بلاگ کی منتقلی نوٹ فرما لیں


hajisahb

میرا بلاگ نئے ڈومین پر منتقل ہو گیا ہے۔ احباب نوٹ فرما لیں۔

کیا آپ میرے نئے بلاگ پر سبسکرائب ہونا پسند کریں گے؟

Posted in اصلاحی | 1 تبصرہ

Sajid Jamshed Ali’s invitation is awaiting your response


LinkedIn
Sajid Jamshed Ali would like to connect on LinkedIn. How would you like to respond?
Sajid Jamshed Ali
Sajid Jamshed Ali
Software Engineer
Confirm you know Sajid Jamshed
You are receiving Reminder emails for pending invitations. Unsubscribe
© 2014, LinkedIn Corporation. 2029 Stierlin Ct. Mountain View, CA 94043, USA

sg72td-i0di7pj3-d.gif

Posted in اصلاحی

Sajid Jamshed Ali’s invitation is awaiting your response


LinkedIn
Sajid Jamshed Ali would like to connect on LinkedIn. How would you like to respond?
Sajid Jamshed Ali
Sajid Jamshed Ali
Software Engineer
Confirm you know Sajid Jamshed
You are receiving Reminder emails for pending invitations. Unsubscribe
© 2014, LinkedIn Corporation. 2029 Stierlin Ct. Mountain View, CA 94043, USA

sg72td-i04xvzm0-3i.gif

Posted in اصلاحی

باي ارض تموت


 عنوان ایک ایسی آیت کریمہ سے لیا گیا حصہ ہے جس میں اللہ تعالٰی نے چند ایسے علوم کا ذکر کیا ہے جن میں بارے صرف اور صرف اسی  کی ذات باری تعالٰی ہی جانتی ہے۔ اور انہی چند علوم میں سے ایک علم کسی شخص کی موت کس مقام پر ہوگی بھی ہے۔ 

QuranImageGenerator

اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کی موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔ (سورۃ لقمان – 34)

ہمارے پاکستان میں جب کوئی جانکنی کے عالم میں ہو تو اوپر والے  اپنی رنگ برنگی باتوں سے بہت مزے لگاتے ہیں۔ اگر مرنے والا کسی کا والد یا والدہ ہو تو جہاں  نیک بخت اور با سعادت اولاد ان آخری گھڑیوں کو سعادت جان  کر ان کی خدمت اور خدمت کے بدلے ملنے والے اجر سے فیضیاب ہو رہی ہوتی ہے ، وہیں اوپر والے اپنی اپنی حکمت اور دانائیاں بھی جھاڑنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ مجھے اس بار چند مضحکہ خیز حقائق کو انتہائی قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

ایک بہت ہی پیارے عزیز  بھائی کی والدہ صاحبہ  فراش تھیں۔ میرے یہ بھائی تن من اور دھن سے جان لگا کر ایک ایک لمحے کو امر کر رہے تھے جبکہ کچھ احباب یوں کہہ رہے  تھے؛ اس کی امی تو بس واپس ملتان جانے کے انتظار میں پڑی ہے، ادھر ہی جا کر اس کی روح قبض ہوگی۔ جہاں چند توہم پرستیوں کا علم ہوا وہیں ایک ستم ظریف نے تو ان عزیز کی  والدہ کی موت کا وقت بمعہ دن، گھنٹوں اور منٹوں کے ساتھ نا صرف مقرر کیا بلکہ اس مقررہ وقت تک متوقع میت پر پہنچ جانے کیلئے اپنی گھر والی کو بھی روانہ کر دیا۔ اللہ مستعان ۔ ایسے حالات میں مجھے چند واقعات یاد آئے، جو آپ کے گوش گزار کرتا ہوں:

1993  کی بات ہے  بنکاک سے سنگاپور کے راستے میں میرا جہاز اتنا  نا ہموار ہوا کہ مسافروں  کو دی جانے والی سروس تک معطل کر دی گئی۔ میرے ڈیلے حقیقی معنوں میں باہر کو آ رہے تھے کہ ساتھ والے سیٹ فیلو انگریز نے میری حالت بھانپ لی، میرے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور پوچھا ڈر لگ رہا ہے ناں؟ اب میں کیا بولتا کہ سیٹی ہی گم تھی۔ کہنے لگا حادثات تو زمین پر بھی ہو جاتے ہیں اگر فضاء میں ہو گیا تو کیا انوکھا پن ہوگا۔ تاہم فضاء کا سفر زمینی  سفر سے قدرے زیادہ محفوظ ہے۔ کچھ بھی نہیں ہوگا، پر سکون رہو، یہ سب کچھ نارمل ہے۔ ان لمحات میں جو پیغام ایک مسلمان ہونے کے ناطے مجھے دینا تھا مجھے ایک غیر مذہب دے رہا تھا۔

2000 سے پہلے  کی بات ہے مکہ روڈ پر چوتھے ٹریک پر ہماری منی بس کے متوازی چلتی ایک بھاری بھرکم امریکی کار نے اپنی پوری رفتار  اور تیزی کے ساتھ سارے ٹریکس کو کاٹتے ہوئے ہماری بس کی طرف  بڑھنا شروع کیا۔ کچھ بعید نہیں تھا یہ امریکی کار ہماری  بس کے پرخچے ہی اڑا ڈالتی کہ ہمارے ڈرائیور نے بریک لگا کر اسے اپنے سامنے سے گزر کر دو طرفی سڑک کے بیچوں بیچ لگی آہنی باڑ میں جا کر ٹکرانے  اور تباہ ہونے دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس کار کا یوں بے قابو ہوجانا اس کے اگلے ٹائر پھٹنے کی وجہ تھا۔ موت سیکنڈوں کے فاصلے سے ٹلی تھی۔

شاید 1990 کی بات ہوگی ہانگ کانگ سے گوانزو تک کا آدھے گھنٹے کا سفر اپنی منزل  گوانزو ایئر پورٹ کے اوپر  تک پہنچ کر بھی اس وقت اٹک گیا جب جہاز کے پائلٹ نے بتایا کہ نیچے موسلا دھار بارش کی وجہ سے ہمارا اگلے ایک گھنٹے تک اترنا ناممکن ہے۔ اور پھر گھنٹے کی بجائے چالیس منٹ کے بعد جہاز کے اترنے کا اعلان کردیا گیا۔  رن وے پر جہاز نے پچھلی پہیئے لگائے ہی ہونگے کہ دھڑام سے اگلی پہیئے زمین پر گرے اور اس ناگہانی حالت کی وجہ سے جہاز کے خانوں میں اوپر رکھا سارا سامان نیچے گر گیا، مسافروں کی چیخیں نکل گئیں اور جہاز کے اندر ایک کہرام مچ گیا۔ جہاز رکنے کے بعد  جب پائلٹ  نے بتایا کہ ہمارا جہاز پھسل گیا تھا اور اس حالت پر قابو پانے کیلئے  ہم نے ایمرجنسی طور پر اگلے پہئے زمین پر گرا کر قابو پانے کی کوشش کی۔ مجھے حقیقت کا نا تو صحیح علم ہوا تھا اور ہی ٹل جانے والے حادثے کا پورا احساس، مگر  مسافروں کی تالیاں اور ان کا رو رو کر ایک دوسرے سے گلے ملنا  دیکھ کر کسی بری صورتحال سے بچ نکلنے کا اندازہ ضرور ہوا تھا۔  تاہم میں نے واپسی کا سفر ڈر اور خوف کی وجہ سےہوائی جہاز کی بجائے  فیری پر کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے 22 دسمبر 2013 کو میرے شانتو والے  دوست امجد نے صبح ایوو کا سفر کیا۔ شام کو میری بھابھی (امجد بھائی کی چائینیز گھر والی) نے فون کر کے بتایا کہ ابھی پولیس کا فون آیا ہے امجد فوت ہو گیا ہے۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون۔ امجد بنیادی طور پر گوجرانوالہ سے تھا، اپنی پاکستانی شہریت چھوڑ کر ہانگ کانگ کی شہریت اختیار کی تھی جبکہ روزی روزگار کے سلسلہ میں ہانگ کانگ سے دور گزشتہ آٹھ سالوں سے یہاں شانتو میں مقیم تھا جبکہ اس کی موت شانتو سے ہزاروں میل دور ایوو میں جا کر ہوئی۔

