اپنا ماضی مت بھولیئے


نہایت  گہرے معانی لئے ایک پُر اثر قصہ:: ایک تھی لڑکی،اندھی اور بصارت سے محروم، اپنے اندھے پن کی وجہ سے نا صرف اپنے آپ سے نفرت کرتی تھی۔ بلکہ اس دنیا اور اور دنیا کے ہر شخص سے بھی نفرت کرتی تھی۔ ہاں مگر ایک شخص تھا جس سے وہ پیار کرتی تھی اور وہ تھا اسکا محبوب دوست جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا تھا اور اسکے ہر دکھ سکھ کا خیال رکھتا تھا۔لڑکی نے اُسے کہہ رکھا تھا کہ وہ جس دن اس دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گی اُسی دن اُس سے شادی کر لے گی۔مزید پڑھیئے۔۔۔۔۔

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اصلاحی and tagged . Bookmark the permalink.

2 Responses to اپنا ماضی مت بھولیئے

  1. محبوب بھوپال نے کہا:

    جی ہاں! اکثر اوقات انسانی ذہن اپنی ذرا سی حیثیت یا سٹیٹس تبدیل ہونے پر بالکل اسی طرح کیا کرتے ہیں۔
    بہت ہی کم ایسے لوگ ہیں جو اپنی سابقہ حیثیت کو نہیں بھلاتے اور ہر حال میں یاد رکھتے ہیں کہ وہ کس قسم کے حالات سے گزر چکے ہیں۔
    یاد رکھیئے! زندگی اللہ کی عطا کردہ نعمت اور تحفہ ہے۔
    آج کے بعد اپنی زبان سے کوئی ناشائستہ بات نکالنے سے قبل اُن لوگوں کے بارے میں ضرور سوچیئے گا جو بولنے سے محروم ہیں۔
    کھانے کے ذائقہ پر اعتراض کرنے سے پہلے اُن کے بارے میں ضرور سوچیئے گا جن کو اس جیسا کھانا بھی میسر نہیں ہے۔
    بعض تو اپنی زندگی پر ہی اعتراض کر جاتے ہیں، آئندہ اُنکے بارے میں ضرور سوچیئے گا جو تم سے پہلے آسمانوں کی طرف کوچ کر گئے۔
    گاڑی چلاتے ہوئے مُسافت کی طوالت کا شکوہ کرنے سے پہلے اُن کے بارے میں ضرور سوچیئے گا جو یہ سفر پیدل کرتے رہے ہیں۔
    اور جب کبھی اپنے کام سے تھکن یا بوریت کی شکایت ہو اُن لوگوں کا تصور ضرور ذہن میں لائیے گا جو بے روزگار ہیں اور اس جیسے کام کا محض تصور ہی کر سکتے ہیں ۔
    اپنی بیوی یا خاوند کی شکایت کرنے سے پہلے ان کے بارے میں ضرور سوچیئے گا جو اللہ کے حضور اپنے اکیلے پن کی دوری کی فریاد کرتے ہیں ۔
    اور جب کبھی تم پر حد سے زیادہ یاسیت و قنوطیت چھا جائے تو اپنے چہرے پر یہ سوچ کر ایک مسکراہٹ لانے کی کوشش کیجیئے گا کہ
    ابھی تم زندہ اور سلامت ہو اُن تمام نعمتوں کا شکر ادا کرنے کیلئے جو اللہ نے تمہیں نوازی ہیں

  2. پنگ بیک: اپنا ماضی مت بھولیئے | Muhammad Saleem

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s