اسلام کی قیمت بیس پنس


سالوں پہلے کی بات ہے جب ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول بن گیا۔ لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔۔ مزید پڑھیئے۔۔۔۔

 

 

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اصلاحی and tagged . Bookmark the permalink.

9 Responses to اسلام کی قیمت بیس پنس

  1. sajjad نے کہا:

    i ma syed sajjadnaqvi. ap ka tumam mazamen asha hota han Allah ap ka byan ma or taqat ata kra

  2. پنگ بیک: اسلام کی قیمت بیس پنس | Muhammad Saleem

  3. عامر شہزاد نے کہا:

    شکریہ، بہت اچھی بات آپ نے بتائی۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب عامر شہزاد صاحب، تشریف آوری کا شکریہ۔ آپ نے بہت توجہ سے مضامین پڑھے ہیں جس کی وجہ سے کئی نا مکمل لنکس کی بھی نشاندہی ہو گئی۔ تشریف لاتے رہا کریں، آپ سے سیکھنے کو ملے گا۔

  4. ميں نے آپ کی يہ تحرير آپ کا ربط دے کر شائع کی ہے مگر ربط آپ کے بلاگ پر ظاہر نہيں ہوا
    http://www.theajmals.com/blog/2011/04/10

  5. خیر حقیقی مسلمان اپنے معاملات میں نہائت کھرا ہوتا ہے۔ ہم پردیس میں اس کی کئی مثالیں دے سکتے ہیں جن میں مسلمانوں نے انتائی دیانتداری کا مظاہرہ کیا اور اغیار کے دل جیتے۔ جن میں ذاتی معاملات سے لیکر کاروباری سودے بھی شامل ہیں۔ مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پیارے وطن میں بے ترتیبی اور بد نظمی کے ساتھ ساتھ بددیانتی کو پچھلی کچھ دہائیوں سے ایک خاص طریقے سے رواج دیا گیا ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے کو اپنی جکڑ میں لے لیا ہے۔

    تنخواہ کی کمی رشوت ، کرپشن سے پوری کر لی جاتی ہے۔ عام آدمی سارا سارا دن اپنے روز مرہ کے معمولی معمولی سے معاملات کے حل کے لئیے بے مقصد اپنے نمائیندوں کے پیچھے خوار ہوتا رہتا ہے۔ جن کی تان بھی رشوت پہ ٹوٹتی ہے۔ ایک معموملی چپڑاسی سے لیکر ملک کے سربراہ تک ہر کوئی انعام اور کمیشن کا طلبگار ہے۔ڈاکخانوں ، تھانوں، کچہریوں سے لیکر کار سرکار کے اعلٰی عہدیداروں تک بدیانتی نے ہماری قوم کو نفسیاتی طور پہ بھی بدیانت بنا چھوڑا ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں ہر قسم کے وسائل اور رقم موجود ہے۔ کسی نہ کسی طور ہر ملازم کی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ قوم کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اگر یہی وسائل اور رقم بندر بانٹ کئیے بغیر ایمانداری سے حقداروں کو تقسیم کی جائے۔ محض ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پہ مک مکا کی گئی رقم چالان کی صورت میں خزانے میں جمع ہو تو ایک دن کی مک مکا کی بجائے چالانوں سے ہونے والی چند دن کی آمدن سے پولیس کے محکمے کو پورے ماہ کی تنخواہ دی جاسکتی ہے۔ ملکی وسائل بڑھنے سے ترقی ہوگی۔ تنخواہیں بڑھیں گی امن عامہ قائم ہوگا۔ روزگار بڑھے گا۔ معمولی ضرورتوں سے لیکر نہائت اہم مسئلوں کے حل کے لئیے پریشان اور خوار ہونے والے عوام کو دلجمعی سے قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ قوم ایک نئی سمت اختیار کر لے گی۔ آخر کچھ تو کرنا پڑے گا کہ ہم بہ حیثیت ایک زندہ قوم اپنی تقدیر کے مالک خود بن سکیں۔ خیرات زکواۃ، امداد اور قرضوں کے عوض اپنی خود مختاری اور آزادی گروی رکھ کر ہم کب تک زندہ رہ سکیں گے؟۔ ریمنڈ ڈیوس اس کی ایک ہی مثال عوام کی آنکھیں کھول لینے کے لئیے کافی ہے۔

    اسلئیے ضرورت اس عمل کی ہے کہ پاکستان میں دیانتداری کو رواج دیا جائے ورنہ پاکستان اور قوم دونوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ علمائے دین اپنے منبروں سے بدیانتی سے پاکستان کے وجود کو لاحق خطرات اور اسکے پر امن طریقے سے سدباب سے آگاہ کر تے ہوئے اپنا کرادار ادا کر سکتے ہیں اس کام کی ابتداء وہ لوگ کریں جو کسی حوالے سے رول ماڈل ہیں تانکہ عام آدمی اپنی عاقبت کے ساتھ اپنی دنیا یعنی پاکستان سنوارنے میں اپنا چٹانی کردار ادا کر سکے۔

    اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین

  6. پنگ بیک: What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » اسلام کی قیمت 20 پنس

  7. پنگ بیک: اسلام کی قیمت بیس پنس | Tea Break

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s