2004  میں سعودی ایئر لائن کے ایک انجیبئر دوست کے ساتھ شانتو سے ایوو کا سفر کرتے ہوئے ہمارا جہاز خظرناک موسم کا شکار ہو گیا۔ دوست نے جہاز کی ہیئت، بناوٹ، استعداد، موسموں سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت، آٹو پائلٹ، ڈیجیٹلی پروگرامڈ سفر، چلنے سے قبل راستے کے موسموں سے آگہائی اور راستے میں بنے  ایمرجنسی اور مخفی لینڈنگ  پٹیوں کی دستیابی ، پچھلی نشستوں کی بجائے اگلی نشستوں پر کم محسوس ہونے والے جھٹکوں  وغیرہ کے بارےمیں معلومات دیکر آئندہ کیلئے مطمئن رہ کر مرنے کا راز بتا دیا۔  

Posted in Uncategorized | Tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | 8 تبصرے

لا پتہ افراد کا دکھ


اسی مردم بیزار معاشرے کے ہی کچھ افراد اپنے گھروں میں ناصرف  جانور پالتے ہیں بلکہ اپنے ان پالتو جانوروں کے اچھے خاصے ناز نخرے بھی اٹھاتے ہیں۔ یہ کوئی معاشرتی تضاد نہیں انسان کا اندرونی احساس ہے جو یہ شعور دیتا ہے کہ جان تو آخر جان ہوتی ہے خواہ وہ انسانی ہو یا کہ کسی جانور کی، ہاں کچھ لوگوں کو اللہ نے اگر اس شعور اور احساس سے عاری رکھا ہے تو ان کا اپنا نصیب۔ میں بذات خود ایک انتہائی متوسط طبقے کا ایسا فرد ہوں، جن کا کتے بلی اں  پالنا کبھی بھی شوق  نہیں رہا۔   مگر حادثاتی طور  پر ایک بلی ہماری سرپرستی میں آگئی۔ ہوا یوں کہ:

میری گھر والی نے شام ڈھلے کے کام کاج سے فرصت پر یاد اللہ کی، ایک نظر بچوں پر ڈالنے اور گھر کی اضافی بتیاں بجھانے کیلئے گئی  تو بچوں کو ایک ہی صوفے پر گم صم بیٹھے پایا۔ سب کو جلدی سونے کی تلقین کی اورخود جا کر سو گئی۔ دو گھنٹے کی نیند کے بعد جب اٹھی تو بچوں کو ابھی بھی صوفے ویسے ہی سر جوڑے  بیٹھے ہوئے پایا۔ معاملے کی تحقیق کی تو بھید کھلا کہ یہ لوگ  اپنے کسی دوست کے گھر سے بلی کا ایک نو زائیدہ بچہ اٹھا  تو لائے تھے مگر اب اس کی باقی کی ذمہ داریوں  اور راز کھل جانے کی صورت میں پیدا ہونے والی مصیبتوں  کے آنے سے  پریشان بیٹھے  تھے۔  گھر والی نے ڈانٹ ڈپٹ کر بچہ لے لیا اور کہا کہ رات کو اسے میں سنبھالتی ہوں، تم لوگ صبح اسے جا کر واپس کر آنا ، ہم اس کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے۔  بچہ بھوکا پیاسا تھا، اسے دودھ پلایا، ایک بالٹی میں ریت ڈال کر کچھ دیر حوائج کیلئے بٹھایا، پھر ایک ٹوکری میں کچھ نرم کپڑے رکھ کر اسے گرمائش دیکر اپنے کمرے میں سلا دیا۔

صبح تہجد کیلئے جاگی تو یہ بچہ بھی اس کے ساتھ ہی جاگ گیا اور یہ جہاں جہاں جاتی تو اس کے پیچھے پیچھے چلتا۔ صبح بچے جب تک سکول جانے کیلئے تیار ہوئے بچہ گھر اور گھر والی سے خاصا مانوس ہو چکا تھا۔ بچے سکول سے واپس آئے تو  بلی کا بچہ واپس نا کرنے کی ضد کی تو گھر والی کے لہجے میں وہ پہلے والی شدت نا تھی اور بچے سے  چند دن کھیل کر واپس کرنے  کی شرط پر مان گئی۔

مہینے بھر کے بعد بلی کو واپس لوٹایا گیا مگر دو دن کے اس دوست کا فون آ گیا کہ بھائی تمہاری بلی دو دن سے خاموش ہے اور کچھ کھا پی بھی نہیں رہی، اس طرح تو مر جائے گی، بہتر ہے آ کر لے جاؤ۔ مرنے کا سننا تھا کہ بچے بھاگے اور بلی کو واپس لے آئے۔ گھر والی نے کہا اب یہ ہمارے گلے پڑ گئی ہے تو  بس ٹھیک ہے ۔ پھر رہے پھر ہمارے گھر۔ اور اس طرح یہ بلی ہمارے  گھر کا مستقل فرد شمار ہو گئی۔ فوڈ فیسٹیول سے  لایا گیا مخصوص کھانا، دوپہر کو تھوڑی سی بالائی، دو دن کے بعد شیمپو کے ساتھ نہلانا، تولیہ میں لپیٹ کر ہیر ڈرائیر سے بال خشک کرانا اور پاؤڈر پرفیوم لگا کر رکھنا اس کا مقدر ٹھہرا۔ عادتیں ایسی بگڑیں کہ دوپہر کو فریج کے سامنے کھڑے ہو کر شور مچانا کہ بالائی ابھی نکال کر دو۔ ہر پکتی چیز میں سے اپنے لیئے ضد کر کے حصہ لینا، ٹانگوں سے لپٹ کر روک لینا اور جب تک اس کی پلیٹ میں کھانا نا ڈال دیا جائے تب تک ٹانگیں نا چھوڑنا اس کی عادتیں بن گئیں، اس کی حوائج کیلئے گلی کی صفائی کرنے والے کا تعاون حاصل ہو گیا جو ہر دو دن کے بعد اس کی بالٹی کی ریت تبدیل کر دیتا تھا۔ پانچ چھ مہینے کے بعد اس کی بدلتی ہوئی جسمانی تبدلیوں کی وجہ سے اب ہر مہینے پانچ سو کا ٹیکہ بھی اس کے اخراجات میں شمار ہو گیا۔  بچوں کے دوست ان کو کہتے تھے یہ تمہاری بلی نہیں باجی ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں تھا کہ پندرہ سال کے وقفے کے بعد کوئی ننھا جی دار ہمارے گھر میں داخل ہوا تھا۔

اس کہانی میں تبدیلی اُس وقت آئی جب کوئی آٹھ ماہ کے بعد ایک بار اس بلی نے گھر کے کمبل خراب کر دیئے۔ خوب اودھم مچا، کچھ بلی کی سرزنش ہوئی تو کچھ بچوں کو ڈانٹا گیا جنہوں نے بلی کو کمرے میں بند کیا ہی کیوں تھا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ ہفتہ بھر کے بعد اس بلی نے ویسی ہی حرکت ایک بار پھر کر دی۔ اس  بار کوئی ایسے آثار نہیں تھے کہ بلی بند ہوگئی تھی یا اُسے آزاد ماحول میسر نہیں تھا۔ اس بار بلی کی سرزنش کے ساتھ پٹائی  (ایک آدھ تھپڑ وغیرہ)بھی کی گئی۔  اگلے مہینہ بھر میں بلی نے پھر چند بار  ایسی حرکت دہرائی تو گھر والی نے بلی کو مارنا چھوڑ دیا کہ معصوم جانور کو اذیت دے کر گناہ نا لیا جائے۔ اُس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ بلی اس قابل ہے ہی نہیں جسے گھر میں رکھا جائے۔ فیصلہ کیا گیا کہ بلی کسی کو دے دی جائے اور ساتھ ہی لوگوں سے پوچھ گچھ اور مناسب گھر کی تلاش شروع کر دی گئی، چند ایک ملنے والوں سے کہہ دیا گیا۔ اپنے گھر کی صفائی کرنے والی  ماسی کے ساتھ  ادھر اُدھر کی ماسیوں کے ذمہ بھی لگا دیا گیا کہ کوئی ایسا گھر ڈھونڈھیں جہاں پہلے ہی بلیاں ہوں تاکہ ہماری بلی اُس ماحول میں جا کر ایڈجسٹ ہوجائے۔

