور ایسے لوگ اب پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔
      میں نے ذاتی بلاگ تو صرف ۲۳ فروری 2011 سے شروع کیا ہے جبکہ لکھ دو یا تین سال سے رہا ہوں۔ لکھنے کے بعد میں اپنی میلز چند ایک دوستوں اور چند ایک یاہو گروپس پر بھیجتا ہوں اور جناب شعیب تنولی صاحب کا نام میری میلنگ لسٹ میں شامل ہے۔۔ ازراہ کرم وقتا فوقتا تشریف لا کر راہنمائی کیا کریں

تبصرے بند ہیں۔