مُنافع کا سودا



سرکارِ دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہما کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ایک یتیم جوان شکایت لیئے حاضر خدمت ہوا۔ کہنے لگا یا رسول اللہ؛ میں اپنی کھجوروں کے باغ کے ارد گرد دیوار تعمیر کرا رہا تھا کہ میرے ہمسائے کی کھجور کا ایک درخت دیوار کے درمیان میں آ گیا۔ میں نے اپنے ہمسائے سے درخواست کی کہ وہ اپنی کھجور کا درخت میرے لیئے چھوڑ دے تاکہ میں اپنی دیوار سیدھی بنوا سکوں، اُس نے دینے سے انکار کیا تو میں نے اُس کھجور کے درخت کو خریدنے کی پیشکس کر ڈالی، میرے ہمسائے نے مجھے کھجور کا درخت بیچنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔
مزید پڑھیئے۔۔۔۔۔۔

Advertisements

About محمد سلیم

میرا نام محمد سلیم ہے، پاکسان کے شہر ملتان سے ہوں، تلاشِ معاش نے مجھے آجکل چین کے صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانتو میں پہنچایا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں (عربی خصوصیت کے ساتھ) کے ایسے مضامین ضن میں اصلاح اور رہنمائی کے دروس پوشیدہ ہوں کو اردو میں ترجمہ یا تھوڑی سی ردو بدل کر کے ایمیل کرنا میرا شوق رہا ہے۔ میں اپنی گزشتہ تحاریر کو اس بلاگ پر ایک جگہ جمع کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں مشکور ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے۔
This entry was posted in اسلامی معاشرت, اصلاحی and tagged . Bookmark the permalink.

26 Responses to مُنافع کا سودا

  1. ارشد نے کہا:

    بھائ جان جواب تو دے دین۔ بخدا میرا مقصد صرف یہ ھے کہ اگر یہ حدیث ھے تو پتہ ھو کہ کہاں دستیاب ھے۔ اور اگر حدیث نہیں ھے تو آپ احتیات کریں۔ آپ کی تحاریر مجھے بہت پسند ہیں لیکن احتیاط کریں اللہ تعالیٰ اور رسول صلى الله عليه وسلم کا فرمان لکھنے میں۔ شکریہ۔

  2. ارشد نے کہا:

    رسول صلى الله عليه وسلم کا فرمان ھے کہ جو کوئ میری نسبت سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ شخص اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے صحیح بخاری جلد 1 حدیث 109

  3. ارشد نے کہا:

    کسی اور سے منسوب ھوتا تو کوی بات نہین تھی

  4. ارشد نے کہا:

    اچھی ھے۔ لیکن مسلہ وہ ہی ھے۔ واقعہ صحیح ھے یا نہین یہ پتہ کرنا ھے۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      چہ جائیکہ مجھے آپ کی شرعی حیثیت کا علم نہیں‌ہے تاہم میرے نزدیک ڈاکٹر عریفی صاحب زیادہ معتبر ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین یا رب

      • ارشد نے کہا:

        جناب میں اس واقعہ کو رد نہیں کر رہا تسلی چاھتا ھوں کیونکہ حدیث ھے کہ "رسول صلى الله عليه وسلم کا فرمان ھے کہ جو کوئ میری نسبت سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ شخص اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے صحیح بخاری جلد 1 حدیث 109” تو جناب وہ عریفی صاحب ھوں یا کوئ اور اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ آپ ناراض نہ ھوں اور مجھے صحیح ریفرنس بتا دیں۔ شکریہ۔

  5. ارشد نے کہا:

    میرے بھایٰ بات عربی آنے نہ آنے کی نہیں ھے۔ ھمارا مسلہ ہی یہ ھے کہ ھم سن کر بات آگے بڑھا دیتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلى الله عليه وسلم سے منسوب ھے۔ یہ حدیث صحیح ھے یا غلط ۔ مجھے عربی نہیں آتی لیکن آپ کو تو آتی ھے آپ مجھے صحیح ریفرنس بتا دیں۔ آپ کی بڑی مہربانی ھوگی۔ سن سن کر ہی تو ھم نے بدعات ایجاد کی ھیں۔ شکریہ۔

  6. ارشد نے کہا:

    میں کیاکرونگا۔ میں نے تھوڑی تحقیق کی ھے۔ آپ کیوں پریشان ھوتے ھو۔

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب جس شدومد سے آپ نے تحقیق کی ہے اس کے بعد تو بس ایک فتویٰ لگنے کا ہی دھڑکا تھا بس، بس اسی بات کی پریشانی تھی۔ عربی آپ نہیں جانتے ورنہ یوٹیوب فلم جناب کو کافی معلوماتی لگتی۔

  7. ارشد نے کہا:

    پیج ای میل کر دیا

  8. ارشد نے کہا:

    میں پیج کی کاپی ای میل کرتا ھوں

  9. ارشد نے کہا:

    حدیث نمبر 12246 مسند احمد(اردو ترجمہ مولانا ظفر اقبال) جلد 5 میں ھے لیکن اس میں کچھ اور متن ھے۔ بچپن کا واقعہ ھے

  10. علی نعیم نے کہا:

    رقم الحديث: 12246 : (حديث مرفوع)
    یہ حدیث کونسی کتاب میں ہے بھائی

    • محمد سلیم نے کہا:

      قال : كعب بن مالك قال : أول أمر عتب على أبي لبابة أنه كان بينه و بين يتيم عذق ، فاختصما إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، فقضى النبي صلى الله عليه وسلم لأبي لبابة ، فبكى اليتيم ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : ” دعه له ” ، فأبى ، قال : ” فأعطه إياه و لك مثله في الجنة ” ، فأبى فانطلق ابن الدحداحة فقال لأبي لبابة : بعني العذق بحديقتين . قال : نعم . ثم انطلق إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله ! أرأيت إن أعطيت هذا اليتيم هذا العذق ، ألي مثله في الجنة ؟ قال : نعم ، فأعطاه إياه ، قال : فكان النبي صلى الله عليه وسلم يقول : كم من عذق دواح لأبي الدحداح في الجنة – مرارا ” .أخرجه أحمد ( 3 / 146 ) و ابن حبان ( 2271) و الطبراني في ” المعجم الكبير ” ( 22 / 300 / 763 ) و الحاكم ( 2 / 20 )الألباني في ” السلسلة الصحيحة ” 6 / 1131.

    • منصورالحق منصور نے کہا:

      مسند احمد بن حنبل

  11. ارشد نے کہا:

    میں اردو ترجمہ دیکھ لونگا

    • محمد سلیم نے کہا:

      رقم الحديث: 12246 : (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً ، وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا ، فَأْمُرْهُ أَنْ يُعْطِيَنِي حَتَّى أُقِيمَ حَائِطِي بِهَا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” أَعْطِهَا إِيَّاهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ ” فَأَبَى ، فَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ ، فَقَالَ : بِعْنِي نَخْلَتَكَ بِحَائِطِي ، فَفَعَلَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي ، قَالَ : فَاجْعَلْهَا لَهُ ، فَقَدْ أَعْطَيْتُكَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” كَمْ مِنْ عَذْقٍ رَدَاحٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ ” ، قَالَهَا : مِرَارًا ، قَالَ : فَأَتَى امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ ، اخْرُجِي مِنَ الْحَائِطِ ، فَإِنِّي قَدْ بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ ، فَقَالَتْ : رَبِحَ الْبَيْعُ ، أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا .

  12. ارشد نے کہا:

    مجھے عربی نہیں آتی آپ مجھے کتاب اور حدیث نمبر دے دیں

  13. محمد سلیم نے کہا:

    جناب ارشد صاحب، یہ مضمون ایک بہت ہی مشہور واقعے پر مبنی ہے تاہم آپ حوالہ مانگ کر ضرور اپنی تشفی فرمائیں۔ ایک تو جناب منصور الحق منصور صاحب نے جو لنک دیا ہے اس پر حدیث مبارک ملاحظہ کریں۔
    دوسرا میں نے جو فتویٰ والا لنک دیا تھا اس صفحہ پر جائیں جو کچھ سبز رنگ میں لکھا ہوا ہے وہ احادیث مبارک کے الفاظ ہیں۔
    تیسرے نمبر پر یوٹیوب پر جو خطاب کا لنک آپ کو دیا ہے وہ ایک پی ایچ ڈی سکالر کا بیان ہے جس نے عقیدہ میں اعزازی ڈگری لی ہوئی ہے۔

  14. منصورالحق منصور نے کہا:
  15. ارشد نے کہا:

    میں نے فتوٰے دیکھا لیکن وھاں بھی ریفرنس نھیں ھے کسی بھی حدیث کا

  16. ارشد نے کہا:

    بہت اچھی بہت اچھی تحریر ھے لیکین ریفرنس درکار ھے کیونکہ

    • محمد سلیم نے کہا:

      جناب ارشد صاحب، خوش آمدید۔ تحریر پسند کرنے کا شکریہ۔ اس عظیم واقعے کو احاطہ قلم میں‌لاتے ہوئے میں حق واقعہ ادا نہیں‌کیا جس کا مجھے افسوس اور اپنی کم مائیگی کا پورا اعتراف ہے۔
      ہو سکتا ہے اس واقعے میں کچھ ادبی رنگ اور قصہ گوئی ہو مگر روایات میں کم و بیش ایسا ہی بیان کیا گیا ہے۔ مشہور اسلامی ویب سائٹ (http://www.islamweb.net/) پر اس واقعے کے بارے میں فتویٰ لیا گیا تو ان لوگوں‌نے دو مستند روایات سے سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے الفاظ‌مبارک کی تصدیق کی مگر دوسری حکایات پر کچھ کہنے سے گریز کیا۔ فتویٰ اس صفحہ پر دیکھیئے:
      http://www.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&lang=A&Id=108881&Option=FatwaId
      اگر آپ عربی جاننے والے ہیں تو مستند عالم دین ڈاکٹر محمد العریفی صاحب کی آواز میں‌اس واقعہ کی جزئیات جو لگ بھگ میرے بلاگ میں‌مذکور الفاظ‌جیسی ہی ہیں بذات خود سنیئے، ہاں ایک گزارش کروں؟ اگر سیدنا ابالداحداح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس سودے کی تفصیلات سنتے ہوئے کبھی آنکھیں‌پر نم ہوں‌تو میرے لئے ضرور دعا کر دیجیئے گا۔ ویڈیو کا لنک یہ ہے:

  17. پنگ بیک: مُنافع کا سودا | Muhammad Saleem

تبصرے بند ہیں۔