بار بار پوچھنے پر، ایک بار ہماری ہی ماسی نے کہا کہ باجی ایک گھر ہے جن کے بچے بلیوں سے بہت پیار کرتے ہیں اور ان کے گھر میں پہلے بھی کئی بلیاں ہیں۔ میں خود ان کے گھر میں شام کو کام کرنے جاتی ہوں، ویسے اُن سے بات ہو گئی ہے اور اُن کے بچے آپ والی بلی کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ بات معقول تھی اس لیےے طے پایا کہ بلی انہیں دیدی جائے۔ دوسرے دن بلی نے جانا تھا تو عین موقع پر دل نا مانا، فیصلہ کیا گیا کہ ایک دو دن اور کھا پی لے۔ دو دن کے بعد پھر دل نا مانا۔ جمعہ والےدن بچے نماز کیلئے گئے تو گھر والی نے  بلی کو نہلا،  پاؤڈر اور پرفیوم لگا کر، نئے تولیئے میں لپیٹ کر ماسی کے حوالے کیا کہ بلی  جا کر ان لوگوں کو دیدےاور ان سے فون نمبر لے لے تاکہ بعد میں بلی کی خیر خیریت پوچھ لی جائے۔ ارادہ یہی تھا کہ اگر بلی کا دل نا لگا تو واپس لے آئیں گے۔

دوسرے دن ماسی کا انتظار کیا جاتا رہا مگر وہ نا آئی۔  تیسرے دن آئی تو  پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ ہاں بلی ادھر بہت خوش تھی، بچوں نے اُسے بہت پیار کیا، خاتوں خانہ نے فوراً گوشت ابال کر بلی کو کھلایا تھا وغیرہ وغیرہ۔ ٹیلی فون نمبر کہاں ہے کے جواب میں اس نے بتایا کہ یاد نہیں رہا کل لیتی آئے گی۔

چوتھے دن ماسی آئی تو بھی فون نمبر اُس کے پاس نہیں تھا۔ میری گھر والی نے ماسی سے کہا کام میں خود  کر لیتی ہوں، تمہیں میرا بیٹا وہاں لیکر جاتا ہے جہاں تم بلی دے آئی ہو، اس طرح وہ گھر بھی دیکھتا آئے گا اور فون نمبر بھی لیتا آئے گا۔ میرے بیٹے کو وہاں جا کر پتہ چلا کہ ان لوگوں نے نا تو ہماری ماسی سے بلی مانگی تھی، نا ہی وہ بلیوں کے شوقین تھے اور نا ہی ہماری بلی اب ان کے پاس تھی۔ ماسی ان کے گھر میں بلی لیکر ضرور گئی تھی مگر جیسے ہی ان کے بچے  اتنی صاف ستھری اور پیاری بلی کے پیچھے بھاگے، بلی ان سے ڈر کر بھاگ گئی تھی۔

جیسے ہی میرا بیٹا یہ خبر گھر لایا، گھر میں تو کہرام مچ گیا۔ صرف اتنا سوچ کر ہی کہ بلی چار دنوں سے بھوکی پیاسی ہوگی سب رونے لگ گئے۔ گھر والی اس گھڑی کو کوسنے لگی جب اس نے ماسی پر اعتبار کیا تھا ۔ بلی ڈرپوک تھی کسی کتے نے پھاڑ نا کھایا ہو۔، بلی نازک مزاج تھی اسے صاف پانی کہاں سے ملا ہوگا، بلی  نرم بستر پر سونے کی عادی تھی پتہ نہیں اب کہاں سوتی ہوگی۔ بس دو چار بار ہی تو گھر کو خراب کیا تھا  اس کی عادتیں ٹھیک بھی کی جا سکتی تھیں وغیرہ وغیرہ۔ نجانے کون کون سے خیالات اور کہاں کہاں سے کوند کر دماغ کو احساس جرم دلانے کیلئے آرہے تھے۔ سب نے اپنے اوپر کھانا پینا حرام کیا اور جس کا جس طرف منہ اٹھا بلی کو ڈھونڈھنے چل نکلا۔ بلی وہاں سے دور نہیں گئی ہوگی سوچ کر وہاں کے سارے مکینوں سے بلی کی بابت پوچھا گیا، کسی نے اللہ ترسی دکھائی تو اسے کہا گیا کہ نظر آئے تو ہمیں فون کردے۔ محلے کے دکانداروں  سے سو پچاس کی بوتلیں چاکلیٹ پی اور کھا کر ان سے اتنی سی مروت مانگی گئی کہ ہماری مدد کر دو۔ رات کو سب ناکام لوٹے تو صف ماتم اور گہری ہو گئی۔ ان لوگوں کا گھر ہمارے گھر سے تین کیلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ منطقی لحاظ سے ایسی بلی جس نے پہلے یہ راستہ نا دیکھا ہو کا واپس آنا غیر منطقی تھا مگر میری گھر والی نے وہ رات گھر کے مین گیٹ کے پیچھے کرسی پر بیٹھ کر گزاری کہ کہیں رات کو بلی ادھر تک آئے۔ وہ بولتی رہے اور ہم سوتے نا رہ جائیں مگر ایسا کچھ نا ہوا۔

پانچویں دن جیسے ہی ماسی آئی تو میری گھر والی نے اس سے پوچھا؛ ماں جی تو نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ تو اس نے سادگی سے جواب دیا تم ہی تو اس بلی سے جان چھڑانا چاہتی تھی، اب کہو تو اس بلی کے بدلے میں دس اور بلیاں تم کو لا دوں؟ یہ معاملہ ایک شعور اور محسوس کا تھا جس سے یہ ماسی عاری تھی۔ یہ بات دسیوں بلیوں کی نہیں ایک مخصوص بلی کی تھی جس سے دلی انسیت تھی۔ بات یہ نہیں کہ ہم بلیوں کے عاشق تھے، بات اتنی سی تھی کہ ہم نے ایک بلی کے ساتھ ظلم کیا تھا۔ میری گھر والی کو پتہ چل گیا کہ یہ اماں ان جذبات کو محسوس نہیں کر پائے گی اور اس سے بات کرنا فضول ہے تو اسے پانچ سو روپے دیتے ہوئے کہا؛ ماں جی یہ تمہاری چائے پانی۔ بجائے اس کے تم یہ وقت میرے گھر لگاؤ، تم جا کر اس بلی کو تلاش کرو تمہاری مہربانی ہوگی۔ بچوں نے نے سکول و کالجز سے چھٹی کی ہوئی تھی اور بلی کے پیچھے پھر رہے تھے۔ اور یہ ماسی بھی بظاہر تو بلی کو تلاش کرنے چلی گئی مگر شام کو ہمارے گھر آ کر بولی کہ میرا گھر والا کہتا ہے یہ پانچ سو تھوڑے ہیں، اگر ہمیں پانچ ہزار روپے  دو تو ہم بلی ڈھونڈھ دیں گے۔  تاہم میری گھر والی نے اسے یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ اگر تو بلی ڈھونڈھ لائی تو تجھے دو ہزار روپے دیں گے۔ ماسی عقل کی ذرا تھوڑی تھی اس لیئے اسے کوئی بمشکل کام پر رکھتا تھا ، اس وجہ سے میری گھر والی نے  اسے کام سے بھی نا ہٹایا اور آئندہ اس موضوع پر بات نا کرنے کی ٹھانی۔ کیونکہ اس کا قصور کم اور ہمارا اپنا زیادہ تھا۔

بلی جن لوگوں کے گھر پہنچائی گئی تھی شریف لوگ تھے۔ خاتون خانہ ایسوسی ایٹ پروفیسر تھی  اور نفیس جذبات کو سمجھتی تھی۔ اس سے کئی بار مل کر اتنا معلوم ہو چکا تھا کہ بلی ان کے گھر سے بھاگ کر کس گھر میں گھسی تھی اور جن کے گھر میں گھسی تھی انہوں نے پہلے دن تو کچھ بتا دیا بعد میں نا صرف کچھ بتانے سے انکار کیا بلکہ آئندہ نا صرف  تنگ نا کرنے کو کہا بلکہ بچوں کو جھڑک بھی دیا۔ بلی کے ملنے کی امید موہوم سے موہوم تر ہوتی جا رہی تھی۔ بات اب دعاؤں  سے آگے اور منتوں مرادوں تک جا پہنچی تھی۔ سورۃ یٰسین کا ختم (ایک سو بیس بار پڑھنا) اور ایک دیگ کی نیاز مانی گئی مگر چھٹا  دن بھی مایوسی اور رات ویسے ہی دروازے کے پاس جاگتے گزر گئی۔ ساتویں دن لیڈی پروفیسر نے گھر فون کر کے بتایا کہ اسے شک ہے کہ ہماری بلی کہیں آس پاس ہی موجود ہے اور زندہ ہے کیونکہ رات اسے کچھ ایسا محسوس ہوا جیسے ایک بلی نقاہت میں بولی ہو۔ تم لوگ شام کو میرے گھر آنا اور ساتھ والے گھر میں جائیں گے۔ بچے سر شام ہی اس کے گھر پہنچ گئے ۔ خاتون ان کو ساتھ والے گھر لیکر گئی، گزارش کی کہ بچوں کو ان کی بلی اپنے بیسمنٹ یا تہہ خانے میں ڈھونڈھنے دو۔قسمت کو منظور تھا اور بچے بلی کو وہاں تہہ خانے سے ڈھونڈھ نکال لائے۔ بلی کیا تھی ہڈیوں کا ڈھانچہ بچی ہوئی تھی، بقول گھر والی کے اس کا رورو کر گلا بھی بیٹھا ہوا تھا۔ اگلے  دو دن تک بلی کو گلے سے لگا کر رکھا گیا ۔ آج بلی کو ہمارے گھر میں رہتے ہوئے پانچ سال ہو گئے ہیں۔

