ایمان، یقین اور امید



شہر کے سارے لوگوں نے خشک سالی سے گھبرا کر نماز استسقاء پڑھنے کی ٹھانی۔ نماز کیلئے مقررہ وقت پر سب ایک جگہ جمع ہوئے۔ صرف ایک شخص ایسا تھا جو گھر سے چھتری بھی اپنے ساتھ لایا تھا۔
اس کو ایمان کہتے ہیں۔

♦♦♦

اپنے اندر ویسا احساس پیدا کیجیئے جیسا ایک سال کے بچے کے اندر پایا جاتا ہے۔ اُسے آپ آسمان کی طرف اچھالتے ہیں مگر وہ ہنس رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ آپ اُسے کبھی بھی نہیں گرنے دیں گے اور واپس مضبوطی سے تھام لیں گے۔
اس کو یقین کہتے ہیں۔

♦♦♦

روزانہ رات کو سوتے ہوئے ہمارے پاس اس بات کا کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ کل کا سورج دیکھنے کیلئے زندہ جاگیں گے بھی کہ نہیں۔ لیکن اسکے باوجود بھی آنے والے دن کیلئے ایک منصوبہ بنا کر سوتے ہیں۔
اس کو امید کہتے ہیں

♦♦♦

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in معلوماتی, اصلاحی. Bookmark the permalink.

3 Responses to ایمان، یقین اور امید

  1. انور علی نے کہا:

    بہت عمدہ

  2. Darvesh Khurasani نے کہا:

    زبر دست ۔ دوست اچھی وضاحت کی ہے۔

  3. پنگ بیک: ایمان، یقین اور امید | Tea Break

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s