ہماری سرائیکی کی کہاوت ہے اللہ کرے ان کا   کوئی نا  مرے جن کو رونا نا آتا ہو۔ پچھلے کئی سالوں سے  میں نے ٹیلی ویژن پر بہت سے ایسے خاندانوں کو روتے اور بلکتے ہوئے دیکھا ہے جن کی بلیاں یا کتے نہیں گھر کے جیتے جاگتے افراد کو اُٹھا کر غائب کر دیا گیا۔ صرف ایک بار دیکھنے کی آرزو لیئے ورثاء روتے تھے مگر اربا ب اختیار اور ذمہ داروں کے کانوں پر جوں تک نا رینگی۔  ایک خاتون بلکتے ہوئے کہہ رہی تھی میرے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے لاوارث ہو گئے ہیں۔ ہمیں کوئی روٹی کا لقمہ کھلانے والا نہیں ہے، ہم در دبر ہو کر بھیک مانگتے ہیں، بچوں کو کیا بتاؤں ہمارے ساتھ کون یہ ہاتھ کر گیا ہے اور کون ظالم ہمارے سر سے سایہ ہٹا گیا ہے۔ اللہ گواہ ہے مجھ جیسا کٹھور آدمی بھی اس عورت کا دکھ محسوس کر رہا تھا اور اسی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا جس   طرح وہ عورت رو رہی تھی مگر نہیں روئے تو وہ لوگ جو ان کو اٹھا کر لے گئے۔ پاکستان میں عدالتوں کا نظام آخر قائم ہی کس لئے کیا گیا ہے اگر ان کے کسی حکم پر عمل نہیں کرنا تو۔ عدالتوں کا مذاق اڑایا گیا اور ان کی باتوں کو غور کے قابل بھی نا سمجھا گیا۔ یہ نادیدہ اور ظالم ہاتھ آخر  کس بات کا انتظار کر رہے ہیں؟ کیا آسمان سے ان کیلئے کوئی گرفت اُترے جو ان کی گردنیں دبوچے تو یہ کوئی بات مانیں گے؟

پاکستان میں ایک کمانے شخص کا المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے کھانے والے اگر تین چار اپنے بچے ہوتے ہیں تو دو والدین اور تین چار والدین کے بچے بھی ہوتے ہیں۔ ایک کمانے والے کو کچھ ہو جائے تو آٹھ دس افراد ایک پورا گھرانہ تباہ ہوتا ہے۔  مظلوم تو ایک بھی بہت ہوتا ہے باری تعالیٰ کے عرش کو ہلا دینے کیلئے، کیوں یہ اتنے سارے لوگوں کی صفیں باندھتے اور بناتے جا رہے ہیں جو جھولیاں اُٹھا اٹھا کر ان کی  تباہی اور بربادی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ اللہ کسی دشمن کو بھی ان کے پیاروں کی جدائی کا دکھ نا دے، کاش یہ لوگ اتنی سی بات سمجھ جائیں۔ میری ایک چھوٹی سی نصیحت ہے ان کے لیئے کہ اے  ارباب  اختیار؛ تم  ان لا پتہ افراد کے ورثاء کا نہیں اپنے خالق کا صبر آزما رہے ہو۔ سمجھ جاؤ کہیں دیر نا ہو جائے۔

Posted in Uncategorized | Tagged , , | 13 تبصرے

تین ہمنام بھائی


کہتے ہیں کسی جگہ ایک شخص رہتا تھا جس کے تین بیٹے تھے۔ اس شخص نے اپنے ان تینوں بیٹوں کے نام “عبداللہ” رکھے ہوئے تھے۔ دن گزرتے رہے حتیٰ کہ اسے مرض الموت نے آن لیا۔ اس نے اپنے تینوں بیٹوں کو بلا کر وصیت کی کہ عبداللہ کو وراثت ملے گی، عبداللہ کو وراثت نہیں ملے گی اور عبداللہ کو وراثت ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی اس کی روح قبض ہوگئی۔ یہ خود تو فوت ہو گیا مگر اپنے بیٹوں کو حیرت میں ڈال گیا کہ کیسے فیصلہ کریں کن دو عبداللہ کو وراثت ملے اور اور کس ایک کو نہیں ملے گی۔ تینوں نے فیصلہ کیا کہ شہر جا کر قاضی سے اپنا مسئلہ بیان کریں اور اس سے کوئی حل مانگیں۔

تینوں اپنے زاد راہ کے ساتھ شہر کیلئے عازم سفر ہوئے۔ راستے میں انہوں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو اپنی کسی گم شدہ چیز کو تلاش کرتا پھرتا تھا۔ ان بھائیوں کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کی اونٹنی گم ہو گئی ہے جسے وہ تلاش کرتا پھر رہا ہے۔

ایک عبداللہ نے پوچھا کیا تیری اونٹنی ایک آنکھ سے کانی تھی۔ اس آدمی نے کہا ہاں ہاں، ایسا ہی تھا۔

دوسرے عبداللہ نے پوچھا کیا تیری اونٹنی ایک ٹانگ سے لنگڑی تھی تو اس آدمی نے جلدی سے کہا، بالکل صحیح، میری اونٹنی واقعی ایک ٹانگ سے لنگڑی تھی۔

تیسرے عبداللہ نے اونٹنی کے مالک سے پوچھا کیا تیری اونٹنی کی دم کٹی ہوئی تھی تو اس نے خوشی سے کہا بالکل ٹھیک، میری اونٹنی کی دُم بھی کٹی ہوئی تھی۔ بس اب جلدی سے بتا دو میری اونٹنی کہاں ہے؟

تینوں عبداللہ نے مل کر جواب دیا؛ بخدا ہمیں آپ کی اونٹنی کے بارے میں کوئی علم نہیں، ہم نے اسے ہرگز نہیں دیکھا۔

اونٹنی کا مالک ان کی یہ بات سن کر غصے سے پاگل ہو گیا، اس نے فیصلہ کیا کہ اس تینوں کو کھینچ کر قاضی کے پاس لے جائیگا۔ اسے پورا یقین تھا کہ اس کی اونٹنی کو یہ تینوں ذبح کر کے کھا چکے ہیں اور اب اپنے جرم کو چھپانے کیلئے جھوٹ بول رہے ہیں۔۔ اونٹنی والے نے جب تینوں کو اپنا ارادہ بتایا تو انہوں نے کہا ہمیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ہم خود بھی قاضی کے پاس ہی جا رہے ہیں

جب یہ چاروں قاضی کے پاس پہنچے تو اونٹنی والے نے قاضی سے اپنا قصہ بیان کیا۔ قاضی نے ان تینوں سے کہا جس طرح تم تینوں نے اونٹنی کی نشانیاں بتائی ہیں اس کا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اونٹنی تم تینوں کے پاس ہے، بہتر ہے کہ تم اپنے جرم کا اعتراف کر لو۔

پہلے نے کہا؛ جناب عالی، ہم نے اونٹنی تو نہیں دیکھی تھی، ہاں البتہ اونٹنی کے آثار ضرور دیکھے تھے۔ جب میں نے اسے کہا تھا کہ تیری اونٹنی ایک آنکھ سے کانی ہے تو میں نے دیکھا تھا کہ راستے کے ایک طرف کا گھاس تو خوب چرا ہوا تھا مگر دوسری طرف کا ویسے ہی بآمان موجود تھا۔ اس کا ایک ہی مطلب تھا کہ اس شخص کی اونٹنی ایک آنکھ سے کانی رہی ہوگی۔

دوسرے عبداللہ نے کہا؛ میں نے دیکھا تھا کہ راستے میں تین قدم تو گہرے لگے ہوئے ہیں جبکہ چوتھا قدم زمین پر معمولی پڑا ہوا تھا جس کا مطلب بس اتنا ہی بنتا تھا کہ یہ جانور لنگڑا بھی تھا۔

تیسرے عبداللہ نے کہا؛ اونٹ جب راہ چلتے ہوئے اپنا گوبر گراتے ہیں تو دم سے ادھر اُدھر بکھیرتے ہیں۔ جبکہ ہم جس راہ سے آئے تھے وہاں پر گوبر ایک ہی لائن میں سیدھا گرا ہوا تھا جس کا ایک مطلب ہو سکتا تھا کہ اونٹنی کی دُم کٹی ہوئی ہے جو اپنا گوبر دائیں بائیں نہیں پھیلا پائی۔

قاضی نے بغیر کسی دیر کے اس آدمی کی طرف دیکھا اور کہا، تم جا سکتے ہو۔ تمہاری اونٹنی ان لوگوں کے پاس نہیں ہے اور ناں ہی انہوں نے اُسے دیکھا ہے۔

 اونٹنی والے شخص کے جانے کے ان تینوں بھائیوں نے قاضی سے اپنا قصہ بیان کیا جسے سُن کر قاضی بہت حیران ہوا۔ ان تینوں سے کہا تم آج کی رات مہمان خانے میں ٹھہرو، میں کل تمہیں سوچ کر کوئی حل بتاؤنگا۔

 یہ تینوں مہمان خانے میں جا کر ٹھہرے تو انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ کچھ دیر کے بعد ان کے لئے کھانا لایا گیا جو گوشت کے پکے ہوئے سالن اور روٹیوں پر مشتمل تھا۔

پہلے نے کھانے کو دیکھتے ہی کہا یہ سالن کتے کے گوشت کا بنا ہوا ہے۔

دوسرے نے کہا روٹیاں جس عورت نے پکائی ہیں وہ حمل کے ساتھ اور پورے دنوں سے ہے۔

تیسرے نے کہا یہ قاضی حرام کی اولاد ہے۔

بات قاضی تک پہنچ گئی، اُس نے تینوں کو دوسرے دن اپنی عدالت میں طلب کر لیا اور تینوں سے مخاطب ہو کر کہا؛ تم میں سے کس نے کہا تھا یہ کتے کا گوشت پکا ہوا ہے؟ پہلا بولا میں نے کہا تھا۔

قاضی نے باورچی کو بلوا کر پوچھا تو اس نے اعتراف کیا کہ پکانے کیلئے کچھ نہیں تھا تو اس کو شرارت سوجھی اور اس نے کتا مار کر اس کا گوشت پکایا اور ان کو کھانے کیلئے بھجوا دیا۔

قاضی نے پہلے سے پوچھا تمہیں کیسے پتہ چلا یہ گوشت کتے کا ہے تو اس نے بتایا گائے، بکری یا اونٹ کے گوشت کے نیچے چربی لگی ہوتی ہے جبکہ یہ سارا چربی نما تھا جس کے نیچے کہیں کہیں گوشت لگا ہوا تھا۔ قاضی نے کہا تم وہ عبداللہ ہو جس کو اپنے باپ کے مال سے وراثت ملے گی۔

قاضی نے دوبارہ ان سے مخاطب ہو کر پوچھا کس نے کہا یہ روٹیاں ایسی عورت نے بنائی ہیں جو نو ماہ کے حمل کے ساتھ اور اپنے پورے دنوں سے ہے؟ جواب میں دوسرے نے کہا میں ہوں جس نے یہ کہا تھا۔ قاضی نے پوچھا تمہیں کیونکر یہ لگا تو اس نے کہا میں نے دیکھا روٹیاں ایک طرف سے پھولی ہوئی اور خوب پکی ہوئی ہیں تو دوسری سے کچی اور موٹی رہ گئی ہیں۔ میں نے اس سے یہی اخذ کیا روٹیاں بنانے والی ایسی خاتون ہے جس سے تکلیف کے مارے زیادہ جھکا نہیں جا رہا اور وہ سامنے کی چیز بھی نہیں دیکھ پا رہی جس کا مطلب یہی بنتا تھا کہ عورت حاملہ ہے اور روٹیاں بنانے میں تکلیف محسوس کرتی رہی ہے۔ قاضی نے اس دوسرے سے بھی کہا کہ تم وہ عبداللہ ہو جسے اس کے باپ کے ترکہ سے وراثت میں حصہ ملے گا۔

پھر قاضی نے تینوں  سے مخاطب ہو کر پوچھا یہ کس نے کہا تھا میں ولد الحرام ہوں؟ تیسرے نے جواب دیا کہ یہ میں نے کہا تھا۔ قاضی اُٹھ کر اندر گیا اور اپنی ماں سے پوچھا کیا یہ سچ ہے کہ وہ حرامی ہے تو اُس کی ماں نے کہا یہ سچ ہے کہ تم حرام کے ہو۔

قاضی نے واپس آکر اس تیسرے عبداللہ سے پوچھا تمہیں کیونکر معلوم ہوا میں حرامی ہوں تو اُس نے جواب دیا؛ اگر تم حلالی ہوتے تو مہمان خانے میں ہم پر نگران نا مقرر کرتے، نا ہی کتے کا گوشت پکوا کر ہمیں کھانے کیلئے بھجواتے اور نا ہی کچی روٹیاں کسی مظلوم عورت سے بنوا کر ہمیں کھلواتے۔

قاضی نے اُسے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم وہ عبداللہ ہو جسے اُس کے باپ کے مال سے ورثہ نہیں ملے گا۔

تیسرے نے حیرت کے ساتھ قاضی کو دیکھا اور پوچھا مگر ایسا کیوں ہے؟

قاضی نے کہا؛ کیونکہ ایک حرامی ہی دوسرے ولد الحرام کو ٹھیک ٹھیک پہچان سکتا ہے اور تم بھی میری طرح حرام کی اولاد ہو۔

وراثت پانے والے دونوں عبداللہ اپنی ماں کی طرف لوٹے اور دریافت کیا کہ ہمارے تیسرے بھائی کا کیا ماجرا ہے تو اُن کی ماں نے کہا تمہارا باپ ایک بار صبح کی نماز پڑھنے مسجد گیا تو اسے دراوزے پر رکھا ہوا پایا تھا، اسے گھر لایا، اس کا نام بھی تم دونوں جیسا عبداللہ رکھا اور اس کی پرورش کی۔

جی، تو ایسی ہوتی ہیں عربوں کی حکایتیں جن میں حکمت کے درس بھی ہوتے ہیں۔ مضمون عربی سے لیکر آپ کیلئے ترجمہ کیا گیاہے۔

Posted in Uncategorized | Tagged , , , , , , , | 24 تبصرے

سعید صاحب، حج مبارک ہو


ادھر حج کا فریضہ ادا ہوا ادھر معلمین حجاج کو باری باری ایئرپورٹ لانے کے عمل  (بلکہ حجاج کو ایئرپورٹ پر  ڈھونے کے عمل) میں لگ جاتے ہیں۔ اور حجاج بیچارے ادھر، اور  ان کے لواحقین ادھر،  ان سے ملنے کو بے قرار،  انتظار کی اذیت سے دوچار ہوتے ہیں۔

کچھ ایسی ہی صورتحال  ایک عرب  ملک سے تعلق رکھنے والے حاجی سعید کے ساتھ پیش آرہی تھی جو ایئرپورٹ پر  بیٹھے اپنے جہاز کا انتظار کر رہےتھے۔  ان کے ساتھ والی کرسی کو خالی پاکر ایک  اور حاجی صاحب آن  بیٹھے۔ ایک دوسرے کو سلام کرنے بعد، ایک دوسرے کے نام ،   ایک دوسرے کی شہریت اور صحت و تندرستی بلکہ ایک دوسرے کا  حال احوال بھی پوچھ بیٹھے۔ یہ نو وارد کچھ زیادہ ہی گرم جوش دکھائی دیتا تھا جس کا دل ان چند باتوں سے نہیں بھرا تھا اور وہ مزید کچھ کہنے سننے کو بے تاب دکھائی دے رہا   تھا۔ تاکہ گفتگو کا سلسلہ مزید چل نکلے۔

 اس نے خود ہی اپنے بارے میں بتانا شروع کیا کہ:

برادر سعید، میں پیشے کے لحاظ سے ایک ٹھیکیدار ہوں۔ اس سال مجھے ایک بہت بڑا ٹھیکہ مل گیا، یہ ٹھیکہ تو گویا میری زندگی کے  حاصل جیسا تھا۔ اور میں نے نیت کر لی کہ اللہ کی اس  نعمت کے شکرانے کے طور پر میں اس سال دسویں بار فریضہ حج ادا کرونگا۔  بس اپنی منت کو پورا کرنے کیلئے میں نے  اپنا حج داخلہ کرایا۔ ادھر آ کر  بھی خوب صدقات  دیئے اور  خیراتیں  کیں تاکہ اللہ میرے حج کو قبول کرلے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں دسویں بار حاجی بن گیا ہوں۔

سعید صاحب نے سر کو ہلا کر گفتگو میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا  اور مسنون طریقے سے

حج کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا

حجا مبرورا ،     و سعیا مشکورا،  و ذنبا مغفورا ان شاء اللہ

(اللہ کرے آپ کا حج مقبول ہو، آپ کی سعی مشکور ہو اور آپ کے گناہ معاف کر دیئے جائیں)

اس شخص نے مسکرا کر سعید صاحب  کی نیک تمناؤں کا شکریہ ادا کیا اور کہا:

اللہ تبارک و تعالیٰ سب کے حج قبول کرے، تو سعید صاحب، کیا آپ کے حج کا بھی کوئی خاص قصہ ہے ؟

سعید نے کچھ ہچکچاہٹ کے ساتھ کہا

ہاں جی، میرے حج کے پیچھے بھی ایک طویل قصہ ہے مگر میں  یہ قصہ سنا کر آپ کے سر میں درد نہیں کرنا چاہتا۔

یہ سن کر وہ شخص ہنس پڑا اور کہا؛

ارے سعید صاحب، آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ ہمارے پاس  سوائے انتظار کے اور کوئی کام ہی نہیں ، اب بھلا آپ کے قصے سے ہمارا  وقت کٹے گا یا مجھے کوفت ہوگی!

سعید صاحب مسکرا دیئے اور بولے؛

جی، انتظار، انتظار ہی تو میرے قصے کی ابتدا ہے کہ اتنے طویل سالوں تک حج کی خواہش کو دل میں لئے کام میں لگا رہا۔ میں پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہوں۔ آج سے تیس سال پہلے کام کرنا شروع کیا تھا، جب ریٹائرمنٹ کے نزدیک پہنچا اور بچوں کی شادیوں اور دیگر فرائض  سے فراغت پائی اور کچھ ذہنی آسودگی ملی تو اپنی باقی کی جمع پونجی دیکھی۔ یہ پیسے مجھے حج کیلئے کافی دکھائی دیئے تو سوچا کیوں ناں اب اس حج کے  فریضے سے سبکدوش ہو لوں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ جب استطاعت ہو تو اس فرض کی ادائیگی میں تآخیر اچھی نہیں ہوتی ، کیا پتہ کہ کب سانس ساتھ چھوڑ جائے۔

اس آدمی نے اپنی بھرپور توجہ کا احساس دلانے کیلئے اپنی طرف سے بات میں اضافہ کیا۔

 جی کیوں نہیں، جب استطاعت ہو تو یہ فرض ضرور ادا کیا جائے۔

سعید صاحب نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا؛

جی سچ فرمایا آپ نے۔

میں نے اسی دن ہی ہسپتال جاتے ہوئے بنک سے سارے پیسے نکلوا لئے کہ شام کو سیدھا جا کر حج کیلئے داخلہ کرا  دوں اپنا۔

اسی دن ہسپتال  جا کر  میری ملاقات ایک مریض بچے کی ماں سے ہوئی ۔ اس عورت کا بچہ ہمارے ہسپتال میں اور میری ہی زیر نگرانی ایک معذوری کے علاج کے سلسلے میں داخل تھا۔ غم اور لاچاری کے تاثرات اس عورت کے چہرے پر عیاں تھے۔ مجھے دیکھتے ہی بولی، اچھا سعید بھائی، اللہ حافظ۔، یہ میری آپ سے  اس ہسپتال میں آخری ملاقات ہے۔

یہ سن کر  مجھے اچھی خاصی حیرت ہوئی اور سب سے پہلی جو بات میرے ذہن میں آئی وہ یہ تھی کہ لگتا ہے کہ یہ عورت میرے علاج سے مطمئن نہیں اور بچے کو کسی اور ہسپتال لے جانا چاہتی ہے۔ پھر میں نے یہ بات اس سے  پوچھ بھی لی۔

میری یہ بات سن کر وہ عورت فورا بول اٹھی؛ نہیں سعید بھائی،  ایسی کوئی بات نہیں، آ پ تو میرے بیٹے کیلئے کسی بھی شفیق باپ سے سے زیادہ مہربان ہیں، جب ہم ہر طرف سے مایوس ہو چکے تھے تو آپ کی حوصلہ افزائی سے یہاں ہم نے اتنا اچھا علاج کروایا ہے۔

اب وہ شخص درمیان میں بول پڑا؛

عجیب بات ہے! اگر وہ عورت آپ کے علاج سے اتنی ہی مطمئن تھی اور اُسکا بیٹا بھی روبہ صحت تھا تو وہ پھر کیوں علاج چھوڑ کر جانا چاہ رہی تھی؟

سعید صاحب نے جواب دیا؛

جی مجھے بھی یہ بات کافی عجیب سی لگ رہی تھی۔ اس لئے میں نے  اس سے اجازت لیکر معاملے کو مزید جاننے کیلئے اپنا رخ ہسپتال کے انتظامی شعبے کی طرف کر لیا۔ جاتے ہی میں نے  اکاؤنٹنٹ سے پوچھا کہ یہ لوگ کیوں ہسپتال چھوڑنا چاہ رہے ہیں؟ ان کے کیس میں کہیں میری طرف سے کوئی کمی و کوتاہی تو نہیں ہوئی؟ اکاؤنٹنٹ نے کہا؛ نہیں جناب ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہوا یوں ہے کہ بچے کے باپ کی ملازمت جاتی رہی ہے اور یہ لوگ  اب شدید مالی  پریشانی  اور مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ ہسپتال میں بچے کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات کو برداشت کرنا اب ان کے بس میں نہیں رہا، اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ بچے کا معاملہ اس کے نصیب اور مقدر  پر چھوڑا جائے اور علاج کو ترک کر دیا جائے۔

وہ شخص بولا:

لا حول ولا قوۃ الا باللہ، کتنی لاچار تھی یہ ماں۔ لیکن کیا کیا جائے اس وقت دنیا جس معاشی بحران سے گزر رہی ہے کی وجہ سے اب تک لاکھوں لوگ اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اچھی  اچھی شہرت رکھنے والی کمپنیاں اور بڑے بڑے ادارے بھی اپنے ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر رہے ہیں۔ تو پھر سعید صاحب، آپ نے کیا کردار ادا کیا اس معاملے میں؟

سعید صاحب نے جواب دیا؛

اکاؤنٹنٹ کے کمرے سے نکل کر میں فورا ہی ہسپتال کے انتظامی سربراہ کے پاس گیا اور اسے گزارش کی کہ وہ بچے کا علاج ہسپتال کے بجٹ سے جاری رکھیں، لیکن اس نے شدت کے  ساتھ میری بات رد کر دی۔ بلکہ اس نے تو مجھے یہاں تک بھی کہا کہ یہ ہسپتال کوئی خیراتی ادارہ نہیں ہے جو غریبوں اور مسکینوں کا مفت میں علاج کرتا   رہے۔ ہم نے ہسپتال کو منافع میں چلانا ہے اور  ہمارا  ایک نام اور ہمارا  ایک معیار ہے، جسے ہمارے پاس علاج کرانا ہے کرائے اور جسے جانا ہے چلا جائے۔

میں مدیر کے کمرے سے ٹوٹے دل کے ساتھ نکلا۔ میرا دل ابھی تک اس عورت کے چہرے پر آئی حسرت و یاس کے تاثرات پر اٹکا ہوا تھا۔ میں جانتا تھا کہ بچے کا علاج جاری نا  رکھا گیا تو معاملہ پھر صفر تک جا پہنچے گا اور ہو سکتا ہے کہ آئندہ بچے کے علاج میں مزید پیچیدگیاں بھی پیدا ہو جائیں۔ میرا دل تھا کہ خون کے آنسو رو رہا تھا اور میں اپنی بیچارگی پر بھی کڑھ رہا ۔ یہ ٹھیک تھا کہ میں  نے اس ہسپتال میں ایک اچھے مشاہرے پر کام کیا تھا مگر کیا میں اس  تیس سال کی خدمت  کے عوض ایک مریض کا مفت علاج بھی تجویز نہیں کر سکتا تھا؟ میں انہین سوچوں میں گم کھڑا تھا کہ لا شعوری طور میرا ہاتھ اپنی جیب میں گیا جس میں میں نے آج صبح بنک سے حج داخلہ کیلئے نکلوائے ہوئے پیسے ڈال رکھے تھے۔  پیسوں کو ہاتھ لگتے ہی میں نے اپنا منہ آسمان کی اٹھا دیا اور اپنے رب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا؛

اے اللہ تو جانتا ہے کہ میرے دل میں تیرے  گھر  کا حج کرنے اور تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی زیارت کرنے کی  کتنی تڑپ ہے۔  میں نے تو اس مقصد کیلئے اپنی  زندگی بھر کی جمع پونجی اور کمائی اکٹھی کر کے ارادہ باندھ بھی لیا تھا ۔ اب تو میرے اس شوق کی تکمیل میں بس گھنٹے اور منٹ ہی حائل تھے ۔ مگر میں تیرے ساتھ کیا ہوا اپنا وعدہ توڑنے جا رہا ہوں، مجھے  معاف کر دینا  کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تیری ذات   بہت غفور الرحیم ہے ۔

میں نے اسی وقت اکاؤنٹنٹ کے پاس جا کر اپنے سارے پیسے اس بچے کے علاج کیلئے آئندہ چھ مہینوں کے ایڈوانس علاج کیے طور پر  جمع کرا دیئے۔ میں نے اکاؤنٹنٹ سے وعدہ لیا  کہ عورت سے کہے  گا کہ ہمارے ہسپتال میں ایسی صورتحال کیلئے ایک سپیشل فنڈ ہوتا ہے جس سے اس  کے بیٹے کا علاج کیا جا رہا ہے اور اس کو یہ نا معلوم ہونے دے کہ یہ  پیسے ہسپتال  نے نہیں بلکہ میں نے ادا کیئے ہیں۔

اب اس آدمی کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے تھے، اس نے پوچھا؛ سعید بھائی، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کی اس نیکی کو قبول کرے اور دوسروں کو بھی آپ کی قائم کردہ  اس مثال پر چلنے کی توفیق دے۔  اچھا ایک بات تو بتائیں کہ آپ نے تو سارے پیسے بچے کے علاج کیلئے جمع کرا دیئے تھے پھر حج پر کس طرح آ پہنچے؟

سعید صاحب نے ہنستے ہوئے جواب دیا؛

لگتا ہے کہ اپ اس قصے کا اختتامیہ جاننے کیلئے بے چین ہو رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کی دلچسپی اب اس قصے سے ختم ہو رہی ہو؟ اچھا  خیر، میں آپ کو اس قصے کا بقیہ حصہ جلدی جلدی سناتا ہوں۔ میں اس دن نہایت ہی غمگین اپنے گھر پہنچا کہ میں نے اپنی زندگی کی آخری خواہش حج کی ادائیگی کو پورا کرنے کا موقع ضائع کر دیا تھا۔ ہاں کچھ خوشی بھی تھی کہ  میں نے  ایک خاندان کے مصیبت کے لمحات میں انکی مدد کی تھی۔ میں اس رات  روتے روتے سویا تو میرے آنسو میرے گالوں پر بہہ رہے تھے۔ میں نے نیند میں خواب دیکھا کہ میں حرم میں موجود ہوں اور کعبہ شریف کے گرد طواف کر رہا ہوں، لوگ بڑھ بڑھ کر مجھ سے سلام کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں سعید صاحب، حج مبارک ہو، آپ نے زمین پر اپنا حج کرنے سے پہلے ہی آسمان پر حج کر لیا ہے۔ بلکہ لوگ مجھ سے اپنے بارے میں دعا کرنے کو بھی کہہ رہے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے حج بھی قبول فرمائے۔  اور جب میں نیند سے جاگا تو ایک عجیب قسم کی خوشی اور مسرت کے احساس سے ہمکنار تھا۔ میں اپنی طرف سے امید کھو بیٹھا تھا کہ کبھی کعبہ شریف کی زیارت بھی کر پاؤنگا مگر کم از کم میں نے نیند میں تو یہ زیارت کر ہی لی تھی۔ خیر، میں نے اللہ کی اس مہربانی پر بھی شکر ادا کیا اور جو کچھ ہو چکا تھا اس پر راضی رہنے کا عہد کیا۔ میں ابھی تک نیند کے خمار میں ہی پڑا اپنے حسین خواب کو یاد کر کے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بج اٹھی۔ دوسری طرف ہسپتال کا وہی مدیر بول رہا جس نے کل مجھے نخوت کے ساتھ انکار کیا تھا۔ اس کے لہجے سے التجا کا تاثر عیاں تھا ۔ میرے سلام کرنے پر اس نے کہا، ڈاکٹر سعید، میں جانتا ہوں کہ آپ میرے کل کے رویئے پر ناراض ہونگے مگر میں پالیسی کے ہاتھوں مجبور تھا۔ مجھے آپ کی مدد کی ضرورت آن پڑی ہے، انکار مت کیجئے گا۔ ایک بہت بڑی کاروباری شخصیت حج پر جانا چاہتی ہے مگر ان کے ساتھ ذاتی طبیب کے جانے کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔ اس کے  ذاتی معالج  کا فریضہ پہلے تو اس کی بیوی سر انجام دیتی تھی مگر آجکل وہ پورے دنوں سے ہے اور سفر پر نہیں جا سکتی۔ یہ آدمی ہمارے ہسپتال میں نصف کا شریک ہے۔ اسے ناراض کرنا گویا میرا  اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔ اس نے فوری طور پر مجھ سے  ایک نام مانگا ہے اور میرے ذہن میں آپ کا نام آیا ہے، آپ اس شخصیت سے کافی ذہنی مطابقت رکھتے ہیں، مہربانی کر کے انکار مت کیجیئے گا؟

میں نے تھوڑے  سے تامل کے بعد  پوچھا؛

اس شخص کے ساتھ میری رفاقت محض طبیب اور ذاتی معالج کی سی ہی ہو گی یا وہ مجھے حج ادا کرنے کا بھی موقع دے گا؟

مدیر نے بلا توقف کہا؛ ڈاکٹر سعید صاحب، آپ اس شخصیت کے ساتھ اسی کے نان و نفقہ پر جائیں گےاور وہ آپ کو حج ادا کرنے کا بھی پورا پورا موقع دے۔

اور جس طرح کہ آپ دیکھ رہے ہیں میں نے بہت ہی احسن طریقے سے حج ادا کیا ہے ۔ صرف یہی ہی نہیں اس آدمی نے مجھے میری خدمات کے عوض ایک معقول رقم بھی ادا کی ہے۔  اس کے ساتھ گزرے فرصت کے لمحات میں، میں نے اسے اس بچے اور عورت کا قصہ سنایا تو  اس نے فورا ہی ہسپتال کو احکامات بجھوائے کہ اس بچے کا آئندہ علاج مفت اور ہسپتال کے خرچہ پر کیا جائے۔ بلکہ اب تو  اس صاحب کے حکم سے ہسپتال میں آنے والے ایسے کیسز کیلئے  باقاعدگی سے ایک فنڈ مختص کیا گیا ہے، مزید اس نے بچے کے والد کو میں اپنی کسی کمپنی میں  اس کی قابلیت کے مطابق ایک ملازمت بھی دی ہے۔

اس آدمی نے اٹھ کر سعید صاحب کی پیشانی پر ایک بوسہ دیا اور کہا؛

سعید صاحب، اللہ کی قسم، میں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی اتنی خجالت محسوس نہیں کی جتنی آج کر رہا ہوں۔ میں ایک کے بعد ایک حج کر کے یہی محسوس کرتا رہا کہ بہت بڑا معرکہ سر کر رہا ہوں۔ میں یہ سوچتا تھا کہ ہر بار حج کرنے سے اللہ کے نزدیک میرا مرتبہ  بلند سے بلند ہوتا جا رہا ہوگا۔ لیکن آج  میں آپ کے  سامنے اپنے آپ کو بہت ہی حقیر سمجھ رہا ہوں۔ آپ کا یہ ایک حج میرے دس نہیں بلکہ میرے حج جیسے ایک ہزار حج سے زیادہ بہتر حج ہے۔ میں پیسے خرچ کر کے حج پر جاتا رہا ور آپ کو  اللہ نے خود بلوا کر حج کروایا۔

سعید صاحب کو اس آدمی کی بڑبڑاہت صاف سنائی دے رہی تھی جو دوسری طرف منہ کئے کہہ رہا تھا ؛

اے اللہ مجھے بخش دے،  اے اللہ مجھے بخش دے۔ 

(عربی سے ماخوذ و مترجم)

Posted in اصلاحی | Tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | 29 تبصرے

خیر باقی ہے


اس بار میرے ساتھ  پاکستان میں یہ درج ذیل واقعہ   پیش آیا  جو اس بات کا ثبوت ہے  کہ شر  چاہے جتنا  بھی نمایاں نظر آتا ہے خیر اس کے نیچے دبا نہیں ، اور  ابھی بھی اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ باقی ہے۔

ہوائی سفر کے دوران جس قدر سامان کو جمع کرانے کی سہولت ہوتی ہے،  سے زیادہ سامان کو بیک پیک میں یا  دستی ٹرالی بیگ میں ایڈجسٹ کرنا میرا پرانا مشغلہ ہے،  اس کیلئے میں پھر اس بات کا خیال نہیں رکھتا کہ  یہ سامان   بیک پیک کے شایان شان ہے بھی یا نہیں،  بس وزن کا خیال رکھتا ہوں کہ کیسے زیادہ سے زیادہ  ادھر  کھپا لیا جائے۔ پچیس اگست کو صبح اُٹھ کر نماز و تلاوت کے بعد کچھ اذکار مسنونہ سے فارغ ہو کر میں نے ایئرپورٹ جانے سے پہلے اس بات کو ممکن بنایا کہ وہاں کا عملہ میرے سامان کیلئے نا تو مجھ پر ترس کھائے اور نا ہی کوئی احسان کرے جس میں میں کامیاب رہا۔

اسلام آباد پہنچ کر خرم ابن شبیر کے بار بار میسیج  آنا تو فون آن کرتے ہی شروع ہو گئے تھے جبکہ ٹیلفون کا لا متناہی سلسلہ جہاز سے اترتے ہی  شروع ہوگیا۔ میں اپنے پروگرام کے مطابق سب سے پہلے سیدھا ڈائیوو اڈے گیا جہاں میرا مقصد بیک پیک کو گجرات کے احباب (بشمول بلال بھائی، بھائی طاہر بٹ صاحب، بھائی غلام عباس مرزا اور جناب برادرم عبدالستار صاحب وغیرہ )  کے پاس جانے اور رات بھر وہاں قیام کرنے کے دوران قابل استعمال چیزوں سے بھرنا اور باقی کا سامان ملتان کیلئے  بُک کرانا تھا۔

اڈے پر پہنچ کر میں نے لاؤنج میں تین کرسیوں پر اپنا سامان رکھا اوراگلے مرحلے کی تیاری شروع کی۔ اڈے کی محدود جگہ اور بے شمار مسافروں کی آمد و رفت میں ماحول سے لاتعلق بن کر بیٹھ رہنا ،  یا اپنا سامان کھول کر چیزیں ادھر اُدھر آسانی سے کرلینا  ممکن نہیں  تھا۔  جب کہ اس دوران پانچ چھ خواتین پر مشتمل ایک خاندان میرے سامنے والی کرسیوں پر بیٹھنے کیلئے آیا، معمر خواتین بیٹھ پائیں جبکہ جوان خواتین جگہ نا ہونے کی وجہ سے کھڑے ہونے پر مجبور تھیں،  ان کے ساتھ ایک تین یا چار سالہ بچی کو  میں نے پیار سے دیکھا، ہاتھ ہلا کر مسکرایا۔ جبکہ دوسرے ہی لمحے ان کو اپنی کرسیاں پیش کرنے کیلئے   فٹافٹ اپنا   سامان واپس بکسوں میں انڈیلا ، ان لوگوں  کو اپنی کرسیوں پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اڈے کے اندر بنی عارضی مسجد کی طرف  چل پڑا۔ یہاں میں نے سب سے پہلے لیٹ کر اپنی کمر سیدھی کی،  پچھلے آٹھ دس گھنٹوں سے جاگرز میں قید قدمین  کو راحت ملی تو اور بھی سکون آ گیا۔ دس یا پندرہ منٹ بے سُدھ پڑ کر آرام کرنے کے بعد اُٹھ کر چائنا ایئرپورٹ سے  خریدے ہوئے پانی کی بوتل کو  آرام سے کھول کر پیا، پھر گجرات کیلئے ساتھ لینے اور  ملتان بکنگ کیلئے چھوڑنے والا سامان علیٰحدہ  کیا، اور جب کرنے کیلئے کچھ نا رہا تو سوچا اب اُٹھ کر سامان  بک کرایا جائے، اور  ساتھ لیئے جانے والا سامان اٹھا کر یہاں سے خرم بھائی سے ملنے کیلئے کوچ کیا جائے۔

دونوں ہاتھوں سے  ایک ایک ٹرالی بیگ کھینچتے ہوئے اور  بیک پیک کو پشت پر ڈالے،   میں اڈے میں پر بنی اونچی سلوپ پر چڑھ  کر باہر نکلنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ ایک دس بارہ سال کا بچہ اپنی  پھولی ہوئی سانس کے ساتھ بھاگتے ہوئے میری طرف آیا اپنے پیچھے آتے اپنے  والدکو میری طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا؛ ابو یہ ہے وہ آدمی۔

میں نے ان دونوں باپ بیٹوں کو پہلے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا، معاملہ   ناقابل فہم تھا اس لیئے  میری حیرت اپنی جگہ تھی۔ بچے کے والد نے آتے ہی ادب کے ساتھ مجھ سے مصافحہ کیا اور پھر بولے’ شاید آپ کا موبائل گُم ہو گیا ہے؟ میں نے جلدی سے جیبیں ٹٹولیں ، موبائل کو نا پا کر  اُن کی اس بات سے پورا اتفاق کیا ۔ صاحب بولے گھبرائیے نہیں آپ کا موبائل ہمارے پاس ہے، بس آپ کو یہ کرنا ہے کہ میرے موبائل سے اپنا  نمبر ملائیے، اور اپنا موبائل لے لیجیئے۔

صاحب نے تصدیق کے بعد مجھے میرا  آئی فون فور موبائل لوٹاتے ہوئے جو کہانی سُنائی وہ یوں تھی کہ  تقریباً آدھا گھنٹا پہلے جب میں یہاں اپنا موبائل فون چھوڑ کر گیا تھا  تو انہوں  نے اُسے اپنے قبضے میں لیکر  ہر طرف تلاش کیا۔ اڈے سے نکلتی ہر بس میں دیکھا کہیں کوئی ایسا مسافر نکل نا جائے جو اس موبائل کا مالک ہو۔ بعد میں لاؤنج میں بھی  کئی بار اعلان کرایا گیا۔ اس ہوش رُبا تفصیل سے جو بات سامنے آ ئی تھی وہ یہ تھی کہ انہوں نے میرے اس فون کو مجھ تک پہنچانے کیلئے  واقعی اتنی سخت محنت کی تھی۔  فون کے مالک شخص کا خاکہ اور پہنے ہوئے کپڑے اور کپڑوں کا رنگ اُس چار سالہ بچی نے فراہم کیا تھا جسے میں نے پیار سے دیکھا اور ہاتھ ہلایا تھا۔

فون لیکر میں نے شکریہ ادا کیا جو لفظوں میں ناممکن تھا تاہم اتنا اعتراف جو کر پایا وہ یہ تھا کہ اللہ پاک آپ خوش رکھے آپ امانت کو حقدار تک پہنچانے کی روایت کے زندہ امین ہیں۔ اللہ پاک آپ کو اجر دے  ۔

شام کو میں نے ان صاحب کا وہ نمبر تلاش کیا جو میرے موبائل پر تصدیق کیلئے آیا تھا سے انہیں تحریری شکریہ کا پیغام  بھیجا جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کیلئے ایک اچھی مثال بنیں اور اُن کے بچے آئندہ کیلئے ایک اچھے شہری اور اچھے راست باز مسلمان بنیں۔ اللہ ان کا حامی و ناصر ہو۔

میرا موبائل فون کافی پرانا  ہو چکا ہے تاہم ایسے معاشرے میں جہاں اس سے کئی گنا کم قیمت موبائل کو چھیننے کیلئے بندہ پھڑکایا جا  رہا ہو ، ابھی بھی کافی قیمتی ہے اور ایسے فون کو انتہائی محنت کے ساتھ، اپنی ذات کو بھلا کر، اپنے سفر کو مؤخر کرکے مالک کو تلاش کرکے لوٹانا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ خیر ابھی باقی ہے۔

Posted in Uncategorized, اصلاحی | Tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | 43 تبصرے